پاکستان میں سال 2017، بچوں پر جنسی تشد د کے مجموعی طور پر 3445واقعات ،پاکستان جنسی تشد د کے ساتھ تجارتی بنیادوں پر استحصال بھی ہوتا ہے،ایگزیکٹیو ڈائریکٹر منیزے بانو،غیر سرکاری تنظیم ”ساحل“

اسلام آباد…( تحقیقاتی رپورٹ ؛اصغرعلی مبارک سے ),, غیر سرکاری تنظیم ”ساحل“ نے پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی سے متعلق سالانہ رپورٹ”ظالم اعداد2017“ پیش کر دی ھیں ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا میں سال 2017میں بچوں پر جنسی تشد د کے مجموعی طور پر 3445واقعات رپورٹ ہوئے۔پاکستان میں روزانہ 9سے زائد بچے جنسی تشد د کا شکار ہوتے ہیں۔تقریب میں قومی وعلاقائی اخبارات کی بچوں کے اوپر جنسی تشد دسے متعلق بہترین کوریج دینے پر نوائے وقت اور ڈیلی کاؤش کو ایوارڈ ز دیئے گئے۔بدھ کے روز نیشنل پریس کلب اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے غیر سرکاری تنظیم ”ساحل“کے نمائندوں نے کہا کہ تنظیم کامقصد 18سال سے کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ کرناہے۔ساحل کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر منیزے بانو نے کہا کہ پاکستان میں بچوں پر جنسی تشد د کے ساتھ ساتھ تجارتی بنیادوں پر استحصال بھی ہوتا ہے۔ قصور، سوات اور جڑانوالہ میں بچوں کے ساتھ ہونے والے واقعات عوام کے سامنے ہیں۔ سینکڑوں واقعات رپورٹ ہوئے مگر انصاف کے حصول کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ا ن واقعات میں بچوں کو اغوا، جنسی تشدد، منشیات کا استعمال،ویڈیوز بنانا، بلیک میل کرنا، اذیتیں دینا اور قتل کرنا بھی شامل ہے۔ تجارتی بنیادوں پربچوں کے ساتھ جنسی تشد دو استحصا ل کی مدمیں عالمی سطح پر ملین ڈالرز وصول کئے جاتے ہیں۔بچوں سے زیادتی کے واقعات کی تفصلات بتاتے ہوئے پروگرام آفیسر ممتاز گوہر نے کہا کہ جنوری تادسمبر 2017میں بچوں کو جنسی تشدد کے بعد قتل کئے جانے کے کل 109واقعات رپورٹ ہوئے۔ پچھلے سال کی نسبت اس سال واقعات میں 9فیصد اضافہ ہوا ہے۔اس سال بھی لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشد د کی شرح لڑکیوں کی نسبت زیادہ رہی۔ اعداد شمارکے مطابق 2077لڑکیا ں اور 1368لڑکوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سال رپورٹ ہونے والے واقعات میں سے 63فیصد پنجاب سے، 27فیصد سندھ، 4فیصد بلوچستان، 3فیصد اسلا م آباد، 2فیصد خیبر پختونخوا سے جبکہ 12واقعات آزاد کشمیراور 3گلگت بلتستان سے سامنے آئے ہیں۔ان واقعات میں 76فیصد دیہی علاقوں سے جبکہ 24فیصد شہری علاقوں سے رپورٹ ہوئے۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی کے کل 143واقعات رپورٹ ہوئے۔