مکہ معاہدہ; حرمین شریفین کو پہنچنے والا خطرہ پاکستان کے لیے “سرخ لکیر”
(اصغر علی مبارک) پاکستانی قیادت کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کو پہنچنے والا کوئی بھی خطرہ پاکستان کے لیے وہ “سرخ لکیر” ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن ہی نہیں
وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف نےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اعلان کیا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے تحفظ اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ایک ایسی “سرخ لکیر” ہے جسے ہرگز عبور نہیں کیا جانا چاہیے وزیرِ اعظم پاکستان نے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے یمن کی حوثی تحریک کے حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کی شدید مذمت کی اور خاص طور پر مکہ کے قریب روکے جانے والے ایک ڈرون کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ میں اسلام کے مقدس ترین مقامات کو لاحق کوئی بھی خطرہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنتا ہے اور یہ ایک ایسی حتمی حد ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان گزشتہ ماہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” پر دستخط کے بعد سامنے آیا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد، معاہدے میں شامل ممالک کے عسکری سربراہان نے مشترکہ سیکیورٹی تعاون پر بات چیت کے لیے ریاض میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔
یہ بلاشبہ پوری مسلم امہ کے لیے ایک غیر متبدل حقیقت اور انتہائی حساس معاملہ ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ (حرمین شریفین) کا تحفظ، سلامتی اور تقدس ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے ایمان کا بنیادی حصہ اور ایک ایسی “سرخ لکیر” ہے جس پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے اسلامی دنیا کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے: حرمین شریفین صرف جغرافیائی مقامات نہیں ہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں کی عقیدت، نمازوں کے قبلے اور اتحاد کا مرکز ہیں۔ ان کی طرف اٹھنے والی کوئی بھی میلی آنکھ پورے عالمِ اسلام کو مضطرب کر دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ان مقدس مقامات کی سلامتی پر معمولی سا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا، تمام مسالک، ممالک اور نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر پوری مسلم امہ ایک دیوار بن کر کھڑی ہو گئی حرمین شریفین کا تحفظ نہ صرف سعودی عرب بلکہ ہر مسلم حکومت اور ہر کلمہ گو کی اولین ترجیح اور مشترکہ ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان ماضی میں خلیجی ممالک سے مالی امداد حاصل کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم، مکہ معاہدے اور جنرل (ر) نعمان محمود کی بطور سیکرٹری جنرل تعیناتی نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کا ایک اہم “سیکیورٹی فراہم کار” بنا دیا ہے۔
مکہ معاہدے کی “مشترکہ دفاع” کی شق نے بھارت کے اس عسکری نظریے کو کمزور کر دیا ہے جس کے تحت وہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا تھا سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اس مضبوط اتحاد کے بعد پاکستان اپنی توجہ اور وسائل کو داخلی سیکیورٹی اور مغربی سرحد (افغانستان) سے جڑے چیلنجز پر زیادہ بہتر طریقے سے مرکوز کر سکتا ہے۔ اب کسی بھی بڑے روایتی تنازع کی صورت میں بھارت کو یہ حقیقت مدِ نظر رکھنی ہوگی کہ پاکستان کی پشت پر مشرقِ وسطیٰ اور نیٹو کی ایک اہم عسکری طاقت (ترکیہ) کھڑی ہے مکہ معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پانے والا ایک تاریخی سیکیورٹی پیکٹ ہے، جس کی بنیادی شق کے تحت تینوں ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بنیادی تزویراتی مقاصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور صنعتی تعاون کو ایک نئے اور طاقتور نہج پر لانا ہیں،
اس معاہدے کا سب سے اہم مقصد ایک مضبوط تزویراتی ڈھال قائم کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی بھی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور وہ مل کر اس کا جواب دیں گے۔
تینوں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو یکجا کر رہے ہیں تاکہ جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈرونز، میزائل سسٹم اور دیگر فوجی سازوسامان کی مشترکہ تیاری ممکن بنائی جا سکے اور مغربی ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے۔
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے پیشِ نظر، یہ اتحاد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور دہشت گردی و دیگر مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط بلاک کے طور پر کام کرے گا۔
اس تزویراتی شراکت داری کا مقصد تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، جدید تربیتی پروگرامز اور حساس انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو مزید مربوط بنانا ہے۔ سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، پاک فوج کے نامور افسر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نعمان محمود کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ ریاض، سعودی عرب میں قائم اس نو تشکیل شدہ سہ فریقی اتحاد کے جنرل سیکرٹریٹ کی سربراہی کریں گے لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود اس سے قبل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور اب وہ اس تزویراتی اتحاد کے پہلے انتظامی سربراہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بنیادی تزویراتی مقاصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور صنعتی تعاون کو ایک نئے اور طاقتور نہج پر لانا ہیں،
اس معاہدے کا سب سے اہم مقصد ایک مضبوط تزویراتی ڈھال قائم کرنا ہے، جس کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ میں سے کسی بھی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور وہ مل کر اس کا جواب دیں گے۔ تینوں ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو یکجا کر رہے ہیں ,تاکہ جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈرونز، میزائل سسٹم اور دیگر فوجی سازوسامان کی مشترکہ تیاری ممکن بنائی جا سکے اور مغربی ممالک پر انحصار کم کیا جا سکے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتی ہوئی اس تزویراتی شراکت داری کا مقصد تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، جدید تربیتی پروگرامز اور حساس انٹیلیجنس شیئرنگ کے نظام کو مزید مربوط بنانا ہے۔ تاہم، سعودی عرب کا پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ اس بڑے دفاعی معاہدے میں شامل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاض اب واشنگٹن یا تل ابیب پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنی سیکیورٹی کے لیے مسلم دنیا کے متبادل عسکری شراکت داروں کو ترجیح دے رہا ہے
اگرچہ یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری چھتری کو باقاعدہ دوسرے ممالک تک نہیں پھیلاتا، لیکن پاکستان کی نیوکلیئر پوزیشن کا اس اتحاد کی پشت پر ہونا اسرائیل کے عسکری منصوبہ سازوں کے لیے ایک اہم نفسیاتی فیکٹر ہے۔خلاصہ:بھارت اور اسرائیل دونوں اس معاہدے کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے بتدریج کم ہونے اور ایک کثیر القطبی عسکری نظام کے ابھرنے کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک فی الحال اس اتحاد کی عسکری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر امریکہ، نیٹو اور مجموعی طور پر مغربی ممالک کا ردعمل روایتی مخالفت کے بجائے ملا جلا، محتاط اور تزویراتی رہا ہے۔ چونکہ اس اتحاد میں شامل تینوں ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پہلے ہی امریکہ کے قریبی دفاعی شراکت دار یا اتحادی رہے ہیں، اس لیے مغرب نے اسے اپنے لیے خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک نئی علاقائی تبدیلی کے طور پر دیکھا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور واشنگٹن کے حکام نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ امریکہ اسے “اسٹریٹجک برڈن شیئرنگ” (دفاعی بوجھ بانٹنے) کے عمل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ واشنگٹن طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے دیگر اتحادی اپنی فضائی اور میزائل ڈیفنس کی براہِ راست ذمہ داری خود سنبھالیں۔ امریکہ کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں اس کی اپنی عسکری اور مالیاتی شمولیت کا بوجھ کم ہوگا۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ خلیج میں امریکی سیکیورٹی چھتری کا متبادل نہیں ہے، بلکہ یہ علاقائی طاقتوں کو مزید بااختیار بنانے کی ایک کوشش ہے۔ اگرچہ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے مکہ معاہدے کے اصول کو نیٹو کے آرٹیکل 5 (ایک پر حملہ سب پر حملہ) سے تشبیہ دی ہے، لیکن مغربی عسکری ماہرین اسے “مسلم نیٹو” تسلیم کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ نیٹو کے برعکس، مکہ معاہدے کا ابھی تک کوئی مستقل مشترکہ فوجی کمانڈ اسٹرکچر یا پہلے سے متعین فوجیں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے نیٹو اسے ایک باقاعدہ عسکری بلاک کے بجائے ایک تزویراتی شراکت داری اور ڈیٹرنس کا فریم ورک سمجھتا ہے ترکیہ خود نیٹو کا ایک اہم رکن ملک ہے۔ نیٹو کے لیے یہ بات اہم ہے کہ ترکیہ کا اس نئے اتحاد میں شامل ہونا نیٹو کی ذمہ داریوں سے متصادم نہیں بلکہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی توازن برقرار رکھنے کا ایک علاقائی ذریعہ ہے مغربی تھنک ٹینکس (جیسے کونسل آن فارن ریلیشنز اور دی ڈپلومیٹ) کا کہنا ہے کہ معاہدے کی تحریر جتنی مضبوط ہے، عملی طور پر اس کی افادیت پر اب بھی سوالات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں کے بعد پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے فوری عسکری ردعمل کے بجائے سفارتی رویہ اپنانا اس اتحاد کی “تزویراتی حد” کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی حکام کا ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ چونکہ واشنگٹن کے ان تینوں ممالک کے ساتھ گہرے عسکری تعلقات ہیں، اگر کل کو اس معاہدے کی وجہ سے خطے میں کوئی بڑی جنگ چھڑتی ہے، تو امریکہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس بحران میں گھسٹ سکتا ہے۔مجموعی طور پر، مغربی دنیا مکہ معاہدے کو اپنی دشمنی کے طور پر نہیں دیکھ رہی، بلکہ اسے امریکی بالادستی میں کمی اور علاقائی طاقتوں کے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے بڑھتے ہوئے رجحان کے طور پر مانیٹر کر رہی ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھارت اور اسرائیل دونوں کا ردعمل گہری تشویش، قریبی مانیٹرنگ اور سفارتی و عسکری اثرات کے جائزے پر مبنی ہے۔ چونکہ یہ معاہدہ تین بڑی مسلم فوجی اور معاشی طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو یکجا کرتا ہے، اس لیے نئی دہلی اور تل ابیب کے اسٹریٹجک حلقوں میں اس پر تفصیلی بحث جاری ہے۔دونوں ممالک کے ردعمل اور خدشات کی تفصیل درج ذیل ہے بھارتی وزارتِ خارج نے مکہ معاہدے پر اپنے باقاعدہ بیان میں کہا ہے کہ نئی دہلی اس عسکری اتحاد کی پیشرفت کو “قریب سے مانیٹر” کر رہا ہے۔ بھارتی عسکری ماہرین اور وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے اس کے عملی اثرات پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔ بھارت کے لیے سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا اور مضبوط دفاعی وزن حاصل ہو گیا ہے۔ نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ دو بڑی طاقتوں (سعودی عرب اور ترکیہ) کی پشت پناہی سے پاکستان کا سفارتی اور عسکری اعتماد مزید بڑھے گا۔”ایک پر حملہ، سب پر حملہ” کی شق: مکہ معاہدے کی یہ دفاعی شق (جو نیٹو کے آرٹیکل 5 جیسی ہے) بھارت میں خاص طور پر زیرِ بحث ہے۔ بھارتی اسٹریٹجک پلانرز اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں پاک بھارت روایتی تنازع یا کسی عسکری تصادم کی صورت میں اس شق کے اس اتحاد پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
بھارت کے دفاعی مبصرین کا خیال ہے کہ چونکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں کے چین کے ساتھ قریبی اقتصادی اور تزویراتی تعلقات ہیں، اس لیے یہ معاہدہ بالواسطہ طور پر خطے میں چین کے “بیلٹ اینڈ روڈ” اور عسکری نیٹ ورک کو مضبوط کر سکتا ہے، جو بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے بھارت کو خدشہ ہے کہ اس عسکری بلاک کے بعد، بھارت-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی راہداری ، جو سعودی عرب اور اسرائیل سے گزرنی تھی، مزید تاخیر یا رکاوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔
تزویراتی ڈیٹرنس اور محتاط سفارت کاریاسرائیلی تھنک ٹینکس جیسے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز اس معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اگرچہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے واضح کیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کو اسرائیل یا کسی تیسرے ملک کے خلاف اتحاد سمجھنا درست نہیں، پھر بھی اسرائیلی حلقوں میں اسے ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ خطے میں اسرائیل کی بلا روک ٹوک عسکری کارروائیوں کے خلاف ایک غیر اعلانیہ ڈیٹرنس قائم کرتا ہے۔ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی، سعودی عرب کے مالی وسائل اور پاکستان کی مضبوط فوج (اور نیوکلیئر اسٹیٹس) کا یہ امتزاج مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسرائیل کو توقع تھی کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو باقاعدہ بحال کر لے گا۔ تاہم، سعودی عرب کا پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ اس بڑے دفاعی معاہدے میں شامل ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاض اب واشنگٹن یا تل ابیب پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اپنی سیکیورٹی کے لیے مسلم دنیا کے متبادل عسکری شراکت داروں کو ترجیح دے رہا ہے اگرچہ یہ معاہدہ پاکستان کی جوہری چھتری کو باقاعدہ دوسرے ممالک تک نہیں پھیلاتا، لیکن پاکستان کی نیوکلیئر پوزیشن کا اس اتحاد کی پشت پر ہونا اسرائیل کے عسکری منصوبہ سازوں کے لیے ایک اہم نفسیاتی فیکٹر ہے۔ بھارت اور اسرائیل دونوں اس معاہدے کو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے بتدریج کم ہونے اور ایک کثیر القطبی عسکری نظام کے ابھرنے کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ دونوں ممالک فی الحال اس اتحاد کی عسکری سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔حرمین شریفین کے تحفظ اور مسلم ممالک کے درمیان عسکری یکجہتی کو عملی شکل دینے کے لیے حالیہ برسوں میں انتہائی تاریخی اور غیر معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔ سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر اب مسلم دنیا کی بڑی عسکری قوتوں نے ایک باقاعدہ اور مضبوط دفاعی نظام تشکیل دے دیا ہے ستمبر 2026 میں ریاض میں تینوں ممالک کے عسکری سربراہان (بشمول پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ترک و سعودی چیفس آف جنرل سٹاف) کا اہم اجلاس ہوا۔ اس ہنگامی اجلاس میں مکہ مکرمہ اور شہری تنصیبات پر حوثی باغیوں کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی گئی اور دفاعی صلاحیتوں کو مربوط کرنے کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔سعودی عرب کی قیادت میں قائم 43 مسلم ممالک کا عسکری اتحاد دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک بڑا پلیٹ فارم ہے۔اس اتحاد کی کمان روایتی طور پر پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے پاس رہی ہے۔حالیہ مہینوں میں اس اتحاد نے مکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کی سکیورٹی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے ایک بڑا اور مؤثر قدم قرار دیا ہے,مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہونے کے ناطے پاکستان کا کردار حرمین شریفین کے تحفظ میں ہمیشہ سے سرفہرست رہا ہے۔ پاکستان کے 1500 سے زائد فوجی اہلکار سعودی عرب میں تربیتی اور مشاورتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ تاریخ میں جیسے 1979 اور 1990 کی دہائی میں پاکستانی افواج نے سعودی دھرتی اور مقدس مقامات کے دفاع میں فرنٹ لائن پر کردار ادا کیا ہے حال ہی میں نیویارک اور اسلام آباد میں پاکستانی قیادت کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کو پہنچنے والا کوئی بھی خطرہ پاکستان کے لیے وہ “سرخ لکیر” ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن ہی نہیں۔یہ دفاعی تعاون اب محض کاغذوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ انٹیلی جنس شیئرنگ، مشترکہ فوجی مشقوں اور عسکری انضمام کی شکل میں زمین پر ایک ناقابلِ تسخیر حصار بن چکا ہے۔