آزاد کشمیر انتخابات کا دوسرا مرحلہ: مسلم لیگ (ن) 5 اور پیپلز پارٹی 2 نشستوں پر کامیاب
اسلام آباد ;( پی پی اے)
آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے 8 اور کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں پر پولنگ ختم ہونے کے بعد غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (ن) 5 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی جب کہ پیپلزپارٹی 2 سیٹیں نکالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ آزاد کشمیر کے دوسرے مرحلے کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کا پلڑا بھاری ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق مجموعی طور پر مسلم ليگ (ن) 5 نشستیں جیتنے میں کامیاب گئی جب کہ پیپلزپارٹی 2 حلقوں سے کامیاب ہوئی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے مہاجرین کی 12 میں سے 6 نشستوں کے نتائج کا اعلان کردیا ہے، 5 نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوگئے جب کہ پیپلزپارٹی ایک نشست پر کامیاب ہوئی ہے۔
مسلم لیگ ن کو دیگر 8 نشستوں ایل اے 25، 26، 34، 35، 36، 37، 38 اور 39 پر برتری حاصل ہے جب کہ پیپلزپارٹی ایل اے 32 اور ایل اے 33 میں آگے ہیں۔
آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کے روز مجموعی طور پر 21 نشستوں پر پولنگ شیڈول تھی جس میں مظفرآباد ڈویژن کی 9 اور کشمیری مہاجرین کی 12 نشستیں شامل تھیں تاہم اتوار کی صبح الیکشن کمیشن نے مظفرآباد کے حلقہ ’ایل اے 27‘ میں پولنگ 4 اگست تک ملتوی کردی۔
مظفر آباد ڈویژن کی 8 نشستوں پر پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک اپنے مقررہ وقت تک جاری رہی تاہم الیکشن کمیشن نے پولنگ کے وقت میں مزید ایک گھنٹے کا اضافہ کرکے شام 6 بجے تک بڑھا دیا جب کہ مہاجرین کی 12 نشستوں کے لیے پولنگ کا وقت 5 بجے ختم کردیا گیا جب کہ آزاد جموں و کشمیر کے مہاجرین کی نشستوں پر پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں مقیم آزاد جموں و کشمیر کے شہریوں نے ووٹ کاسٹ کیے۔
آزاد کشمیر کے عام انتخابات 2026 کے تیسرے اور حتمی مرحلے کے تحت پیر 10 اگست کو پونچھ ڈویژن کے معرکے کے لیے سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ چکا ہے،
مسلم لیگ (ن) کی ہائی وولٹیج لہر: میرپور اور مظفرآباد ڈویژنز سمیت مہاجرین کے حلقوں میں کلین سوئپ نما برتری حاصل کرنے کے بعد ن لیگ کے حوصلے آسمان پر ہیں وفاق میں برسرِاقتدار ہونے کے روایتی فائدے اور سیاسی صف بندی کے باعث ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ن لیگ پونچھ ڈویژن کی 11 جنرل نشستوں میں سے اکثریتی نشستیں سمیٹ کر باآسانی سادہ اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گی
موجودہ وزیرِ اعظم اور پی پی پی کے صدر فیصل ممتاز راٹھور کا آبائی حلقہ (باغ-IV) پونچھ ڈویژن میں ہی واقع ہونے کی وجہ سے یہ مرحلہ پی پی پی کے لیے عزت کا سوال بن چکا ہے
گزشتہ دو مراحل میں لگنے والے شدید سیاسی دھچکوں کا ازالہ کرنے اور ن لیگ کا راستہ روکنے کے لیے پیپلز پارٹی پونچھ کو اپنا مضبوط قلعہ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔
پونچھ ڈویژن حالیہ مہینوں میں بجلی کے بلوں اور آٹے پر سبسڈی کے لیے چلنے والی شدید عوامی احتجاجی تحریک کا مرکز رہا ہے روایتی جماعتوں کے خلاف پائے جانے والے شدید عوامی غصے کے باعث پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ کئی نشستوں پر قوم پرست دھڑے اور مقامی آزاد امیدوار اپ سیٹ کرتے ہوئے ن لیگ اور پی پی پی دونوں کا پتا صاف کر سکتے ہیں۔
: آزاد کشمیر میں حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت کو 27 نشستوں کا جادوئی ہندسہ عبور کرنا لازم ہے اگر مسلم لیگ (ن) پونچھ سے مزید 5 تا 6 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ تنہا حکومت بنا لے گی، بصورتِ دیگر آزاد امیدواروں کے تعاون سے مخلوط حکومت کی تشکیل ناگزیر ہو جائے گی۔
پونچھ کی روایتی جارحانہ سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اس مرحلے کو انتہائی حساس قرار دیا ہے۔ پولنگ اسٹیشنز پر پاک فوج اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کیے جانے کی پیش گوئی ہے تاکہ انتخابی عمل کو پرامن رکھا جا سکے۔
پونچھ ڈویژن کے 11 حلقوں (LA-21 سے LA-31) کی تفصیلات اور بااثر امیدوارپونچھ ڈویژن کے اضلاع (باغ، سودھنتی/پلندری، پونچھ/راولاکوٹ، اور حویلی) کے حلقوں کی تفصیلات اور متوقع اہم امیدوار درج ذیل ہیں:ضلع باغ (4 نشستیں)ایل اے 21 (باغ-I): ن لیگ کے راجہ اسفندیار خان اور پی پی پی کے سردار قمر زمان کے مابین روایتی جوڑ پڑے گا۔ایل اے 22 (باغ-II): ن لیگ کے مشتاق احمد منہاس (سابق وزیر) اور پی پی پی کے مضبوط امیدوار کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔ایل اے 23 (باغ-III): ن لیگ کے سردار ضیاء القمر اور پی پی پی کے حریف امیدوار کے درمیان سخت جوڑ توڑ جاری ہے۔ایل اے 24 (باغ-IV): موجودہ وزیرِ اعظم اور صدر پی پی پی فیصل ممتاز راٹھور کا آبائی حلقہ، جہاں ن لیگ کے راجہ صغیر خان انہیں سخت چیلنج دے رہے ہیں ضلع سودھنتی / پلندری (2 نشستیں)ایل اے 25 (سودھنتی-I): ن لیگ کے سردار فاروق احمد طاہر (سابق اسپیکر) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ایل اے 26 (سودھنتی-II): ن لیگ کے ڈاکٹر نجیب نقی خان اور پی پی پی کے سردار امجد یوسف مدمقابل ہیں۔ضلع پونچھ / راولاکوٹ (4 نشستیں)ایل اے 27 (پونچھ-I): ن لیگ کے سردار اعجاز یوسف اور پی پی پی کے مابین کانٹے دار مقابلہ ہے۔ایل اے 28 (پونچھ-II / راولاکوٹ): سردار یعقوب خان (سابق صدر/وزیر اعظم) اور ن لیگ کے راجہ واجد کی بقا کی جنگ۔ یہ حلقہ قوم پرست جماعتوں (جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی) کا گڑھ بھی مانا جاتا ہے۔ایل اے 29 (پونچھ-III): ن لیگ کے سردار ارشد محمود اور پی پی پی کے سردار سعود بن صادق کے درمیان جوڑ پڑے گا۔ایل اے 30 (پونچھ-IV): ن لیگ کے سردار عامر الطاف اور پی پی پی کے امیدوار کے مابین شدید مقابلہ متوقع ہے۔ضلع حویلی (1 نشست)ایل اے 31 (حویلی-I): ن لیگ کے خواجہ طارق سعید اور پی پی پی کے چوہدری عزیز کے درمیان روایتی اور کٹر سیاسی ٹکراؤ دیکھنے کو ملے گا۔





