وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم , معاشی بحران سے بچانے کی حکمتِ عملی
(اصغر علی مبارک)
وزیراعظم کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم اور پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کا آپس میں گہرا اور براہِ راست تعلق ہے۔ یہ اسکیم محض ایک وقتی مالی امداد نہیں، بلکہ عالمی معاشی,اقتصادی بحران کے اثرات سے غریب اور متوسط طبقے کو بچانے کی ایک حکمتِ عملی ہے
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس خطرے کو بروقت سمجھتے ہوئے محدود مالی وسائل اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان ایک متوازن، قابلِ عمل اور ٹارگٹڈ قدم کے طور پر وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم متعارف کرائی۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں نے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے نئی معاشی مشکلات پیدا کی ہیں۔ اس کا فوری اثر اُن شہریوں پر پڑا جن کا روزگار موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی سے وابستہ ہے۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتِ حال اور اس ریلیف اسکیم کے باہمی تعلق کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
- عالمی پیٹرولیم بحران اورمشرقِ وسطیٰ کشیدگی:
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور سپلائی کے اہم راستوں (جیسے آبنائے ہرمز اور باب المندب) پر خطرات کی وجہ سے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔
پاکستان پر اثر: پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر تیل درآمد کرتا ہے۔ عالمی مہنگائی کے باعث ملک میں پیٹرول 380 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایسے میں عام شہری کا سفری بجٹ بری طرح متاثر ہوا، جس کا جواب یہ اسکیم ہے۔ - حکومتی کفایت شعاری اور عوامی ریلیف ;معاشی دباؤ کے پیشِ نظر جہاں حکومت نے یہ ریلیف متعارف کرایا، وہیں سرکاری بجٹ کو متوازن رکھنے کے لیے سخت کفایت شعاری مہم (Austerity Measures) بھی نافذ کی ہے۔
سرکاری گاڑیوں کے پیٹرول کوٹے میں 50 فیصد تک کٹوتی کی گئی ہے، نئی گاڑیوں کی خریداری اور سرکاری ضیافتوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، اور توانائی بچانے کے لیے بازار رات 9 بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بچت کا آغاز عوام سے نہیں بلکہ حکومت سے ہوگا تاکہ بچنے والا پیسہ عوام پر لگایا جا سکے۔ - ٹارگٹڈ سبسڈی اور معاشی اصلاحات ;
ماضی میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں (جیسے آئی ایم ایف) کی طرف سے عام سبسڈیز ختم کرنے کا سامنا رہا ہے کیونکہ اس سے امیر اور غریب دونوں یکساں فائدہ اٹھاتے تھے۔یہ اسکیم ایک ٹارگٹڈ (ہدف شدہ) سبسڈی ہے، جس میں بڑی گاڑیوں والے امیر طبقے کو شامل نہیں کیا گیا۔
اس کے بجائے صرف موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جا رہی ہے، جو معاشی طور پر ایک قابلِ عمل اور متوازن قدم ہے۔ - مائیکرو اکنامک اور ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کا قیام;
اس اسکیم کے تحت نادرا، پی ٹی اے اور وزارتِ آئی ٹی کے اشتراک سے ملک کے کم اور متوسط آمدن والے طبقے کا ایک باقاعدہ ڈیجیٹل معاشی ریکارڈ بن رہا ہے۔20 لاکھ سے زائد شہری اس پر رجسٹر ہو چکے ہیں۔ یہ محفوظ معاشی ڈیٹا مستقبل میں کسی بھی دوسرے معاشی بحران کی صورت میں حکومت کو مستحق شہریوں کی فوری شناخت کرنے اور براہِ راست (بینک اکاؤنٹ یا ٹوکن کے ذریعے) شفاف امداد پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔5. محنت کش طبقے کے گھریلو بجٹ کا تحفظ ;
موٹر سائیکل یا رکشہ برائے نام آسائش نہیں بلکہ ان محنت کشوں (ڈیلیوری رائیڈرز، دیہاڑی دار، چھوٹے ملازمین) کے روزگار کا واحد ذریعہ ہیں۔پیٹرول مہنگا ہونے سے ان کی روزانہ کی کمائی کا بڑا حصہ ایندھن میں چلا جاتا ہے، جس سے وہ بچوں کی تعلیم اور صحت پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اسکیم کے تحت ہفتہ وار 500 روپے (موٹر سائیکلوں کے لیے) اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر پر رعایت دے کر ان کے گھریلو بجٹ پر دباؤ کم کیا گیا ہے۔
وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم موجودہ کٹھن معاشی حالات میں جہاں کم آمدن والے شہریوں کو فوری معاشی ریلیف فراہم کر رہی ہے، وہیں یہ ملکی معیشت پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر حکومتی اخراجات میں کٹوتی کر کے چلائی جا رہی ہے۔
وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے کم اور متوسط آمدن والے طبقے کے ایک بڑے حصے کا باقاعدہ ڈیجیٹل معاشی ریکارڈ بنانے کی بنیاد رکھی ہے۔ ذاتی معلومات کے تحفظ کے ساتھ یہ محفوظ ڈیٹا حکومت کو معاشی بحران سے متاثرہ شہریوں کی بروقت شناخت کرکے مستقبل میں براہِ راست، ٹارگٹڈ اور شفاف مدد فراہم کرنے کے قابل بنائے گا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سکیم کے تمام مراحل کی مسلسل اور براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ ملک بھر سے موصول ہونے والے عوامی فیڈبیک کے بعد انہوں نے سکیم کو مزید آسان، وسیع اور عوام کی ضروریات کے مطابق بنانے کے لیے فوری ہدایات جاری کیں۔
وزیراعظم کی ہدایت پر 9771 پر رجسٹریشن کا ایس ایم ایس مکمل طور پر مفت کردیا گیا، تاکہ کسی شہری کو سکیم میں شامل ہونے کے لیے بھی کوئی رقم ادا نہ کرنا پڑے۔
وزیراعظم کی مسلسل نگرانی، عوامی فیڈبیک پر فوری فیصلے، مؤثر اور بروقت آگاہی مہم اور تمام متعلقہ اداروں کا تعاون ایک ایسے حکومتی طریقۂ کار کی بنیاد فراہم کی ہے، جو موجودہ بحران میں فوری ریلیف کے ساتھ مستقبل میں بھی متاثرہ شہریوں تک براہِ راست اور شفاف مدد پہنچا سکے۔ وزیراعظم سکیم کے تحت یہ ریلیف مزدور، ڈیلیوری رائیڈر، کم تنخواہ دار ملازم اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد کے سفری اخراجات اور گھریلو بجٹ پر دباؤ کم کر رہا ہے۔
کم اور متوسط آمدن والا طبقہ اپنی محنت، ہنر، چھوٹے کاروبار، ٹیکس اور خریداری کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن محدود آمدن اور بڑھتے اخراجات کے باعث ہر معاشی بحران سے براہِ راست متاثر ہوتا ہے۔ اس طبقے کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی آسائش نہیں بلکہ روزگار تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے پر اسے خوراک، تعلیم، علاج اور گھر کی دوسری ضروریات کے اخراجات کم کرنا پڑتے ہیں، جبکہ اس طبقے کا بڑا حصہ روایتی امدادی پروگراموں سے بھی باہر رہتا ہے۔
وزیراعظم نے اس سکیم کا دائرہ کار اور افادیت کو بڑھاتے ہوئے ایک اور تاریخی فیصلہ کیا، جس کے بعد موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لیے پانچ لیٹر پٹرول خریدنے پر ریلیف کی فراہمی کی شرط ختم کردی گئی۔ اب پانچ لیٹر سے کم مقدار میں پٹرول خریدنے والے محنت کش بھی سکیم سے ریلیف حاصل کر سکیں گے، اور اُنہیں ہفتہ وار ٹوکن پر 500 روپے کی رعائت ملے گی۔
ملک گیر فیڈبیک پر وزیراعظم نے 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو بھی سکیم میں شامل کرنے کی ہدایت کی۔ اب یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ سواری بھی اہل ہے۔ جس سے پرانی سواری استعمال کرنے والے مزید محنت کش خاندانوں تک ریلیف پہنچ سکے گا۔
وزیراعظم خصوصی ریلیف سکیم کے تحت 800 سی سی تک گاڑیوں کو ماہانہ 30 لیٹر پر رعایت ملے رہی ہے، جس کے لیے ہر دس روز بعد 10 لیٹر کا ایک، یعنی ماہانہ تین ٹوکن جاری ہوں گے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ کی سربراہی میں وزارتِ آئی ٹی نے ایس ایم ایس رجسٹریشن، ڈیجیٹل ٹوکن کے اجرا اور پٹرول پمپ پر فوری تصدیق کا نظام تیار کیا ہے۔ شناختی کارڈ، رجسٹرڈ موبائل سم، گاڑی کی معلومات اور منفرد ٹوکن کا باہمی ربط دہری رجسٹریشن، جعلی دعوؤں اور ممکنہ غلط استعمال کو روکتا ہے۔
وزارتِ آئی ٹی کا چوبیس گھنٹے فعال کنٹرول روم ایس ایم ایس، ٹوکن، تصدیقی عمل اور شکایات کی مسلسل نگرانی کررہا ہے۔ شہری 9771 پر REG کے ساتھ شناختی کارڈ نمبر، بغیر اسپیس گاڑی کا نمبر، صوبے کا پہلا انگریزی حرف اور رجسٹریشن کی تاریخ بھیج کر رجسٹریشن، اور تصدیقی میسج ملنے کے بعد TOK لکھ کر بھیجنے سے پٹرول کا ٹوکن حاصل کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کی قیادت میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سکیم کے آغاز کے ساتھ ہی بروقت، منظم اور ملک گیر آگاہی مہم شروع کی۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے عوام کو سکیم کی اہلیت، رجسٹریشن، ٹوکن اور رعایتی پٹرول کے حصول کا طریقہ آسان زبان میں سمجھایا گیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ملک بھر سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور دیگر یوتھ ٹیموں کو خود اس سکیم پر بریفننگ دی، اور انہیں پٹرول پمپوں پر بھیجا، جہاں انہوں نے نظام کو عملی طور پر جانچا، شہریوں اور پمپ مالکان سے براہِ راست رائے لی اور مسائل فوری حل کے لیے متعلقہ اداروں تک پہنچائے۔ عوامی آگاہی، نظام کی جانچ اور فیڈبیک کا یہ عمل مسلسل جاری ہے۔
وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، پی ٹی اے، اسٹیٹ بینک، نادرا، این آئی ٹی بی، ضلعی انتظامیہ اور ٹیلی کام آپریٹرز کے باہمی تعاون نے سکیم کے شفاف اور ملک گیر نفاذ کو ممکن بنایا ہے۔حکومت کے مطابق اس سکیم کا بنیادی مقصد محدود مالی وسائل اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے درمیان ایک ایسا ہدفی طریقۂ کار اختیار کرنا ہے جس کے ذریعے پٹرول کی قیمتوں کے اضافی بوجھ سے براہِ راست متاثر ہونے والے کم اور متوسط آمدن کے شہریوں کو ریلیف دیا جاسکے۔
حکومتی دعووں اور زمینی حقائق کے فرق کو مٹانے کے لیے باقاعدہ ایک مانیٹرنگ میکانزم بنایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق یوتھ ٹیموں اور سیاسی کارکنوں کو براہِ راست پٹرول پمپوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ ان ٹیموں کا مقصد پمپس پر جا کر نظام کی افادیت کو خود پرکھنا، عام شہریوں اور پمپ مالکان سے ان کی رائے لینا اور تکنیکی یا انتظامی مسائل کو فوری طور پر اعلیٰ حکام تک پہنچانا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے اسکیم کی مسلسل خود نگرانی اور عوامی فیڈبیک پر فوری پالیسی تبدیلیاں (جیسے مفت ایس ایم ایس اور کم پٹرول پر بھی ریلیف کی فراہمی) اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکومت اپنی پالیسیوں کو بند کمروں کے بجائے زمینی تجربات کی روشنی میں بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کسی بھی فلاحی منصوبے کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ کاغذی اعلان اور عوامی فائدے کے درمیان فاصلہ کم سے کم ہو۔
موجودہ معاشی بحران کے باوجود حکومت کی جانب سے عام عوام کو پٹرول پر ریلیف دینا ایک انتہائی مستحسن اور جرات مندانہ قدم ہے۔ تاہم، اس اسکیم کا حقیقی امتحان اور مستقبل کا فیصلہ درج ذیل پانچ بنیادوں پر ہوگا:
عملی نفاذ: پٹرول پمپس پر شہریوں کو بغیر کسی خواری کے ریلیف ملنا۔مکمل شفافیت: کوٹے کی منصفانہ تقسیم اور کرپشن کا خاتمہ۔ درخواست گزاروں کو بغیر تاخیر کے ڈیجیٹل ٹوکنز کا ملنا۔شکایات کا فوری ازالہ: پمپس یا ایس ایم ایس سسٹم میں آنے والی تکنیکی خرابیوں کا فوری حل۔
نادرا اور وزارتِ آئی ٹی کے پاس موجود شہریوں کے معاشی ریکارڈ کا محفوظ استعمال۔اگر یہ تمام پہلو کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو یہ اسکیم نہ صرف موجودہ پٹرول بحران کا وقتی حل ثابت ہوگی، بلکہ مستقبل کے لیے ایک ایسا مستحکم ڈیجیٹل فلاحی ڈھانچہ تیار کر دے گی جس کے ذریعے کسی بھی اگلے معاشی بحران میں امداد زیادہ تیزی، شفافیت اور ہدفی انداز میں براہِ راست ان شہریوں تک پہنچائی جا سکے گی جو واقعی اس کے محتاج ہیں۔آج کے دور کا سب سے بڑا معاشی تقاضا بھی یہی ہے کہ عالمی بحرانوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے عام شہری کو ملکی پالیسی سازی کے مرکز میں رکھا جائے۔ یہ پٹرول ریلیف اسکیم اسی ضرورت کا عملی جواب ہے، جس کی حتمی کامیابی کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ اس کا فائدہ کتنے مستحق شہریوں تک، کتنی آسانی سے پہنچتا ہے۔اتنے بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ریلیف پروگرام کو شفاف بنانا کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں تھی۔ اس نظام کی اصل طاقت متعدد ریاستی اداروں کا باہمی تال میل ہے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی سربراہی میں وزارتِ آئی ٹی نے ایس ایم ایس رجسٹریشن، ڈیجیٹل ٹوکن کے اجرا اور پٹرول پمپ پر فوری تصدیق کا نظام تیار کیا ہے۔اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، پی ٹی اے، اسٹیٹ بینک، نادرا، این آئی ٹی بی، ضلعی انتظامیہ اور ملک کے تمام ٹیلی کام آپریٹرز ایک پیج پر ہیں۔ شناختی کارڈ، رجسٹرڈ موبائل سم، گاڑی کی معلومات اور منفرد ٹوکن کا باہمی ربط دہری رجسٹریشن، جعلی دعوؤں اور ممکنہ غلط استعمال کو روکتا ہے۔ اتنے بڑے نیٹ ورک پر مبنی پروگرام کی کامیابی کا دارومدار ہی اس بات پر ہے کہ تمام اداروں کے درمیان مواصلت کا نظام بغیر کسی تعطل کے چوبیس گھنٹے کام کرتا رہے۔
عوام کی سہولت کے لیے نادرا اور وزارتِ آئی ٹی نے رجسٹریشن کے عمل کو انتہائی سادہ اور خودکار بنایا ہے:رجسٹریشن کے لیے: اپنے موبائل کے میسج آپشن میں جا کر لکھیں:REG [space] شناختی کارڈ نمبر [space] بغیر اسپیس گاڑی کا نمبر [space] صوبے کا پہلا انگریزی حرف [space] رجسٹریشن کی تاریخاور اسے 9771 پر بھیج دیں۔ (مثال کے طور پر اگر گاڑی سندھ کی ہے تو صوبے کی جگہ S لکھیں)۔پٹرول ٹوکن کے لیے: رجسٹریشن کا تصدیقی میسج ملنے کے بعد، پٹرول پمپ پر جانے سے پہلے اپنے موبائل سے TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں اور حاصل ہونے والا منفرد ڈیجیٹل ٹوکن پمپ عملے کو دکھائیں۔





