فٹبال ورلڈ کپ 2018 کا روس میں آغاز، 32 دن ، 64 میچز، 11 شہر12 اسٹیڈیمز افتتاحی میچ میزبان روس بمقابلہ سعودی عرب . روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو بھی فیفا فین کارڈ جاری
رپورٹ :اصغر علی مبارک سے
فٹبال ورلڈ کپ 2018 کا آج سے روس میں آغاز، افتتاحی میچ میزبان روس اور سعودی عرب کے درمیان کھیلا جائے گا فیفا ورلڈ کپ 2018 کا میسکوٹ زابی واکا ھے فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے زیر فٹبال کے سب سے بڑے ایونٹ ورلڈ کپ کے 21ویں ایڈیشن کا آج سے روس میں آغاز ہو رہا ہے جہاں افتتاحی تقریب کے بعد پہلا میچ میزبان روس اور سعودی عرب کے درمیان ھو گا۔ورلڈ کپ کا آغاز ماسکو کے لزنیکی اسٹیڈیم میں شاندار افتتاحی تقریب سے ہو گا جس میں عالمی شہرت یافتہ گلوکار دیگر سیکڑوں فنکاروں کی مدد سے تقریب کو یادگار بنائیں گے جبکہ ماضی کے برازیلین سپر اسٹار رونالڈو بھی شرکت کریں گے۔32 دنوں کے درمیان ورلڈ کپ کے 64 میچز روس کے 11 شہروں میں قائم 12 اسٹیڈیمز میں کھیلے جائیں گے۔عالمی کپ کے آغاز سے قبل روسی شہروں کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا اور روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو بھی فیفا فین کارڈ جاری کر دیا گیا ہے۔درجہ بندی میں عالمی نمبر دو اور پانچ مرتبہ کی عالمی چیمپئن برازیل کو اس بار بھی فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے لیکن دفاعی چیمپیئن جرمنی کی ٹیم کو بھی ماہرین کی بڑی تعداد فیورٹ تصور کر رہی ہے۔56 سال سے دنیا کی کوئی بھی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کر سکی اور 1962 میں برازیل وہ آخری ٹیم تھی جس نے عالمی کپ کا کامیابی سے دفاع کیا لیکن جرمنی اس جمود کو توڑتے ہوئے اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے پرامید ہے۔برازیل اور جرمنی کے ساتھ ساتھ سابق چیمپیئن فرانس اور اسپین کو بھی ٹائٹل کے لیے اہم امیدوار تصور کیا جا رہا ہے جبکہ فٹبال شائقین کا ماننا ہے کہ باصلاحیت کھلاڑیوں سے لیس بیلجیئم کی ٹیم بھی پہلی مرتبہ چیمپیئن بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ 2016 کی یورو کپ چیمپیئن پرتگال، 1966 کی ورلڈ کپ چیمپیئن انگلینڈ، 2014 کی رنر اپ ارجنٹینا اور پولینڈ کو کمزور سمجھنے کی غلطی بھی ٹیموں کو بہت بھاری پڑ سکتی ہے۔روس میں عالمی کپ کے لیے مسلمان شائقین کے لیے کازان کے شہر میں بھرپور دلچسپی کا سامان موجود ہے جہاں مختلف مذاہب اور ثقافتیں موجود ہیں اور کھیل کے بعد اگر حلال کھانے کی تلاش ہو تو ریستوران بھی دستیاب ہیں جبکہ روزے داروں کے لیے عبادت گاہوں کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔روسی درالحکومت ماسکو میں ورلڈ کپ کی یاد میں میوزیم قائم کردیا گیا جہاں ٹرافیاں، تاریخ، فٹبالز، مشہور فٹ بالرز کی شرٹس اور جوتے نمائش کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔سیاحوں کے لیے خصوصی میٹرو ٹرینیں چلادی گئی ہیں جبکہ اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے کے لیے دنیا بھر سے آئے شائقین ٹکٹ کے حصول کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگا کر میچز کے ٹکٹ کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔ورلڈ کپ کے دوران دہشتگردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے سخت انتظامات کیے گئے اور کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی دستے جگہ جگہ تعینات ہیں۔تاہم فٹبال ورلڈ کپ کے دوران عائد کی گئی خصوصی پابندیوں سے عام شہریوں کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے جہاں میدانوں کے آس پاس شراب کی فروخت ممنوع قرار دے دی گئی۔اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہر میں شائقین کے لیے مختص علاقوں میں میچ سے ایک روز قبل ہی ناصرف شراب بلکہ شیشے کی بوتل میں کسی بھی مشروب کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور پولیس کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو نشے کی حالت میں پائے جانے پر پکڑ کر خصوصی سیل میں رکھنے کی مجاز ہوگی۔ ورلڈ کپ کے دوران 41 مقامات سے پروازوں کی آمدورفت بھی معطل رہے گی اور ایونٹ کے میچز کے میزبان شہروں کے گرد 100 کلومیڑ کی حدود میں ڈرون کیمروں کا استعمال ممنوع ہوگا۔فوج کی جانب سے اسٹیڈیمز کے اطراف میں جیمرز نصب کر دیے گئے ہیں اور اسٹیڈیم میں بھی پولیس آفیسرز تعینات کیے جائیں گے تاکہ کھلاڑیوں اور فٹ بال شائقین کی سیکیورٹی کو ممکن بنایا جا سکے۔ورلڈ کپ کے دوران 15 لاکھ سے زائد شائقین فٹبال کی روس آمد متوقع ہے جبکہ دنیا بھر میں 3ارب سے زائد لوگ ٹی وی پر بیٹھ کر دنیا کے سب سے بڑے مقابلے سے لطف اندوز ہوں گے۔آئس لینڈ اور پاناما کی ٹیمیں پہلی مرتبہ میگا ایونٹ میں شرکت کر رہی ہیں اور ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے میگا ایونٹ میں 32 ٹیموں کو 8 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی 32ٹیموں میں گروپ اے میں میزبان روس، سعودی عرب، مصر اور یوروگوئے شامل ہیں جبکہ گروپ بی میں پرتگال، اسپین، مراکش اور ایران شامل ہیں۔گروپ سی فرانس، آسٹریلیا، پیرو اور ڈنمارک پر مشتمل ہے، گروپ ڈی میں ارجنٹائن، آئس لینڈ، کروشیا اور نائیجریا شامل ہیں اور گروپ ای میں برازیل، سوئٹزرلینڈ، کوسٹاریکا اور سربیا کا مقابلہ ہو گا۔گروپ ایف میں میکسیکو، سوئیڈن اور کوریا کے ساتھ دفاعی چیمپیئن جرمنی شامل ہے، گروپ جی میں بیلجیئم کو پاناما، تیونس اور انگلینڈ کا چیلنج درپیش ہو گا جبکہ گروپ ایچ میں پولینڈ، سینیگال، کولمبیا اور جاپان شامل ہیں۔ ادھر فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی فیفا ورلڈ کپ 2018 میں متنازع فیصلوں سے بچنے اور منصفانہ نتائج کے لیے ریفری کی معاونت کے لیے نیا ٹیکنالوجی سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔اس سسٹم کا اس سے قبل انگلش پریمیئر لیگ کے ساتھ ساتھ جرمنی اور انگلینڈ کی فٹبال لیگز میں بھی تجربہ کیا جا چکا ہے جہاں یہ انتہائی کامیاب اور مقبول ثابت ہوا۔رواں سال مارچ میں زیورخ میں منعقدہ اجلاس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی باقاعدہ منظوری لی گئی جہاں تمام اراکین نے اس کو مستقل بنیادوں پر فٹبال میں استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ورلڈکپ 2018 کے میچز میں منصفانہ نتائج اور میچز میں تنازعوں سے بچنے کے لیے جدید ترین ٹیکنولوجی پر مبنی ویڈیو اسسٹنٹ ریفری سسٹم(وی اے آر) متعارف کروا دیا گیا۔یہ پہلا موقع ہو گا کہ فٹبال ورلڈ کپ میں ویڈیو ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا جہاں اس سے قبل 2014 میں برازیل میں منعقدہ عالمی کپ میں گول لائن ٹیکنالوجی استعمال کی گئی تھی۔یہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری سسٹم روس کے دارلحکومت ماسکو میں انٹرنیشنل براڈ کاسٹنگ سینٹر میں نصب کیا گیا ہے جو روس کے تمام 11 شہروں کے 12 اسٹیڈیمز سے منسلک ہوگا۔وی اے آر سسٹم میں ایک ویڈیو اسسٹنٹ ریفری ہو گا اور اس کے 3 اسسٹنٹ ہوں گے جو میچ پر کڑی نظر رکھیں گے۔اس کے علاوہ چار ری پلے آپریٹرز بھی ہوں گے جو کسی بھی ریویو لینے کے لیے ہر طرح سے تیار اور ویڈیو ریفری کو بہترین اینگل فراہم کریں گے جس سے باآسانی نتیجہ اخذ کیا جاسکے گا۔وی اے آر روم میں فیفا کا رکن بھی موجود ہو گا جو میچ ریفریز کی گفتگو سن سکے گا اور وہ آفیشلز ویب سائٹ پر پوسٹ کرے گا۔گراؤنڈ میں موجود ریفری کسی بھی وقت کسی بھی مشکل فیصلے کو جانچنے اور مدد کے لیے وی اے آر سے رابطہ کرے گا اور یوں فیصلوں اور میچ کے نتیجوں کو شفاف طریقے سے سرانجام دیا جا سکے گا۔تاہم اس ٹیکنالوجی کا استعمال محدود ہو گا اور اسے صرف 4 اہم کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا جس میں گول، پینالٹیز، براہ راست ریڈ کارڈ اور کھلاڑی کی غلط شناخت شامل ہے۔اس ٹیکنالوجی کو 4 شعبوں تک محدود کرنے کا مقصد کھیل کو مستقل خلل سے پاک اور شائقین کی دلچسپی کو برقرار رکھنے کے لیے میچ کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے۔لیکن اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کھیل کو غلط آف سائیڈ یا غیرمنصفانہ گول سے پاک کرنے میں بہت مدد ملے گی جہاں ماضی میں اہم میچوں میں ریفری کے متنازع فیصلوں اور سب سے سے بڑے عالمی مقابلے میں ٹیکنالوجی نہ ہونے کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ماضی قریب میں اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ 2010 ورلڈ کپ میں رونما ہوا تھا جب انگلینڈ اور جرمنی کے درمیان پری کوارٹر فائنل مقابلوں میچ میں فرینک لیمپرڈ کی گیند گول کے اندر سے باہر آ گئی تھی اور ریفری نے اسے گول دینے سے انکار کردیا۔اس فیصلے کو عالمی سطح پر کافی تنقید کا نشانہ بنایا تھا گیا تھا کیونکہ یہ انگلینڈ کے عالمی کپ سے اخراج کا اہم سبب بنا تھا لیکن اس متنازع فیصلے کے بعد گول لائن سمیت دیگر ٹیکنالوجی کے فٹبال میں استعمال کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔