فخر خطہ

پوٹھوہار ایمان داری، دیانت داری، ..پاکستان کا وقار ،،،وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار..نواز شریف کی آخری امید

اصغر علی مبارک کا کالم ،اندر کی بات ” فخر خطہ پوٹھوہار ایمان داری، دیانت داری، ..پاکستان کا وقار ،،،وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار..نواز شریف کی آخری امید ہیں ،چوہدری نثار علی خان ایسے لیڈر ھیں جن پر آج تک کرپشن کا ایک بھی الزام نہی لگا.چوہدری نثار علی خان خطہ پوٹھوہار کا ایک ایسا نگینہ ہیں جو اپنی ایمان داری، دیانت داری، اور اعلیٰ اوصاف کی بنا پر پورے خطہ پوٹھوہار کے ماتھے کا جھومر بن کر پورے آب و تاب سیاسی افق پر جگمگا رھےہیں.چوہدری نثار پاکستان کے واحد سیاستدان ہیں جو ھر پریس کانفرنس میں ہر صحافی کے سوال کا جواب ضروردیتے ہیں. آسمان سیاست پر چمکتا ستارہ چوہدری نثار ہمیشہ پاکستان دشمنوں کے لئے ایک سخت گیر ،اصول پسند سیاست دان کے طور پرسامنے آ ے ، ہمیشہ شلوار قمیض میں ملبوس وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان خطہ پوٹھوہار کے ماتھے کا جھومر اور فخر پاکستان ثابت ھوے ھیں. وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے عوام بے پناہ پیار کرتے ہیں وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو یہ اعزار حاصل ہے کہ وہ مسلسل 8 مرتبہ مسلسل قومی اسمبلی کے ممبر بن چکے ہیں یہ حلقے کی عوام کا چودھری نثار علی خان سے محبت کا اظہار ہے ترقیاتی کام کروانے میں ان کا کوئی ثانی نہیں انھوں نے سوئی گیس کی فراہمی کو تحصیل ٹیکسلا میں اس وقت یقینی بنایا جن بڑے بڑے شہر اس نعمت سے محروم تھےکا چودھری نثار علی خان نے ٹیکسلا‫ کو تحصیل کا درجہ دلاوانے کے علاوہ سکول و کالج کا لامتناعی سلسلہ شروع کیا‫. پی او ایف ملازمین کو %20 خصوصی الاونس دلوا کر مزدورں سے دلی محبت کا ثبوت دیا. 10 ارب روپے کی خطیر رقم سے واہ کینٹ کے سنگم پر 500 بستروں پر جدید ہسپتال کی تعمیری اس کے علاوہ ریسیکو 1122 کا افتتاح کیا. سر سید سوسائٹی کے واہ کینٹ میں دو اسکول تعمیر کروائے. 7 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے ٹیکسلا میں گیس کے پریشر کی کمی کو پورا کرنے کے لیے CMC سٹیشن قائم کیا. ٹیکسلا واہ کینٹ کی مختلف یونین کونسلوں کے چیرمینوں کو کروڑوں روپے کی گرنٹس دے کر ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا. وفاقی وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کو پاکستان کی سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے وفافی وزیر داخلہ چودھری نثار وزارت داخلہ کے اہم منصب کو باخوبی چلا رھے ہیں. اس کی مثال آج سے قبل نہیں ملتی.وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی بہترین حکمت عملی اور پاک افواج پاکستان کی کاوشوں سے پاکستان میں امن کا درورزے کھلے.
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقوق کی آواز بلند کی وہ ہمیشہ کہتے ھیں کہ کشمیری عوام کے حقوق کی پر کسی قسم کی کوئی سودے بازی نہیں کی جاے گیاور انصاف کے تقاضوں اور اقوام متحدہ کی قراداوں کے مطابق کشمیریوں کو انکا جائز حق ملنے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ بھارت تسلط سے آزادی اور حق خود ارادیت کشمیریوں کا مقدر ہے اور دنیا کی کوئی طاقت انہیں اس حق سے محروم نہیں کرسکتی،وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان ڈاکٹروں کی ھدا یت مشورہ پر کمر کی شدید تکلیف کے باعث مکمل آرام کر رھے ھیں ۔وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان گزشتہ کئی روزسے کمر درد کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ منگل کی صبح وہ مقررہ وقت پر دفتر پہنچے لیکن شدید تکلیف کے باعث اپنی دفتری مصروفیات ادھوری چھوڑ کر آرام کرنے کے لئے گھر واپس چلے گئے۔ڈاکٹروں کی جانب سے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔دعوئ کیا جاتا رہا ھے کہ راہنماﺅں کے درمیان ناراضگی اتنی زیادہ بڑھی کہ چودھری نثار علی خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کی ،وزیر داخلہ چوہدری نثار کی بیماری کو ناقدین غلط رنگ دے رھے ھیں .پاناما کیس کے حوالے سے چودھری نثار علی خان اور وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ھیں جنکی بر ملا وضاحت تردید بھی کی گی مگر افواؤں کی فیکٹریاں ہر روز نئ افوایں تیار کر کے بریکنگ نیوز کے نام پر ھیجان خیزی پیدا کر رہی ھیں کہا جارھا ھے وزیر داخلہ کی جانب سے اختلافات کے باعث حکومت سے دوری اختیار کر لی ھے ۔ وزیر داخلہ کی دوری کے بعد وزیراعظمنے وزیر دفاع کے ذریعے خاموش پیغامات بھجوانا شروع کر دیے ہیں۔ وزیر داخلہ کی دوری کے باعث وزیر دفاع خواجہ آصف کو وزیر اعظم کے قریب ہونے کا موقع مل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آج کل وزیراعظم وزیر دفاع خواجہ آصف کے مشوروں کو سب سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔کابینہ اجلاس میں کیا ہوا تھا؟تلخی کی خبروں کے بعد چوہدری نثارکے انکار کے بعد سنجیدہ حلقے اسے ایک اھم فیصلہ سے تشبہ دے رھے ھیں ،وزیر داخلہ چوہدری نثار نے ہمیشہ اصولوں بنیاد پر سیاست کی ،انکی دبنگ شخصیت سے تو بھارت بھی خو ف خوفزدہ ھے قارئین کو یاد ہو گا کہ پاکستان پر سارک کانفرنس کے دوران جب بھارتی وزیر نے الزامات لگا کر بدنام کرنے کی کوشش کی تو اسکا منہ طور جواب بھی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان خوب دیا اور انکا تاریخی خطاب تاریخ میں سنہری حروف میں درج ھے، چند دنوں پہلے پانامہ ایشوز پر حکمران جماعت اور اس کے اہم وزیروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ دنوں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کو مناسب الفاظ پر مشتمل جواب بھیجا جنہوں نے ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل پر اپنے اس ساتھی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔وزارت داخلہ کے جاری شدہ بیان میں کہا گیا کہ کابینہ اجلاس میں وزیرداخلہ کی تقریر حکومتی وزیر(یعنی احسن اقبال) غلط اور بے دلیل بیانات سے گریز کریں ،ترجمان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار علی خان نے کابینہ اجلاس میں ایسا کوئی بیان نہیں دیا جو ان سے منسوب کیا جارہا ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے ایسے وزراء کی جانب سے غلط بیانات دئیے جارہے ہیں جنہوں نے حکومت کو کنارے لگا دیا ہے۔یہ رپورٹس آئی تھیں کہ چوہدری نثار نے کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کو چاپلوسیوں اور خوشامدیوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا اور دیگر ریاستی اداروں سے نہ الجھنے کا کہا تھا،تاہم حکومت نے ان رپورٹوں کی تردید کی تھی کہ وزیرداخلہ پارٹی قیادت اور اپنے رفقاء سے کوئی اختلاف رکھتے ہیں۔احسن اقبال نے ایک گفتگو میں کہا تھا کہ کابینہ اجلاس نے وزیراعظم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اجلاس میں اس بات پر اتفاق تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنی تفتیش سے لیکر تکمیل تک کوئی انصاف نہیں کیا ہے،حکومت سپریم کورٹ کے سامنے اپنا دفاع کرے۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش سیاسی ایجنڈا ہے اور کوئی احتساب نہیں ہے اور پہلے اور دوسرے دھرنے سے مختلف نہیں ہے۔کابینہ اجلاس میں ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر تھا اور کوئی بھی پارٹی لائن یا وزیراعظم سے انحراف نہیں کر رہا۔احسن اقبال کے مطابق چوہدری نثار نے اجلاس میں کہا کہ وہ35سال سے (ن) لیگ کے ساتھ وابستہ ہیں اور اس سے وفاداری پر فخر کرتے ہیں۔احسن اقبال نے اختلافات بارے کہا کہ ہر ایک کا اپنا نکتہ نظر اور پارٹی اس محاذ پر متحد ہے اور ہم اس بحران کا سامنا کریں گے جو ہم پر تھوپا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کے بعد تنقیدی بیان آیا جس سے نثار کو وارننگ جاری کرنا پڑی ۔احسن اقبال نے یہ بھی کہاتھا کہ جب وزیراعظم کےخلاف سازش ہورہی ہو تو میرے کردار کی شناخت ایسے ہوگی کہ آیا میں شکایتی مراسلہ لیکر آؤں یا وزیراعظم کی حمایت کروں ماضی کی مہربانیاں مدنظر رکھ کر۔ کہاجا رہا ہے کہ چوہدری نثار وقت سے قبل میٹنگ چھوڑ گئے تھے اور اسی مقصد کیلئے بلائی گئی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی،دوسری طرف جے آئی ٹی رپورٹ کا فائنل راونڈ کا آغاز هو چکا ھے سپریم کورٹ کا کہنا ھے کہ ضرورت پڑنے پر والیم 10 کو بھی کھول کر دیکھیں گے، نااہلی کا فیصلہ اقلیت کا تھا جے آئی ٹی اکثریت نے بنائی ، قطری خطوط بوگس ہیں یا ان کے حوالے سے بنائی گئی کہانی؟ بینی فشل مالک ہونے کا فرق نواز شریف کو پڑ سکتا ہے؟ فرق تب پڑے گا جب مریم والد کے زیر کفالت ثابت ہوں گی، الزامات اس نوعیت کے تھے کہ تحقیقات کروانا پڑیں۔جسٹس اعجاز الاحسن ریمارکس دیئے کہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ سارا پاکستان جان چکا ہے جے آئی ٹی فائنڈنگ کے پابند نہیں، جے آئی ٹی رپورٹ پر عمل کیوں کریں؟ یہ آپ نے بتانا ہے، کیا نواز شریف نے کبھی تنخواہ وصول کی؟ ریکارڈ کے مطابق کچھ نہ کچھ تنخواہ ملتی رہی ریکارڈ سے واضح ہے کہ خلیج ٹائمز نے اپنی رپورٹس میں انکشاف یو اے ای قانون کے تحت اگر کوئی کمپنی پیمنٹ نہ کرے تو جرمانہ هو جاتا ھے۔ شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات عدالت میں جمع کرادیئے۔ اعتراض میں کہا گیا کہ جے آئی ٹی نے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے۔رپورٹ میں غیر جانبداری کا عنصر موجود نہیں جے آئی ٹی نے دیئے گئے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ اسحاق ڈار کی جانب سے بھی جے آئی ٹی پر اعتراضات جمع کروائے گئے۔ نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دو ججز نے بیس اپریل کے فیصلے میں وزیراعظم کو نااہل قرار دیا تین ججز نے مزید تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا۔ جے آئی ٹی اپنی حتمی رپورٹ جمع کراچکی ہے۔جے آئی ٹی نے رپورٹ عدالتی حکم پر جمع کرائی۔ انہوں نے کہا کہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ گلف اسٹیل 33ملین درہم میں فروخت ہوئی شہباز شریف نے خود کو معاملے سے ہی الگ کرلیا۔ ٹرسٹی ہونے کے لئے ضروری تھا مریم کے بیریئر سرٹیفکیٹ ہوتے جے آئی ٹی نے ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیا۔ بیریئر سرٹیفکیٹ منسوخی کے بعد کسی قسم کی ٹرسٹ ڈیڈ نہیں تھی۔ فرانزک ماہری نے ٹرسٹ ڈیڈ کی فونٹ پر بھی اعتراض کیا۔2006 میں ٹرسٹ ڈیڈ میں استعمال فونٹ بنا ہی نہیں تھا۔ لندن فلیٹ شروع دن سے ہی شریف خاندان کے پاس ہیں۔ جے آئی ٹی نے قطری فلیٹ ورک شیٹ کو بھی افسانہ قرار دیا نعیم بخاری نے کہا کہ جے آئی ٹی نے لندن فلیٹ کو مریم نواز کی ملکیت قرار دیا جے آئی ٹی نے وراثتی تقسیم میں لندن فلیٹ کا کوئی ذکر نہیں وزیراعظم نے قوم اور اسمبلی خطاب میں قطری سرمایہ کا ذکر نہیں کیا۔جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ شہباز شریف بطور گواہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ شہباز شریف کا بیان صرف تضاد کی نشاندہی کے لئے استعمال ہوسکتا ہے بیان کا جائزہ دفعہ فوجداری 161 کے تحت لیا جاسکتا ہے۔ بیس اپریل کے عدالتی فیصلے سے ہل میٹل کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ سعودی حکومت نے قانونی معاونت کے لئے لکھے خط کا جواب نہیں دیا۔ جے آئی ٹی نے قانونی فرم کی خدمات سے کچھ دستاویزات حاصل کیں۔ جے آئی ٹی نے قرار دیاتھا عزیزیہ ملز 63 نہیں 42ملین ریال میں فروخت ہوئی۔ ز شریف 2018ءکا الیکشن نہیں لڑ سکیں گے‘ یہ پورا زور لگا کر‘ یہ روز بدنامی کے کانٹے چن کرشاید پانچ سال پورے کر جائیں لیکن یہ طے ہے اگر کوئی معجزہ نہ ہوا‘ اگر پاک بھارت جنگ نہ چھڑی‘ اگر چین‘ امریکا نواز شریف کی مدد کےلئے آگے نہ بڑھے‘ اگر گلف میں لڑائی شروع نہ ہوئی اور اگر ملک کے دو تین اہم لوگوں کو ہارٹ اٹیک نہ ہوا تو میاں نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہیں بن سکیں گے‘اپوزیشن کا کہنا ھے کہ نواز شریف کے کیریئر کا 2017ءمیں ”دی اینڈ“ ہو جائے گا‘ یہ خواہ وزیراعظم ہاﺅس کی نحوست سے بچنے کےلئے پنجاب ہاﺅس ہی کیوں نہ شفٹ ہو جائیں یہ ”ڈس کوالی فکیشن“ سے نہیں بچ سکیں گے‘ یہ معاملے کو جتنا چاہیں کھینچ لیں مگر آخری فیصلہ بہرحال ان کے خلاف ہو گا۔ دوسرا آپشن ھے کہ ‘ میاں نواز شریف جمہوریت‘ سسٹم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں‘ اپنے زیرتکمیل منصوبے کانفرنس کے شرکاءکے سامنے رکھیں‘ سیاسی جماعتوں سے مہلت لیں‘ یہ منصوبے مکمل کریں‘ چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہ بننے کا اعلان کریں‘ اسمبلیاں توڑیں اور نئے الیکشنوں کا اعلان کر دیں‘دسمبر میں الیکشن ہو جائیں‘ پاکستان مسلم لیگ ن اکثریت حاصل کر لے تو کسی پڑھے لکھے اور تجربہ کار سیاستدان کو وزیراعظم منتخب کرا لیں اور یہ خود رائے ونڈ میں بیٹھ کر پارٹی چلائیں‘ یہ بھی بچ جائیں گے‘ فیملی بھی بچ جائے گی‘ پارٹی بھی بچ جائے گی‘ جمہوریت بھی بچ جائے گی اور ملک بھی بچ جائے گا‘ یہ آپشن پہلے آپشن سے ہزار گنا بہتر ہے‘