رحمت اللعالمین:کائنات کا سب سے بڑا پیغامِ امن و محبت …

( اصغر علی مبارک)حضور اکرم ﷺ کی رحمت کا ہر پہلو رہتی دنیا تک کے لیے کامل نمونہ اور انسانیت کی بقا کا ضامن ہے۔
اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:”وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ” (اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے)۔یہ آیتِ مبارکہ کسی ایک قوم، ملک، قبیلے یا زمانے کے لیے نہیں، بلکہ کائنات کی ہر اس شے کے لیے ہے جو وجود رکھتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ غیر مسلموں، غلاموں، عورتوں، بچوں، یہاں تک کہ چرند، پرند، جانوروں اور بے جان اشیاء کے لیے بھی ایک سائبان کی طرح تھی۔
لفظ “رحمت اللعالمین” کی آفاقیت اور گہرائی ;..
عرب دنیا میں لفظ “رحمت” کا مطلب صرف ہمدردی یا رحم دلی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا جامع لفظ ہے جس میں شفقت، بخشش، تحفظ، ترقی، اور کسی کو اس کے کمال تک پہنچانے کی تڑپ شامل ہے۔ جب اس کے ساتھ “العالمین” (تمام جہان) لگا دیا گیا، تو اس کا دائرہ کار لامحدود ہو گیا۔
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت ایک جامد صفت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک متحرک نظام تھا جس نے معاشرے کے پسماندہ ترین طبقات کو اٹھا کر وقت کا حکمران اور اخلاق کا پیکر بنا دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد سے کائنات کے سرد اور تاریک ماحول میں محبت، عدل اور مساوات کی گرمجوشی پیدا ہوئی۔
معاشرتی پسِ منظر:..
بعثت سے پہلے کا ظلمت کدہآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کی عظمت کو سمجھنے کے لیے اس ماحول کا درک ضروری ہے جس میں آپ نے آنکھ کھولی۔ چھٹی صدی عیسوی کا عرب دنیا کا سب سے پسماندہ خطہ تھا۔ وہاں کوئی قانون نہیں تھا، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون نافذ تھا۔
عورت کی حیثیت: …
عورت کو مالِ غنیمت یا وراثت کی اشیاء کی طرح سمجھا جاتا تھا۔ بیٹی کی پیدائش کو ننگ و عار سمجھ کر اسے زندہ مٹی میں دبا دیا جاتا تھا۔غلامی کا نظام:..
انسانوں کو منڈیوں میں جانوروں کی طرح بیچا جاتا تھا اور ان کے آقاؤں کو ان کی جان لینے کا بھی پورا حق حاصل تھا۔
طبقاتی تقسیم:…
قریش اور دیگر اشرافیہ کے لیے الگ قوانین تھے، جبکہ غریبوں اور مسکینوں کے لیے کڑی سزائیں تھیں۔اس شدید تاریکی میں جب رحمتِ محمدی کا ظہور ہوا، تو ظلم کے سارے برج الٹ گئے۔انسانیت کے لیے رحمت: ..
حقوقِ انسانی کا پہلا منشورموجودہ دور میں مغربی دنیا انسانی حقوق (Human Rights) کے چارٹرز پیش کرتی ہے، لیکن محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجتہ الوداع کے موقع پر انسانی حقوق کا وہ ابدی اور عالمگیر منشور پیش کیا جس کی نظیر دنیا کا کوئی فلسفہ پیش نہیں کر سکتا۔
نسلی اور لسانی تفاخر کا خاتمہ ;..
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح الفاظ میں فرمایا:”کسی عربی کو کسی عجمی پر، اور کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔”اس ایک جملے نے دنیا سے رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے سارے بت توڑ دیے۔ حبشہ کے کالے غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو “سیدنا” (ہمارے سردار) کا لقب ملا، جو اس بات کا عملی ثبوت تھا کہ اب معیارِ عزت برادری نہیں بلکہ کردار ہے۔
عورت کو عظمتِ رفتہ کی بحالی ;..
سیرتِ پاک کا سب سے سنہرا باب عورتوں پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احسانات ہیں۔ آپ نے بیٹی کو زحمت کے بجائے “رحمت اور جنت کا پروانہ” قرار دیا۔ ماں کے قدموں تلے جنت کی بشارت دی، اور بیوی کو “دنیا کا بہترین اثاثہ” اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کی تکمیل کی شرط قرار دیا۔
غلاموں اور پسے ہوئے طبقات کا تحفظ;..
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلاموں کے حقوق متعین کرتے ہوئے فرمایا کہ جو خود کھاؤ، وہی انہیں کھلاؤ، اور جو خود پہنو، وہی انہیں پہناؤ۔ آپ نے ان کی آزادی کو گناہوں کے کفارے کے طور پر پیش کر کے معاشرے سے اس لعنت کے بتدریج خاتمے کی بنیاد رکھی۔
دشمنوں کے لیے رحمت:..
عفو و درگزر کی معراجایک عام انسان اپنے دوستوں اور پیاروں کے لیے نرم دل ہو سکتا ہے، لیکن رحمت اللعالمین کی شان یہ ہے کہ آپ نے اپنے خون کے پیاسے دشمنوں کو بھی دعائیں دیں اور ان کے لیے ہدایت کی تمنا کی۔
سفرِ طائف کا واقعہ: …
مکے میں ظلم و ستم کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف تشریف لے گئے، تو وہاں کے اوباشوں نے آپ پر پتھراؤ کیا، یہاں تک کہ آپ کے نعلین مبارک خون سے بھر گئے۔ اس نازک موقع پر جب فرشتہ حاضر ہوا اور عرض کی کہ اگر آپ حکم دیں تو ان دونوں پہاڑوں کو ملا کر اس بستی کو پیس دوں، تو رحمتِ مجسم نے فرمایا: “نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ایک اللہ کی عبادت کریں گے۔
“فتحِ مکہ کا تاریخی دن:…
جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاتح بن کر مکے میں داخل ہوئے، تو سامنے وہ قریش کھڑے تھے جنہوں نے آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے تھے، آپ پر اوجھڑی ڈالی تھی، آپ کے صحابہ کو تپتی ریت پر لٹایا تھا، اور آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ اب سب گردنیں جھکائے اپنی سزا کے منتظر تھے۔
لیکن تاریخ نے دیکھا کہ کائنات کے سب سے بڑے فاتح نے اعلان فرمایا: “لاَ تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ” (آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو)۔ حتیٰ کہ آپ کے جانی دشمن ابوسفیان اور آپ کے چچا حضرت حمزہ کا کلیجہ چبانے والی ہندہ کو بھی معاف کر دیا گیا۔کائنات کے دیگر جانداروں کے لیے رحمت:..
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ کائنات کی ہر زندہ اور بے جان چیز پر اس کے اثرات تھے۔
آج سے چودہ سو سال پہلے، جب جانوروں کے حقوق کا کوئی تصور بھی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانوروں پر ظلم کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ بے زبان جانوروں کا تحفظ:..
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے، وہاں ایک اونٹ تھا جو آپ کو دیکھ کر بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ نے اس کے مالک کو بلایا اور فرمایا: “کیا تم ان بے زبان جانوروں کے معاملے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟ یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے زیادہ کام لیتے ہو۔
“درختوں اور ماحولیات کا تحفظ:
جنگ کے حالات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سخت حکم ہوتا تھا کہ کسی بوڑھے، بچے، عورت کو قتل نہ کیا جائے، اور نہ ہی کسی پھل دار درخت کو کاٹا جائے یا فصلوں کو جلایا جائے۔ یہ ماحولیاتی تحفظ کی وہ اعلیٰ مثال ہے جو جدید دنیا اب سیکھ رہی ہے۔
معاشی عدل اور فلاحی ریاست کا قیام;..
رحمت اللعالمین کا تصور اس وقت تک مکمل نہیں ہوتا جب تک ریاستِ مدینہ کے معاشی ماڈل کو نہ سمجھا جائے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سود کا خاتمہ کر کے، زکوۃ و مواخات کا نظام نافذ کر کے ایک ایسی فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی جہاں دولت چند ہاتھوں میں گردش کرنے کے بجائے معاشرے کے غریب ترین فرد تک پہنچتی تھی۔
آپ نے مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ سوکھنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم دے کر محنت کش طبقے کو معاشی تحفظ فراہم کیا۔
معاصر دنیا کے چیلنجز اور اسوۂ حسنہ کی ضرورت;..
آج کی دنیا، جو بظاہر سائنس اور ٹیکنالوجی کی معراج پر ہے، لیکن باطنی طور پر شدید انتشار، جنگ، نفرت، اور اخلاقی پستی کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے، معاشی عدم مساوات عروج پر ہے، اور انسانی جان کی قیمت سستی ہو چکی ہے۔ ایسے تاریک حالات میں سیرتِ طیبہ کی روشنی ہی وہ واحد شمع ہے جو انسانیت کو تباہی کے گڑھے سے نکال سکتی ہے۔اگر آج کا انسان عالمی امن چاہتا ہے، تو اسے مکے کے امین اور مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں اپنے دلوں سے نفرتیں مٹا کر، عفو و درگزر، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا، جو کہ سیرتِ پاک کا اصل جوہر ہے۔
“لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة لمن كان يرجو الله واليوم الأخر وذكر الله كثيرا” فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونہ (حیات) ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ (سے ملنے) کی اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے۔ (الاحزاب: 12)

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ اخلاق حسنہ و سیرت طیبہ کے اعتبار سے وہ منور آفتاب ہے، جس کی ہرجھلک میں حسن خلق نظر آتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پاک میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حلم حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جوش اور حضرت ایوب کا صبر پایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبلیغ اسلام کے لئے بستیوں اور بیابانوں میں اللہ کا پیغام پہنچایا، مخالفین کی سنگ زنی وسختیاں سہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح وطن چھوڑا اور ہجرت کی مگر پھر بھی دنیا انسانیت کو امن و محبت، رحمت اور سلامتی کا پیغام دیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرح اس دنیا میں حکمت کی طرح ڈالی غرض وہ تمام خوبیاں، اوصاف حمیدہ جو پہلے نبیوں میں پائی جاتی تھیں۔ وہ سب بدرجہ کمال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں موجود تھیں۔
درود و سلام کا نذرانہ اور ہمارا عہد;..
سیرتِ طیبہ کا مطالعہ صرف ایک تاریخی واقعہ پڑھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے اندر ایک تبدیلی لانے کا نام ہے۔ رحمت اللعالمین کی امت ہونے کے ناطے ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اخلاق، اپنے کردار، اور اپنے معاملات سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت کا عکس دنیا کے سامنے پیش کریں۔ جب ہم کسی مجبور کی مدد کریں گے، کسی یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں گے، کسی کے ساتھ عدل و انصاف کریں گے، تو گویا ہم اس رحمت کے پیغام کو عام کر رہے ہوں گے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ کے نمایاں موقع پر عالم انسانیت کو پیغام امن دیا اور اس امر کی پابندی پر زور دیاکہ اپنے عمل و کردار سے قیام امن کو ہر سطح پر ممکن بنائیں۔ معاشرے کو پرامن بنانے کے لیے فروغ و ابلاغ کا مجسم بن جائیں یہ ایک حقیقت ہے۔ آج کرہ ارضی کو امن وامان کا مرکز بنانے کے لئے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطاکردہ منشور سے زیادہ مؤثر اور جامع ضابطہ کہیں اور دستیاب نہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیرتِ طیبہ کو کماحقہ سمجھنے اور اپنی زندگیوں کو اس کے سانچے میں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے، اور کائنات کے اس عظیم ترین مصلح اور رحمت کے اسامہ پر کروڑوں درود و سلام ہوں جن کے دم قدم سے آج کائنات کا وجود منور ہے۔