برین ڈرین اور نوجوانوں کا مستقبل:

(علیزہ شمشاد چوہدری )

ہوائی اڈوں کے ڈیپارچر لاؤنجز میں چھائی اداسی، آنکھوں میں تیرتے آنسو اور دل میں ایک روشن مستقبل کی آس۔ یہ وہ منظر ہے جو آج پاکستان کے تقریباً ہر بڑے شہر میں روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ملک کے قابل ترین ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، سائنسدان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے خوابوں کی گٹھڑی اٹھائے روزانہ بیرونِ ملک ہجرت کر رہے ہیں۔ جس عمل کو علمی اور معاشی اصطلاح میں “فرارِ دماغ” یا برین ڈرین کہا جاتا ہے، وہ اب محض ایک خشک معاشی اصطلاح نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے قومی وجود، معیشت اور نوجوانوں کے مستقبل پر لگا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی اور اس کی ترقی کے اصل ضامن ہوتے ہیں، لیکن جب ملک کی سب سے باصلاحیت اور تخلیقی سوچ رکھنے والی نسل اپنے ہی وطن کو خیرباد کہنے پر مجبور ہو جائے، تو اس سے نہ صرف قوم کا حال متاثر ہوتا ہے بلکہ ان کا اپنا مستقبل بھی دیس پرایا کرنے کی نذر ہو جاتا ہے۔
اس دردناک ہجرت اور برین ڈرین کے پیچھے چند انتہائی تلخ اور گہرے حقائق کارفرما ہیں۔ سب سے بڑی وجہ ملک میں جاری معاشی عدم استحکام اور بے لگام مہنگائی ہے، جس نے ایک عام پڑھے لکھے اور باصلاحیت نوجوان کے لیے باعزت طریقے سے روزمرہ اخراجات پورے کرنا بھی ناممکن بنا دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میرٹ کا شدید فقدان اور انتہائی کم معاوضہ نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کا سب سے بڑا باعث بنتا ہے، جہاں سالہا سال کی محنت، اعلیٰ ڈگریاں اور قابلیت سفارش، رشوت اور نااہلی کے سامنے دم توڑ دیتی ہیں۔ مزید برآں، مسلسل سیاسی اور سماجی غیریقینی صورتحال نے نوجوانوں سے آئیندہ کل کی امید اور تحفظ کا احساس چھین لیا ہے۔ دوسری طرف، ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانی ہنر کی بین الاقوامی مانگ اور پرکشش مراعات انہیں اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ایک محفوظ ماحول، شفاف نظام اور بہتر معیارِ زندگی کی تلاش میں یہ نوجوان بوجھل دل کے ساتھ وطن عزیز کو چھوڑنے کا کٹھن فیصلہ کرتے ہیں۔
برین ڈرین کے اثرات صرف چند افراد کے بیرونِ ملک جانے تک محدود نہیں، بلکہ اس کا خمیازہ پورے ملک اور آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ سب سے پہلے تعلیمی اور قومی سرمایہ کا سنگین ضیاع ہے؛ جس نوجوان کی تعلیم، صحت اور تربیت پر ریاست اور والدین نے اپنی محنت کے لاکھوں روپے اور سالہا سال صرف کیے، اس کی صلاحیتوں کا پھل اب دوسری قومیں کھا رہی ہیں۔ اس سے ایک طرف معاشی نقصان اور ٹیکس آمدن میں شدید کمی واقع ہو رہی ہے، تو دوسری طرف صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمارے ہسپتال قابل ڈاکٹروں اور مجرب سرجنوں سے محروم ہو رہے ہیں، جبکہ یونیورسٹیاں اعلیٰ تحقیق کاروں اور ماہر اساتذہ کی قلت کا شکار ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ملک میں تحقیق، ایجادات اور جدت میں نمایاں کمی آ چکی ہے، اداریوں کی کارکردگی دن بہ دن گرتی جا رہی ہے۔
اس بھیانک صورتحال سے نکلنے کے لیے جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ملک میں میرٹ کی مکمل بالادستی قائم کرنی ہوگی تاکہ نوجوانوں کو یہ یقین ہو کہ ان کا مستقبل ان کی محنت اور صلاحیت سے وابستہ ہے، کسی سفارش یا رشوت سے نہیں۔ نوجوانوں کو ان کی قابلیت کے مطابق مناسب معاوضہ اور کیریئر کی ترقی کے شفاف مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ موجودہ دور ڈیجیٹل انقلاب کا ہے، اس لیے آئی ٹی اور اسٹارٹ اپس کے لیے خصوصی سہولیات، سستا انٹرنیٹ، ٹیکس میں چھوٹ اور آسان قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوان اپنے گھر بیٹھے بین الاقوامی سطح پر کام کر کے زرِ مبادلہ کما سکیں۔
‎اس کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاروں اور نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو۔ ملک میں تحقیق و ترقی (R&D) میں قومی سرمایہ کاری بڑھانی ہوگی، اور قانون کی حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مل کر نوجوانوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہو جائیں کہ ان کی صلاحیت، محنت اور قابلیت کی قدر اپنے ہی ملک میں ہوگی، تو برین ڈرین میں نہ صرف نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ بیرونِ ملک مقیم ذہین ترین پاکستانیوں کو بھی واپس وطن راغب کیا جا سکتا ہے۔
‎حاصلِ کلام یہ ہے کہ نوجوان کسی بھی قوم کے لیے محض ایک عددی طاقت نہیں بلکہ اس کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنے شاہینوں کو پرواز کے لیے ان کا اپنا ہی آسمان اور اپنی ہی مٹی پر مواقع فراہم نہیں کریں گے، تو ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اور سماج مل کر ہنگامی بنیادوں پر فیصلے کریں اور نوجوانوں کو یہ احساس دلائیں کہ یہ ملک ان کا ہے اور ان کا مستقبل اسی مٹی سے وابستہ ہے۔ جب اپنے ہی ملک میں محنت کا پھل اور عزتِ نفس ملے گی، تو کوئی بھی نوجوان اپنا گھر، اپنے پیارے اور اپنا وطن چھوڑ کر جانے کا سوچ بھی نہیں سکے گا۔


برین ڈرین یعنی پڑھے لکھے، قابل اور ہنرمند نوجوانوں کا بہتر مستقبل، روزگار اور اعلیٰ معیارِ زندگی کی تلاش میں اپنے ملک کو چھوڑ کر بیرونِ ملک منتقل ہو جانا، اس وقت پاکستان کے لیے ایک سنگین بحران بن چکا ہے جس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت اور نوجوانوں کے مستقبل پر پڑ رہا ہے
۔ اس بحران کی بنیادی وجوہات میں ملک کا معاشی عدم استحکام، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری، روپے کی گرتی ہوئی قدر، اداروں میں سفارش اور اقربا پروری کے باعث میرٹ کی پامالی، سیاسی و سماجی غیر یقینی صورتحال اور ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین کو ان کی قابلیت کے مطابق موزوں تنخواہیں اور تحقیقی مراعات نہ ملنا شامل ہیں۔ اس صورتحال کے جہاں ملکی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ بہترین دماغوں کی روانگی سے ٹیلنٹ کا خلا پیدا ہو رہا ہے، ملکی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے اور پاکستان کی اپنے وسائل سے دی گئی تعلیم و تربیت کا فائدہ امیر ممالک اٹھا رہے ہیں، وہیں اس کا ایک مثبت پہلو نوجوانوں کو ملنے والا بین الاقوامی ایکسپوژر اور ان کی طرف سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر (ریمٹنسز) ہیں جو ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔ اس سنگین بحران پر قابو پانے کے لیے ناگزیر ہے کہ تمام سرکاری و نجی اداروں میں میرٹ کی بالادستی قائم کی جائے، ملک میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے آئی ٹی، فری لانسنگ، بین الاقوامی ادائیگی کے ذرائع اور سستے انٹرنیٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں، نئے کاروبار کے لیے آسان شرائط پر اسٹارٹ اپ فنڈز دیے جائیں اور ‘برین گین’ پالیسی کے تحت بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ماہرین کو آن لائن تدریس یا مقامی سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ملک کا سرمایہ اور نوجوانوں کا مستقبل دونوں محفوظ ہو سکیں۔