سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں موجودہ مسائل کا حل ..
( اصغر علی مبارک)

اسلام صرف چند عبادات نماز، روزہ، حج تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک “مکمل ضابطہ حیات” (Complete Code of Life) ہے۔ یہ انسان کی پیدائش سے لے کر موت تک، اور انفرادی غار سے لے کر بین الاقوامی ایوانوں تک ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اسلام کے ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
1۔ انفرادی اور اخلاقی نظام شخصیت کی تعمیر:
اسلام سچائی، امانت داری، عاجزی اور پاکیزگی کو ہر مسلمان کی انفرادی زندگی کا حصہ بناتا ہے۔اسلام میں انفرادی اخلاق محض اچھے اوصاف نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد اور شرط ہیں۔ سچائی، امانت داری، عاجزی اور پاکیزگی وہ چار بنیادی ستون ہیں جن پر ایک سچے مسلمان کی شخصیت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
سچائی (الصدق)سچائی انسان کے قول و فعل میں یکسانیت کا نام ہے۔ اسلام نے سچ کو ہر نیکی کی جڑ اور نجات کا راستہ قرار دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: “ہمیشہ سچائی کو اختیار کرو کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔” سچا انسان معاشرے میں معتبر اور قابلِ اعتماد بن جاتا ہے۔
امانت داری (الامانۃ)امانت داری صرف کسی کا مال سنبھال کر رکھنا نہیں بلکہ اس میں رازوں کی حفاظت، فرائض کی دیانتدارانہ ادائیگی اور اپنے عہد کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔ اسلام میں امانت داری کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں، اور اس کا کوئی دین نہیں جو عہد کا پکا نہیں۔
عاجزی (التواضع)عاجزی اور انکساری تکبر کی ضد ہیں۔ اسلام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی طاقت، دولت اور علم سب اللہ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں، اس لیے اسے زمین پر اکڑ کر نہیں چلنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ عاجزی اختیار کرنے والوں کے درجات بلند کرتا ہے اور متکبرین کو ناپسند فرماتا ہے۔ عاجزی سے انسان کے دل میں دوسروں کے لیے احترام اور نرمی پیدا ہوتی ہے۔
پاکیزگی (الطہارۃ)اسلام میں پاکیزگی کا تصور بہت وسیع ہے، جس میں ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ باطنی طہارت بھی شامل ہے۔ “پاکیزگی نصف ایمان ہے” کے مصداق ایک مسلمان کا لباس اور جسم جتنا صاف ہونا چاہیے، اس کا دل، نیت اور خیالات بھی اتنے ہی پاک ہونے چاہئیں۔ باطنی پاکیزگی انسان کو حسد، بغض اور برے خیالات سے دور رکھتی ہے۔
جب یہ چاروں اوصاف کسی مسلمان کی انفرادی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں، تو وہ نہ صرف خود ایک پرسکون زندگی گزارتا ہے بلکہ اپنے اردگرد کے پورے معاشرے کے لیے بھی سراپا امن اور رحمت بن جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے کی خوبصورتی اور استحکام کا دارومدار حقوق و فرائض کے مثالی توازن پر ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ دوسروں کے حقوق کو اپنے فرائض کی صورت میں ادا کرنے کا پابند کرتا ہے۔ جب ہر فرد اپنے فرائض ایمانداری سے پورے کرتا ہے، تو معاشرے کے تمام طبقوں کے حقوق خود بخود محفوظ ہو جاتے ہیں۔
حقوق اللہ اور حقوق العباد کا توازن;..
اسلام نے انسانی زندگی کو دو بڑے دائروں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک اللہ کے حقوق (نماز، روزہ، حج وغیرہ) اور دوسرے بندوں کے حقوق (والدین، اولاد، ہمسائے، عام انسان)۔ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق (حقوق اللہ) تو اپنی رحمت سے معاف فرما سکتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق (حقوق العباد) تب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک وہ بندہ خود معاف نہ کرے۔ یہ اصول ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں سماجی ذمہ داریوں کی کتنی اہمیت ہے۔
رشتوں میں حقوق و فرائض کا توازن;..
اسلام نے ہر رشتے کو حقوق اور فرائض کے مابین ایک خوبصورت توازن میں پرو دیا ہے:والدین اور اولاد: والدین کا فرض ہے کہ وہ اولاد کی اچھی تربیت اور کفالت کریں، اور یہ اولاد کا حق ہے۔ دوسری طرف، جب والدین بوڑھے ہو جائیں تو ان کی خدمت اور فرمانبرداری اولاد کا فرض بن جاتی ہے، جو والدین کا حق ہے۔
میاں بیوی: قرآن پاک میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ “عورتوں کے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ان پر حقوق ہیں”۔ شوہر کا فرض بیوی کا نان نفقہ اور تحفظ ہے، جبکہ بیوی کا فرض گھر کی دیکھ بھال اور وفاداری ہے۔
حاکم اور رعایا: حکمران کا فرض عدل و انصاف کا قیام اور عوام کی فلاح و بہبود ہے، جبکہ عوام کا فرض ریاست کے قوانین کی پاسداری اور نظم و ضبط قائم رکھنا ہے۔
معاشی دائرے میں توازن;..معیشت میں اسلام کارخانہ دار (مالک) اور مزدور کے حقوق و فرائض میں توازن پیدا کرتا ہے۔ مالک کا فرض ہے کہ وہ مزدور کا پسینہ سوکھنے سے پہلے اس کی اجرت ادا کرے، اور مزدور کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو پوری دیانت داری اور امانت داری سے انجام دے۔ اس توازن سے معاشرے میں طبقاتی جنگ کا خاتمہ ہوتا ہے۔اسلام ایک عالمگیر اور رحیم دین ہے جو مسلم ریاست میں رہنے والے غیر مسلم شہریوں (اقلیتوں) کو مکمل تحفظ، آزادی اور مساوی حقوق فراہم کرتا ہے۔ اسلامی شریعت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ “جو حقوق مسلمانوں کے ہیں وہی غیر مسلم شہریوں کے ہیں، اور جو ذمہ داریاں مسلمانوں پر ہیں وہی ان پر ہیں”
رسول اللہ ﷺ، خلفائے راشدین اور تاریخِ اسلام کی روشنی میں غیر مسلموں کے چند اہم اور بنیادی حقوق درج ذیل ہیں:
۱۔ جان و مال اور عزت کا تحفظاسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کی جان، مال اور آبرو کی حفاظت کرنا حکومت اور مسلم معاشرے کا فرض ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے فرمایا: “خبردار! جس نے کسی غیر مسلم شہری (ذمی) پر ظلم کیا، یا اس کا حق مارا، یا اس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالا، یا اس کی مرضی کے بغیر اس کی کوئی چیز لی، تو قیامت کے دن میں اس غیر مسلم کی طرف سے (مسلمان کے خلاف) مقدمہ لڑوں گا” (ابو داؤد)۔
۲۔ مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کا تحفظ;..
قرآن پاک کا واضح اعلان ہے کہ “دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے” (البقرہ: 256)۔ غیر مسلموں کو اپنے عقیدے پر قائم رہنے، اپنی مذہبی رسومات ادا کرنے اور اپنی عبادت گاہوں (گرجا گھر، مندر وغیرہ) کو برقرار رکھنے کی مکمل آزادی ہے۔
اسلامی تاریخ میں جنگوں کے دوران بھی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے اور مذہبی رہنماؤں کو نقصان پہنچانے سے سخت منع کیا گیا ہے۔
۳۔ قانون کی نظر میں برابری اور عدل و انصافعدالت اور قانون کے سامنے مسلم اور غیر مسلم میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔ اگر کسی مسلمان اور غیر مسلم کا مقدمہ ہو، تو فیصلہ صرف اور صرف سچائی اور انصاف کی بنیاد پر ہوگا۔ حضرت علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں ان کا ایک یہودی کے ساتھ زرہ کا مقدمہ ہوا، اور قاضیِ وقت نے ثبوت نہ ہونے پر خلیفہ وقت کے بجائے یہودی کے حق میں فیصلہ سنایا، جس سے متاثر ہو کر وہ یہودی مسلمان ہو گیا۔
۴۔ معاشی و تجارتی حقوق اور سماجی تحفظ;..
غیر مسلم شہریوں کو کاروبار کرنے، جائداد خریدنے، بیچنے اور وراثت کے تمام حقوق حاصل ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی غیر مسلم شہری بوڑھا، معذور یا غریب ہو جائے تو اسلامی ریاست کے بیت المال (سرکاری خزانے) سے اس کا وظیفہ مقرر کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں ایک بوڑھے یہودی کو مانگتے ہوئے دیکھا تو نہ صرف اس کا جزیہ معاف کیا بلکہ بیت المال سے اس کا ماہانہ وظیفہ بھی مقرر فرمایا۔
۵۔ اچھے ہمسائیگی کے تعلقات اور حسنِ سلوک;..
قرآن کریم میں واضح ہدایت ہے کہ جو غیر مسلم مسلمانوں سے جنگ نہیں کرتے، ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کیا جائے (الممتحنہ: 8)۔ احادیث کے مطابق، پڑوسی خواہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، بیماری میں اس کی عیادت کرنا اور تحائف کا تبادلہ کرنا اسلامی اخلاقیات کا حصہ ہے۔
موجودہ دور کے بیشتر سماجی مسائل اسی وقت جنم لیتے ہیں جب انسان اپنے حقوق کے لیے تو آواز اٹھاتا ہے لیکن اپنے فرائض سے آنکھیں چرا لیتا ہے۔ اسلام سکھاتا ہے کہ اگر ہم امن اور سکون چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے حقوق مانگنے سے زیادہ اپنے فرائض کی ادائیگی پر توجہ دینی ہوگی۔ اسلام ایک ایسا متحرک دین ہے جو رہبانیت (دنیا چھوڑ دینے) کی نفی کرتا ہے اور انسان کو معاشرے کا ایک فعال اور کارآمد حصہ بننے کی ترغیب دیتا ہے۔
اسلام میں محنت، تجارت اور کاروبار محض دنیاوی سرگرمیاں نہیں ہیں، بلکہ اگر ان کا مقصد حلال رزق کمانا اور خاندان کی کفالت ہو، تو انہیں اعلیٰ درجے کی عبادت تسلیم کیا گیا ہے۔اس حوالے سے اسلامی تعلیمات کے بنیادی پہلو درج ذیل ہیں:
۱۔ محنت کی عظمت اور کسبِ حلال;..
اسلام ہاتھ سے کام کرنے اور محنت مزدوری کرنے والے کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا مشہور ارشادِ گرامی ہے: “الْكَاسِبُ حَبِيبُ اللَّهِ” یعنی “حلال کمانا والا اللہ کا دوست ہے”۔ ایک اور حدیث میں فرمایا گیا کہ “کسی انسان نے اس سے بہتر کھانا نہیں کھایا جو اس نے اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمایا ہو، اور اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے” (صحیح بخاری)۔ اسلام مانگنے اور دوسروں پر بوجھ بننے کی سخت مذمت کرتا ہے۔
۲۔ تجارت اور کاروبار کی فضیلت;..
اسلام نے تجارت کو معیشت کا ایک بنیادی ستون قرار دیا ہے اور اس کی بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے اعلانِ نبوت سے پہلے ایک طویل عرصے تک تجارت فرمائی اور اپنی دیانت داری کی وجہ سے “امین” کہلائے۔ اسلام ایسے تاجروں کو بہت بڑا مقام دیتا ہے جو کاروبار میں سچائی کو برقرار رکھتے ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: “سچا اور امانت دار تاجر (قیامت کے دن) انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا” (جامع ترمذی)۔
۳۔ رزقِ حلال کا عبادت ہونا;..
جب ایک مسلمان صبح اپنے گھر سے اس نیت کے ساتھ نکلتا ہے کہ وہ حلال طریقے سے روزی کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پالے گا، تو اس کا ہر قدم اور محنت کا ہر لمحہ عبادت میں شمار ہوتا ہے۔
اسلام یہ سکھاتا ہے کہ عبادات (جیسے نماز اور روزہ) کے ساتھ ساتھ حلال رزق کی تلاش بھی ایک فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “حلال روزی کی تلاش (دیگر) فرائض کے بعد ایک فرض ہے” (شعب الایمان)۔ یعنی ایمان اور ارکانِ اسلام کے بعد معاشرے میں حلال کمانا سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔
۴۔ معاشی دیانت داری کے اصول;..
اسلام جہاں تجارت اور کاروبار کی آزادی دیتا ہے، وہاں اسے اخلاقی ضابطوں کا پابند بھی کرتا ہے تاکہ معاشرہ ظلم اور استحصال سے پاک رہے:ناپ تول میں کمی کی ممانعت: قرآن پاک میں ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے سخت وعید آئی ہے۔
دھوکہ دہی اور ملاوٹ کا خاتمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: “جس نے ملاوٹ کی، وہ ہم میں سے نہیں”۔ذخیرہ اندوزی (احتکار) کی سزا: مصنوعات کو روک کر مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والے پر اسلام نے لعنت بھیجی ہے۔اسلام کا سیاسی اور قانونی نظام مکمل طور پر عدل و انصاف (Social and Legal Justice) کی بنیاد پر قائم ہے۔ دنیا کے مروجہ نظاموں کے برعکس، جہاں قانون طاقتور کا آلہ کار اور کمزور کے لیے زنجیر بن جاتا ہے، اسلام ایک ایسا بے لاگ نظامِ عدل پیش کرتا ہے جہاں حکمران اور عام شہری، امیر اور غریب سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔اس نظام کے دو بنیادی اور انقلابی ستون درج ذیل ہیں
۱۔ حکمرانوں کی اللہ کے سامنے جوابدہی;..
اسلامی سیاسی نظام میں حاکمیتِ اعلیٰ (Sovereignty) صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ حکمران، صدر یا خلیفہ ملک کا مالک نہیں ہوتا، بلکہ وہ اللہ کی زمین پر اس کے احکامات کو نافذ کرنے والا ایک “امین” (Trustee) ہوتا ہے۔
نگران اور جوابدہ: رسول اللہ ﷺ کا واضح ارشاد ہے: “تم میں سے ہر شخص نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں بازپرس ہوگی، پس لوگوں کا امیر (حکمران) بھی نگران ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا” (صحیح بخاری)۔خلیفہ اول کا اعلان: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بنتے ہی اپنے پہلے خطبے میں فرمایا تھا: “اگر میں سیدھے راستے پر چلوں تو میری مدد کرو، اور اگر میں بہک جاؤں تو مجھے سیدھا کر دو۔ تم میں جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی (طاقتور) ہے جب تک کہ میں اس کا حق اسے نہ دلا دوں، اور جو طاقتور ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے دوسرے کا حق نہ لے لوں”۔ یہ تصور حکمران کو مطلق العنان (Dictator) بننے سے روکتا ہے۔
۲۔ قانون کی نظر میں برابری (امیر اور غریب کا ایک درجہ)اسلامی قانون (شریعت) میں سفارش، خاندانی اثر و رسوخ یا دولت کی بنیاد پر کسی کو کوئی رعایت حاصل نہیں ہے۔
قانون سب کے لیے برابر ہے، خواہ وہ وقت کا خلیفہ ہو یا کوئی عام غلام۔
بنو مخزوم کی عورت کا واقعہ: عہدِ رسالت میں قبیلہ بنو مخزوم کی ایک معزز خاتون نے چوری کی۔ جب بعض صحابہ نے اس کی سزا معاف کرانے کے لیے سفارش کرنی چاہی، تو رسول اللہ ﷺ شدید غضبناک ہوئے اور تاریخی جملہ ارشاد فرمایا: “تم سے پہلے کی امتیں اس لیے تباہ ہو گئیں کہ جب ان میں کوئی بڑا (امیر) چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور (غریب) چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اللہ کی قسم! اگر محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا” (صحیح بخاری)۔
قاضی کے سامنے خلیفہ: تاریخِ اسلام ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں خلیفہ وقت (جیسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ یا حضرت علی علیہ السلام ) کو عام شہریوں کے ساتھ عدالت میں قاضی کے سامنے کھڑا ہونا پڑا اور قاضی نے کسی خوف یا رعایت کے بغیر خلیفہ کے خلاف اور عام شہری کے حق میں فیصلے دیے۔ اسلام کا سیاسی اور قانونی نظام معاشرے میں امن، استحکام اور حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ جب حکمران خود کو اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھتا ہے تو وہ ظلم نہیں کر سکتا، اور جب قانون امیر اور غریب میں فرق مٹا دیتا ہے تو معاشرے سے بغاوت اور مایوسی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اسلام کا سیاسی اور انتظامی نظام شخصی آمریت یا بادشاہت کے بجائے مشاورت پر قائم ہے، جسے “نظامِ شوریٰ” (System of Consultation) کہا جاتا ہے۔
اسلام یہ اصول وضع کرتا ہے کہ کوئی بھی حکمران یا رہنما اپنی مرضی معاشرے پر مسلط نہیں کر سکتا، بلکہ ریاست کے تمام اہم فیصلے اہل علم، خردمند اور مخلص لوگوں کے باہمی مشورے سے کیے جائیں گے۔
قرآنِ کریم، سنتِ نبوی اور تاریخِ اسلام کی روشنی میں نظامِ شوریٰ کے بنیادی پہلو درج ذیل ہیں:
۱۔ قرآنی احکامات اور تاکیدقرآنِ مجید میں مشورے کو مسلمانوں کی ایک لازمی صفت اور ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
سورہ الشوریٰ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اور ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں” (الشوریٰ: 38)۔ اس آیت میں مشورے کو نماز اور انفاقِ مال کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو، جو کہ وحی کے امین تھے، اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: “اور (اے نبی!) اہم معاملات میں ان سے مشورہ کیجئے” (آل عمران: 159)۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مشاورت اسلامی معاشرے کا ایک ناگزیر اصول ہے۔
۲۔ رسول اللہ ﷺ کا عملی نمونہ;..
نبی کریم ﷺ وحی کے ذریعے براہ راست اللہ کی رہنمائی میں تھے، اس کے باوجود آپ ﷺ ہر اس معاملے میں صحابہ کرام سے مشورہ فرماتے تھے جہاں وحی نازل نہیں ہوئی ہوتی تھی۔
غزوہ بدر کا واقعہ: بدر کے مقام پر آپ ﷺ نے جہاں پڑاؤ ڈالا، تو ایک صحابی حضرت حباب بن منذر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ “یارسول اللہ! کیا یہ پڑاؤ اللہ کے حکم سے ہے یا یہ جنگی حکمتِ عملی ہے؟” آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ میری رائے ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ جنگی نقطہ نظر سے پانی کے چشمے کے پاس پڑاؤ ہونا چاہیے۔ آپ ﷺ نے فوراً اپنی رائے ترک کر کے ان کے مشورے پر عمل فرمایا۔
غزوہ خندق کا واقعہ: مدینہ کے دفاع کے لیے خندق کھودنے کا مشورہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے دیا، جو عربوں کے لیے نیا تھا، لیکن آپ ﷺ نے اسے پسند فرمایا اور اس پر عمل کیا۔
۳۔ خلفائے راشدین کے دور میں شوریٰ کا نفاذ;..
خلفائے راشدین نے نظامِ شوریٰ کو ایک باقاعدہ ادارے کی شکل دی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں دو طرح کی شوریٰ قائم تھیں؛ ایک “شوریٰ خاص” (جس میں سینئر صحابہ شامل تھے) اور دوسری “شوریٰ عام” (جس میں انصار و مہاجرین کے تمام عام نمائندے شامل ہوتے تھے)۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا تاریخی جملہ ہے: “مشورے کے بغیر کوئی خلافت (یا اسلامی حکومت) نہیں ہے”۔ کسی بھی نئے قانون، ٹیکس یا جنگی حکمتِ عملی کا فیصلہ شوریٰ کے اجلاس میں بحث کے بعد ہی کیا جاتا تھا۔
۴۔ جدید جمہوریت اور نظامِ شوریٰ کا فرقاگرچہ بظاہر یہ نظام جدید پارلیمانی یا جمہوری نظام سے ملتا جلتا ہے، لیکن اسلامی نظامِ شوریٰ میں چند بنیادی فرق ہیں:
حاکمیتِ اعلیٰ: جدید جمہوریت میں اکثریت جو چاہے قانون بنا سکتی ہے، جبکہ نظامِ شوریٰ قرآن و سنت کے احکامات کے دائرے میں رہ کر ہی مشورہ دے سکتی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح احکامات کے خلاف کوئی شوریٰ فیصلہ نہیں کر سکتی۔ارکان کی اہلیت: شوریٰ کے ارکان (اہل الحل والعقد) کا انتخاب محض مقبولیت پر نہیں بلکہ ان کی دیانت، تقویٰ، علم اور مخلص ہونے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
اسلام کا نظامِ شوریٰ معاشرے کو ظلم، آمریت اور جذباتی فیصلوں سے بچاتا ہے۔ یہ عوام کی آواز کو اہمیت دیتا ہے اور حکومت کو ایک فردِ واحد کی جاگیر بنانے کے بجائے پوری امت کی مشترکہ امانت قرار دیتا ہے۔انسانیت اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ سائنسی و مادی ایجادات، صنعتی ترقی اور تکنیکی انقلاب نے انسان کو حیرت انگیز مادی آسائشیں تو فراہم کر دی ہیں، لیکن اس کے برعکس انسانی معاشرہ شدید اخلاقی، معاشی، نفسیاتی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا تضاد ہے کہ انسان نے چاند پر تو قدم رکھ دیا، لیکن زمین پر سکون سے جینے کا فن بھول گیا۔اس مادی ترقی اور اخلاقی تنزلی کے درمیان پیدا ہونے والے بحرانوں کی بنیادی وجوہات درج ذیل ہیں:
۱۔ مادی آسائشیں بمقابلہ باطنی سکونانسان نے اپنی سہولت کے لیے تیز ترین گاڑیاں، ائیر کنڈیشنر، اور اسمارٹ فونز جیسی ایجادات تو کر لیں، لیکن ان مادی چیزوں کو زندگی کا واحد مقصد بنا لیا۔ اس دوڑ نے انسان کے دل سے قناعت اور شکر گزاری کی کیفیت کو ختم کر دیا، جس کے نتیجے میں ہر طرف حرص، لالچ اور لامتناہی خواہشات کا راج ہے۔
۲۔ معاشی عدم توازن اور استحصال;..
صنعتی ترقی اور جدید سرمایہ دارانہ نظام نے دولت کی تقسیم کو انتہائی غیر منصفانہ بنا دیا ہے۔ امیر ترین افراد مادی عیاشیوں کی انتہا پر ہیں، جبکہ آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ بنیادی انسانی ضرورتوں (غذا، صحت اور تعلیم) کے لیے سسک رہا ہے۔ یہ معاشی خلیج معاشرے میں جرائم، نفرت اور بے چینی کو جنم دے رہی ہے۔
۳۔ تکنیکی انقلاب اور نفسیاتی تنہائی;..
سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک “عالمی گاؤں” (Global Village) تو بنا دیا، لیکن انسان کو اپنے ہی گھر میں اکیلا کر دیا۔ ورچوئل دنیا کی مصنوعی رونقوں نے حقیقی انسانی رشتوں، محبت، اور ہمدردی کے جذبات کو کمزور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مادی آسائشوں کے انبار کے باوجود آج کا انسان تاریخ میں سب سے زیادہ ڈپریشن، اینزائٹی (اضطراب) اور شدید نفسیاتی تنہائی کا شکار ہے۔۴۔ اخلاقی بحران اور اقدار کا خاتمہجب سائنسی اور مادی علوم کو اخلاقی اور روحانی اقدار سے الگ کر دیا جائے، تو معاشرہ بگاڑ کی طرف بڑھتا ہے۔ آج حقوق العباد کی پامالی، خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ، بزرگوں کی بے قدری، اور خود غرضی کا بڑھتا ہوا رجحان اسی اخلاقی بحران کا نتیجہ ہے، جہاں انسان صرف اپنے فائدے کا سوچتا ہے۔
انسان کی یہ مادی ترقی اس وقت تک ادھوری اور نقصان دہ رہے گی جب تک اسے اخلاقی اور روحانی قوانین کے تابع نہ کیا جائے۔ دنیا کو اس بحران سے نکالنے کے لیے ایک ایسے جامع نظامِ حیات کی ضرورت ہے جو مادی ترقی کے ساتھ ساتھ انسان کی باطنی اور اخلاقی اصلاح بھی کرے، اور یہ توازن صرف اور صرف اسلامی تعلیمات اور الٰہی ضابطہ حیات پر عمل کرنے سے ہی ممکن ہے۔
ان حالات میں انسانیت کو اس دلدل سے نکالنے کے لیے ایک ایسے جامع اور دائمی ضابطہ حیات کی ضرورت ہے جو نہ صرف روح کو سکون دے بلکہ عملی زندگی کے تمام مسائل کا پائیدار حل بھی پیش کرے۔
سید الانبیاء، خاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور آپ ﷺ کا لایا ہوا دین ہی وہ واحد روشنی ہے جو اندھیرے میں ڈوبے ہوئے موجودہ انسانی سماج کو صراطِ مستقیم دکھا سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:”لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” (سورۃ الاحزاب، آیت: 21)ترجمہ: “یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے”۔
خاندانی نظام کا بکھراؤ اور اس کا حل:
موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ خاندانی نظام کی تباہی ہے۔ مغرب کی اندھی تقلید، انفرادیت پسندی (Individualism) اور مادی سوچ نے مشترکہ خاندانی نظام کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔
طلاق کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے،
بزرگوں کو “اولڈ ایج ہومز” میں چھوڑا جا رہا ہے، اور والدین و اولاد کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔
سیرت النبی ﷺ کا حل:
نبی کریم ﷺ نے ایک مثالی خاندانی نظام کی بنیاد رکھی۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق کے بارے میں واضح حکم فرمایا:”وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا” (سورۃ الاسراء، آیت: 23)
ترجمہ: “اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ‘اف’ بھی نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور ان سے تعظیم کے ساتھ بات کرنا۔
“اہلِ خانہ کے ساتھ بہتر سلوک کی تاکید کرتے ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا:”خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي” (جامع الترمذی، حدیث: 3895)ترجمہ: “تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہو، اور میں تم سب سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہوں۔
“اگر آج ہم سیرتِ نبوی ﷺ کے مطابق میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، اولاد کی تربیت میں اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھیں، اور بزرگوں کو رحمت و برکت کا باعث سمجھیں، تو بکھرتے ہوئے خاندانوں کو دوبارہ محبت کا گہوارہ بنایا جا سکتا ہے۔
معاشی استحصال، سود اور طبقاتی ناہمواری:
دورِ حاضر کا معاشی نظام سرمایہ داری (Capitalism) پر مبنی ہے، جہاں دولت چند ہاتھوں میں مرتکز ہو کر رہ گئی ہے۔ سود کی لعنت نے غریب کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیا ہے،
ذخیرہ اندوزی، رشوت ستانی اور ملاوٹ نے عام آدمی کا جینا محال کر دیا ہے۔ غریب اور امیر کے درمیان خلیج وسیع تر ہوتی جا رہی ہے جو جرم اور معاشرتی بے چینی کو جنم دے رہی ہے۔
سیرت النبی ﷺ کا حل: رسول اللہ ﷺ نے مدینہ منورہ میں تشریف لاتے ہی ایک ایسا معاشی ماڈل قائم کیا جو عدل و انصاف پر مبنی تھا۔
اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کو سخت وعید سناتے ہوئے فرمایا:”الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ۗ وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعُ وَحَرَّمَ الرِّبَا” (سورۃ البقرۃ، آیت: 275)ترجمہ: “جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) کھڑے نہیں ہو سکیں گے مگر اسی شخص کی طرح جسے شیطان نے چھو کر مخبط الحواس بنا دیا ہو، یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا کہ تجارت بھی تو سود ہی کی مانند ہے، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام۔ سوشل میڈیا موجودہ دور کے تکنیکی انقلاب کی ایک ایسی ایجاد ہے جس نے جہاں انسانوں کو آپس میں جوڑا ہے، وہاں سنگین سماجی، نفسیاتی اور اخلاقی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہونے کے ناطے ان جدید مسائل کا انتہائی جامع اور عملی حل پیش کرتا ہے۔
سوشل میڈیا سے پیدا ہونے والے اہم مسائل اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کا حل درج ذیل ہے:
1۔ جھوٹی خبروں اور پروپیگنڈے کا پھیلنامسئلہ:
سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے افواہیں، جھوٹی خبریں اور کسی کی پگڑی اچھالنے کا رجحان انتہائی عام ہے۔ اس سے خاندانی جھگڑے، معاشرتی انتشار اور نفرت پھیلتی ہے۔
اسلامی حل: اسلام کسی بھی خبر کو آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تحقیق کا حکم دیتا ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے: “اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو نادانی میں نقصان پہنچا بیٹھو” (الحجرات: 6)۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے” (صحیح مسلم)۔
2۔ بے حیائی، فحاشی اور نظر کی بددیانتی مسئلہ: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز (جیسے ٹک ٹاک، انسٹاگرام وغیرہ) پر اخلاق باختہ مواد، بے حیائی اور نامحرموں کی تصاویر و ویڈیوز کا طوفان ہے، جو نوجوان نسل کے اخلاق کو تباہ کر رہا ہے۔
اسلامی حل: اسلام مرد اور عورت دونوں کو اپنی نظریں نیچی رکھنے اور حیا اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا: “(اے نبی!) مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں… اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں” (النور: 30-31)۔ اس اصول پر عمل کر کے سوشل میڈیا کے اخلاقی بگاڑ سے بچا جا سکتا ہے۔ 3۔ غیبت، چغلی اور دوسروں کی عیب جوئی مسئلہ: سوشل میڈیا پر دوسروں کی نجی زندگی کے عیب تلاش کرنا، ٹرولنگ (Trolling) کرنا، کسی کا مذاق اڑانا اور کمنٹس میں گالی گلوچ کرنا ایک فیشن بن چکا ہے۔
اسلامی حل: اسلام کسی کی جاسوسی اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے سے سختی سے منع کرتا ہے۔
قرآن مجید کا حکم ہے: “اور ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کیا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے” (الحجرات: 12)۔ ایک اور مقام پر فرمایا: “تباہی ہے ہر اس شخص کے لیے جو منہ پر عیب لگانے والا اور پیٹھ پیچھے برائی کرنے والا ہو” (الہمزہ: 1)۔
4۔ وقت کا زیاں اور فرائض سے غفلت مسئلہ:
سوشل میڈیا کی لت (Addiction) انسان کے قیمتی وقت کو برباد کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان اپنی پڑھائی، نوکری اور سب سے بڑھ کر نمازوں اور ذکرِ الٰہی سے غافل ہو جاتے ہیں۔
اسلامی حل: اسلام وقت کی قدر کرنے اور فضول کاموں سے دور رہنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن میں کامیاب مومنوں کی صفت یہ بتائی گئی ہے: “اور جو لغو (فضول) باتوں سے اعراض کرتے ہیں” (المومنون: 3)۔ قیامت کے دن وقت کے بارے میں بازپرس ہوگی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “انسان کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر فضول اور لایعنی چیز کو چھوڑ دے” (ترمذی)۔
5۔ نمائش، ریاکاری اور حسدمسئلہ:
لوگ سوشل میڈیا پر اپنی آسائشوں، کھانوں اور گھومنے پھرنے کی تصاویر شیئر کر کے نمائش (دکھاوا) کرتے ہیں۔ اسے دیکھ کر دوسرے لوگوں میں احساسِ محرومی، مایوسی اور حسد پیدا ہوتا ہے۔
اسلامی حل: اسلام سادگی اور عاجزی کی تعلیم دیتا ہے اور ریاکاری (دکھاوے) کو گناہ قرار دیتا ہے۔ حسد کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: “حسد سے بچو، کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاتی ہے” (ابو داؤد)۔ نعمتوں کا شکر تنہائی میں ادا کرنا چاہیے نہ کہ دوسروں کو مرعوب کرنے کے لیے۔
سوشل میڈیا بذاتِ خود برا نہیں ہے، بلکہ اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ اگر ہم سوشل میڈیا کو دین کی تبلیغ، علم کے پھیلاؤ، حلال کاروبار اور تعمیری کاموں کے لیے اسلامی حدود کے اندر رہ کر استعمال کریں، تو یہ زحمت کے بجائے رحمت بن سکتا ہے۔سوشل میڈیا اور مادی ترقی کے موجودہ دور میں انسانیت جس شدید اخلاقی، معاشی، نفسیاتی اور سماجی بحران سے گزر رہی ہے، اس کا واحد اور پائیدار حل اس بات میں پنہاں ہے کہ ہم اسلام کو محض چند عبادات کا مجموعہ سمجھنے کے بجائے اسے زندگی کے ہر شعبے میں ایک “مکمل ضابطہ حیات” کے طور پر نافذ کریں۔جب تک ہم سائنس، ٹیکنالوجی اور مادی ایجادات کو اسلامی اخلاقیات، عدل و انصاف، حقوق و فرائض کے توازن اور نظامِ شوریٰ کے تابع نہیں کریں گے، تب تک یہ آسائشیں انسانیت کے لیے حقیقی سکون کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ سوشل میڈیا ہو یا کاروبار، سیاست ہو یا خاندانی نظام، ہر جگہ سچائی، امانت داری، عاجزی، پاکیزگی اور اللہ کے سامنے جوابدہی کا تصور ہی معاشرے کو انتشار اور تباہی سے بچا سکتا ہے۔موجودہ سماجی مسائل کا خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنے حقوق کے مطالبے سے پہلے اپنے فرائض کو دیانت داری سے پورا کرنے کا عزم نہ کرے۔ دنیاوی ترقی کے ساتھ ساتھ باطنی اور روحانی اصلاح ہی وہ واحد راستہ ہے جو بھٹکی ہوئی انسانیت کو امن، سکون اور حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔