وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کااسلام آباد کے نئےایئرپورٹ کا باضابطہ افتتاح ….
اسلام آباد :خصوصی رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے
وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے ایشیا کے سب سے بڑھے اسلام آباد نئےایئرپورٹ کا باضابطہ افتتاح کردیاھے اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزرا، سفارتکار اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔واضح رھے کہ اسلام آباد نئےایئرپورٹ کے افتتاح کیلئے 3 مئی کااعلان کیا گیا تھا جبکہ تاریخ سے دو دن قبل ہی اسلام آباد ایئرپورٹ کا افتتاح کیا گیاھے اس طرح اب 3 مئی بروز جمعرات سے ایئر پورٹ سے پروازوں کی آمدورفت کا سلسلہ باقاعدہ شروع کیا جائے گا۔ اسلام آباد نئےایئرپورٹ کے افتتاح کے موقع پر یکم مئی 2018 بروز منگل کو سب سے پہلی پی آئی اے کی کمرشل پرواز پی کے-300 کراچی کے جناح ایئر پورٹ سے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پہنچی جسکے مسافروں کو وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور دیگر حکام نے مسافروں کا استقبال، خوش آمدید کہا اس سلسلے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ جبکہ اس کے بعد پی کے-301 اسلام آباد ایئر پورٹ سے کراچی کے لیے روانہ کی گئی۔اسلام آباد کے 35 کلومیٹر جنوب میں تعمیر کیے گئے نئے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پروازوں کے آغاز کے ساتھ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے تمام کمرشل اور وی آئی پی پروازیں یہاں منتقل کردی جائیں گی۔اس سے قبل ایشیا کے سب سے بڑھے اسلام آباد کے نئےایئرپورٹ کاافتتاح 20 اپریل کو کیا جانا تھا جسے تکنیکی اور حفاظتی مسائل کے پیش نظر تبدیل کر کے 3 مئی کو کردیا گیا تھا، تاہم اب اس کا افتتاح عوام کے جم غفیر کی متوقع آمد کے سبب یکم مئی کو 2 دن قبل ہی کردیا گیا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے بین الاقوامی ہوا باز ادارے مثلاْ امارات ایئرلائن، قطر ایئرویز، تھائی ایئرویز، چائنا ایئرلائن، اومان ایئرلائن، اتحاد ایئرویز، سعودی ایئرویز، گلف ایئر، کویت ایئرویز اور ترکش ایئرلائن جبکہ مقامی طور پر پی آئی اے، ایئر بلو، اور شاہین ایئر اپنی پروازوں کا آغاز کریں گی۔اس موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ منصوبہ ہماری کارکردگی کا مظہر ہے، جو سالوں سے تاخیر کا شکار تھا، جدید دور میں ہوائی سفر کی ضرورت کے پیش نظر، یہ منصوبہ اقتصادی ترقی کا گیٹ وے ثابت ہوگا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی افتتاحی تقریب سے نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں 1000 میگا واٹ سے زائد بجلی سسٹم میں شامل کی، گیس کی طلب و رسد کا فرق ختم کیا، ہم نے ملتان اور فیصل آباد ایئرپورٹ کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا جبکہ کراچی تا لاہور شاہراہ بھی زیر تعمیر ہے اس کے ساتھ ملک میں ہزاروں کلومیٹر شاہراہیں تعمیر ہورہی ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہنا تھا کہ حکومت پر تنفید کرنا نہایت آسان جبکہ حکومت میں رہ کر کام کرنا بہت مشکل ہے، ہم نے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو فضائی سفر اور سفری صورتحال مزید بہتر اور بین الاقوامی معیارکے مطابق بنانے کی خصوصی ہدایت کی ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستان صرف اسی صورت میں ترقی کرے گا جب ملک میں جمہوریت ہوگی ادارے اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں گے، آج نواز شریف کے وژن کے مطابق پاکستان ترقی کررہا ہے، نواز شریف نے وہ منصوبے شروع کیے جن کی 65 سال میں نظیر نہیں ملتی، میرا چیلنج ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے جو پچھلے 5 سال میں کیا وہ 60 سال میں کبھی نہیں ہوا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب ان کی حکومت آئی تو اس ایئر پورٹ کی تعمیر کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی، اگر ہماری حکومت یہی منصوبہ شروع کرتی تو 2 سال میں مکمل کر دیتی، تاہم ہم نے تنفید اور چیلنج برداشت کرتے ہوئے اسے مکمل کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نواز شریف کی ہدایت کے مطابق پبلک ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام ایئرپورٹ کے مسافروں کے لیے قائم کیا جارہا ہے، دنیا میں کوئی ایئر پورٹ ایسا نہیں جہاں تک عوام کی آسانی سے رسائی نہ ہو، ہمیں امید ہے کہ ایئر لائنز اپنے آپریشن میں بھی اضافہ کریں گی تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر اس سے مستفید ہوسکیں۔
واضح رھے کہ پی کے-300 افتتاح کے روز اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترنے والی واحد کمرشل پرواز تھی جبکہ آپریشن کا باقاعدہ طور پر آغاز 3 مئی سے کیا جائے گا۔ نئے ایئرپورٹ پر یکم مئی کو مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پی آئی اے کا عملہ بھی تعینات کیا جاچکا ہے، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے ایک دستے نے افتتاحی تقریب میں مہمانِ خصوصی کو گارڈ آف آنر پیش کیا دوسری جانب سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے اپنے ملازمین کو بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر 2 مئی کو اپنے دفاتر مکمل طور بند کرنے اور چابیاں نگران عملے کے حوالے کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، نگران عملہ تمام متعلقہ شعبہ جات سے حاصل شدہ چابیوں کا باقاعدہ ریکارڈ ترتیب دے گا۔اس سلسلے میں پاک فضائیہ کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان ایئر فورس نے اعلیٰ حکام کی ہدایت پر قومی اداروں کی معاونت کرنے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے، نئے ایئرپورٹ پر محفوظ آپریشن کے آغاز کے لیے سی اے اے کو مدد فراہم کردی۔واضح رہے کہ گزشتہ جمعہ کے روز آزمائشی طور پر اے سی-130 پرواز مسافروں اور سامان کے ہمراہ نئے تعمیر شدہ رن وے پر اتری تاکہ مسافروں اور پروازوں کی آمد کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جاسکے، اس سے قبل پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ سپر مشاق، اور مواصلاتی طیارہ ہرکولیس بھی اس رن وے پر اتر چکے ہیں۔فضائی ٹریفک میں کسی قسم کے تصادم سے بچنے کے لیے پاک فضائیہ اور سی اے اے کے ایئر ٹریفک کنٹرولز کے درمیان مشاورت کی جاچکی ہے جس کے تحت نئے ایئرپورٹ سے پروازوں کی آمدو رفت کے راستے اور فضائی تربیت گاہ میں مطابقت قائم کردی گئی ہے۔ پاک فضائیہ کی جانب سے بھی بہترین اور قابل لوگوں پر مشتمل ایک ایئر ٹریفک کنٹرول دستہ تعینات کردیا گیا ہے تاکہ فضائی ٹریفک کی باآسانی آمدورفت کو یقینی بنایا جاسکے۔وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے نئے ایئر پورٹ کے افتتاح پر ان کا کہنا تھا کہ نئے اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر 2013 میں گزشتہ حکومت کی جانب سے ملنے والا ایک دم توڑتا منصوبہ تھا، جسے سابق وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر عملی جامہ پہنا کر مکمل کیا گیا۔