.آزاد کشمیر ; مسلم لیگ (ن)حکومت بنانےکے لیے تیار….
…( اصغرعلی مبارک )…
آزاد کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) مظفرآباد کے ایوانِ اقتدار میں اپنی حکومت بنانے کے لیے انتہائی پرامید اور مضبوط پوزیشن میں آ چکی ہے۔ پہلے دو مراحل کے دوران اب تک ہونے والے مقابلوں میں مسلم لیگ (ن) نے مجموعی طور پر 26 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے,53 رکنی ایوان میں سادہ اکثریت اور حکومت سازی کے لیے 27 نشستیں درکار ہیں، جس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہدف سے صرف ایک نشست دوری پر ہے۔ دوسرے مرحلے (مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستیں) کے بعد، وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے تصدیق کی کہ مسلم لیگ (ن) نے اس مرحلے کی 20 میں سے 13 نشستیں جیت کر پاکستان پیپلز پارٹی پر ناقابلِ شکست برتری قائم کر لی ہے
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس تاریخی کامیابی پر کشمیری عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جیت دراصل قائدِ محترم میاں محمد نواز شریف کے تعمیر و ترقی کے وژن پر عوامی اعتماد کی منہ بولتی تصویر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے غیور عوام نے ن لیگ کی خدمت کی سیاست پر مہر لگا کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ دھرنوں اور انتشار کے بجائے صرف اور صرف خوشحالی کا سفر چاہتے ہیں اور ن لیگ کشمیریوں کی اس محبت کا حق ان کی دہلیز تک ترقیاتی منصوبے پہنچا کر ادا کرے گی۔ رانا ثناء اللہ نے باضابطہ اعلان کیا ہےکہ “مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر کے انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے اور وہ وہاں اگلی حکومت بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے لگائے جانے والے دھاندلی کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “پیپلز پارٹی نے پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی اپنا یہ بیانیہ تیار کر رکھا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ کامیابی صرف ن لیگ کی جیت نہیں بلکہ وہاں گورنمنٹ کی رٹ قائم ہونے، ریاست اور جمہوریت کی سب سے بڑی کامیابی ہے
میرپور اور مظفرآباد ڈویژنز سمیت پاکستان بھر میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نشستوں پر پے در پے فتوحات نے ن لیگ کے حوصلے اس حد تک بلند کر دیے ہیں کہ پارٹی قیادت نے پونچھ ڈویژن کے آخری مرحلے سے پہلے ہی حکومت سازی کے لیے مطلوبہ سادہ اکثریت حاصل کرنے کا ببانگِ دہل دعویٰ کر دیا ہے۔انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ 10 اگست 2026ء کو پونچھ ڈویژن میں شیڈولڈ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ لہر اور آزاد کشمیر کی انتخابی تاریخ (جہاں عام طور پر اسلام آباد میں برسرِاقتدار جماعت ہی کشمیر میں حکومت بناتی ہے) کو مدنظر رکھتے ہوئے، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ن لیگ 27 نشستوں کی حد کو انتہائی آسانی سے عبور کر لے گی,
ن لیگ کی مرکزی صفِ اول کی قیادت نے ان انتخابی نتائج کو قائدِ محترم میاں محمد نواز شریف کے تعمیر و ترقی کے وژن پر کشمیری عوام کے غیر متزلزل اعتماد کا مظہر قرار دیا ہے۔وفاقی وزراء بشمول خواجہ آصف اور امیر مقام نے عوامی سطح پر بیانات جاری کیے ہیں کہ آزاد کشمیر کے ووٹرز نے نواز شریف کے وژن کے تحت خطے میں گورننس اور استحکام کے لیے مسلم لیگ (ن) کو واضح مینڈیٹ دے دیا ہے۔
ن لیگی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ آزاد کشمیر کی روایتی انتخابی تاریخ کے عین مطابق، جہاں ہمیشہ وفاق میں برسرِاقتدار جماعت ہی کشمیر میں حکومت بناتی آئی ہے، اس بار بھی کشمیر کے عوام نے ترقی اور خوشحالی کے سفر کو چنا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی بھاری برتری کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے انتخابی عمل میں دھاندلی اور وفاق کی مداخلت کے الزامات لگانا شروع کر دیے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکمران جماعت کا ساتھ دیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ذہنی طور پر ن لیگ کی اکثریت کو تسلیم کر چکی ہیں اور اب نتائج کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ رانا ثناء اللہ اور امیر مقام جیسے سینیئر رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی 26 نشستوں کے بعد ن لیگ ہدف سے محض ایک قدم دوری پر ہے، جس کے باعث اپوزیشن کے دھاندلی کے تمام الزامات اپنی موت آپ مر چکے ہیں اور 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے آخری معرکے میں ن لیگ تاریخی کامیابی سمیٹ کر اپنے وزیراعظم کا اعلان کر دے گی دوسری جانب، ن لیگ کے سیاسی چانکیہ رانا ثناء اللہ نے وفاقی وزیر امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس میں دو ٹوک لہجہ اپناتے ہوئے اعلان کیا کہ ن لیگ نے کشمیر میں حکومت سازی کے لیے مطلوبہ سادہ اکثریت کا ہدف حاصل کر لیا ہے اور اب مظفرآباد کے ایوانِ اقتدار میں شیر ہی راج کرے گا۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے لگائے جانے والے دھاندلی کے الزامات پر طنزیہ وار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے اپنی شکست کو نوشتۂ دیوار دیکھ کر پولنگ کا آغاز ہونے سے پہلے ہی رونے دھونے کی تیاری کر رکھی تھی، لیکن اب روایتی واویلے سے عوامی مینڈیٹ کو چرایا نہیں جا سکتا۔امیر مقام نے انتخابی مہم اور نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے کشمیر میں ترقی، عوامی بہبود اور مقامی مسائل کے حل پر مبنی ایک بھرپور مہم چلائی تھی۔ آزاد کشمیر کے باشعور عوام نے مسلم لیگ (ن) کے ماضی کے ریکارڈ اور ترقیاتی ایجنڈے کو دیکھ کر “شیر” کے نشان پر مہر لگائی ہے اور پارٹی اس مینڈیٹ کا پورا احترام کرتے ہوئے کشمیریوں کی خدمت کرے گی۔اسی گہما گہمی میں پنجاب کی شعلہ بیاں وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی میدان سنبھالتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے عوام پنجاب میں مریم نواز کی شاندار گورننس کے ماڈل سے متاثر ہو کر شیر کے نشان پر ٹوٹ پڑے ہیں۔ ن لیگی قیادت کا ماننا ہے کہ 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے آخری معرکے میں بھی ن لیگ کلین سوائپ کرے گی اور اپوزیشن صرف الزامات کے خطوط لکھتی رہ جائے گی جبکہ ن لیگ کشمیر کی نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے اپنے وزیراعظم کا نام فائنل کر لے گی۔ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء میں مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری کے بعد مظفرآباد کے اگلے وزیراعظم کے لیے پارٹی کے اندر چار اہم ترین نام سب سے زیادہ زیرِ گردش ہیں۔ ان امیدواروں نے حالیہ انتخابی معرکوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ان کی سیاسی وابستگی میاں نواز شریف کے ساتھ انتہائی مضبوط ہے:
آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سب سے سینیئر کشمیری رہنما ہیں۔ انہوں نے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد کے اہم حلقے (LA-32) سے دوبارہ شاندار کامیابی حاصل کر کے وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں اپنی پوزیشن کو انتہائی مضبوط کر لیا ہے۔ وہ ماضی میں ن لیگ کی حکومت کا کامیاب تجربہ رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ سب سے پہلی ترجیح مانے جا رہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے موجودہ صدر ہیں اور انہوں نے انتخابی مہم کے دوران فرنٹ لائن پر رہ کر پارٹی کو منظم کیا ہے۔ انہوں نے وادیِ نیلم کے حلقے (LA-25) سے فتح حاصل کی ہے اور تنظیم کے سربراہ ہونے کے ناطے وہ وزیراعظم کے عہدے کے لیے دوسرے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔
چوہدری طارق فاروق ن لیگ آزاد کشمیر کے سینیئر ترین رہنما اور پارٹی کے قائم مقام جنرل سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے پہلے مرحلے میں بھمبر (LA-7) کے کڑے مقابلے میں فتح حاصل کی تھی، اور جموں و کشمیر کے میدانی اضلاع (میرپور ڈویژن) کی نمائندگی کی وجہ سے ان کا نام بھی وزارتِ عظمیٰ کے متبادل امیدوار کے طور پر زیرِ بحث ہے۔مشتاق احمد منہاس,سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات اور ن لیگ کے اہم ترین متحرک رہنما ہیں۔ ان کا حلقہ انتخاب وسطی باغ (پونچھ ڈویژن) میں ہے۔ اگرچہ پونچھ ڈویژن کی پولنگ 10 اگست کو شیڈولڈ ہے، لیکن پارٹی کے مرکزی حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں عروج پر ہیں کہ اگر شریف برادران کسی نئے یا نوجوان چہرے کو موقع دینا چاہیں، تو مشتاق منہاس ایک مضبوط سرپرائز کارڈ ثابت ہو سکتے ہیں۔آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات 2026ء کے دوسرے مرحلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کے حلقوں سے مجموعی طور پر 14 نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مظفرآباد ڈویژن کے مقامی حلقوں میں ایل اے-25 نیلم-1 سے ن لیگ کے مرکزی رہنما شاہ غلام قادر، ایل اے-30 مظفرآباد-4 سے ڈاکٹر مصطفیٰ بشیر عباسی، ایل اے-31 مظفرآباد-5 سے ثاقب مجید خان، اور ایل اے-32 مظفرآباد-6 سے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم اور سینیئر رہنما راجہ فاروق حیدر خان نے شاندار کامیابی اپنے نام کی ہے۔ اسی طرح ایل اے-34 مظفرآباد-8 سے ناصر ڈار، ایل اے-35 مظفرآباد-9 سے چوہدری محمد اسماعیل، ایل اے-36 مظفرآباد-10 سے محمد احسن رضا اور ایل اے-37 مظفرآباد-11 سے ن لیگ کی خاتون امیدوار مریم جاوید فاتح قرار پائی ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے مختلف صوبوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے حلقوں میں بھی مسلم لیگ (ن) نے کلین سوائپ کرتے ہوئے میدان اپنے نام کیا ہے جہاں ایل اے-38 جموں-5 سے ذیشان علی، ایل اے-39 جموں-6 سے راجہ محمد صدیق خان، ایل اے-41 کشمیر ویلی-2 سے محمد عامر شاہ، ایل اے-42 کشمیر ویلی-3 سے سید شوکت علی شاہ، ایل اے-43 کشمیر ویلی-4 سے محمد یاسین لون نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو پچھاڑا جبکہ ایل اے-44 کشمیر ویلی-5 سے احمد رضا قادری نے آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی امیدوار کو شکست دے کر کامیابی حاصل کی ہے۔ واضح رہے کہ دوسرے مرحلے کی بقیہ 4 نشستیں جن میں ایل اے-26، ایل اے-29، ایل اے-40 اور ایل اے-45 شامل ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ہیں، جبکہ بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث التواء کا شکار ہونے والے چند پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل تاحال جاری ہے تیسرے اور آخری مرحلے (10 اگست) کے معرکے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پونچھ ڈویژن کے چاروں اضلاع (باغ، پونچھ، حویلی، اور سدھنوتی) میں میدان مارنے کے لیے ایک انتہائی جارحانہ اور کثیر الجہتی انتخابی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ چونکہ ن لیگ پہلے ہی دو مراحل میں 26 نشستیں حاصل کر کے حکومت سازی کے ہدف سے محض ایک سیٹ کی دوری پر ہے، اس لیے پارٹی قیادت اس آخری مرحلے کو محض رسمی کارروائی کے بجائے ایک بھاری اور فیصلہ کن اکثریت (Landslide Victory) میں بدلنے کے لیے پوری طاقت جھونک رہی ہے۔اس انتخابی حکمت عملی کا سب سے اہم ستون وفاقی وزراء اور پنجاب کی قیادت کی پونچھ ڈویژن میں براہِ راست انٹری ہے، جس کے تحت وفاقی وزیر امورِ کشمیر امیر مقام اور مشیرِ سیاسی امور رانا ثناء اللہ خود انتخابی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں اور پونچھ کے مقامی قبائلی دھڑوں کو وفاق کے ترقیاتی پیکجز کے وعدوں کے ذریعے رام کیا جا رہا ہے۔ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہرین کے مطابق ن لیگ پونچھ ڈویژن میں موجود راجپوت، سدھن اور گجر برادریوں کے مابین روایتی برادری ازم کے کارڈ کو اپنے امیدواروں کی حمایت میں استعمال کرنے کے لیے مقامی عمائدین سے خفیہ ڈیلز کر چکی ہے، جبکہ متبادل کے طور پر جہاں ن لیگ کے امیدوار پوزیشن میں کمزور ہیں، وہاں جموں و کشمیر پیپلز پارٹی (JKPP) اور مسلم کانفرنس کے مضبوط مقامی امیدواروں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا انتخابی گٹھ جوڑ کی اندرونی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ خصوصاً وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کے حلقہِ انتخاب (باغ) میں ان کا گھیراؤ کیا جا سکے۔حکمت عملی کے اگلے رخ کے طور پر ن لیگ کے مرکزی میڈیا سیل نے پونچھ ڈویژن میں آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی (JAAC) کے حالیہ احتجاجی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے آٹے اور بجلی پر وفاقی سبسڈی کے فوری نفاذ کو اپنی مہم کا بنیادی نعرہ بنایا ہے، جبکہ نوجوان ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے سابق صوبائی وزیر مشتاق احمد منہاس کو پونچھ کی مہم کا فرنٹ فیس بنایا گیا ہے تاکہ پیپلز پارٹی کے “وفاقی مداخلت” کے بیانیے کا کاؤنٹر کیا جا سکے۔ ن لیگ کی اس منظم پلاننگ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ 10 اگست کو پونچھ کی بارہ نشستوں میں سے کم از کم 7 سے 8 نشستیں حاصل کر کے نہ صرف اپنی حکومت قائم کی جائے بلکہ مستقبل کے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کسی بیساکھی یا اتحادی جماعت کا محتاج ہونے کے بجائے مکمل طور پر ایک آزاد اور مضبوط ن لیگی حکومت کی بنیاد رکھی جائے۔ تیسرے اور آخری مرحلے (10 اگست) میں پونچھ ڈویژن کے اضلاع باغ، پونچھ (راولاکوٹ)، سدھنوتی اور حویلی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے مابین کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، جہاں دونوں جماعتوں کے کئی سیاسی برج آمنے سامنے ہیں۔ضلع باغ کے سب سے اہم ترین معرکے ایل اے-15 (باغ-2) میں موجودہ وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما چوہدری فیصل ممتاز راٹھور کا براہِ راست مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر اور سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات مشتاق احمد منہاس سے ہے، جسے پورے پونچھ ڈویژن کا سب سے بڑا اور فیصلہ کن مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اسی ضلع کے دوسرے اہم حلقے ایل اے-14 (باغ-1) میں پیپلز پارٹی کے سردار قمر الزمان کا مقابلہ ن لیگ کے کرنل (ر) راجہ محمد نسیم خان سے ہے جہاں دونوں جماعتوں نے انتخابی مہم میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہےضلع پونچھ (راولاکوٹ) کے سب سے ہاٹ سیٹ حلقے ایل اے-19 (پونچھ و سدھنوتی-3) میں ن لیگ کے سردار عامر الطاف کا جوڑ پیپلز پارٹی کے سردار یعقوب خان سے پڑ رہا ہے، جبکہ ایل اے-21 (پونچھ-5) راولاکوٹ شہر کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے سردار طاہر انور کو پیپلز پارٹی کے سردار سعود بن صادق کے کڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ مزید برآں، ضلع حویلی کے واحد مگر انتہائی اہم حلقے ایل اے-22 (حویلی-1) میں ن لیگ کے سینیئر رہنما اور سابق وزیرِ حکومت چوہدری محمد عزیز کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے خواجہ طارق سعید سے ہے، جہاں ن لیگ اپنی روایتی برادری کی طاقت کے بل بوتے پر کامیابی کے لیے انتہائی پرامید ہے۔ پونچھ ڈویژن کے چاروں اضلاع (باغ، پونچھ، سدھنوتی، اور حویلی) کے مجموعی طور پر 12 انتخابی حلقوں میں مجموعی رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 10 لاکھ سے زائد ہے۔ پونچھ ڈویژن کے کل پولنگ اسٹیشنز میں سے تقریباً 35 فیصد کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ راولاکوٹ شہر کے حلقے (LA-21)، ہجیرہ (LA-18)، اور باغ کے حلقہ (LA-15) کے اکثر پولنگ اسٹیشنز اس فہرست میں شامل ہیں جہاں سیاسی جماعتوں کے مابین تصادم کا خطرہ موجود ہے۔ ان اسٹیشنز پر فی کس 8 سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے اور اندرونِ خانہ سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں۔تقریباً 45 فیصد پولنگ اسٹیشنز کو حساس کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جہاں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے ساتھ ساتھ کوئیک رسپانس فورس (QRF) اور رینجرز کے دستے اسٹینڈ بائی پوزیشن پر موجود رہیں گے۔ ان اسٹیشنز پر فی کس 6 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ 20 فیصد پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے روایتی انتظامات ہوں گے جہاں فی اسٹیشن 4 پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ تیسرے مرحلے (10 اگست) کے لیے ضلع سدھنوتی (پلندری) کے بقیہ حلقوں میں بھی مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کے مابین سیاسی جوڑ توڑ عروج پر ہے، جہاں مقامی قبائلی دھڑے اور برادری ازم فتح و شکست کا فیصلہ کرنے میں اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ضلع سدھنوتی کے سب سے اہم حلقے ایل اے-23 (سدھنوتی-1) پلندری شہر میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر سردار نجیب الغفور خان کا براہِ راست مقابلہ پیپلز پارٹی کے سردار محمد حسین سے ہے، جہاں دونوں امیدواروں نے سدھن برادری کے مختلف دھڑوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی مہم کو تیز کر دیا ہے۔ اسی طرح ایل اے-24 (سدھنوتی-2) بلوچ کے حلقے میں ن لیگ کے سردار فاروق احمد طاہر کو پیپلز پارٹی کے سردار امجد یوسف کے کڑے چیلنج کا سامنا ہے، اور اس حلقے میں جے کے پی پی (JKPP) کے مقامی اثر و رسوخ کے باعث مقابلہ سہ فریقی شکل اختیار کر چکا ہے۔پونچھ ڈویژن کے ایک اور اہم ترین معرکے ایل اے-18 (پونچھ و سدھنوتی-2) ہجیرہ کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے سردار خان بہادر خان کا مقابلہ پیپلز پارٹی کے سردار امجد عباسی سے ہے، جہاں لائن آف کنٹرول (LOC) سے متصل ہونے کی وجہ سے وفاق کے ترقیاتی پیکجز اور سیکیورٹی کے معاملات انتخابی مہم کا بنیادی مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان بقیہ حلقوں میں مسلم لیگ (ن) اپنی وفاقی حکومت کی پشت پناہی اور مقامی برادریوں کے ساتھ کی جانے والی حالیہ ڈیلز کی بدولت کامیابی کے لیے انتہائی پرامید دکھائی دیتی ہے۔