مکہ معاہدہ; بحیرہ عرب کی بحری سیکیورٹی, تزویراتی نقشہ تبدیل
(اصغر علی مبارک)
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد خلیج عرب اور بحیرہ عرب کی بحری سیکیورٹی کا تزویراتی نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا ہے مکہ معاہدہ نیٹو کی طرح کوئی مستقل بین الاقوامی عسکری ادارہ نہیں ہے، بلکہ یہ تین بڑی مسلم طاقتوں کا ایک فوری تزویراتی اور آپریشنل دفاعی گٹھ جوڑ ہے، جو ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کی مدد کے لیے “اجتماعی دفاع” کے اصول کو استعمال کرے گا۔
پاکستان اس اتحاد کا واحد جوہری ملک ہے جس کے پاس ایک اندازے کے مطابق 170 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید ترین بیلسٹک و کروز میزائل سسٹمز (جیسے شاہین اور غوری سیریز) موجود ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جنگی مہمات اور علاقائی عدم استحکام کے ماحول میں، پاکستان کی اس جوہری اور میزائل صلاحیت کو اس اتحاد میں نیٹو کے اجتماعی دفاعی اصول (ایک پر حملہ، سب پر حملہ) کے تحت شامل کیا گیا ہے، جو کسی بھی بیرونی طاقت کے خلاف ایک مضبوط ترین سدِراہ (Deterrent) کا کام کرے گی۔
ستمبر 2025 کے باہمی معاہدے (SMDA) کے تسلسل اور فروری 2026 میں ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد، پاکستان پہلے ہی اپنے ہزاروں فوجی دستے، جے ایف-17 جنگی طیارے، جدید ترین ڈرون اسکواڈرنز اور عسکری دفاعی نظام سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لیے روانہ کر چکا ہے۔
مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں اس تاریخی معاہدے پر دستخط کے وقت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ہمراہ پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی خصوصی طور پر موجود تھے، جن کی ذاتی اور انتھک عسکری سفارت کاری کو اس سہ فریقی اتحاد کے قیام کا بنیادی محرک تسلیم کیا گیا ہے۔
خلیج عرب کی آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، جو دنیا کی تیل کی سپلائی کی سب سے اہم بحری گزرگاہ ہے، اب اس نئے سہ فریقی عسکری گٹھ جوڑ کے براہِ راست اثر و رسوخ میں آ چکی ہے
پاک بحریہ کو بحیرہ عرب اور خلیج کے دھانے پر طویل عرصے سے سیکیورٹی فراہم کرنے کا وسیع تجربہ ہے۔ Makkahمعاہدے کے تحت اب پاک بحریہ کے جنگی جہاز اور سمندری نگرانی کرنے والے طیارے خلیج عرب میں مستقل پٹرولنگ (Patrolling) کر رہے ہیں۔پاکستان نے سعودی بحریہ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اپنے نیول کمانڈوز (SSG-N) اور تکنیکی ماہرین تعینات کیے ہیں تاکہ سعودی عرب کی مشرقی بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو کسی بھی ممکنہ بحری یا ڈرون حملے سے بچایا جا سکے تاریخی طور پر خلیج عرب کی سیکیورٹی بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے رحم و کرم پر تھی۔ 2025 کے سیکیورٹی بحران کے بعد، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنے جنگی جہازوں کو یکجا کر کے ایک متبادل سیکیورٹی نیٹ ورک قائم کیا ہے، جس کی وجہ سے خلیج میں امریکی بحری بیڑے پر خلیجی ممالک کا روایتی انحصار نمایاں طور پر کم ہو گیا ہےمکہ معاہدے کے تحت ترکیہ کی بحریہ (Turkish Navy) نے تاریخ میں پہلی بار خلیج عرب کے پانیوں میں اپنے جدید ترین ‘ملجم’ (MILGEM) کلاس کارویٹس اور فریگیٹس مستقل بنیادوں پر تعینات کیے ہیں۔ ترکیہ کی یہ جدید بحری قوت، پاکستان کے تجربے اور سعودی عرب کے ساحلی بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کے ساتھ مل کر خلیج میں کسی بھی قسم کی بیرونی بحری جارحیت کے خلاف ایک ناقابلِ عبور دفاعی دیوار بن چکی ہے خلیج عرب سے دنیا بھر، بالخصوص چین اور ایشیائی ممالک کو جانے والے تیل کے ٹینکرز کو ماضی میں ڈرون حملوں اور سمندری قزاقوں (Pirates) سے شدید خطرات لاحق تھے اس مشترکہ بحری تحفظ کے بعد بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی (Shipping Lines) کا اس روٹ پر اعتماد بحال ہوا ہے، کیونکہ اب تین بڑی عسکری طاقتیں ان بحری راستوں کی نگرانی کر رہی ہیں, خلیج عرب میں ایران کی بحری موجودگی اور اس کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی تیز رفتار کشتیاں ہمیشہ ایک چیلنج رہی ہیں مکہ معاہدے کے بعد خلیج میں پیدا ہونے والے اس نئے بحری توازن نے ایران کو یکطرفہ بحری اقدامات یا آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں سے روک دیا ہے، کیونکہ اب کسی بھی بحری تصادم کی صورت میں اسے صرف سعودی عرب نہیں بلکہ پاکستان اور ترکیہ کی بحری و فضائی طاقت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا
مکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی پیداوار کا اشتراک اس پورے اتحاد کا سب سے مضبوط صنعتی اور تکنیکی ستون بن کر ابھرا ہے جہاں ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان عسکری تجارت صرف خرید و فروخت تک محدود تھی، وہیں اس نئے تزویراتی فریم ورک کے تحت اب توجہ مشترکہ مینوفیکچرنگ ، ٹیکنالوجی کی منتقلی ، اور سائنسی تحقیق پر مرکوز کر دی گئی ہے تاکہ دفاعی شعبے میں بیرونی ممالک پر انحصار کو ختم کیا جا سکے۔ ففتھ جنریشن لڑاکا طیارہ ترکیہ کا ‘کان’ پروگرام اس وقت دنیا کے جدید ترین فضائی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ پاکستان اس منصوبے میں باقاعدہ طور پر ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر شامل ہو چکا ہے۔ پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (PAC) کامرہ کے ماہرین اور انجینئرز ترکیہ کی کمپنی ‘TUSAŞ’ کے ساتھ مل کر اس طیارے کے ایوی اونکس، سافٹ ویئر اور ساخت (Structure) کی تیاری پر کام کر رہے ہیں، جس سے پاکستان کو ففتھ جنریشن ٹیکنالوجی تک براہِ راست رسائی مل رہی ہے۔ترکیہ ڈرون ٹیکنالوجی میں دنیا کا ایک مروجہ لیڈر ہے۔ اس معاہدے کے تحت ترکیہ کے مشہورِ زمانہ Bayraktar TB2، Akinci اور Anka ڈرونز کی نہ صرف پاکستان کو فراہمی تیز کی گئی ہے بلکہ ان کے کچھ پرزہ جات کی پاکستان میں مقامی سطح پر تیاری بھی شروع کی جا چکی ہے۔مشترکہ اپ گریڈیشن: دونوں ممالک مل کر ان ڈرونز کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور جدید گائیڈڈ میزائل سسٹمز سے لیس کر رہے ہیں تاکہ انہیں جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر کے قابل بنایا جا سکے۔





