کھیل کے میدان سے امن کا سفر: پاکستان میں ساؤتھ ایشین گیمز ..
( اصغر علی مبارک)
پاکستان ایک بار پھر عالمی بالخصوص علاقائی کھیلوں کے نقشے پر جگمگانے کے لیے تیار ہے۔کھیل کسی بھی معاشرے، ملک اور خطے میں صرف جسمانی چستی یا تمغوں کے حصول کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ یہ وہ آفاقی زبان ہیں جو سرحدوں کے پار دلوں کو جوڑتی ہے، سیاسی تلخیوں کو پسِ پشت ڈالتی ہے اور سفارت کاری کے بند دروازوں کو کھولنے کی کلید ثابت ہوتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب جب دنیا سیاسی اور سفارتی بحرانوں کا شکار ہوئی، کھیلوں کے میدانوں نے آگے بڑھ کر امن، دوستی اور یکجہتی کا پرچم بلند کیا۔ آج ایک بار پھر جنوبی ایشیا کے افق پر ایک ایسا ہی خوش آئند سورج طلوع ہونے کو ہے، جس کا مرکز اور محور ہمارا پیارا وطن پاکستان ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل (SAOC) کے حالیہ ایگزیکٹو کمیٹی کے ہائی لیول اجلاس نے یہ باقاعدہ اور باضابطہ اعلان کر دیا ہے کہ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کا میگا ایونٹ اگلے برس 3 سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان کی دھرتی پر منعقد ہوگا۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستانی اسپورٹس ہسٹری کا ایک سنہرا اور یادگار باب ہے، بلکہ یہ اس امر کا کھلا اعتراف ہے کہ پاکستان عالمی اور علاقائی سطح پر کھیلوں کے محفوظ، شاندار اور بین الاقوامی معیار کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار اور پرعزم ہے۔ اسلام آباد میں ساؤتھ ایشیا اولمپک کونسل کے حالیہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان نہ صرف کھیلوں کے محفوظ انعقاد کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ خطے میں امن اور بھائی چارے کا سب سے بڑا علمبردار بن کر ابھرا ہے۔ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے مطابق، 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کا میلہ اگلے برس 3 سے 11 اپریل 2027 تک پاکستان میں سجے گا، جو بلا شبہ پاکستانی اسپورٹس ہسٹری کا ایک سنہرا باب ثابت ہوگا۔اس تاریخی موقع پر ساؤتھ ایشین سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (SASJA) کے بانی صدر اور سینئر جرنلسٹ اصغر علی مبارک نے کونسل کے فیصلوں کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک “کھیلوں کا انقلاب” قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گیمز صرف تمغوں کی دوڑ نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کے ممالک کے مابین ثقافتی، سفارتی اور عوامی روابط کو مضبوط کرنے کا ایک بے مثال ذریعہ بنیں گے
اس بار پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ایک بہترین اور اسمارٹ حکمت عملی کے تحت ان گیمز کو صرف وفاقی دارالحکومت تک محدود رکھنے کے بجائے تین بڑے شہروں—اسلام آباد، لاہور اور پشاور—میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے شاندار اور بین الاقوامی معیار کے اسپورٹس انفراسٹرکچر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا بہترین موقع ہے۔اب جبکہ پاکستان بھر کے 28 مختلف مقامات پر تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو رہی ہیں اور بہت جلد “100 ڈیز ٹو گو” کی مہم شروع ہونے والی ہے، پوری قوم اور کھیلوں کے حلقے پرامید ہیں۔ یہ گیمز پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کے بند دروازوں کو مستقل طور پر کھولنے کی کلید ثابت ہوں گے۔ کھیلوں کے حلقوں کا یہ جوش و جذبہ اس بات کی علامت ہے کہ اپریل 2027 میں پاکستان نہ صرف کھیلوں کے میدانوں کو آباد کرے گا، بلکہ کھیل کے میدان سے “دوستی، امن اور یکجہتی” کا وہ پیغام دے گا جس کی گونج پوری دنیا میں سنی جائے گی۔ پاکستان جنوبی ایشیا کو خوش آمدید کہنے کے لیے تیار ہے!اس میگا ایونٹ کے چند اہم اور متاثر کن پہلو درج ذیل ہیں:
کھیلوں کی تعداد:
9 دنوں تک جاری رہنے والے ان مقابلوں میں مجموعی طور پر 28 کھیل شامل کیے گئے ہیں۔
خواتین کی شمولیت: صنفی مساوات اور خواتین کے کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے 25 کھیلوں میں خواتین کھلاڑی اپنے جوہر دکھائیں گی، جو کہ ایک انقلابی قدم ہے۔
میڈل ایونٹس: ایتھلیٹس کے درمیان 346 میڈل ایونٹس کے لیے کانٹے دار مقابلے ہوں گے۔
خرچ اور حجم: خطے کے 7 ممالک (بنگلہ دیش، بھوٹان، انڈیا، مالدیپ، نیپال، سری لنکا اور میزبان پاکستان) سے تقریباً 3,200 کھلاڑی اور مجموعی طور پر 4,200 سے زائد وفود پاکستان کا رخ کریں گے۔ بانی صدر نے اپنے بیان میں اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر غیر ملکی وفود اور بالخصوص بھارتی، نیپالی، اور سری لنکن ایتھلیٹس کی پاکستان آمد سے کھیلوں کی سفارت کاری (Sports Diplomacy) کو ایک نئی جلا ملے گی۔ انہوں نے کونسل کے تمام ارکان بشمول بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر پی ٹی اوشا اور دیگر ممالک کے مندوبین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی میزبانی اور تیاریوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔بطور اسپورٹس جرنلسٹ باڈی کے سربراہ، انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ساؤتھ ایشین سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن خطے بھر کے میڈیا ہاؤسز اور کھیلوں کے صحافیوں کو اس میگا ایونٹ کی بہترین اور عالمی معیار کی کوریج کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرے گی۔ پاکستان کا میڈیا آنے والے تمام معزز مہمانوں اور صحافیوں کا روایتی مہمان نوازی کے ساتھ استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) اور حکومتِ پاکستان نے اس بار ایک انتہائی دوراندیش اور تزویراتی (Strategic) حکمت عملی اپنائی ہے۔ ماضی کے برعکس، ان گیمز کو صرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک محدود رکھنے کے بجائے ملک کے تین بڑے اور تاریخی شہروں—اسلام آباد، لاہور اور پشاور—میں co-host کرنے کا ایک شاندار اور دلیرانہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان کی متنوع ثقافت، تاریخی ورثہ اور مختلف صوبوں میں موجود جدید ترین اسپورٹس انفراسٹرکچر پوری دنیا بالخصوص جنوبی ایشیا کے سامنے کھل کر آئے گا۔لاہور کی تاریخی ثقافت، اسلام آباد کا جدید اور پرسکون ماحول، اور پشاور کی روایتی مہمان نوازی اور اسپورٹس لوونگ سوسائٹی مل کر غیر ملکی مہمانوں کے لیے ایک ایسا گلدستہ تیار کریں گے جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر پائیں گے۔ اصغر علی مبارک نے اس تزویراتی اقدام کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ پشاور اور لاہور جیسے شہروں میں بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد یہ ثابت کرے گا کہ پاکستان کا چپا چپا امن کا گہوارہ ہے اور یہاں کے عوام کھیلوں اور کھلاڑیوں سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ اس اقدام سے نہ صرف مقامی سطح پر کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی تجدید اور اپ گریڈیشن ہوگی بلکہ مقامی معیشت اور ٹورازم کو بھی ایک زبردست فروغ حاصل ہوگا۔
آئندہ 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز کے لیے جدید ترین انفراسٹرکچر کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے لیے ایک اسٹریٹجک توسیع میں، گیمز کی مشترکہ میزبانی تین بڑے پریمیم حب: اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں کی جائے گی۔ اعلیٰ سطحی پلاننگ اسمبلی کی صدارت SAOC اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن (POA) کے صدر عارف سعید نے کی۔ اس سمٹ میں بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، اور سری لنکا کے سینئر معززین اور نیشنل اولمپک کمیٹی (این او سی) کے مندوبین کو لاجسٹک اور فزیکل انفراسٹرکچر کی تیاری کا جائزہ لینے کے لیے اکٹھا کیا گیا۔ کلیدی سرکاری اعدادوشمار جاری کیے گئے: ایونٹ ہورائزن: سخت بین الاقوامی مقابلے کے 9 دن۔ نمایاں حصوں میں سے 25 میں مقابلہ کرنے والی خواتین کے ساتھ شمولیت کے لیے ساختی وابستگی۔ پوڈیم اہداف: 346 انتہائی مقابلہ شدہ تمغے کے مقابلے۔ متوقع حجم: 3,200 عالمی سطح کے ایتھلیٹس کے قریب، کل علاقائی وفود کو تقریباً 4,200 خصوصی حصہ لینے والوں کی طرف دھکیلتے ہوئے: تمام 200 حصہ جدید ترین مقابلے کے مقامات تین نامزد میزبان شہروں میں تقسیم کیے گئے۔ ایگزیکٹو کمیٹی نے تمام بنیادی بنیادی ڈھانچے کا جامع جائزہ لیا، جس میں ایلیٹ ایتھلیٹ کی رہائش اور وقف ٹرانزٹ نیٹ ورکس سے لے کر ریئل ٹائم گیمز ٹائم سروسز شامل ہیں۔ لاہور اور پشاور سے ہونے والی پیش رفت کی تازہ کاریوں کا کامیابی سے تجزیہ کرنے کے بعد، بین الاقوامی وفد کل 24 اگست 2026 کو اسلام آباد کے مقامات کا باضابطہ معائنہ کرے گا۔ جب پاکستان ترقی کے حتمی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، خصوصی کمیٹیوں نے ملک گیر پری لانچنگ مہم شروع کر دی ہے، جس سے فوری طور پر 10 دن کی گنتی کی رفتار کو آگے بڑھایا جائے گا۔ سنگ میل کھیلوں کے بنیادی کیٹلاگ اور شہر کے نظام الاوقات کو مضبوطی سے محفوظ رکھنے کے ساتھ، SAOC اور NOC پاکستان کھیلوں کے بینچ مارک سیٹنگ اعادہ کی میزبانی کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کرتے ہیں جو کھیلوں کے ذریعے علاقائی اتحاد، تعاون اور دوستی کا جشن مناتے ہیں۔
دریں اثنا، ساؤتھ ایشین اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (SASJA) کے بانی صدر اصغر علی مبارک نے اسلام آباد میں منعقدہ ہائی پروفائل ساؤتھ ایشین اولمپک کونسل (SAOC) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران طے پانے والے تاریخی فیصلوں کا باضابطہ خیرمقدم کیا ہے۔ ایک باضابطہ بیان میں تجربہ کار سپورٹس جرنلسٹ نے آئندہ 14ویں ریجنل گیمز کے حوالے سے کئی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ سنگ میل اسٹریٹجک مقام کی توسیع: انہوں نے اسلام آباد، لاہور اور پشاور میں میگا ایونٹ کی مشترکہ میزبانی کے جامع انتخاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔ اگر ہم اس ٹورنامنٹ کے تیکنیکی اور عددی پہلوؤں پر نظر ڈالیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا اور جامع علاقائی ایونٹ ہونے جا رہا ہے۔ 9 دنوں پر محیط ان کھیلوں کے دوران سنسنی خیز اور کانٹے دار مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس میگا ایونٹ میں مجموعی طور پر 28 مختلف کھیلوں کو شامل کیا گیا ہے، جس میں روایتی اور جدید دونوں طرح کے کھیل شامل ہیں تاکہ ہر قسم کے ایتھلیٹس کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا پورا موقع مل سکے۔ اس بار گیمز کا سب سے خوبصورت اور انقلابی پہلو یہ ہے کہ مجموعی طور پر 25 کھیلوں میں خواتین کھلاڑی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی۔ یہ جنوبی ایشیا جیسے خطے میں، جہاں خواتین کے کھیلوں کو مزید فروغ کی ضرورت ہے، ایک تاریخی اور انتہائی مثبت قدم ہے۔ یہ قدم خواتین ایتھلیٹس کے حوصلوں کو نئی اڑان دے گا نو روزہ مقابلوں کے دوران مختلف کیٹیگریز میں مجموعی طور پر 346 میڈل ایونٹس منعقد ہوں گے، یعنی خطے کے بہترین کھلاڑی سینکڑوں طلائی، چاندی اور کانسی کے تمغوں کے لیے ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوں گے جنوبی ایشیا کے 7 ممالک (بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت، مالدیپ، نیپال، سری لنکا اور میزبان پاکستان) سے تقریباً 3,200 سے زائد نامور ایتھلیٹس پاکستان کا رخ کریں گے۔ اگر ان کے ساتھ آنے والے کوچز، آفیشلز، ریفریز اور تکنیکی عملے کو بھی شامل کیا جائے تو یہ حجم 4,200 سے تجاوز کر جاتا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر بین الاقوامی آمد کا انتظام کرنا بذاتِ خود پاکستان کی انتظامی صلاحیتوں کا ایک بڑا امتحان اور موقع ہے۔ تینوں میزبان شہروں میں مجموعی طور پر 28 مختلف اور مخصوص مقامات پر تیاریاں اور تزئین و آرائش کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے۔ ان مقامات کو بین الاقوامی اولمپک معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے بانی صدر اصغر علی مبارک کا کہنا ہے کہ جب خطے کے تمام ممالک کی اولمپک قیادت اسلام آباد میں ایک میز پر بیٹھتی ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ کھیل تمام تر سیاسی دوریاں مٹانے کی طاقت رکھتے ہیں۔اصغر علی مبارک نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا کہ پاک-بھارت کھیلوں کے روابط کی بحالی میں یہ گیمز ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب بھارتی کھلاڑی پاکستان کے میدانوں میں کھیلیں گے اور یہاں کے عوام سے محبت اور داد وصول کریں گے، تو اس سے دونوں ممالک کے عوامی تعلقات (People-to-People Contacts) میں جمی برف پگھلے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کھیلوں کی سفارت کاری” وہ واحد راستہ ہے جو کم سے کم وقت میں اور بغیر کسی کڑواہٹ کے خطے میں امن قائم کر سکتا ہے، اور پاکستان اس سفارت کاری کی قیادت کرنے کے لیے پوری طرح تیار کھڑا ہے۔کسی بھی بین الاقوامی میگا ایونٹ کی کامیابی کا نصف دارومدار اس کی میڈیا کوریج اور دنیا بھر میں بننے والے امیج پر ہوتا ہے۔ اصغر علی مبارک نے بطور میڈیا باڈی کے سربراہ، اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ساؤتھ ایشین سپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن (SASJA) خطے بھر سے آنے والے سینکڑوں غیر ملکی صحافیوں، فوٹو گرافرز اور براڈکاسٹرز کے لیے ایک سہولت کار کا کردار ادا کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اسپورٹس میڈیا آنے والے تمام بین الاقوامی صحافیوں کا روایتی جوش و جذبے اور روایتی مہمان نوازی سے استقبال کرے گا۔ SASJA پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر ایک جدید ترین اور ہائی ٹیک میڈیا سینٹر کے قیام کے لیے کام کرے گی تاکہ دنیا بھر میں ان کھیلوں کا مثبت، پرامن اور شاندار چہرہ لائیو دکھایا جا سکے۔ انہوں نے مقامی میڈیا ہاؤسز پر بھی زور دیا کہ وہ ابھی سے ان گیمز کی تشہیر شروع کریں تاکہ عوام میں اس میگا ایونٹ کے حوالے سے بیداری اور جوش و جذبہ پیدا ہو سکے۔ اب جبکہ پاکستان ان گیمز کی تیاریوں کے آخری اور حتمی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، آنے والے دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ کونسل کا وفد اسلام آباد، لاہور اور پشاور کے تمام 28 اسپورٹس مقامات کا تفصیلی اور فزیکل دورہ کر رہا ہے تاکہ انتظامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، پری لانچ سرگرمیاں اور سب سے اہم سنگ میل “100 Days to Go” (کاؤنٹ ڈاؤن کا آغاز) کی تیاریاں بھی عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ حکومتِ پاکستان، پاکستان اسپورٹس بورڈ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر سیکیورٹی اور لاجسٹکس کے فول پروف انتظامات کو یقینی بنا رہے ہیں تاکہ آنے والے تمام کھلاڑی خود کو مکمل طور پر محفوظ اور اپنے گھر کی طرح محسوس کریں۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 14ویں ساؤتھ ایشین گیمز 2027 کی پاکستان میں میزبانی صرف ایک کھیلوں کا ایونٹ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کے روشن، پرامن اور ترقی پسند مستقبل کا اشتہار ہے۔ یہ ان عناصر کے منہ پر ایک طمانچہ ہے جو پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ کھیل کے میدانوں کی یہ رونقیں پاکستان کی معیشت، ٹورازم، ہوٹل انڈسٹری اور سب سے بڑھ کر ملک کے بین الاقوامی امیج کے لیے ایک عظیم ٹانک ثابت ہوں گی۔جیسا کہ اصغر علی مبارک نے کہا ہے، یہ گیمز جنوبی ایشیا میں امن، دوستی، تعاون اور یکجہتی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں گے۔ اب یہ ہم سب کی، بطور قوم، میڈیا اور انتظامیہ، مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم دن رات ایک کر کے ان گیمز کو تاریخ کے کامیاب ترین کھیل بنائیں۔ پاکستان اپنی بانہیں کھولے، محبتوں کا پیغام لیے،پورے جنوبی ایشیا کو خوش آمدید کہنے کے لیے پوری طرح تیار اور لیس ہے! میدان سجنے کو ہے، اور فتح صرف کھیلوں کی نہیں، بلکہ امن اور انسانیت کی ہوگی,





