اقوام متحدہ ;وزیراعظم پاکستان کی فلسطین کی سچی ترجمانی ( اصغر علی مبارک )وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس (ستمبر 2026) میں فلسطین کے حوالے سے کیا گیا خطاب اس وقت عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں مرکزِ نگاہ بنا ہوا ہے۔ ان کے اس بیانیے کو اقوام متحدہ میں متعین ریاستِ فلسطین کے آفیشل مشن نے بھی اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نمایاں کر کے سراہا ہےاقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا حالیہ خطاب محض ایک روایتی سفارتی تقریر نہیں بلکہ یہ عالمی فورم پر 24 کروڑ پاکستانیوں اور پوری امتِ مسلمہ کے دلوں کی حقیقی آواز تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں متعین ریاستِ فلسطین کے آفیشل مشن نے سفارتی روایات سے ہٹ کر وزیراعظم پاکستان کے پردرد اور مدلل الفاظ کو اپنے تمام باضابطہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نمایاں ترین جگہ دی ہے، جسے عالمی سطح پر پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
فلسطینی مشن کی جانب سے پاکستانی قائد کے بیانیے کو اس سطح پر اجاگر کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جب مظلوم کے حق میں سچی اور بے باک آواز اٹھائی جائے، تو وہ سرحدوں اور سفارتی مصلحتوں کی دیواریں چیر کر براہِ راست متاثرین کے دلوں میں اتر جاتی ہے۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اپنے آفیشل ہینڈلز پر وزیراعظم پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا کہ: “وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے تاریخی ہال سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف فلسطین کی مخدوش صورتحال کا خصوصی ذکر کیا، بلکہ انہوں نے صیہونی جارحیت کا شکار بننے والی معصوم فلسطینی خواتین، نوزائیدہ بچوں اور بے بس بزرگوں پر ڈھائے جانے والے ہولناک مظالم کو براہِ راست عالمی ضمیر کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔”سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں جہاں اکثر عالمی رہنما محض سیاسی اور مصلحت پسندانہ جملے بازی تک محدود رہتے ہیں، وہاں پاکستان کی جانب سے معصوم جانوں کی قربانیوں کا نام لے کر ذکر کرنا ایک بہت بڑا اور دلیرانہ قدم ہے۔ جب وزیراعظم پاکستان جنرل اسمبلی کے پوڈیم سے غزہ کی المناک صورتحال کا نقشہ کھینچ رہے تھے، تو اقوام متحدہ کے ہال میں موجود فلسطینی وفد کے چہروں پر پاکستان کے لیے نہ صرف گہرا اعتماد دیکھا گیا بلکہ انہوں نے کھڑے ہو کر اور دل کھول کر تالیاں بجاتے ہوئے داد دی، جس کی بازگشت اب بھی سفارتی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ںوزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کو محض روایتی اعداد و شمار تک محدود نہیں رکھا، بلکہ انہوں نے فلسطینی بچوں پر ہونے والے انفرادی ستم کو دنیا کے سامنے لاکر دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ انہوں نے گزشتہ برس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسی معتبر فورم پر ہند رجب نامی اس مظلوم اور معصوم فلسطینی بچی کی دل ہلا دینے والی داستان بیان کی تھی، جسے اسرائیلی درندہ صفت فوجیوں نے دنیا کے تمام انسانی حقوق کے قوانین کو بوٹوں تلے روندتے ہوئے بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔وزیراعظم نے انتہائی رقت آمیز اور پردرد لہجے میں دنیا کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا: “اس سال ایک اور سانحہ ہمارے دلوں اور پوری دنیا کے دل پر ایک بھاری بوجھ بن گیا ہے۔ صیہونی ریاست کی بے مقصد، وحشیانہ اور مسلسل جاری جارحیت نے 8 سال کی ننھی پری وفا عقیلہ کو ہم سے چھین لیا ہے۔ وفا عقیلہ کی زندگی کا سب سے بڑا دن یعنی اس کا اسکول کا پہلا دن ہی، اس کی معصوم زندگی کا آخری دن بن گیا۔” ایک ایسی بچی جس نے نئے بستے، نئی کتابوں اور نئے خوابوں کے ساتھ اسکول کی دہلیز پر قدم رکھا تھا، اسے بارود کے دھویں اور فلک شگاف دھماکوں کے ذریعے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ یہ صرف ایک بچی کا قتل نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل عام ہے۔ عالمی طاقتوں سے ایک چبھتا ہوا سوال ,اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دنیا بھر کے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ایسا سوال داغ دیا جس کا جواب آج کی مہذب کہلانے والی دنیا کے پاس موجود نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا: “کیا غزہ کی جلتی ہوئی سرزمیں پر پیدا ہونے والا بچہ دنیا کے دیگر خطوں (نیویارک، لندن، پیرس یا ٹوکیو) میں پیدا ہونے والے بچوں کی طرح ایک پرامن زندگی، ایک محفوظ اور روشن مستقبل اور اپنے خواب دیکھنے کا بنیادی انسانی حق نہیں رکھتا؟ آخر کیوں غزہ کے بچوں کا مقدر صرف بارود، خون اور کفن بن کر رہ گیا ہے؟”🇵🇰 پاکستان کا تاریخی اور غیر متزلزل مؤقفپاکستان کا یہ واضح اور دوٹوک مؤقف آج کا نہیں بلکہ بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے دور سے چلا آ رہا ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک ایسی آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس کی سرحدیں 1967ء سے پہلے کی ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔فلسطینی مشن کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے الفاظ کو پبلک پروفائلز پر سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان آج بھی مظلوموں کا سب سے بڑا وکیل بن کر ابھرا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ محض قراردادیں پاس کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ غزہ کی ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچائی جا سکیں اور وہاں کے بچوں کو بھی اسکول کا پہلا دن دیکھنے اور جینے کا حق مل سکے۔اپنے خطاب کے آخر میں وزیراعظم پاکستان نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان اور دنیا بھر کے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک ایسا سوال داغ دیا جس کا جواب آج کی مہذب کہلانے والی دنیا کے پاس موجود نہیں ہے۔ انہوں نے پوچھا: “کیا غزہ کی جلتی ہوئی سرزمیں پر پیدا ہونے والا بچہ دنیا کے دیگر خطوں (نیویارک، لندن، پیرس یا ٹوکیو) میں پیدا ہونے والے بچوں کی طرح ایک پرامن زندگی، ایک محفوظ اور روشن مستقبل اور اپنے خواب دیکھنے کا بنیادی انسانی حق نہیں رکھتا؟ پاکستان کا فلسطین کے معاملے پر یہ سخت اور غیر متزلزل مؤقف آج کا نہیں بلکہ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کا ہے۔قائدِ اعظم کے اسی سنہری اصول کی روشنی میں پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور یہی نظریہ آج بھی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہےقائدِ اعظم کے اسی تاریخی بیانیے کا تسلسل موجودہ دور میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اسی حالیہ سیشن کے دوران، پاکستانی وزارتِ خارجہ (FO) اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی رہنماؤں کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے پاکستان کا باضابطہ اور تازہ ترین مؤقف پیش کیا ہےبانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے ہمیشہ صیہونی توسیع پسندی کی کھل کر مخالفت کی تھی。 قائدِ اعظم نے فلسطین پر برطانوی اور مغربی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے واضح الفاظ میں فرمایا تھا:”اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جسے امت کے قلب میں گھسایا گیا ہے۔ پاکستان اس غاصبانہ قبضے کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا اور مظلوم فلسطینی بھائیوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک ایسی آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا ہے جس کی سرحدیں1967 سے پہلے کی ہوں اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔فلسطینی مشن کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کے الفاظ کو پبلک پروفائلز پر سراہا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان آج بھی مظلوموں کا سب سے بڑا وکیل بن کر ابھرا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ محض قراردادیں پاس کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرے تاکہ غزہ کی ماؤں کی گودیں اجڑنے سے بچائی جا سکیں اور وہاں کے بچوں کو بھی اسکول کا پہلا دن دیکھنے اور جینے کا حق مل سکے۔
پاکستان کا یہ دیرینہ اور اصولی مؤقف اقوام متحدہ کے باقاعدہ ریکارڈ کا حصہ ہے، جس کی بنیاد بانیِ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے رہنما اصولوں پر رکھی گئی ہے۔ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر اس بات پر زور دیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے۔پاکستان کے اس باضابطہ سفارتی مؤقف کی بنیادی خصوصیات درج ذیل ہیں:1967ء سے پہلے کی سرحدیں: پاکستان کا یہ واضح مؤقف ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام 1967ء سے پہلے کی طے شدہ سرحدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔القدس الشریف بطور دارالحکومت: پاکستان کسی بھی ایسے امن فارمولے کو تسلیم نہیں کرتا جس میں القدس الشریف (یروشلم) کو آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا مستقل دارالحکومت تسلیم نہ کیا گیا ہو۔جغرافیائی تسلسل اور خود ارادیت: پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں مسلسل یہ مطالبہ کرتا آیا ہے کہ فلسطینی عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت دیا جائے اور صیہونی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ فوری روک کر فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی تسلسل بحال کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ میں متعین فلسطینی مشن نے جب وزیراعظم پاکستان کے حالیہ خطاب کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نمایاں کیا، تو انہوں نے دراصل پاکستان کی اسی تاریخی اور بے باک سفارتی وکالت کا اعتراف کیا ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے غزہ میں جاری وحشیانہ جارحیت کو فوری اور مستقل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان نے یورپی ممالک (بشمول برطانیہ، فرانس اور اسپین) کی جانب سے مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیاء پر پابندی عائد کرنے پر مبنی حالیہ اقدامات کی کھل کر حمایت کی ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کا واحد راستہ صیہونی قبضے کا خاتمہ اور 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوغزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی کارروائیاں گزشتہ کئی ماہ سے انتہائی شدت سے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں تباہ کن جانی اور مالی نقصان ہوا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس پر شدید ردعمل سامنے آیا ہےبین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے اس حالیہ تنازع میں اب تک 74,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 175,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد شامل ہے۔حالیہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو ہوا تھا، جب حماس نے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر ایک بڑا حملہ کیا تھا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً 1,139 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کے قریب افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جایا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے حماس کے خاتمے اور اپنے یرغمالیوں کی واپسی کے نام پر یہ بڑے پیمانے پر فوجی مہم شروع کی تھی۔ اس تنازع میں اب تک 74,000 سے زائد فلسطینی شہید اور 175,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی اکثریت شامل ہے۔ غزہ کے رہائشی مکانات، اسکول اور ہسپتال مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ طبی امداد، صاف پانی اور ایندھن پر سخت پابندیوں کی وجہ سے صحت کا نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ لاکھوں فلسطینیوں کو بار بار نقل مکانی پر مجبور کیا گیا ہے اور خان یونس اور المواصی جیسے “محفوظ زون” قرار دیے گئے علاقوں کو بھی شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی متعدد عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اسرائیل کی ان فوجی کارروائیوں اور بنیادی ضروریات زندگی کی بندش کو فلسطینی عوام کی نسل کشی قرار دیا گیا ہے۔ آزاد صحافیوں کے مطابق، کئی مقامات پر “ڈبل ٹیپ” حملے کیے گئے جن کی زد میں آ کر امدادی کارکن اور صحافی بھی شہید ہوئے، جبکہ شمالی غزہ کے علاقوں جبالیہ اور زیتون میں فوجی آپریشنز اب بھی جاری ہیں۔ اس حالیہ جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد ہوا تھا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,139 افراد ہلاک اور 240 یرغمال بنائے گئے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے حماس کے خاتمے اور یرغمالیوں کی واپسی کے نام پر یہ تباہ کن فوجی مہم شروع کی۔ عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے خلاف دائر کردہ نسل کشی کے مقدمے کی کارروائی باقاعدہ طور پر جاری ہے۔ عدالت نے اسرائیل کو رفح میں فوجی آپریشن روکنے اور امداد کی بلاتعطل فراہمی کے عبوری احکامات دیے تھے، تاہم جنوبی افریقہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ ان احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ اس قانونی جنگ میں عالمی سطح پر تیزی دیکھی جا رہی ہے اور دنیا کے متعدد ممالک، جن میں نمیبیا، امریکہ، نیدرلینڈز اور آئس لینڈ شامل ہیں، اس کیس کا حصہ بننے کے لیے اپنے اعلانات عدالت میں جمع کرا چکے ہیں۔ عدالت نے اپنی مشاورتی رائے میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ غزہ میں خوراک اور بنیادی سامان کی بندش بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور فاقہ کشی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک بڑی سفارتی پیش رفت کے تحت قرارداد 2803 منظور کی ہے، جو غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک جامع امن منصوبے کی توثیق کرتی ہے۔ اس قرارداد کے تحت غزہ میں پائیدار امن، شہر کو اسلحے سے پاک کرنے اور بڑے پیمانے پر تعمیرِ نو کی نگرانی کے لیے ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ اگرچہ اس قرارداد کو سلامتی کونسل کے 13 ارکان کی حمایت حاصل ہوئی، تاہم زمین پر امداد کی سست روی، سرحدوں کے کنٹرول اور نئی فلسطینی انتظامیہ کی واپسی کے حوالے سے اب بھی شدید چیلنجز برقرار ہیں۔