پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ناکامیاں,عوامی غصہ: خواجہ آصف کا چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو کرکٹ بورڈ میں ‘انقلاب’ لانے کا کھلا چیلنج

اسلام آباد: پاکستان کرکٹ ٹیم کی مسلسل گرتی ہوئی کارکردگی اور انٹرنیشنل مقابلوں میں عبرتناک شکستوں پر ملک بھر میں جاری شدید عوامی غصے کے بعد، وفاق کے اہم رہنما خواجہ محمد آصف نے وزیرِ داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کو کرکٹ بورڈ کے فرسودہ نظام میں فوری “انقلابی تبدیلیاں” لانے کا کھلا چیلنج دے دیا ہے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر جاری اپنے ایک اہم بیان میں خواجہ آصف نے ملک میں کرکٹ کے گرتے ہوئے معیار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں لکھا کہ “پی سی بی کی کارکردگی سے کوئی بھی مطمئن نہیں ہے”
یہ کرارا جواب محسن نقوی کے اس حالیہ دعوے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ملکی گورننس سسٹم کو ناکام قرار دیا تھا۔قومی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی (خبر کا پسِ منظر)کرکٹ بورڈ اور قومی اسکواڈ اس وقت شائقین اور سابق کرکٹرز کے شدید ترین عتاب کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ ٹیم کے حالیہ شرمناک نتائج ہیں:
ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں بدترین شکست:
پاکستان کو جولائی 2026 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ میں 90 رنز کی عبرتناک ہار کا سامنا کرنا پڑا، جہاں قومی بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں محض 120 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔
بنگلہ دیش کے ہاتھوں ہوم ٹیسٹ کلین سویپ:
مئی 2026 میں بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم نے پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر پہلے ٹیسٹ میں 104 رنز اور دوسرے ٹیسٹ میں 78 رنز سے ہرا کر تاریخی کلین سویپ کیا۔
ون ڈے سیریز میں ناکامی: اسی دورے کے دوران ون ڈے سیریز میں بھی پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں 1-2 سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ان پے در پے شکستوں، کھلاڑیوں کی خراب فیلڈنگ اور کپتانوں کی بار بار تبدیلی کی وجہ سے عوام کا کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے۔
خواجہ آصف کا مؤقف: “پہلے اپنے محکمے میں تبدیلی لائیں”اصلاحات کا آغاز خود سے کریں:
خواجہ آصف نے محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نظام کو کوسنے یا کاروباری شخصیات کے سامنے گورننس کی ناکامی کا رونہ رونے کے بجائے انہیں سب سے پہلے اپنے زیرِ اثر اداروں کو ٹھیک کرنا چاہیے
پی سی بی ایک بہترین ماڈل ہے: انہوں نے یاد دلایا کہ کرکٹ بورڈ کے فیصلوں میں “نہ وزیرِ اعظم، نہ پارلیمنٹ اور نہ ہی کوئی فرسودہ سیاسی نظام” رکاوٹ بنتا ہے
۔ محسن نقوی وہاں مکمل خود مختار اور لامحدود اختیارات کے مالک ہیں، لہٰذا وہ وہاں ایک مثالی انقلاب لا کر دکھائیں
وزارتِ داخلہ اور نیشنل ایکشن پلان پر یاددہانی ;
وزیرِ دفاع نے کرکٹ کے علاوہ ملکی سلامتی کے سنگین معاملے پر بھی محسن نقوی کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر (ISPR) کی بریفنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے تحت قربانیاں دے کر اپنا کام کر رہی ہیں، لیکن اس پلان کے بقیہ 12 اہم نکات پر عملدرآمد کروانا سراسر وزارتِ داخلہ کی ذمہ داری ہے جو کہ محسن نقوی کے ماتحت کام کر رہی ہے۔
خواجہ آصف نے زور دیا کہ ملکی نظام یا صوبوں کی تقسیم جیسے بڑے آئینی معاملات کو پبلک فورمز پر اچھالنے کے بجائے کابینہ اور پارلیمنٹ کے باضابطہ فورمز پر لایا جانا چاہیے






