پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ سے سوال پوچھ لیا۔
اپنے ٹوئٹر پیغام میں عمران خان نے بائیڈن انتظامیہ سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حکومت گرانے کی سازش کرکے 22 کروڑ عوام کے اوپر ایک جمہوری طریقہ کار سے منتخب وزیراعظم کو ہٹاکر کٹھ پتلی وزیراعظم کی حکومت مسلط کی گئی۔عمران خان نے کہا کہ کیا آپ نے پاکستان میں امریکا مخالف جذبات کو کم کیا یا بڑھاوا دیا؟
سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک سازش کو پہلے لوگوں نے مانا نہیں لیکن بعد میں سب ثابت ہوگیا ہے۔
ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ امریکی دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا ہے پاکستان کے وزیراعظم کو آزاد خارجہ پالیسی کے باعث ہٹایا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ تجزیہ نگار کی ویڈیو میں کہا گیا ہے وزیراعظم کو اس لیے بدلا گیا کہ نیا وزیر اعظم امریکا کی ساری باتیں مانے گا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت تبدیلی کی امریکی سازش پر کوئی شبہ تھا تو اب دور ہونا چاہیے۔
عمران خان نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ میں اس معاملے کی کھلی عدالت میں سماعت ہونی چاہیے تحقیقات ہوں گی تو پتا چلے گا کن کن لوگوں نے اس ملک کے ساتھ غداری کی ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اصل میں ان لوگوں پر غداری کے کیسز بننے چاہئیں، قوم نے ملک کے اندر اور باہر حقیقی آزادی کا پیغام دینا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اس مافیا نےہمارے خلاف توہین مذہب کے کیسز بنائے، ان کو شرم آنی چاہیے، ثابت ہوگا یہ قوم کسی کی غلامی کرنے کے لیےتیار نہیں ہے۔




