وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم میں بڑی تبدیلیاں: انٹرنیٹ کے بغیر ٹوکن ریڈیم کرنے کی سہولت اور رجسٹریشن کا دائرہ وسیع
(خصوصی رپورٹ: اصغر علی مبارک، عام نیوز)

اسلام آباد: حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے جاری “وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم” کو مزید آسان، فعال اور وسیع بنانے کے لیے کئی اہم تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں۔ ان نئی سہولتوں کے تحت اب انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم دور دراز علاقوں میں بھی شہری محض ایک ایس ایم ایس (SMS) کے ذریعے اپنا فیول ٹوکن ریڈیم (استعمال) کر سکیں گے۔

یہ اہم فیصلے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت منعقدہ نیشنل اسٹیئرنگ کمیٹی برائے فیول سبسڈی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی اور اسکیم پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا۔

دور دراز علاقوں کے لیے ایس ایم ایس سہولت:
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور دیگر صوبوں کے ایسے پٹرول پمپس جہاں انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کا مسئلہ ہے، وہاں ایس ایم ایس کے ذریعے ٹوکن سسٹم کو فعال کیا جائے گا۔ تمام متعلقہ حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے پٹرول پمپس کی فہرستیں فوری طور پر فراہم کریں تاکہ انہیں اسکیم کے مرکزی نظام کا حصہ بنایا جا سکے۔ اسحاق ڈار نے واضح ہدایات دیں کہ جو پٹرول پمپس کھلے اور فعال ہیں انہیں فوری شامل کیا جائے، جبکہ مستقل بند یا صرف ڈیزل بیچنے والے پمپس کو فہرست سے نکال دیا جائے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے فوری ادائیگیاں:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کمیٹی کو مطلع کیا کہ پٹرول پمپس مالکان کی جانب سے گزشتہ تین روز کے دوران موصول ہونے والے تمام مالیاتی دعوے (Claims) مکمل طور پر نمٹا دیے گئے ہیں اور اب روزانہ کی بنیاد پر موصول ہونے والے کلیمز کی ادائیگی اسی دن یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ پٹرول پمپس نیٹ ورک کو کسی مالی تعطل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

رجسٹریشن کے قواعد میں تین بڑی نرمیاں:
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے پریس کانفرنس کے دوران اسکیم میں تین بڑی ریلیف تبدیلیوں کا اعلان کیا:

  1. اہلیت کے سال میں توسیع: اب یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد سے رجسٹرڈ تمام موٹرسائیکلیں اس اسکیم کے لیے اہل ہوں گی، جبکہ اس سے قبل کٹ آف سال 2011 مقرر تھا۔
  2. لیٹر کی پابندی کا خاتمہ: دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں (موٹرسائیکل، چنگ چی اور رکشہ) کے لیے 500 روپے فی ٹوکن کی حد برقرار رہے گی، تاہم 5 لیٹر پٹرول کی سابقہ پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ صارفین اب ماہانہ 4 ٹوکن حاصل کر سکیں گے۔
  3. مفت ایس ایم ایس سروس: اسکیم کے تحت رجسٹریشن یا معلومات کے لیے اب ایس ایم ایس چارجز مکمل طور پر ختم کر دیے گئے ہیں۔

شہریوں کے لیے اہم ہدایات اور ہیلپ لائن:
وزارت آئی ٹی کے مطابق اب تک 17 لاکھ 50 ہزار سے زائد رجسٹریشنز ہو چکی ہیں اور 15 لاکھ کے قریب ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں۔ شزا فاطمہ نے شہریوں کو خبردار کیا کہ حکومت نے اس سروس، رجسٹریشن یا ٹوکن کے اجرا کے لیے کوئی فیس مقرر نہیں کی، لہٰذا شہری کسی بھی قسم کے فراڈ سے ہوشیار رہیں اور اپنی حساس معلومات غیر متعلقہ افراد کو نہ دیں۔ کسی بھی شکایت یا معلومات کے لیے 9771 ہیلپ لائن پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔