میثاقِ مکہ: امن، سلامتی، دفاع اور بھائی چارے کا ابدی اتحاد ,تاریخی موقع پر خصوصی سپلیمنٹ

تحریر: اصغر علی مبارک

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا “میثاقِ مکہ” مسلم امہ کی عسکری اور تزویراتی تاریخ میں ایک نئے، روشن اور انقلابی باب کا اضافہ ہے۔ یہ تزویراتی شراکت داری خاص طور پر خلیجی خطے کی سلامتی کے لیے ایک مضبوط ڈھال ثابت ہوگی، جہاں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر، عمان اور خود سعودی عرب جیسے برادر عرب ممالک کو مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جبکہ اردن جیسے قریبی عرب ملک کی فضائی حدود بھی ان تزویراتی خطرات سے براہِ راست متاثر ہوئی ہیں۔ اس تاریخی اتحاد کا سب سے منفرد پہلو دفاعی صنعت میں ایک مثالی اور تکمیلی شراکت داری قائم کرنا ہے، جہاں سعودی عرب کے مالی وسائل، ترکیہ کی جدید ترین ڈرون اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، اور پاکستان کی طویل المیعاد عسکری مہارت و میزائل پروگرام یکجا ہو رہے ہیں۔ اس مشترکہ قوت کا بنیادی مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہتھیاروں کی باہمی تیاری اور دفاعی آلات کی مرمت کے اعلیٰ مراکز قائم کر کے بیرونی دنیا پر عسکری انحصار کو یکسر ختم کرنا اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنانا ہے۔ یہ تاریخی معاہدہ کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت یا اعلانِ جنگ ہرگز نہیں ہے، بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے عین مطابق انفرادی اور اجتماعی دفاع کے قانونی حق کا تحفظ کرتا ہے، جس کے تحت تینوں ممالک کی بری, بحری اور فضائی افواج روایتی خطرات اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں سالانہ بنیادوں پر مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد کریں گی۔

اس تاریخی موقع پر شائع ہونے والے خصوصی ضمیمے (اسپیشل سپلیمنٹ) میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنے خصوصی پیغامات میں اتحاد کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے:

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس خصوصی سپلیمنٹ میں واضح کیا کہ یہ تاریخی اتحاد خطے میں امن، سلامتی اور پائیدار استحکام کے لیے ایک ناگزیر ضرورت تھا، جو ہماری قومی خودمختاری کے تحفظ اور ہماری عوام کے دفاع کو یقینی بنانے میں سب سے اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا یہ اتحاد محض ایک عسکری معاہدہ نہیں بلکہ ایمان، دوستی اور امن کے مشترکہ نظریات کا مظہر ہے، جو تینوں برادر ممالک کے محفوظ مستقبل اور پوری امتِ مسلمہ کی فلاح و خوشحالی کا پیش خیمہ بنے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اتحاد کے عسکری پہلوؤں پر زور دیتے ہوئے بیان دیا کہ تینوں ممالک کی مسلح افواج کی مشترکہ صلاحیتیں اور باہمی تعاون خطے میں کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر ڈھال ثابت ہوں گی، اور یہ اتحاد خطے میں تزویراتی توازن برقرار رکھنے میں مددگار ہوگا۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دفاعی شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ہماری دفاعی خود انحصاری اور عسکری پیداوار کے میدان میں ایک انقلابی تبدیلی لائے گا، جس سے نہ صرف ہماری آپریشنل صلاحیتیں مضبوط ہوں گی بلکہ بیرونی دنیا پر ہمارا انحصار بھی نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے سفارتی اور معاشی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میثاقِ مکہ امتِ مسلمہ کے مابین یکجہتی، باہمی اعتماد اور سفارتی تعاون کی ایک ایسی اعلیٰ مثال ہے جو آنے والے وقت میں خطے کے وسیع تر معاشی اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کی ضامن ہوگی۔میثاقِ مکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا ایک ایسا جامع اور تاریخی دفاعی اتحاد ہے جو مسلم امہ کی عسکری اور تزویراتی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتا ہے۔ اس معاہدے کی کلیدی دفاعی شقوں کا سب سے اہم نقطہ اجتماعی تحفظ کا اصول ہے جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک ریاست پر بھی ہونے والا عسکری حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، اور اس جارحیت کے خلاف تینوں ممالک مشترکہ عسکری ردِعمل دینے کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس کا باقاعدہ تبادلہ بھی کریں گے۔ یہ تزویراتی شراکت داری خاص طور پر خلیجی خطے کی سلامتی کے لیے اہم ہے، جہاں متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین، قطر، عمان اور خود سعودی عرب جیسے عرب ممالک کو ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی وجہ سے شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جبکہ اردن جیسے قریبی عرب ملک کی فضائی حدود بھی ان حملوں سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان خطرات کے پیشِ نظر تینوں ممالک کی بری، بحری اور فضائی افواج سالانہ بنیادوں پر مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد کریں گی تاکہ روایتی خطرات اور انسدادِ دہشت گردی کے میدان میں باہمی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ اتحاد دفاعی صنعت میں ایک مثالی شراکت داری قائم کرتا ہے جہاں سعودی عرب کے مالی وسائل، ترکیہ کی جدید ترین ڈرون اور ایرو اسپیس ٹیکنالوجی، اور پاکستان کی طویل المیعاد عسکری مہارت و میزائل پروگرام یکجا ہو رہے ہیں، جس کا مقصد ٹیکنالوجی کی منتقلی، ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری اور دفاعی آلات کی مرمت کے مراکز قائم کر کے بیرونی دنیا پر عسکری انحصار کو مکمل طور پر ختم کرنا اور خطے میں پائیدار امن و خود انحصاری کو یقینی بنانا ہے۔