پہلوانوں کے شہر”گوجرانوالہ” کی کامن ویلتھ گیمزآسٹریلیامیں مخالفین پر دھاک،کانسی کے تمغوں کے گوجرانوالہ کےپہلوان انعام بٹ کا گولڈ میڈل
.(.خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے )
…گوجرانوالہ کے پہلوان انعام بٹ نے ریسلنگ ایونٹ فری سٹائل 86کلوگرام کیٹگری کے پہلے مقابلے میں آسٹریلوی ریسلر کو ہرا کر فاتحانہ آغاز کیا، انہوں نے دوسرے مقابلے میں روایتی حریف بھارتی ریسلر سومویر کو شکست فاش سے دوچار کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، لاسٹ فور مقابلے میں انعام نے کینیڈین ریسلر کر ہرا کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا، انعام نے فیصلہ کن معرکے میں حریف نائیجیرین ریسلر ملوین بیبو کو زیر کر کے پاکستان کیلئے گیمز میں پہلا طلائی تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا، ایک اور پاکستانی ریسلر طیب رضا نے فری سٹائل 125کلوگرام کیٹگری مقابلے میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا،پاکستانی ریسلر/پہلوان انعام بٹ کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔کامن ویلتھ گیمزمیں ‘گوجرانوالہ”کے سپوتوں نے کانسی کے تمغوں کے بعد بلآخرپاکستان کو گولڈ میڈل جیتنے والے ممالک کی صف میں لا کھڑا کیا ھے،گوجرانوالہ کو گورے ”چمپئنز کا شہر” بھی کہتے ھیں،پہلوانوں کے شہر”گوجرانوالہ” کی کامن ویلتھ گیمزآسٹریلیامیں مخالفین پر دھاک سے کھیلوں کے حوالے سے عزت و وقار میں غیر معمولی اضافہ کیا ھے،مجھے فخر ھے کہ خوش قسمتی سے میرا تعلق ” پہلوانوں کے شہر”گوجرانوالہ” سے ھے گوجرانوالہ کے سپوتوں نے اس بارآسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں حاصل کردہ پانچ میں سے چار تمغے جیت کر دنیا پر ثابت کر دیا کہ ‘گوجرانوالہ چمپئنز کا شہر ھے ،آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں پہلوان انعام بٹ نے 86 کلوگرام ریسلنگ کیٹیگری مقابلوں میں تمام حریفوں کو چت کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کیا اس سے قبل پاکستان کے ویٹ لفٹرز، نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب نے ویٹ لفٹگ مقابلوں میں کانسی کے تمغے حاصل کیے جبکہ محمد بلال نے بھی کانسی کے تمغے کے ساتھ پاکستان کےلئے کل جیتے گے تمغوں کی تعداد پانچ کر دی ۔پہلوانوں کا شہر”گوجرانوالہ” کھیلوں سے محبت کرنے والوں کا شہر ہے جو لاہور سے تقریباً 60 کلومیٹر دورشمال کی جانب واقع ہے۔2017ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی کے لحاظ سے ملک کا پانچوں بڑا شہر ہے اوراسکی سطح سمندر سے بلندی 744 فٹ ہے۔ اسے پہلوانوں کا شہرکہا جاتا ہے ” پہلوانوں کا شہر” 40 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل شہرفن پہلوانی کی وجہ سےتو مشہور ہے وہیں کھانے پینے میں بھی اپنا منفرد مقام رکھتا ہے اور یہ بات زبان زدِ عام پر مشہور ھے کہ گوجرانوالہ والے کھانے کے معیار اور مقدار دونوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔اور یہ فارمولا وہ کھیلوں کے میدانوں میں بھی استعمال کرتے ہیں کہا جاتا ھے کہ ”پہلوانوں کے شہر”کی آدھی آبادی کھانا بنانے اور آدھی کھانے میں مصروف رہتی ہے اور پھر کھانا ہضم کرنے کے بہانے کسی نہ کسی محنت طلب کھیل میں حصہ لیتے ہیں یہاں کے باسیوں کو صبح کے ناشتے کی میز پر ہی ظہرانے اور دوپہر کے کھانے پر ہی عشائیے کی فکر ستانے لگتی ہے۔اس شہر میں دوپہر کے کھانے کا سلسلہ بھی شام پانچ بجے تک چلتا ہے اور پھر ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد ریستوران رات کے کھانے کے لیے دوبارہ کھل جاتے ہیں.امپیریل گزٹ آف انڈیا کے مطابق گوجرانوالا کو گجروں نے آباد کیا اور بعد میں ایران کے شیرازی قبیلے نے اس شہر کا نام خان پور سانسی رکھا تاہم بعد میں اس کا پرانا نام بحال ہو کر گوجرانوالہ ہو گیا. پہلوان انعام بٹ نے ریسلنگ ایونٹ فری سٹائل 86کلوگرام کیٹگری کے پہلے مقابلے میں آسٹریلوی ریسلر کو ہرا کر فاتحانہ آغاز کیا، انہوں نے دوسرے مقابلے میں روایتی حریف بھارتی ریسلر سومویر کو شکست فاش سے دوچار کر کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی، لاسٹ فور مقابلے میں انعام نے کینیڈین ریسلر کر ہرا کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا، انعام نے فیصلہ کن معرکے میں حریف نائیجیرین ریسلر ملوین بیبو کو زیر کر کے پاکستان کیلئے گیمز میں پہلا طلائی تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا قبل ازیں ایک اور پہلوان محمد بلال کو سیمی فائنل میں انڈیا کے پہلوان راہل آورے نے شکست دی تھی جبکہ راہول آورے اس کیٹیگری میں طلائی تمغہ جیتنے میں کامیاب رہے۔تاہم محمد بلال نے کانسی کے تمغے کے میچ میں کامیابی حاصل کی ،پہلوان محمد بلال سے قبل پاکستان کے دو ویٹ لفٹرز، نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب نے بھی اپنے مقابلوں میں کانسی کے تمغے حاصل کیے،آسٹریلیا کامن ویلتھ گیمز میں ایک اور پاکستانی ریسلر طیب رضا نے فری سٹائل 125کلوگرام کیٹگری مقابلے میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا، کی۔ویٹ لفٹرز، نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب کی طرح 22 سالہ محمد بلال کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب ویٹ لفٹرز کا تعلق پہلوانی کے لیے مشہور گوجرانوالہ شہر سے ہے اور حسن اتفاق سے ان دونوں کو ویٹ لفٹنگ کا شوق ورثے میں ملا ہےکامن ویلتھ گیمز میں کانسی کے تمغے جیتنے والے پاکستانی ویٹ لفٹرز نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب کو طلائی تمغہ نہ جیتنے کا افسوس ضرور ہے لیکن وہ مایوس نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ کانسی کا تمغہ ان کےلیے پہلا قدم ہے گولڈ میڈل ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔بیس سالہ نوح دستگیر بٹ کے والد غلام دستگیر بٹ پانچ مرتبہ کے ساؤتھ ایشین گیمز گولڈ میڈلسٹ اور ریکارڈ ہولڈر ہیں جنہوں نے اٹھارہ مرتبہ قومی چیمپئن بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ اب ان کی پوری توجہ اپنے بیٹوں پر مرکوز ہے۔ نوح کے چھوٹے بھائی بھی قومی جونیئر چیمپین ہیں۔نوح دستگیربٹ نے کہا ’میرے والد کی دیرینہ خواہش ہے کہ میں ورلڈ اور اولمپک میں پاکستان کے لیے گولڈ میڈل جیتوں اور وہ مجھ پر بہت محنت کرتے ہیں۔‘’ہمارا ذاتی جم ہے جس میں میں روزانہ سخت ٹریننگ کرتا ہوں۔ مجھے اپنے والد کی نگرانی میں ٹریننگ کی سہولت موجود ہےنوح دستگیر بٹ نے گذشتہ سال گولڈ کوسٹ میں منعقدہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپیئن شپ میں طلائی تمغہ جیتا تھا اور کامن ویلتھ گیمز میں بھی وہ طلائی تمغے کی امید لیے آسٹریلیا پہنچے تھے۔’میں دو سال سے کامن ویلتھ گیمز کی تیاری کررہا تھا گذشتہ سال میں نے جونیئر میں گولڈ اور سینئر میں سلور میڈل جیتا تھا لہذا میں کافی پرامید تھا کہ اس بار بھی اچھے نتائج دوں گا لیکن گولڈ میڈل نہ جیتنے کا بہت دکھ ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان گیمز میں مقابلوں کا معیار بہت سخت ہے دوسری بات مقابلوں کے دوران میرا ہاتھ زخمی ہوگیا تھا اور خون بہنے لگا تھا لیکن اس کے باوجود میں نےمقابلہ جاری رکھا ،نوح دستگیر بٹ کو پورا یقین ہے کہ وہ ورلڈ اور اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔’کانسی کا یہ تمغہ دراصل میرے لیے پہلا قدم ہے۔ اب میں زیادہ محنت کروں گا تاکہ ایشین گیمز ورلڈ چیمپئن شپ اور اولمپکس میں گولڈ میڈل جیت سکوں۔ میں دو سو تیس کلوگرام تک آچکا ہوں اور اولمپکس کے لیول سے صرف تیس کلوگرام پیچھے ہوں اور وہ وقت دور نہیں جب میں اس لیول تک بھی پہنچ سکوں۔نوح دستگیر بٹ کے نزدیک ان کا اوڑھنا بچھونا ویٹ لفٹنگ ہی ہے۔اٹھارہ سالہ طلحہ طالب نے کامن ویلتھ گیمز میں نہ صرف کانسی کا تمغہ جیتا ہے بلکہ سنیچ میں تین نئے ریکارڈز بھی قائم کیے ہیں۔وہ دو ہزار سولہ میں کامن ویلتھ یوتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں اپنی عمدہ کارکردگی پر سال کے بہترین ویٹ لفٹر بھی قرار پائے تھے۔’دوہزار چودہ میں گلاسگو میں کامن ویلتھ گیمز انہوں نے ٹی وی پر دیکھے تھے اسوقتانکے والد نے ان سے کہا تھا کہ اگلے گیمز تمہارے ہیں اور تم تمغہ جیتوگے۔ انہوں نے ان کی بات پوری کردکھائی۔‘طلحہ طالب کے والد ایشین پاور لفٹنگ چیمپئن شپ میں تمغہ جیت چکے ہیں تاہم طلحہ طالب نے جو سیکنڈ ائر میں انفامیشن ٹیکنالوجی کے طالبعلم ہیں ویٹ لفٹنگ کو کریئر بناتے ہوئے ایشین اور کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اب ان کی نظریں اولمپک گولڈ میڈل پر ہیں۔’پاکستانی ویٹ لفٹرز اولمپکس میں بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں لیکن اس کے لیے بنیادی سہولتیں ضروری ہیں۔ کامن ویلتھ گیمز کے لیے ساڑھے تین ماہ کا کیمپ لگا گوجرانوالہ ویٹ لفٹنگ کے لحاظ سے ایک اہم شہر ہے جہاں ویٹ لفٹنگ اکیڈمی کا قیام ضروری ہے،آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں ر یسلر محمد انعام نے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کیلئے پہلا طلائی تمغہ جیتاجبکہ طیب رضا نے کانسی کا تمغہ اپنے نام کیاریسلنگ ایونٹ میں پاکستان نے مجموعی طور پر ایک طلائی اور تین کانسی کے تمغے حاصل کئے، اس سے قبل محمد بلال نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ آسٹریلیا میں جاری میگا گیمز میں ا۔آسڑیلیا میں جاری کامن ویلتھ گیمز 2018 کے دوران ریسلنگ کے 86 کلو گرام کیٹیگری مقابلے میں پاکستان نے پہلا گولڈ میڈل جیت لیا۔ پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں ایک طلائی تمغے سمیت مجموعی طور پر پانچ تمغے اپنے نام کئے، گرین شرٹس نے پانچوں تمغے ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں جیتے۔ ریسلر محمد انعام نے پاکستان کیلئے پہلا طلائی تمغہ جیتنے کا اعزاز پایا، طیب رضا اور بلال نے کانسی کے تمغے جیتے تھے، طلحہ طالب اور نوح دستگیر بٹ نے ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں کانسی کے تمغے جیتے تھے۔ آسٹریلیا میں جاری کامن ویلتھ گیمز اتوارپندرہ اپریل کو اختتام پذیر ہوں گے، گرین شرٹس نے ایونٹ میں ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ، ایتھلیٹکس، سوئمنگ، شوٹنگ، ٹیبل ٹینس، بیڈمنٹن، سکوائش، ہاکی اور باکسنگ کے ایونٹس میں شرکت کی لیکن گرین شرٹس کے ایتھلیٹس صرف ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ میں تمغے جیتنے میں کامیاب رہے، پاکستان نے گیمز میں ایک طلائی تمغے سمیت مجموعی طور پر پانچ تمغے حاصل کئے، محمد انعام نے مینز ریسلنگ ایونٹ میں فری سٹائل 86کلوگرام کیٹگری کے مقابلے میں ملک کیلئے پہلا طلائی تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا، طیب رضا نے فری سٹائل 125 اور محمد بلال نے فری سٹائل 57کلوگرام کیٹگری میں کانسی کے تمغے جیتے، ویٹ لفٹنگ میں پاکستان کے طلحہ طالب نے 62 جبکہ نوح دستگیر بٹ نے 105پلس کیٹگری کے مقابلوں میں کانسی کے تمغے جیتے تھے۔پاکستان کے ریسلر انعام بٹ نے 86 کلوگرام ریسلنگ کیٹیگری مقابلوں میں تمام حریفوں کو چت کرتے ہوئے فائنل میں نائیجیریا کے میلون بیبو کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ پاکستانی ریسلر انعام بٹ کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔: آسٹریلیا میں جاری کامن ویلتھ گیمز 2018 کے مقابلوں میں پاکستان کے انعام بٹ نے ملک کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیت لیاگجرانوالہ کے انعام بٹ نے ریسلنگ کے 86 کلوگرام فری اسٹائل مقابلے میں یہ کارنامہ سرانجام دیا اور نائیجیریا کے ریسلر کو شکست دی۔کامن ویلتھ گیمز میں مجموعی طور پر یہ پاکستان کا یہ پانچواں اور سونے کا پہلا تمغہ ہے۔ کامن ویلتھ گیمز 2018 کے دوران پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل ہے۔آسٹریلیا میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے جولین تھرو میں فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا۔کامن ویلتھ گیمز کے جیولین تھرو مقابلوں میں پاکستان کے ارشد ندیم نے نئے قومی ریکارڈ کے ساتھ فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔ارشد ندیم نے گروپ بی کے کوالیفائر میں 80.45 میٹر کی تھرو کی تھی جو کہ کسی بھی پاکستانی ایتھلیٹ کی جولین تھرو کا ایک ریکارڈ ہے۔اس سے قبل ان کا سابقہ تھرو کا ریکارڈ 78.33 میٹر تھا۔ارشد ندیم نے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے تمغہ حاصل کرنے کی امید پیدا کر دی ہےاگر ارشد ندیم پاکستان کے لیے سونے کا تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ 50 سالوں میں کامن ویلتھ گیمز میں کسی بھی پاکستانی ایتھلیٹ کا جولین تھرو کے مقابلوں میں پہلا تمغہ ہو گا۔یاد رہے کہ کامن ویلتھ گیمز 2018 میں یہ پاکستان کا چوتھا میڈل ہے جبکہ اس سے قبل پاکستان نے تین برونز میڈل بھی اپنے نام کیے ہیں۔ریسلنگ کے 57 کلو گرام کیٹیگری مقابلے میں پاکستان کے محمد بلال نے انگلینڈ کے ریسلر کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا۔قبلِ ازیں پاکستان کے نوح دستگیر بٹ نے کامن ویلتھ گیمز 2018 میں ویٹ لفٹنگ کے مقابلے میں کُل 395 کلو گرام وزن اٹھا کر پاکستان کو دوسرا کانسی کا تمغہ دلوایا تھا۔پاکستان کے طلحہ طالب نے 62 کلو گرام کے ایونٹ میں برونز میڈل جیت کر پاکستان کو پہلا میڈل دلایا تھا۔
پہلوانوں کے شہر”گوجرانوالہ” کی کامن ویلتھ گیمزآسٹریلیامیں مخالفین پر دھاک، گوجرانوالہ کےپہلوان انعام بٹ کا گولڈ میڈل ..خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے )
Asghar Ali Mubarak



