.تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کے 204 رنز کے ٹارگٹ کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ .لائن مکمل فلاپ
…؛خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے
……..: تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان کے 204 رنز کے ٹارگٹ کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ .لائن مکمل فلاپ نظر آئی
کراچی کے نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز بنائے۔ویسٹ انڈیز کی جانب سے اننگز کا آغاز چیڈ وک والٹن اور آندرے فلیچر نے کیا۔آندرے فلیچر نے محمد نواز کو پہلی ہی گیند پر چھکا لگا کر خطرناک عزائم کا اظہار کیا لیکن پہلے ہی اوور کی چوتھی گیند پر محمد نواز نے انہیں محمد آصف کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔محمد عامر نے دوسرے اوور میں پہلے آندرے فلیچر کو حسین طلعت کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا اور پھر ایک گیند بعد عامر نے کپتان جیسن محمد کو بھی حسین طلعت ہی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرا دیا۔پندرہ کے سکور پر ویسٹ انڈیز کے چوتھے کھلاڑی بھی حسن علی کا شکار بنے ستائیس رنز پر ویسٹ انڈین پانچویں کھلاڑی پاول شاداب کی گیند پرآ وٹ ہووے…….قبل ازیں پاکستان نے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے پہلے ٹی20 میچ ویسٹ انڈیز کو جیت کے لیے 204 رنز کا ٹارگٹ دیا پاکستانی بلے بازوں شعیب ملک اور فہیم اشرف نے آخری دو اورز میں چوالیس رنز بناۓ ،ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوینٹی میچ کا دوسو تین رنز سب بڑا مجموعہ جوڑا ،کراچی کے نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے پہلے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 203 رنز بنائے۔ ویسٹ انڈیز کو رنز کا ٹارگٹ دیا تماشائیوں سے کھچا کھچ بھرے نیشنل اسٹیڈیم میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی دعوت پر اننگز کا آغاز کیا تو بابر اعظم اور فخر زمان نے ٹیم کو 56 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا۔تاہم چھٹے اوور کی آخری گیند پر بابراعظم وکٹوں کے سامنے پیڈ لانے کے جرم میں آؤٹ قرار پائے۔پہلا میچ کھیلنے والے حسین طلعت اور فخر نے اسکور کو 65 تک پہنچایا ہی تھا کہ وکٹوں کے درمیان غلط فہمی کے نتیجے میں فخر کی 39 رنز کی اننگز اختتام پذیر ہوئی۔
اننگز کے دوران ویسٹ انڈیز کو اس وقت دھچکا لگا جب پہلا میچ کھیلنے والے ویرا سیمی پرمال کا گیند کراتے ہوئے پیر مڑ گیا اور انہیں ڈٰبیو پر چار گیندوں بعد ہی انجری کے سبب اسٹریچر پر پویلین پہنچایا گیا۔سرفراز احمد اور حسین طلعت نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کی سنچری مکمل کرائی۔دونوں کھلاڑیوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کے بڑے اسکور کی راہ ہموار کی لیکن 140 کے مجموعے پر ایک اور رن آؤٹ کے نتیجے میں حسین پویلین لوٹ گئے۔
انہوں نے کپتان کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 75 رنز جوڑے اور 37 گیندوں پر 41 رنز بنائے۔سرفراز احمد نے چوکا لگا کر ٹیم کو 150 رنز کے ہندسے تک رسائی دلائی لیکن چھکا لگانے کی کوشش میں وہ 39 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔

ڈیبیو کرنے والے آصف علی پاکستان سپر لیگ کے فائنل جیسا جادو جگانے میں ناکام رہے اور صرف ایک بنانے کے بعد باؤلڈ ہو گئے۔

اختتامی اوورز میں شعیب ملک اور فہیم اشرف نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا جس کی بدولت پاکستان نے 200 رنز کا ہندسہ عبور کیا۔

شعیب ملک نے 14 گیندوں پر 37 اور فہیم اشرف نے 9 گیندوں پر 16 رنز بنائے اور پاکستان نے دونوں کی جارحانہ بیٹنگ کی بدولت آخری 2 اوورز میں 44 رنز بنائے۔،قبل ازیں ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن محمد نے پاکستان کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں ٹاس جیت کر پاکستان کو بیٹنگ کی دعوت دی۔پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز فخر زمان اور بابراعظم نے کیا جب کہ ویسٹ انڈیز کی جانب سے پہلا اوور سیموئیل بدری نے کرایا۔ ۔مہمان ویسٹ انڈین ٹیم کے کپتان جیسن محمد سے ٹاس ہارنے کے بعد پاکستانی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد بتایا کہ میچ میں حسین طلعت اور آصف علی اپنا ٹی ٹوئنٹی ڈیبیو کر رہے ہیں۔کپتان سرفراز احمدکا کہنا تھا کہ وکٹ بیٹنگ کے لیے اچھی دکھائی دے رہی ہے، کوشش ہو گی کہ 160 سے زائد رنز بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں شائقین کی تعداد دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے قبل ازیں میچ دیکھنے کے لئے آنے والے شائقین کو شٹل بس سروس کے ذریعے پارکنگ ایریاز سے گراؤنڈ تک لایا گیا، شائقین کو سخت سیکیورٹی چیکنگ کے بعد اسٹیڈیم کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔ مہمان ویسٹ انڈین ٹیم کو انتہائی سخت سیکیورٹی میں اسٹیڈیم پہنچایا گیا جہاں دونوں ٹیموں کے کپتانوں کی موجودگی میں ٹرافی کی رونمائی بھی کی گئی شائقین کرکٹ کو 7 بجے تک اسٹیڈیم پہنچنے کی تاکید کی گئی تھی اور اسٹیڈیم کے دروازے 3 بجے سے 7 بجے تک کھلے رکھے گئے تھے۔ شائقین کو ٹکٹ کے ساتھ اصل شناختی کارڈ کی کاپی بھی ساتھ لانے کی ہدایت کی گئی تھی جب کہ موبائل فون اسٹیڈیم کے اندر لے جانے کی اجازت تھی تاہم انتظامیہ کی جانب سے پاور بینک لے جانے پر پابندی عائد کی گئی ۔شائقین کرکٹ کو مختص کردہ پارکنگ ایریاز سے گراؤنڈ کے قریب لے جانے کے لئے خصوصی شٹل سروس چلائی گئی۔شائقین کے لیے یونیورسٹی روڈ پر حکیم سعید گراونڈ، اردو یونیورسٹی گراونڈ اور بیت المکرم مسجد کے سامنے اتوار بازار گراونڈز، ڈالمیا روڈ پر غریب نواز فٹبال گراونڈ جب کہ کشمیر روڈ پر کے ایم سی گراونڈ، کے ڈی اے کلب اور چائنا گراونڈ میں بھی پارکنگز بنائی گئی ہیں۔اس مقصد کے لئے ٹریفک پلان بھی جاری کیا گیا جس کے مطابق شارع فیصل پر کارساز سے نیشنل اسٹیڈیم جانے والی سڑک عام ٹریفک کے لیے بند اور شہری ڈرگ روڈ سے راشد منہاس روڈ کا راستہ اختیار کرسکیں گے اسطرح ملینیم مال سے اسٹیڈیم کی جانب جانے والے ڈالمیا روڈ بھی عام ٹریفک کے لئے بند رہا ، نیپا چورنگی سے پیپلز سیکریٹریٹ چورنگی تک یونیورسٹی روڈ کو بند رکھا گیا۔لیاقت آباد دس نمبر سے نیشنل اسٹیڈیم کی جانب جانے والا روڈ بھی ٹریفک کے لئے بند رہا ، یہاں سے گزرنے والی ٹریفک کو کریم آباد اور عائشہ منزل چورنگی کی جانب بھیج دیا گیا سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کے لیے نیشنل اسٹیڈیم کے اطراف کی سیکورٹی کو پانچ حصار میں تقسیم کیا گیا اسٹیڈیم کے بیرونی احاطے کی سکیورٹی پولیس کے پاس رہی اور ایئرپورٹ سے لے کر شارع فیصل اور اسٹیڈیم کے اطراف ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ،کرکٹ ٹیموں اور آئی سی سی کے سیکیورٹی آفیشل کو اسٹیٹ گیسٹ کا درجہ حاصل رہا کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس کمانڈو اور آر آر ایف تعینات کی گئ جب کہ امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کے لئے اینٹی رائٹ فورس ریزرو کے طور پر رکھی گئی پارکنگ علاقہ اور متبادل راستوں پر عوام الناس کی حفاظت اور رہنمائی کے لیے پولیس کی طرف سے خصوصی اقدامات کیےتحت سی سی ٹی وی کیمروں اور ہائی ریزولوشن کیمروں کی مدد سے نگرانی کی جا تی رہی ۔مارچ 2009 میں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد طویل عرصے تک پاکستان کے میدان عالمی کرکٹ کے لئے بند رہے جس کے بعد پہلی مرتبہ 2015 میں زمبابوے نے پاکستان آکر 6 سالہ پابندی کا خاتمہ کیا۔
ستمبر 2017 میں ورلڈ الیون کی ٹیم نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں تین ٹی ٹوئنٹی میچز پر مشتمل سیریز کھیل کر پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے بند دروازے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔گزشتہ سال پی ایس ایل کا فائنل اور رواں سال پی ایس ایل کے تیسرے ایڈیشن کے فائنل سمیت 3 میچز کے انعقاد نے ایک مرتبہ پھر ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔دورہ ویسٹ انڈیز کے بعد امید کی جارہی ہے کہ مزید ٹیمیں بھی پاکستان آئیں گے اور پاکستان کے میدان ایک مرتبہ پھر انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کریں گے۔میچ کے لیے دونوں ٹیموں نے دو، دو کھلاڑیوں سے ڈیبیو کرایا ۔پاکستان کی جانب سے حسین طلعت اور آصف علیجبکہ ویسٹ انڈیز نے کیمو پال اور ویراسامی ہرمال کو ڈیبیو کرایاگیا ۔پہلے ٹی20 میچ کے لیے پاکستا ٹیم: سرفراز احمد(کپتان)، بابر اعظم، شعیب ملک، سرفراز احمد، آصف علی، حسین طلعت، فہیم اشرف، شاداب خان، محمد نواز، حسن علی اور محمد عامر۔ویسٹ انڈیز: جیسن محمد(کپتان)، آندرے فلیچر، روومین پاول، مارلن سیمیولز، کیمو پال، دنیش رامدین، کیسرک ولیمز، ویراسامی پرمال، چیڈوک والٹن، ریاض ایمرت اور سیمیول بدری۔ پر مشتمل تھی