وزیرا عظم کی ہدایت پر وفاقی وزراء کی وزیر داخلہ سے ملا قات . چوہدری نثار کا موجودہ سیاسی بحران کو نااهل مشیروں کا کارنامہ قرار …
اسلام آباد …خصوصی رپورٹ //اصغر علی مبارک سے
وزیرا عظم کی ہدایت پر وفاقی وزراء وزیر داخلہ چوہدری نثار کو منانے کے لئے پنجاب ہائوس پہنچ گئے ،تینوں رہنمائوں کے درمیان 3 گھنٹے سے زائد ملاقات جاری رہی،وفاقی وزراء نے چوہدری نثار کو اختلاف دور کرنے پارٹی اجلاسوں میں شمولیت کیلئے درخواست کی جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ میری کسی سے ناراضگی نہیں میرا موقف اصولی ہے جس پر قائم رہوں گا ۔ ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے فیصلہ محفوظ کے بعد وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق اور رانا تنویر حسین وزیر اعظم ہائوس سے پنجاب ہائوس پہنچے جہاں انہوں نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے طویل ملاقات کی ،تینوں رہنمائوں کے درمیان پاناما کیس سمیت ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تبادلہ کیا گیا ،وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اس وقت پارٹی پر مشکل وقت گزر رہا ہے آپ اپنے اختلافات بھلا کر اپنا کردار ادا کریں ، اس وقت ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے ،انہوں نے چوہدری نثار سے درخواست کی کہ وہ مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں آپ کے تحفظات ضرور دور کئے جائیں گے۔اس پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ میرے کسی سے کوئی اختلافات نہیں ہیں میں کسی سے ناراض نہیں ہوں ،پارٹی میرا اثاثہ ہے،میری تمام تر خدمات بھی پارٹی ہی کے لئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کچھ ایشوز پر میرا موقف اصولی ہے جس پر کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔دوسری جانب وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کروں گا تاہم کسی غیر ذمہ دارانہ رویے کی توقع نہ کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے ان کے استعفی کے حوالے سے میڈیا پر چل رہی افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ کچھ روز میں پریس کانفرنس ضرور کریں گے تاہم ان سے اس دوران کسی غیر ذمہ دارانہ رویے کی توقع نہ کی جائے۔ جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وضاحت کی جائے کہ وہ قریبی ذرائع کون ہیں جو وزیر داخلہ کے استعفے کی خبریں دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ میڈیا پر افواہیں زیر گردش ہیں کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم سے 35 سالہ رفاقت ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان اصولی اختلافات پانامہ کیس کے دوران پیدا ہوئیں . اصولی اختلافات کی وجہ سے اجلاسوں میں بھی شرکت نہیں کی ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اصولی اختلافات پانامہ کیس کی بنا پر اپنی وزارت کو چھوڑنے کبھی ا اعلان کر سکتے ھیں . ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پانامہ کیس میں شریف خاندان کے الزامات سے دور رہنے کا فیصلہ کیا
وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے بھی چوہدری نثار کو قائل کرنے کے لئے ان سے رابطہ کیا ہے لیکن نثار نےاصولی موقف پر ڈٹے رھنےکی پالیسی اپنائی اور موجودہ سیاسی بحران کو نااهل مشیروں کا کارنامہ قرار دیا ھے جس سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس لئے وزارت سے استعفی دینے کا فیصلہ کیا. ذرائع نے دعوئ کیا کہ چوہدری نثار پارٹی کو چھوڑیں نہیں گے10 جولائی کو، جے آی ٹی نے حکمران خاندان کے غیر ملکی اثاثوں کی تحقیقات کی عدالت میں اپنی آخری رپورٹ پیش کی جس میں کہا کہ ” آمدنی کے زیادہ ذرائع سےاثاثوں کا کوئی ثبوت نھی ملا “جب کہ وزیراعظم ایک اور غیر ملکی کمپنی، متحدہ عرب امارات کے چیئرمین تھے.قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 (1) (f) کے تحت نااہل سے بچنے کے لئےما ملہ آسان نہیں ھے .نواز شریف کی تاریخ سیاسی غلطیوں کے بعد بند گلی میں داخل ھو چکے ھیں جس سے انھے کوئی اور نہیں صرف چودھری نثار علی خان ہی با عزت نکال سکتے ھیں اور حقیقت میں وہ آخری امید کی کرن اور نجات دہندہ بھی قرار دینے جا رھے ہیں ، پانامہ کیس جرمن اخبار رپورٹ میں شائع ہونے کے بعد چودھری نثار علی خان نے ہی پانامہ قسط ٹو کو روکوایا تھا ، جس کے بعد پانامہ کیس میں میاں نواز شریف کا براۓ راست نام شامل نہ ھوا ،چودھری نثار علی خان ایک دبنگ لیڈر ھیں جنوں نے برے ترین وقت میں بھی میاں نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑا تاھم اصولوں پرمیاں نواز شریفکے سامنے کئی بار ڈٹ گے جو انکے راجپوت ہونے اور خاندانی وقار و عزت کی پہچان رہا ھے یقینن ھے کے جے آئی ٹی معاملے پر چوہدری نثار علی خان سے بہتر کوئی مشورہ نہی دے سکتا تھا تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے چند سیاسی ناعاقبت اندیش مشیروں کی سب اچھا کی گردان اور” قصیدہ سرائی کرنے والے چمچوں ” کی وجہ سے میاں نواز شریف فیملی ایسے مقام پر پہنچ گئی کہ قربانی کی عید سے پہلے قربانی لازمی دینا پڑے گی جس کے لیے نون لیگی فوجوں میں صف بندی کر لی گئی ھے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو یہ اعزار حاصل ہے کہ وہ مسلسل 8 مرتبہ مسلسل قومی اسمبلی کے ممبر بن چکے ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان ڈاکٹروں کی ھدا یت مشورہ پر کمر کی شدید تکلیف کے باعث مکمل آرام کر رھے ھیں ۔وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان گزشتہ کئی روزسے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ منگل کی صبح وہ مقررہ وقت پر دفتر پہنچے لیکن شدید تکلیف کے باعث اپنی دفتری مصروفیات ادھوری چھوڑ کر آرام کرنے کے لئے گھر واپس چلے گئے۔ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بیماری کو ناقدین غلط رنگ دیتے رھے ھیں .پاناما کیس کے حوالے سے چودھری نثار علی خان اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی جنکی بر ملا وضاحت تردید بھی کی گی ۔ وزیر داخلہ کی دوری کے بعد وزیراعظم نے خاموش پیغامات بھجوانا شروع کر دیے ہیں۔اختلافی خبروں کے بعد چوہدری نثارکے انکار کے بعد سنجیدہ حلقے اسے ایک اھم فیصلہ سے تشبہ دے رھے ھیں ،وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ہمیشہ اصولوں بنیاد پر سیاست کی ،انکی دبنگ شخصیت سے حکمران جماعت کے اہم وزیربھی ان سے نالاں نظر آتے ھیں ۔ذررا ۓ کے مطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ دنوں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو مناسب الفاظ پر مشتمل جواب بھیجا جنہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر اپنے وزیر داخلہ چوہدری نثار کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ چوہدری نثار نے کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کو چاپلوسیوں اور خوشامدیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا اور دیگر ریاستی اداروں سے نہ الجھنے کا کہا تھا، چوہدری نثار نے 35سال سے (ن) لیگ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس سے وفاداری پر فخر کرتے ہیں۔‘اپوزیشن کا کہنا ھے کہ نواز شریف کے کیریئر کا 2017ءمیں ”دی اینڈ“ ہو جائے گا‘وزیراعظم ”ڈس کوالی فکیشن“ سے نہیں بچ سکیں گے‘ یہ معاملے کو جتنا چاہیں کھینچ لیں مگر آخری فیصلہ بہرحال ان کے خلاف ہو گا۔ دوسرا آپشن ھے کہ ‘ میاں نواز شریف جمہوریت‘ سسٹم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں‘ اپنے زیرتکمیل منصوبے کانفرنس کے شرکاءکے سامنے رکھیں‘ سیاسی جماعتوں سے مہلت لیں‘ یہ منصوبے مکمل کریں‘ چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہ بننے کا اعلان کریں‘ اسمبلیاں توڑیں اور نئے الیکشنوں کا اعلان کر دیں‘دسمبر میں الیکشن ہو جائیں‘ پاکستان مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کر لے تو کسی پڑھے لکھے اور تجربہ کار سیاستدان کو وزیراعظم منتخب کرا لیں اور یہ خود رائے ونڈ میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں‘ یہ بھی بچ جائیں گے‘ فیملی بھی بچ جائے گی‘ پارٹی بھی بچ جائے گی‘ جمہوریت بھی بچ جائے گی اور ملک بھی بچ جائے گا‘ یہ آپشن پہلے آپشن سے ہزار گنا بہتر ہے‘ .