ہڑتالوں، دھرنوں , سڑکوں کی بندش سےمعاشی نقصان
( اصغر علی مبارک )
ہڑتالوں، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے ملکی معیشت کو یومیہ تقریباً 120 ارب روپے کا خطیر معاشی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے حالیہ سرکاری بیان کے مطابق، سیاسی احتجاج اور طویل مارچز سے نہ صرف معاشی سرگرمیاں معطل ہوتی ہیں بلکہ اس کا براہِ راست بوجھ غریب عوام اور دیہاڑی دار طبقے پر پڑتا ہے۔
احتجاج، دھرنوں اور راستوں کی بندش سے ہونے والے بڑے معاشی نقصانات درج ذیل اہم شعبوں کو متاثر کرتے ہیں:
تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل: سڑکوں اور بازاروں کی بندش سے مقامی مارکیٹیں بند ہو جاتی ہیں، جس سے خرید و فروخت کا عمل رک جاتا ہے
ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش کے دوران تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں تعطل معیشت کو سب سے بڑا اور فوری نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے منفی اثرات چند گھنٹوں میں ہی پوری سپلائی چین کو مفلوج کر دیتے ہیں: مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کی بندش: راستے بند ہونے یا سکیورٹی کے پیشِ نظر بڑے کاروباری مراکز اور ہول سیل مارکیٹیں بند کر دی جاتی ہیں۔ اس سے تاجروں کی یومیہ فروخت صفر ہو جاتی ہے، جبکہ ان کے کرائے اور بجلی کے بل جیسے اخراجات برقرار رہتے ہیں۔
سپلائی چین کی تباہی: ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک مال لے جانے والے ٹرک اور کنٹینرز راستوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کارخانوں کو خام مال (Raw Material) نہیں ملتا اور تیار مال دکانوں تک نہیں پہنچ پاتا۔خراب ہونے والی اشیاء کا نقصان: پھل، سبزیاں، دودھ اور گوشت جیسی جلد خراب ہونے والی اشیاء (Perishable Goods) وقت پر منڈیوں تک نہ پہنچنے کی وجہ سے راستے میں ہی سڑ جاتی ہیں۔ اس سے کسانوں اور آڑھتیوں کو کروڑوں روپے کا براہِ راست نقصان ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل اور آن لائن کاروبار کی معطلی: امن و امان کی صورتحال کے باعث اکثر اوقات انٹرنیٹ اور موبائل سروسز بند کر دی جاتی ہیں۔ اس سے ای کامرس، آن لائن ڈلیوری بوائز، اور فری لانسرز کا کام مکمل طور پر ٹھپ ہو جاتا ہے۔بینکنگ اور مالیاتی لین دین میں رکاوٹ: کاروباری مراکز بند ہونے اور انٹرنیٹ کی بندش سے بینکوں کی شاخیں اور اے ٹی ایم (ATMs) متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے تاجروں کے لیے چیکس کی کلیئرنس اور بڑی مالیاتی ٹرانزیکشنز کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش کے دوران دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کا معاشی قتل اس صورتحال کا سب سے زیادہ دردناک اور تشویشناک پہلو ہے۔
ملک کا یہ سب سے کمزور معاشی طبقہ روزانہ کما کر روزانہ کھانے (Daily Wagers) پر مجبور ہوتا ہے، اور ایک دن کی بندش بھی ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت لا سکتی ہے:
یومیہ اجرت کا فوری خاتمہ: تعمیراتی مزدور، پینٹرز، پلمبرز، اور چوکوں پر کھڑے ہونے والے دیہاڑی داروں کو کام ملنا بالکل بند ہو جاتا ہے۔ دکانیں اور کارخانے بند ہونے سے وہاں کام کرنے والے ہیلپرز اور عارضی عملے کی اس دن کی اجرت مار دی جاتی ہے۔
ٹرانسپورٹ اور ڈلیوری سیکٹر کی معطلی: رکشہ ڈرائیور، ٹیکسی اور بائیک رائڈرز، اور آن لائن فوڈ ڈلیوری بوائز سڑکوں کی بندش اور انٹرنیٹ معطلی کے باعث ایک روپیہ بھی کمانے کے قابل نہیں رہتے۔ ان کے لیے گاڑی کا روزانہ کا کرایہ یا پٹرول کا خرچ نکالنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔
ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کا نقصان: پھل، سبزی، اور چھابڑی لگانے والے چھوٹے دکاندار گاہک نہ ہونے کی وجہ سے اپنا سامان نہیں بیچ پاتے۔ اکثر اوقات ان کا لایا ہوا مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے ان کا اصل سرمایہ بھی ڈوب جاتا ہے۔
قرضوں کے بوجھ میں اضافہ: روزانہ کی آمدن بند ہونے پر یہ طبقہ راشن اور بنیادی ضروریات کے لیے دکانوں سے ادھار یا سود پر قرض لینے پر مجبور ہو جاتا ہے، جو انہیں مستقل طور پر غربت کے چکر میں پھنسا دیتا ہے۔طبی اور تعلیمی ایمرجنسی میں بے بسی: جس دن کمائی نہ ہو، اس دن اگر گھر میں کوئی بیمار ہو جائے تو دوا کے پیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح روزانہ کی بندش ان کے بچوں کی اسکول فیسوں اور مستقبل پر بھی اثر انداز ہوتی ہے
ہڑتالوں، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے ملکی برآمدات (Exports) پر انتہائی شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت کا انحصار وقت کی پابندی اور بھروسے پر ہوتا ہے، اور جب ملکی راستے بند ہوں تو پوری دنیا میں پاکستان کے تجارتی ساکھ کو نقصان پہنچتا ہے:
بین الاقوامی آرڈرز کی منسوخی: غیر ملکی خریدار (Buyers) سخت ڈیڈ لائنز پر کام کرتے ہیں۔ جب سڑکوں کی بندش کی وجہ سے سامان وقت پر بندرگاہ (Port) تک نہیں پہنچ پاتا اور جہاز روانہ ہو جاتے ہیں، تو عالمی خریدار آرڈرز منسوخ کر دیتے ہیں اور مستقبل کے لیے دیگر ممالک (جیسے بنگلہ دیش، بھارت یا ویتنام) کا رخ کر لیتے ہیں۔
خام مال کی عدم دستیابی: برآمدی مصنوعات بنانے والے کارخانوں (جیسے ٹیکسٹائل ملز) کو اپنی تیاری کے لیے خام مال کی ضرورت ہوتی ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے جب خام مال فیکٹریوں تک نہیں پہنچتا، تو پروڈکشن کا عمل مکمل طور پر رک جاتا ہے۔
اضافی مالیاتی بوجھ: اگر سامان بندرگاہ تک پہنچ بھی جائے لیکن ہڑتال کی وجہ سے وقت پر جہاز میں لوڈ نہ ہو سکے، تو برآمد کنندگان کو پورٹ پر بھاری جرمانے (Demurrage) ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس سے مصنوعات کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں پاکستانی اشیاء مہنگی ہو جاتی ہیں۔ملکی ساکھ اور بھروسے کو نقصان: بین الاقوامی تجارت میں ایک بار اگر سپلائر کا بھروسہ ٹوٹ جائے تو اسے بحال کرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔ بار بار کی بندش سے پاکستان ایک “ناقابلِ اعتبار سپلائر” کے طور پر ابھرتا ہے، جو طویل مدتی معاشی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
قیمتی غیر ملکی زرِ مبادلہ کا نقصان: جب برآمدات رکتی ہیں تو ملک میں ڈالر کی آمد کم ہو جاتی ہے۔ اس سے ملکی روپے کی قدر پر دباؤ بڑھتا ہے اور سٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ کے ذخائر (Foreign Exchange Reserves) تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔ہڑتالوں، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں ٹیکس ریونیو میں فوری اور نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو اور صوبائی محکموں کی محصولات کی وصولی کا براہِ راست انحصار معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کے جاری رہنے پر ہوتا ہے۔
جب یہ سرگرمیاں معطل ہوتی ہیں تو ملکی خزانے کو درج ذیل طریقوں سے نقصان پہنچتا ہے:
سیلز ٹیکس کی وصولی میں بڑی گراوٹ: ہڑتالوں کے دوران جب مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور ہول سیل مراکز بند ہوتے ہیں، تو اشیاء کی خرید و فروخت رک جاتی ہے۔ چونکہ سیلز ٹیکس ہر ٹرانزیکشن پر وصول کیا جاتا ہے، اس لیے کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے حکومت کا سیلز ٹیکس ریونیو فوری طور پر گر جاتا ہے۔
کسٹمز ڈیوٹی کا نقصان: سڑکوں کی بندش اور ٹرانسپورٹ کی ہڑتال کی وجہ سے بندرگاہوں اور خشک گودیوں سے درآمدی و برآمدی سامان کی کلیئرنس رک جاتی ہے۔ اس تعطل کی وجہ سے حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر ملنے والی اربوں روپے کی کسٹمز ڈیوٹی اور امپورٹ اسٹیج پر جمع ہونے والا ٹیکس رک جاتا ہے۔انکم ٹیکس میں طویل مدتی کمی: کاروباری اداروں، کارخانوں اور تاجروں کے منافع میں کمی براہِ راست ان کے انکم ٹیکس پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب کمپنیوں کی آمدن متاثر ہوتی ہے، تو وہ ایڈوانس ٹیکس کی مد میں حکومت کو کم ادائیگیاں کرتی ہیں، جس سے حکومت کے سالانہ ٹیکس اہداف کو دھچکا لگتا ہے۔
سڑکوں کی بندش اور پہیہ جام ہڑتال کی وجہ سے ملک بھر میں گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت انتہائی محدود ہو جاتی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی فروخت کم ہونے سے حکومت کو پٹرولیم لیوی اور اس پر لگنے والے دیگر ٹیکسوں کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
سروسز ٹیکس پر اثرات: ہوٹل، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ کمپنیاں، اور انٹرنیٹ معطلی کی صورت میں ٹیلی کام سیکٹر بالکل بند یا محدود ہو جاتے ہیں۔ ان شعبوں سے صوبائی حکومتوں کو ملنے والا سروسز سیلز ٹیکس شدید متاثر ہوتا ہے۔جب ٹیکس ریونیو کم ہوتا ہے تو حکومت کو اپنے روزمرہ کے اخراجات چلانے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید داخلی و خارجی قرضے لینے پڑتے ہیں، جو ملک کو قرضوں کے دلدل میں مزید دھکیل دیتا ہے
ہڑتالوں، دھرنوں اور سیاسی احتجاج کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو سکیورٹی کے انتہائی خطیر اور اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ یہ وہ عوامی پیسہ ہوتا ہے جو تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہونا چاہیے، لیکن امن و امان کے نام پر کنٹینرز اور فورسز کی تعیناتی کی نذر ہو جاتا ہے:قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نقل و حرکت اور الاؤنسز: پولیس، فرنٹیر کانسٹیبلری (FC)، رینجرز اور بعض اوقات فوج کے ہزاروں اہلکاروں کو مختلف شہروں اور حساس مقامات پر تعینات کیا جاتا ہے۔ ان اہلکاروں کی لاجسٹکس، روزانہ کے کھانے پینے کے الاؤنسز اور سفری اخراجات کی مد میں قومی خزانے پر کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ پڑتا ہے۔کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ اور کرائے: شہروں کے داخلی و خارجی راستوں اور ریڈ زون کو سیل کرنے کے لیے سینکڑوں کنٹینرز زبردستی یا کرائے پر حاصل کیے جاتے ہیں۔ ان کنٹینرز کے مالکان کو کروڑوں روپے کا کرایہ اور ہرجانہ ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ انڈسٹری کا الگ نقصان ہوتا ہے۔
فورسز کی گاڑیوں، بکتر بند گاڑیوں (APCs)، واٹر کیننز اور سکیورٹی پٹرولنگ کے لیے پٹرول اور ڈیزل کا استعمال عام دنوں سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جس کا بل براہِ راست حکومت کو ادا کرنا پڑتا ہے۔آنسو گیس اور سکیورٹی آلات کا استعمال: مظاہرین کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر آنسو گیس کے شیل، ربڑ کی گولیاں، لاٹھیاں، اور دیگر حفاظتی ڈھالیں و آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان اشیاء کی دوبارہ خریداری پر بھاری سرکاری فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔عوامی املاک اور سکیورٹی گاڑیوں کا نقصان: احتجاج پرتشدد رخ اختیار کر جائے تو سرکاری عمارتوں، میٹرو بس اسٹیشنوں، سڑکوں، اور سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو جلایا یا توڑا جاتا ہے۔ ان عوامی املاک کی مرمت اور بحالی پر بعد میں حکومت کو اربوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔یہ تمام اضافی اخراجات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ خسارے کو مزید بڑھا دیتے ہیں، جس کا بوجھ بالآخر ٹیکسوں کی صورت میں عام عوام پر ہی منتقل ہوتا ہے۔
ہڑتالوں، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے ملکی معیشت کو پہنچنے والا سب سے بڑا طویل مدتی نقصان سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ماحول کی تلاش میں ہوتے ہیں جہاں سیاسی استحکام، پالیسیوں کا تسلسل اور امن و امان ہو۔ جب کسی ملک میں بار بار احتجاج اور راستے بند ہوں، تو سرمایہ کاری کا عمل درج ذیل طریقوں سے شدید متاثر ہوتا ہے:ملکی خطرے کے تاثر میں اضافہ: بار بار کی بندش اور سیاسی انتشار سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا امیج ایک “غیر مستحکم ملک” کے طور پر ابھرتا ہے۔ کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیاں ملک کی رینکنگ کم کر دیتی ہیں، جس سے غیر ملکی سرمایہ کار یہاں پیسہ لگانے سے کتراتے ہیں۔
غیر ملکی کمپنیاں نئے کارخانے لگانے یا موجودہ کاروبار کو پھیلانے کے منصوبے منسوخ یا مؤخر کر دیتی ہیں۔ وہ اپنا سرمایہ پاکستان کے بجائے خطے کے دیگر مستحکم ممالک میں منتقل کر دیتی ہیں۔مقامی سرمایہ کاروں کا عدم اعتماد ;: نہ صرف غیر ملکی، بلکہ ملک کے اپنے بڑے کاروباری گروپ اور مقامی سرمایہ کار بھی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے نیا ہنر یا سرمایہ مارکیٹ میں لانے سے ڈرتے ہیں۔ بہت سے مقامی تاجر اپنا پیسہ بیرونِ ملک منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں، جسے ‘کیپیٹل فلائٹ’ کہا جاتا ہے۔پراجیکٹس میں تاخیر سے ان کی لاگت بڑھ جاتی ہے، اور سرمایہ کاروں کا منافع کم ہو جاتا ہے۔ جب بھی ملک میں دھرنے یا ہڑتالوں کی فضا بنتی ہے، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھنے کو ملتی ہے۔ سرمایہ کار خوف کی وجہ سے اپنے شیئرز اونے پونے داموں بیچ کر نکل جاتے ہیں، جس سے مارکیٹ کے سرمائے کو اربوں روپے کا جھٹکا لگتا ہے۔سرمایہ کاری میں یہ رکاوٹ ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کے عمل کو روک دیتی ہے، جس کی وجہ سے بے روزگاری اور غربت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔اسٹاک مارکیٹ کسی بھی ملک کی معاشی صحت کا آئینہ ہوتی ہے اور یہ سیاسی تبدیلیوں یا بے امنی پر سب سے تیز ردِعمل ظاہر کرتی ہے جب بھی ملک میں کسی بڑے دھرنے، لانگ مارچ یا سیاسی محاذ آرائی کی فضا بنتی ہے، تو مارکیٹ میں پینک (خوف) پھیل جاتا ہے۔ ہڑتالوں کے محض چند دنوں کے اندر ہی ہنڈرڈ انڈیکس (KSE-100) ہزاروں پوائنٹس نیچے گر جاتا ہے، جس سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن کو روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار نقصان سے بچنے کے لیے اپنے شیئرز اونے پونے داموں بیچنا شروع کر دیتے ہیں۔ مارکیٹ میں خریدار کم اور بیچنے والے زیادہ ہو جاتے ہیں، جس سے حصص کی قیمتیں تیزی سے گرتی ہیں۔ بڑے مالیاتی ادارے اور باہمی فنڈز ایسے حالات میں پوزیشنز مختصر کر دیتے ہیں اور اپنے سرمائے کو عارضی طور پر محفوظ اثاثوں (جیسے گولڈ یا کیش) میں منتقل کر لیتے ہیں، جس سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (پیسے کا بہاؤ) کم ہو جاتی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار کسی بھی ملک میں پیسہ لگانے سے پہلے وہاں کے سیاسی استحکام اور پالیسیوں کے تسلسل کو دیکھتے ہیں بار بار کی سڑکوں کی بندش اور ہڑتالوں سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان ایک “ہائی رسک زون” دکھائی دیتا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں (جیسے Moody’s اور Fitch) جب ملک کی کریڈٹ ریٹنگ کم کرتی ہیں، تو غیر ملکی کمپنیوں کے لیے یہاں انشورنس اور فنانسنگ کی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ حالیہ برسوں کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے بہت سے ملٹی نیشنل ادارے یا تو پاکستان میں اپنے منصوبے معطل کر دیتے ہیں یا پھر اپنا رخ خطے کے دیگر ممالک کی طرف کر لیتے ہیں۔ جب ملک کے اندرونی حالات خراب ہوں تو نجکاری کے منصوبے اور بیرونی ممالک کے ساتھ ہونے والے بڑے تجارتی و سرمایہ کاری کے معاہدے طویل عرصے کے لیے لٹک جاتے ہیں، جس سے ملکی خزانے کو بروقت ڈالر حاصل نہیں ہو پاتے۔ سیاسی غیر یقینی صورتحال اور ہڑتالیں نہ صرف اسٹاک مارکیٹ کو فوری طور پر اربوں روپے کا جھٹکا دیتی ہیں، بلکہ ملکی معیشت کے مستقبل کی بنیاد یعنی بیرونی سرمایہ کاری کے راستے میں بھی مستقل دیوار کھڑی کر دیتی ہیں۔
ہڑتالوں، دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے ہونے والے بھاری معاشی نقصانات کو کم کرنے اور ملکی معیشت کو تحفظ دینے کے لیے ماہرینِ معیشت اہم تجاویز پیش کرتے ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر ایک ایسے طویل مدتی معاشی ایجنڈے پر دستخط کرنے چاہئیں جس پر سیاسی تبدیلیوں کا اثر نہ پڑے۔ احتجاج اور سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن معاشی پالیسیوں، سیپیک اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں کو سیاسی کشمکش سے بالکل الگ رکھا جائے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں کے اہم تجارتی راستوں، شاہراہوں اور ریڈ زون کو بند کرنے کے بجائے شہر سے باہر یا مخصوص میدانوں (جیسے اسلام آباد میں پریڈ گراؤنڈ) کو احتجاج کے لیے مختص کیا جائے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ایسی قانون سازی کی جائے جو معاشی شریانوں (جیسے موٹر ویز اور بندرگاہوں کے راستوں) کو بلاک کرنے کو سنگین جرم قرار دے۔ امن و امان کے نام پر موبائل سروسز اور انٹرنیٹ کی بندش پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔آن لائن معیشت کا تحفظ: آئی ٹی سیکٹر، فری لانسرز، ای کامرس اور آن لائن بینکنگ کو کھلا رکھ کر اربوں روپے کے یومیہ نقصان سے بچا جا سکتا ہے کسی بھی دھرنے یا ہڑتال کے دوران مال بردار گاڑیوں، برآمدی سامان اور جلد خراب ہونے والی اشیاء (پھل، سبزی، دودھ) کی نقل و حرکت کے لیے سکیورٹی فورسز کی نگرانی میں محفوظ راستے یا “گرین چینلز” فراہم کیے جائیں حکومت کو چیمبر آف کامرس کے تعاون سے ایک ایسا فنڈ قائم کرنا چاہیے جو ہڑتالوں یا زبردستی کاروبار بند کرانے کی صورت میں رجسٹرڈ دیہاڑی دار مزدوروں کو اس دن کا معاوضہ یا راشن فراہم کر سکے۔ مذاکرات کا فوری نظام: تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور سیاسی جماعتوں کے مطالبات کو سڑکوں پر آنے سے پہلے ہی حل کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی پارلیمانی یا آئینی فورمز فعال ہونے چاہئیں تاکہ بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔