”گوجرانوالہ مبارک شہر ”عوامی عدالت گوجرانوالہ نے زخمی شیر کے حق میں فیصلہ دے دیا ؟
.گوجرانوالہ سے عوامی کالم ،،اندر کی بات ..

.اصغر علی مبارک کے قلم سے … .
عدالتی فیصلے نے سوئے شیر کو جگا دیا ہے. زخمی شیر ،قائد عوام اور عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کچھار سےباہر آ کر اب دشمن قوتوں کو للکار چکے ھیں راولپنڈی، جہلم ،لالہ موسیٰ ،گجرات کی طرح گوجرانوالہ میں بھی میاں نوازشریف نے پاور شو کا شانداراستقبال کیا گیا ..قارئین محترم …گوجرانوالہ میرا آبائی شہر ھے جہاں کے لوگوں کی نفسیات اور جذبات سے بخوبی واقف ھوں عوامی وزیراعظم محمد نوازشریفکے خلاف گوجرانوالہ والوں نے فیصلہ تسلیم نہی کیا ھے اور وہ اب پہلے سے زیادہ نواز شریف کو مظلوم سمجتھے ھیں پہلی بار انکا انداز بیان عوامی تھا گوجرانوالہ والےکے لوگ جو عہد کرتے ھیں پورا کرتے ھیں جسکا تذکرہ عوامی وزیراعظم نے اپنے تاریخی خطاب میں بھی کیا ،،گوجرانوالہ وہ ضلع ہے جس میں سے تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کی سیٹس مسلم لیگ نواز کو ملی ہیں آج اسی شہر میں لوگ اپنے محبوب قائد عوام اور عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کیلئے والہانہ انداز میں شریک ہووےاور عوام کی عدالت نے فیصلہ نوازشریف کے حق میں دے دیا ، نوازشریف کا گوجرانوالہ میں تاریخی استقبال ہوا ، کارکنان نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ نوازشریف ہی ان کےمقبول لیڈر ہیں، گوجرانوالہ سے نوازشریف کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہےبظاہراس مرتبہ جب میاں نوازشریف گوجرانوالہ آئے پہلوانوں کے شھر میں تو شہریوں نے ان کا تاریخی استقبال کرتے ہووے سر آنکھوں پر اٹھا لیا اس بار بھی پہلے سے کہیں زیادہ لوگ امڈ آے ،عوام کی عدالت نےقریب قریب فیصلہ نوازشریف کے حق میں سنا دیا ہے ، نوازشریف کا ہر جگہ تاریخی استقبال سے کارکنان نے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ نوازشریف ان کےمقبول لیڈر ہیں، نواز شریف نے کہا ”گوجرانوالہ میرے لیے مبارک شہر ہیے ”ججوں کی بحالی کے لیے گوجرانوالہ میں جب ھم پوھنچے تو جج بحال ھو چکے تھے اور آج میں پھر گوجرانوالہ عوام کی عدالت میں ھوں ”کیا آپ پاکستان کی عزت بحال کرواؤ گے انہوں نے جذباتی انداز اپنایا ،اور عوام سے سوال کیا میرا قصور کیا ھے” انہوں نے سوال کیا” کیا یہ عوامی ووٹ کا تقدس ھے؟کہ کوئی بھی آپکے ووٹ کی پرچی پھاڑ دے ؟جواب لو گے ان لوگوں سے جنوں نے بڑی رسوائی سے نکال دیا گیا ،تین سال سے سازشیں ھو رہی تھی .مجھے نوازشریف کی مقبولیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔تیس سالہ سیاسی کیرئر میں پہلی بار عوامی رنگ نظر آیا ھے جس سے ثابت هو چکا کہ عوامی مینڈ یٹ کا احترام نہ کرنے والی قوتوں کو انھیں جلدی میں گھر بھیج کر غلطی کی گئی ھے ، عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کی جی ٹی روڈ ریلی مسلم لیگ نون کے لیے حبس زدہ سیاسی ماحول میں تازہ ھوا کا جھونکا ثابت ہوگی،اور اپوزیشن کے لئے جی ٹی روڈ ریلی مسلم لیگ نون آئندہ انتخا بات سے قبل درد سر بن چکی ھےلاہورکی جانب رواں دواں ہے،قافلے میں لوگوں کے جذبات قابل دید رھا کارکن فرط جذبات سے گاڑ ی کو چومتے رھے ،پر جوش کارکنوں نے نوازشریف کی تصاویروالے بینرزاور جھنڈے اٹھارکھے ہیں،جن پرنوازشریف کے حق میں نعرے”جو دلوں میں بستا ھے ”حکومت اسکی ھے ”عوام کی آواز،،،میاں نواز ،، درج تھے ،کارکنوں سے نوازشریف نےکہا کہ میں اپ پر قربان ”اپ بھی اپنا وعدہ بھی نبھانا ،میں بھی نباہوں گا ،2018کے انتخابات میں بھی لگتا ھے کہ مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی، سابق وزیر اعظم نواز شریف لاہور جی ٹی روڈ سے جائیں گے ، وہ لاہور آمد کے بعد داتا دربار پر حاضری دیں گے عوامی اعظم نے کہا کہ گھر بھیجا گیا ہے، تو گھر جارہا ہوں، گھر جانا ’’پاور شو ‘‘نہیں ہے۔ عوامی اعظم نواز شریف نے کہا کہ ملک کی قیام سے اب تک 18وزرائے اعظم گزرے ہیں تاہم ایک کو بھی آئینی مدت پوری نہ کرنے دی گئی،آئین توڑا گیا، وزرائے اعظم کو پھانسیاں دی گئیں،ملک بدر کیا گیا، کیا عوام کے ووٹ کواسی طرح دھتکارا اور ذلیل کیا جائیگا ،ْ ان سوالوں کا جواب یس سال آپکو چودہ اگست پر سوچنا ہو گا ملک میں جمہوریت اور پالیسیوں کا تسلسل نہ رہا تو پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا۔نواز شریف نے کہا کہ مجھے پہلی مرتبہ صدر نے نکالا ،ْدوسری بار ڈکٹیٹر نے ہائی جیکر بنا دیا اور تیسری مرتبہ بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے پر عدلیہ نے مجھے نکال دیا…کیا یا درست ھے ؟ گجرات جاتے ہووے لالہ موسیٰ کے قریب ہ ایلیٹ فورسز کی گاڑی کی ٹکر سے 9 سالہ بچے احمد کے جاں بحق ھونےپر انہوں نے کہا مجھے افسوس ھے ” میں خود انکے گھر جاؤں گا جو مدد ہوسکی کی جاے گی ،،،سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نےبھی ٹویٹر پیغام میں بچے کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مقامی قیادت کو فوری طور پر متاثرہ خاندان کے پاس پہنچ کر تعاون کرنے کی ہدایت کی ..