پاک فوج کا دہشت گردوں کے خلاف کھلا اعلان جنگ …
………(اصغر علی مبارک) ……
پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے دہشت گردوں کے خلاف کھلے اور دوٹوک اعلانِ جنگ کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، ورنہ انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔
پاک فوج نے دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف ایک واضح اور حتمی “کھلا اعلانِ جنگ” کر رکھا ہے، جس کا واضح پیغام ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں دیا: “دہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، وہ ہتھیار ڈال دیں ورنہ ہم انہیں ختم کر دیں گے انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی کی مجموعی صورت حال پر بریفنگ دیتے ہوئے پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا ہےکہ گزشتہ پانچ برس کے دوران ملک بھر میں بڑے پیمانے پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 40 ہزار 348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے 31 ہزار آپریشن بلوچستان جبکہ 7 ہزار 177 آپریشن خیبرپختونخوا میں کیے گئے۔ رواں سال اب تک دہشت گردی کے 3 ہزار 145 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 2 ہزار 84 مصدقہ دہشت گرد ہلاک کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ اوسطاً 194 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور ہر روز اوسطاً 10 دہشت گرد مارے گئے۔ رواں سال دہشت گردی کے واقعات میں 819 افراد شہید ہوئے، جن میں 303 پاک فوج کے جوان، 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اور 322 شہری شامل ہیں مزید بتایا کہ سال 2026 کے دوران اب تک 28 خودکش حملے ہو چکے ہیں۔ بیشتر خودکش حملوں اور بم دھماکوں میں افغان باشندوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں جب کہ ٹانک اور کراچی میں پیش آنے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی افغان شہری ملوث پائے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ بعض عناصر جان بوجھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بلوچستان میں حالات قابو سے باہر ہیں، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔ 2023 میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہداء کی تعداد دہشت گردوں کی ہلاکتوں سے زیادہ رہی، لیکن اس کے بعد فورسز نے اپنی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہےکہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد یا تو قانون کے مطابق ہتھیار ڈال دیں یا پھر ریاست پوری قوت سے ان کا مقابلہ کرے گی۔پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کا مؤقف واضح ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لانے یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے تک یہ جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی, بلوچستان کے دشوار گزار علاقوں میں پاک فوج، ایف سی اور پولیس کا مشترکہ آپریشن جاری ہے تاکہ شرپسندوں کی کمین گاہوں کا صفایا کیا جا سکے۔ “۔ریاستِ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی کے قومی عزم کے تحت وژن “عزمِ استحکام” اور کثیر الجہتی آپریشنز کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ملک سے غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔
انسدادِ دہشت گردی مہم کے کلیدی حقائق (رواں سال کے تازہ ترین اعدادوشمار)پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی انتہائی جارحانہ کارروائیاں کی ہیں:
سیکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اب تک ملک بھر میں 40,348 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے ہیں۔
سب سے زیادہ 31,080 آپریشنز بلوچستان میں اور 7,177 آپریشنز خیبر پختونخوا میں کیے گئے۔
ان کارروائیوں کے دوران اب تک 2,084 دہشت گردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
اس دوران وطنِ عزیز کے دفاع میں سیکیورٹی فورسز کے تقریباً 500 اہلکار (جن میں 303 پاک فوج کے جوان اور 194 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں) جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔
پاک فوج نے مختلف محاذوں پر دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے مخصوص ناموں سے آپریشنز شروع کر رکھے ہیں:آپریشن غضب للحق پاک فوج اور فضائیہ کا وہ حالیہ اور بڑے پیمانے کا عسکری آپریشن ہے جو 26 فروری 2026ء کو ڈیورنڈ لائن (پاک افغان سرحد) اور افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف شروع کیا گیا۔پاکستان نے یہ قدم اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ پر ہونے والے خودکش حملے اور مسلسل سرحدی دراندازی کے بعد اپنے دفاع کے حق کے تحت اٹھایا “غضب للحق” کا مطلب “حق یا سچائی کی خاطر غصہ/ردِعمل” ہے۔ اس نام کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ یہ کوئی جذباتی کارروائی نہیں بلکہ ملکی بقا اور شہریوں کے دفاع کے لیے ایک جائز عسکری ردِعمل ہے۔آپریشن کے بنیادی اہداف اور محاذیہ مہم بنیادی طور پر سرحد پار موجود نیٹ ورکس فتنۃ الخوارج (سابقہ تحریک طالبان پاکستان – TTP)افغان طالبان , داعش خراسان (ISKP) اور جماعت الاحرار کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی پاک فضائیہ (PAF) اور زمینی افواج (گیارہویں اور بارہویں کور سمیت فرنٹیئر کور) نے افغانستان کے سرحدی صوبوں خوست، پکتیکا، ننگرہار (بشمول خوگانی بیس)، قندھار اور کابل میں دہشت گردوں کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ یہاں تک کہ بگرام ایئر بیس پر موجود ان اسلحہ ڈپوؤں کو بھی تباہ کیا گیا جہاں خوارج نے امریکی چھوڑا ہوا جدید اسلحہ چھپا رکھا تھا۔آپریشن کے نتائج اور جاری کردہ رپورٹس کے مطابق اس آپریشن کے دور رس نتائج حاصل ہوئے , افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے 70 سے زائد اہم ٹھکانوں اور عسکری مراکز کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔عسکری نقصانات: خوارج اور ان کے سہولت کاروں کی 252 چیک پوسٹیں، 44 چوکیاں، اور 229 سے زائد ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کیں۔ اس سخت عسکری دباؤ کے نتیجے میں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں 65 فیصد تک واضح کمی ریکارڈ کی گئی ریاستِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ یہ آپریشن تب تک جاری رہے گا جب تک کابل انتظامیہ اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی مادی اور تصدیق شدہ ضمانتیں فراہم نہیں کر دیتی۔ آپریشن شعبان پاک فوج، فرنٹیئر کور (FC) اور بلوچستان پولیس کی جانب سے صوبے میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے کے لیے شروع کیا گیا ایک بڑے پیمانے کا حالیہ مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ اور کائنیٹک عسکری آپریشن ہے۔ اس مہم کا آغاز 5 جولائی 2026ء کو بلوچستان کے علاقے زیارت میں مانگی ڈیم پولیس پوسٹ پر ہونے والے ہائی پروفائل دہشت گردانہ حملے کے فوری بعد کیا گیا، جس میں 27 پولیس اہلکار شہید ہوئے تھے۔ریاستِ پاکستان نے اس آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف زمین اور فضا (ہیلی کاپٹر گن شپس) دونوں محاذوں پر کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں۔سیکیورٹی حکام کے مطابق، آپریشن شعبان کو اسٹریٹجک لحاظ سے بلوچستان کے دو مختلف حصوں میں بیک وقت چلایا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے جا سکیں:شمالی بلوچستان (بشمول زیارت اور قریبی اضلاع): اس محاذ پر بنیادی ہدف “فتنۃ الخوارج” (ٹی ٹی پی) اور ان کی پناہ گاہیں ہیں، جو سرحد پار سے آکر بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔جنوبی بلوچستان (بشمول لسبیلہ، خضدار اور قریبی پہاڑی سلسلے): اس محاذ پر کارروائیوں کا محور بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور بیرونی سرپرستی میں چلنے والے دیگر علیحدگی پسند گروہ ہیں، جو سی پیک (CPEC) اور قومی شاہراہوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، رواں ماہ کے دوران اس مہم میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں:ہ اب تک صرف “آپریشن شعبان” کے تحت زمینی اور فضائی حملوں میں 91 سے زائد دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ اگر 5 جولائی سے اب تک کے دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کو بھی شامل کیا جائے، تو ہلاک ہونے والے مجموعی شرپسندوں کی تعداد 129 سے تجاوز کر چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی کئی کمین گاہوں کو تباہ کر کے وہاں سے بھاری مقدار میں جدید ترین امریکی اور یورپی اسلحہ، خودکش جیکٹس اور بارودی مواد قبضے میں لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیرِ صدارت کوئٹہ میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں یہ واضح کیا گیا کہ یہ آپریشن کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے مطابق، عسکری قوت کا یہ استعمال تب تک جاری رہے گا جب تک صوبے سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور ریاست کی رٹ مکمل طور پر بحال نہیں ہو جاتی۔ آپریشن رد الفتنہ ,جسے کاؤنٹر چیاؤس / Counter Chaos بھی کہا جاتا ہے پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملک میں افراتفری، انتشار اور غیر ملکی ایجنڈے پر کام کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف شروع کیا گیا ایک انتہائی اہم اور کثیر الجہتی انسدادِ دہشت گردی آپریشن ہے۔
یہ بنیادی طور پر وژن “عزمِ استحکام” کا ایک اسٹریٹجک حصہ ہے، جس کا فوکس دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے ڈیجیٹل، فکری اور نظریاتی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنانا ہے۔
یہ آپریشن روایتی عسکری کارروائیوں سے ہٹ کر “ہائبرڈ اور ففتھ جنریشن وارفیئر” کے توڑ کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔آپریشن کے بنیادی اہداف اور ترجیحات میں بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں کا خاتمہ ہے اس آپریشن کا بنیادی ہدف بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور دیگر شرپسند تنظیموں کے ان سلیپر سیلز کو مفلوج کرنا ہے جو صوبے میں انفراسٹرکچر، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور چینی باشندوں کو نشانہ بنا کر ملک میں معاشی عدم استحکام (Chaos) پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
پاک فوج کے مطابق، دہشت گرد صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی “ڈیجیٹل دہشت گردی” کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔
آپریشن رد الفتنہ کے تحت ان کے پروپیگنڈا سیلز، فنڈنگ کے ذرائع اور آن لائن بھرتی کے نظام کو بلاک کیا جا رہا ہے اس مہم کا ایک بڑا مقصد دہشت گردوں کے ان مقامی سہولت کاروں، ہمدردوں اور مالی معاونت فراہم کرنے والے نیٹ ورکس (Financiers) کو بے نقاب کرنا ہے جو شہروں میں چھپ کر دہشت گردوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرتے ہیں۔آپریشن کے تازہ ترین نتائج اور طریقہ کارسیکیورٹی فورسز اور وفاقی وزارتِ داخلہ کی رپورٹس کے مطابق اس آپریشن نے ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی سینکڑوں آپریشنز کے ذریعے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے شہری اور نیم شہری علاقوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا گیا ہے۔ خضدار، لسبیلہ اور نوشکی کے مضافات میں اس آپریشن کے تحت متعدد ایسے شرپسندوں کو گرفتار اور ہلاک کیا گیا جو بیرونِ ملک بیٹھے ماسٹر مائنڈز کے اشارے پر کام کر رہے تھے۔ افغان سرحد پر باڑ (Fencing) کی نگرانی سخت کر کے اور جدید ترین سرچ ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے اندر بھاری اسلحہ اور خودکش جیکٹس منتقل کرنے کی کئی بڑی کوششیں ناکام بنائی گئیں۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے بیانات کے مطابق، “رد الفتنہ” کا حتمی مقصد پاکستان میں کسی بھی قسم کے انتشار، فساد اور غیر قانونی مسلح جتھوں کو مکمل طور پر بے اثر کر کے ریاست کی رٹ اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا ہے۔ پاکستان کی موجودہ انسدادِ دہشت گردی پالیسی کے تین بنیادی ستون ہیں۔ ان تینوں محاذوں پر سیکیورٹی فورسز اور حکومتِ پاکستان مل کر کثیر الجہتی اقدامات کر رہی ہیں۔ وژن عزمِ استحکام (Vision Azm-e-Istehkam) صرف ایک روایتی فوجی آپریشن نہیں بلکہ پاکستان کا جامع اور کثیر الجہتی قومی عزمِ نو ہے، جسے نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے اصولوں کو نئے سرے سے فعال کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔اس کا بنیادی مقصد ملک سے ہر قسم کے انتہا پسندانہ نظریات، مسلح جتھوں، اور پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کرنے والے عناصر کا جڑ سے خاتمہ ہے اس میں فوجی طاقت کے استعمال (Kinetic) کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور معاشی اقدامات (Non-Kinetic) کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس وژن کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کڑی سزائیں دلوانے کے لیے عدالتی نظام اور انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کو مزید سخت اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ افغانستان کی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سفارتی کوششوں کو تیز کرنا اس کا اہم حصہ ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیموں BLA اور BLF اور سرحد پار سے آنے والے خوارج کے خلاف پاک فوج، ایف سی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ انٹیلی جنس پر مبنی ٹارگٹڈ آپریشنز کر رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر روایتی فوجی نقل و حرکت کے بجائے، جدید ترین ٹیکنالوجی اور انسانی انٹیلی جنس کی بنیاد پر صرف دہشت گردوں کی مخصوص پناہ گاہوں اور سلیپر سیلز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ مقامی آبادی متاثر نہ ہو۔ رواں سال بلوچستان میں ریکارڈ 31,080 سے زائد IBOs کیے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈرز، ہائی پروفائل دہشت گرد اور خودکش حملوں کے ماسٹر مائنڈز ہلاک یا گرفتار کیے گئے۔سی پیک اور چینی باشندوں کی حفاظت: گوادر، لسبیلہ اور خضدار جیسے اقتصادی زونز کے گرد سیکیورٹی کا دائرہ سخت کرتے ہوئے انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مزید فعال کیا گیا ہے تاکہ معاشی ترقی کے منصوبوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے مطابق، روایتی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ پاکستان کو “ڈیجیٹل دہشت گردی” اور ففتھ جنریشن وارفیئر (Hybrid Warfare) کا سامنا ہے، جس کا مقصد عوام اور اداروں میں خلیج پیدا کرنا ہے پاک فوج اور وفاقی اداروں FIA اور PTA نے مل کر سوشل میڈیا پر دہشت گرد تنظیموں فتنۃ الخوارج اور علیحدگی پسندوں کے پروپیگنڈا، گمراہ کن بیانیے اور آن لائن بھرتی کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا ہے دہشت گردوں کو ملنے والی آن لائن فنڈنگ اور غیر قانونی منتقلی اور انٹرنیٹ پر موجود ان کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا ہینڈلز کو بلاک کرنے کے لیے جدید ترین مانیٹرنگ ٹولز استعمال کیے جا رہے ہیں , نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دہشت گردوں کے ہتھکنڈوں اور جعلی خبروں (Fake News) سے بچانے کے لیے تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ فکری سطح پر اس فتنے کا مقابلہ کیا جا سکے۔ نیشنل ایکشن پلان (NAP) اور وژن “عزمِ استحکام” کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حال ہی میں پاکستان کی پارلیمنٹ اور صدرِ مملکت کی جانب سے اینٹی ٹیررازم ایکٹ (ATA) 1997 میں انتہائی اہم ترامیم کو قانونی شکل دی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے خلاف زیادہ قانونی اختیارات دینا ہے۔ان ترامیم کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے غیر معمولی اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) ایکٹ 2025-2026: صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت اینٹی ٹیررازم ایکٹ کی شق 11EEEE (Section 11EEEE) کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے۔ اب پولیس، پاک فوج اور سول آرمز فورسز (جیسے ایف سی اور رینجرز) کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کو جس پر دہشت گردی یا سنگین جرائم میں ملوث ہونے کا “مستند شبہ” ہو، بغیر ٹرائل کے 3 ماہ (90 دن) تک حراست میں رکھ سکتے ہیں حراست میں لیے گئے مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی، جس میں پولیس، ملٹری انٹیلی جنس (MI)، آئی ایس آئی (ISI) اور دیگر سول ایجنسیاں شامل ہوں گی۔






