عالمی یومِ سیاحت;پاکستان کے مثبت تشخص کو اُجاگر کرنے کا اہم ذریعہ
( اصغر علی مبارک )
سیاحت ملکی معیشت، روزگار کے فروغ اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اُجاگر کرنے کا اہم ذریعہ ہے، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیاحت صرف پہاڑوں اور وادیوں کی سیر کا نام نہیں، یہ دلوں کو جوڑنے کا پل ہے,کہتے ہیں کہ کسی ملک کی سرحدیں اس کا جغرافیہ طے کرتی ہیں، لیکن اس کا ثقافتی اور سیاحتی حسن اس کی روح کا تعین کرتا ہے۔
دنیا کے نقشے پر پاکستان ایک ایسا خوش قسمت ملک ہے جسے قدرت نے نہ صرف تزویراتی اہمیت سے نوازا ہے، بلکہ اس کی دھرتی کو حسن، تنوع اور تاریخ کا شاہکار بنایا ہے۔ آج کے جدید دور میں، جہاں عالمی سطح پر میڈیا اور پروپیگنڈا کسی بھی ملک کے تشخص کو بنانے یا بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، وہاں “سیاحت” محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ یہ سافٹ پاور کے اظہار اور قومی تشخص کی بحالی کا سب سے بڑا اور مؤثر سفارتی ہتھیار بن چکی ہے۔ پاکستان کے لیے، جس نے ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور منفی پروپیگنڈے کی بھاری قیمت چکائی ہے، سیاحت کا فروغ اپنے حقیقی، پرامن اور خوبصورت چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا سنہری موقع ہے۔
پاکستان کا جغرافیائی تنوع دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک مقناطیسی کشش رکھتا ہے۔ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ‘کے ٹو’ (K2) سمیت ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کے فلک بوس پہاڑ، ہنزہ، سوات، چترال اور کاغان کی مسحور کن وادیاں، بلوچستان کا طویل اور پرسکون ساحل، اور چولستان و تھر کے سحر انگیز ریگستان؛ یہ سب مل کر ایک ایسا کینوس بناتے ہیں جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔
جب کوئی غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان کی سڑکوں پر سفر کرتا ہے، یا ہنزہ کے مقامی لوگوں کی روایتی مہمان نوازی کا تجربہ کرتا ہے، تو وہ صرف مناظر نہیں دیکھ رہا ہوتا، بلکہ وہ پاکستان کے امن، محبت اور ثقافتی پختگی کا چشم دید گواہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے پاکستان کے خلاف برسوں سے بنے بنائے منفی بیانیے کا خاتمہ ہوتا ہے۔بات صرف قدرتی مناظر تک محدود نہیں، پاکستان مذہبی اور تاریخی سیاحت کا بھی ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ وادیٔ سندھ کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے امین موہنجوداڑو اور ہڑپہ، ٹیکسلا کے گندھارا آرٹ کے شاہکار، اور لاہور کے مغلائی فنِ تعمیر کے نادر نمونے دنیا بھر کے تاریخ دانوں کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، کرتارپور راہداری کا قیام، ننکانہ صاحب اور حسن ابدال میں سکھ برادری کے مقدس مقامات، اور ٹیکسلا و سوات میں بدھ مت کے آثار، پاکستان کے مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتوں کے احترام کے عالمی تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔ جب بھارت، کینیڈا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے ہزاروں سکھ یا بدھ مت کے پیروکار پاکستان آتے ہیں اور یہاں انہیں مکمل تحفظ اور احترام ملتا ہے، تو وہ دنیا بھر میں پاکستان کے امن پسند سفیر بن کر لوٹتے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا میں اکثر پاکستان کو ایک روایتی یا سیکیورٹی کے مسائل سے دوچار ملک بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے۔ اس فرسودہ تصور کو توڑنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ دنیا کو خود یہاں آنے اور دیکھنے کی دعوت دی جائے۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا، یوٹیوب نے اس ضمن میں انقلاب برپا کیا ہے۔ جب ایوا زو بیک ، ڈریو بنسکی اور مارک وینز جیسے عالمی شہرت یافتہ بلاگرز نے پاکستان کے طول و عرض کا سفر کیا، یہاں کے کھانوں کی تعریف کی اور یہاں کے لوگوں کو دنیا کا “مہمان نواز ترین انسان” قرار دیا، تو اس کا اثر کسی اربوں ڈالر کی تشہیری مہم سے کہیں زیادہ گہرا اور دیرپا ثابت ہوا۔ ان کی ویڈیوز نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان ایک محفوظ، متحرک اور جینے کی امنگ سے بھرپور ملک ہے۔معاشی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سیاحت پاکستان کی معیشت کے لیے ایک لائف لائن بن سکتی ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف زرمبادلہ کمانے کا تیز ترین ذریعہ ہے، بلکہ اس سے مقامی سطح پر روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقوں میں، جہاں صنعتیں قائم کرنا ممکن نہیں، وہاں سیاحت ہی مقامی لوگوں کی معیشت کا واحد سہارا ہے۔ ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، ہینڈ کرافٹس اور گائیڈز کی خدمات جیسے شعبے براہِ راست سیاحت سے جڑے ہیں۔ جب مقامی آبادی معاشی طور پر مستحکم ہوتی ہے، تو وہ تعلیم اور ترقی کی طرف گامزن ہوتی ہے، جس سے معاشرے میں انتہا پسندی کا خود بخود خاتمہ ہوتا ہے اور ملک کا اندرونی و بیرونی تشخص مزید نکھرتا ہے۔تاہم، اس صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے ہمیں چند سنجیدہ اقدامات اور طویل مدتی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلا اور اہم ترین مسئلہ بنیادی ڈھانچے کا ہے۔ سیاحتی مقامات تک رسائی کے لیے سڑکوں کا نیٹ ورک، معیاری اور سستے ہوٹلوں کی دستیابی، اور انٹرنیٹ و مواصلات کی سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔ سی پیک کے تحت بننے والی سڑکوں نے اس سلسلے میں بڑی مدد کی ہے، لیکن ابھی بہت کام باقی ہے۔ دوسرا اہم پہلو “سسٹین ایبل ٹورازم” یعنی ماحولیاتی تحفظ کا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ سیاحوں کی آمد سے ہماری خوبصورت وادیوں کا ماحول آلودہ نہ ہو اور قدرتی حسن برقرار رہے۔ اس کے لیے سیاحوں میں شعور بیدار کرنے کے ساتھ ساتھ سخت قوانین کی ضرورت ہےعلاوہ ازیں، ہماری سفارتی سطح پر “ٹورازم ڈپلومیسی” کو فعال کرنا ہوگا۔ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو پاکستان کے سیاحتی ویزا کے حصول کو مزید آسان بنانا چاہیے اور وہاں باقاعدگی سے پاکستان کی ثقافت، دستکاری اور قدرتی حسن کی نمائشیں منعقد کرنی چاہئیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے، لہٰذا حکومت کو ایک ایسا عالمی پورٹل اور موبائل ایپ متعارف کرانی چاہیے جہاں دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھا شخص ایک کلک پر پاکستان کے سفر کی مکمل پلاننگ، بکنگ اور سیکیورٹی گائیڈ لائنز حاصل کر سکے۔آج کا پاکستان بدل رہا ہے۔ اب یہ دہشت گردی کا شکار ملک نہیں، بلکہ امن، کرکٹ کی بحالی، اور عالمی سیاحت کا ابھرتا ہوا مرکز ہے۔ جب پاکستان انٹرنیشنل اسپورٹس اور ٹورازم کے نقشے پر جگمگاتا ہے، تو دنیا مجبور ہو جاتی ہے کہ وہ اس مٹی کے اصل رنگوں کو دیکھے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست، میڈیا اور عوام مل کر ایک ٹیم کے طور پر کام کریں۔ ہمیں اپنے رویوں میں مزید لچک، مہمان نوازی اور صفائی پسندی کو فروغ دینا ہوگا کیونکہ ہر پاکستانی اس دھرتی کا برانڈ ایمبیسیڈر ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سیاحت صرف پہاڑوں اور وادیوں کی سیر کا نام نہیں، یہ دلوں کو جوڑنے کا پل ہے۔ جب ایک غیر ملکی پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہے، یہاں کی چائے پیتا ہے، یہاں کے صوفیانہ میوزک کو سنتا ہے اور یہاں کی مسکراہٹوں کا امین بنتا ہے، تو وہ تمام منفی پروپیگنڈوں کو پسِ پشت ڈال کر پاکستان کا مداح بن جاتا ہے۔ یہی وہ مثبت تشخص ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا کی صفِ اول کی پرامن اور ترقی یافتہ اقوام میں شامل کر سکتا ہے۔ پاکستان کا حسن بے مثال ہے، بس اب دنیا کو اس حسن کا اسیر بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ سیاحت کا شعبہ ملکی معیشت کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پاکستان کے مثبت تشخص کو دنیا بھر میں اُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان اپنے قدرتی حسن، تاریخی مقامات، متنوع ثقافت اور شاندار مذہبی و تہذیبی ورثے کے باعث سیاحت کے شعبے میں وسیع امکانات رکھتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی یومِ سیاحت کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا، جو ہر سال 27 ستمبر کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات، بلند پہاڑی سلسلے، وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب اور گندھارا تہذیب ملک کے اہم سیاحتی اور ثقافتی اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں اور اس شعبے کی ترقی سے نہ صرف ملکی معیشت کو تقویت مل سکتی ہے بلکہ مقامی آبادی، نوجوانوں اور خواتین کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔پاکستان میں سیاحت کا فروغ محض چند مقامات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایڈونچر، ماحولیات، ثقافت اور ساحلی سیاحت جیسے متعدد نئے شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے کے ٹو اور نانگا پربت جیسے فلک بوس پہاڑ اور بالتورو گلیشیئر جیسے کٹھن ٹریکس ہمیشہ سے مقناطیسی کشش رکھتے ہیں، جبکہ مالم جبہ اور نلتر میں سرمائی کھیلوں اور اسکیئنگ کے بین الاقوامی مقابلوں نے سرمائی سیاحت کو ایک نئی پہچان دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ایکو ٹورازم کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس میں دنیا کا دوسرا بلند ترین میدان دیوسائی نیشنل پارک، مارخور کا مسکن خنجراب نیشنل پارک اور بلوچستان کا ہنگول نیشنل پارک منفرد اہمیت کے حامل ہیں۔ ساحلی سیاحت کے شوقین افراد کے لیے مکران کوسٹل ہائی وے، کنڈ ملیر بیچ اور گوادر کا جزیرہ اسٹولا اپنے نیلم جیسے صاف پانی کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کی ثقافتی رنگا رنگی بھی سیاحوں کے دل جیت رہی ہے، جہاں شندور کا تاریخی پولو فیسٹیول، وادیٔ کالاش کا چلم جوش تہوار اور چولستان کی جیپ ریلی دنیا بھر کے ثقافتی سیاحوں کو راغب کرتی ہے، جبکہ لاہور کی فورٹ روڈ فوڈ اسٹریٹ اور پشاور کی نمک منڈی عالمی فوڈ بلاگرز کے پسندیدہ ترین مراکز بن چکے ہیں۔ ان تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے حکومت نے ویزا پالیسی میں انقلابی تبدیلیاں کی ہیں، جس کے تحت دنیا کے 100 سے زائد ممالک کے لیے آن لائن ای-ویزا اور ویزا آن ارائیول کی سہولت دی گئی ہے، جبکہ ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے سیاحوں کو ہوٹل بکنگ اور سیکیورٹی گائیڈ لائنز ایک کلک پر فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ پاکستان کا ایک محفوظ اور متحرک چہرہ دنیا کے سامنے برقرار رہے۔پاکستان کی معیشت میں سیاحت کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور یہ ملکی جی ڈی پی (GDP) میں تقریباً 5.9 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کی حالیہ رپورٹس کے مطابق یہ شعبہ ملک بھر میں 4.7 ملین سے زائد ملازمتوں کو سپورٹ کر رہا ہے اور اس سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدنی 1.15 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ سیاحت کا سب سے بڑا معاشی فائدہ یہ ہے کہ یہ زرمبادلہ کمانے کا تیز ترین ذریعہ ہے اور اس سے حاصل ہونے والا سرمایہ براہِ راست ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، مقامی دستکاری اور گائیڈز کی خدمات کے ذریعے دور دراز کے پسماندہ علاقوں تک منتقل ہوتا ہے، جس سے مقامی معیشت مضبوط ہوتی ہے اسکردو اور گوادر اس وقت پاکستان کی سیاحتی اور معاشی ترقی کے دو بڑے اور بالکل مختلف مگر اہم ترین مراکز بن کر ابھرے ہیں:گلگت بلتستان علاقہ ایڈونچر اور ماؤنٹینیئرنگ سیاحت کا عالمی مرکز بن چکا ہے۔ اسکردو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے حکومت نے سوئس فرم ‘انٹائر پلان’ کے اشتراک سے 180 ملین روپے کا بڑا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کی بدولت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ اسکردو کی معیشت کا 80 فیصد سے زائد حصہ براہِ راست سیاحت پر منحصر ہے۔ یہاں موسمِ بہار میں چیری بلاسم ٹورز اور گرمیوں میں کے ٹو بیس کیمپ ٹریکنگ اور دیوسائی نیشنل پارک کی سیر کے لیے لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ اس آمد سے مقامی سطح پر سینکڑوں نئے گیسٹ ہاؤسز، ہوٹل اور جیپ ٹرانسپورٹ کا نیٹ ورک کھڑا ہوا ہے، جس نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو روزگار کے شاندار مواقع فراہم کیے ہیں۔گوادر (بلوچستان): جہاں اسکردو پہاڑی سیاحت کا مرکز ہے، وہیں گوادر اپنی تزویراتی اور سمندری سیاحت کی وجہ سے پاکستان کے معاشی مستقبل کا ضامن ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر پورٹ کی ترقی نے جہاں تجارتی سرگرمیوں کو بڑھایا ہے، وہاں ساحلی سیاحت کے نئے دروازے بھی کھولے ہیں۔ مکران کوسٹل ہائی وے، ہیمر ہیڈ کے دلکش مناظر، کنڈ ملیر کا صاف شفاف ساحل اور گوادر کے قریب واقع جزیرہ ‘اسٹولا’ اپنے نیلے پانیوں کی وجہ سے ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کے لیے بڑی کشش بن رہے ہیں گوادر میں ہونے والی ترقیاتی سرمایہ کاری نے بلوچستان میں انفراسٹرکچر کو بہتر کیا ہے، اور مستقبل میں ریزورٹس اور کروز سیاحت کے ذریعے یہ شہر ملکی معیشت میں اربوں ڈالر کا اضافہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ سیاحت کا موضوع ”سیاحت کی نئی تشکیل کے لیے ڈیجیٹل ایجنڈا اور مصنوعی ذہانت“ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال سے سیاحتی مقامات کی تشہیر، سفری منصوبہ بندی اور سیاحوں کو بروقت معلومات اور بہتر سہولیات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لیے سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی، انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نظام کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کی ترقی کے ساتھ قدرتی ماحول، تاریخی مقامات اور ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے سیاحت کے فروغ کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، متعلقہ اداروں اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان کے قدرتی حسن، تاریخی مقامات، ثقافتی تنوع اور روایتی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی روایتی مہمان نوازی کے ساتھ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے اس موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کے خوبصورت سیاحتی مقامات، متنوع ثقافتی ورثہ اور تاریخی اہمیت کے حامل مقامات قومی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، مقامی معیشت کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ماحولیات اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ کو بھی خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے مقامی آبادی، متعلقہ اداروں اور نجی شعبے کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔





