فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انتہائی نتیجہ خیز دورۂ ایران, توقعات
( اصغر علی مبارک)
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انتہائی نتیجہ خیز دورۂ ایران محض ایک روایتی فوجی دورہ نہیں ، بلکہ یہ پاکستان کی آزادانہ، متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ و دفاعی پالیسی کا عکاس ہے۔
تہران کی قیادت کے ساتھ انتہائی صائب اور نتیجہ خیز مذاکرات اس بات کی نوید ہیں کہ پاک ایران تعلقات اب ایک نئے، مستحکم اور تزویراتی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔
سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق، ایرانی حکومت نے پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران کو انتہائی نتیجہ خیز اور سود مند قرار دے دیا ہے۔ایرانی صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورۂ انتہائی نتیجہ خیز رہا، جس کے دوران قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
ایرانی صدارتی دفتر کے عہدیدار سید مہدی طباطبائی کے مطابق دورۂ ایران کے دوران اہم اور قابلِ قدر سفارتی پیش رفت ہوئی ہے، جبکہ اس دورے کے نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورۂ ایران سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔
ایرانی صدارتی دفتر نے دورے کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم اسے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
اُدھر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ایرانی صدر مسعدو پزشکیان سے انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات کی۔محسن نقوی نے بتایا کہ ملاقات میں ایران امریکا تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، آئندہ کے لائحہ عمل اور اسلام آباد ایم او یو کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا، تاکہ تنازع کا جامع حل ممکن بنایا جا سکے۔ وزیر داخلہ کے مطابق ایرانی صدر نے اپنی حکومت کے مؤقف اور تحفظات کھل کر بیان کیے، جبکہ فریقین کے درمیان متعلقہ امور پر تعمیری تبادلۂ خیال ہوا۔ ملاقات میں اہم پیش رفت ہوئی اور اجلاس انتہائی مثبت ماحول میں اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں مزید پیش رفت اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے گی۔آنے والے دنوں میں اس دورے کے دور رس اثرات خطے کی سیاست اور معیشت پر واضح طور پر دکھائی دیں گے۔
پاکستان اور ایران کے مابین تعلقات محض جغرافیائی قربت کے مرہونِ منت نہیں بلکہ ان کی جڑیں مشترکہ تاریخ، عقیدے، تہذیب اور لازوال ثقافتی رشتوں میں پیوست ہیں۔ جغرافیائی سیاست کے ابھرتے ہوئے نئے رجحانات، مشرقِ وسطٰی میں بدلتی ہوئی صف بندیوں اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک کا ایک پیج پر ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ اس اہم موڑ پر پاکستانی عسکری قیادت کا حالیہ دورۂ ایران غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔خطے کی تزویراتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے، آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران دونوں برادر ممالک کے مابین عسکری، دفاعی، انٹیلیجنس اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں ایک کلیدی سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔ اس دورے کو بین الاقوامی سفارت کاری اور تزویراتی ماہرین کی جانب سے انتہائی “نتیجہ خیز” قرار دیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل محمد باقری، صدرِ ایران اور دیگر اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی محور درج ذیل اہم نکات پر مشتمل تھا:
سرحدی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی:
پاک ایران طویل سرحد کو “امن اور دوستی کی سرحد” برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی میکانزم کو مزید مضبوط بنانا۔
دونوں ممالک کی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے انٹیلی جنس شیئرنگ کو بڑھانا۔
علاقائی استحکام اور افغان صورتحال:
افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال، وہاں سے ابھرنے والے سیکیورٹی خطرات اور کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا۔
اقتصادی و تجارتی روابط: بارڈر مارکیٹس کا قیام، قانونی تجارت کو فروغ دینا اور سمگلنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ آپریشنل سٹرٹیجی مرتب کرنا۔
دفاعی اور عسکری تعاون کا نیا باب:
مشترکہ سیکیورٹی میکانزم ,اس دورے کی سب سے بڑی کامیابی دونوں ممالک کے مابین عسکری سطح پر اعتماد کی بحالی اور سیکیورٹی تعاون کا فروغ ہے۔ تہران میں ہونے والے مذاکرات میں اس بات پر مکمل اتفاق پایا گیا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کا مشترکہ دشمن ہے، جس کا مقابلہ مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔
انٹیلی جنس کوآرڈینیشن:
سرحد پار دہشت گرد عناصر، خاص طور پر بلوچستان اور سیستان و بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سرگرم شرپسندوں کے خلاف بروقت معلومات کے تبادلے کے نظام کو حتمی شکل دی گئی۔
مشترکہ ٹاسک فورس:
سرحدوں کی نگرانی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال اور مشترکہ بارڈر پٹرولنگ کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔پاک ایران گیس پائپ لائن اور اقتصادی توقعات;
تزویراتی اور دفاعی امور کے ساتھ ساتھ، اقتصادی محاذ پر بھی یہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پاک ایران گیس پائپ لائن (IP Project) جو طویل عرصے سے بین الاقوامی دباؤ اور تیکنیکی وجوہات کی بناء پر تعطل کا شکار تھی، اس کے حوالے سے عسکری قیادت کی سطح پر تعمیری گفتگو سامنے آئی ہے۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس منصوبے کا احیاء ناگزیر ہے۔
اس کے علاوہ، چابہار اور گوادر کی بندرگاہوں کے مابین مسابقت کے بجائے “سسٹر پورٹس” (Sister Ports) کے طور پر تعاون کو فروغ دینے کی بات چیت کی گئی، تاکہ سی پیک (CPEC) اور علاقائی رابطوں کے نیٹ ورک سے ایران بھی مستفید ہو سکے۔
مستقبل کی توقعات اور خطے پر اثرات;
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس دورۂ ایران سے دونوں ممالک کے سفارتی اور تزویراتی حلقوں میں مثبت توقعات وابستہ ہیں:
امن و امان کا قیام: سرحدوں پر کشیدگی کا خاتمہ ہوگا جس سے مقامی آبادی کو معاشی تحفظ ملے گا۔مشرقِ وسطٰی میں توازن:
چین کی ثالثی میں ہونے والے سعودی ایران معاہدے کے بعد، پاکستان اور ایران کے مضبوط تعلقات خطے میں مسلم امہ کے اتحاد اور توازنِ طاقت کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دہشت گرد عناصر کی حوصلہ شکنی: را (RAW) اور دیگر ملک دشمن ایجنسیوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے میں مدد ملے گی جو پاک ایران سرحد کو استعمال کر کے دونوں برادر ممالک میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ ایران محض ایک روایتی فوجی دورہ نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی آزادانہ، متوازن اور حقیقت پسندانہ خارجہ و دفاعی پالیسی کا عکاس ہے۔ تہران کی قیادت کے ساتھ انتہائی صائب اور نتیجہ خیز مذاکرات اس بات کی نوید ہیں کہ پاک ایران تعلقات اب ایک نئے، مستحکم اور تزویراتی دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس دورے کے دور رس اثرات خطے کی سیاست اور معیشت پر واضح طور پر دکھائی دیں گے۔ایرانی پارلیمنٹ کی نیوز ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی کے مطابق ایران کو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی انتظامات میں شمولیت کی دعوت بھی موصول ہوئی ہے، جس پر غور کیا جا رہا ہے۔پاکستانی سفارتی تجزیہ نگار اصغر علی مبارک کے مطابق، پاکستان اور ایران کے درمیان دفاعی و سلامتی تعاون کے ساتھ اقتصادی شراکت داری بھی اہم ہے۔ دونوں ممالک سرحدی بنیادی ڈھانچے، تجارت، منڈیوں تک رسائی اور توانائی کے روابط بڑھانے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ دوطرفہ تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف بھی زیرِ غور ہے۔پاکستان نے خطے میں امن و سلامتی کے فروغ اور ایران و امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں ایک بار پھر تیز کر دی ہیں۔اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر اعلیٰ سطح کے سرکاری وفد کے ہمراہ تہران پہنچے جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں,فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان ,ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقاتیں کیں,
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات میں علاقائی امن و استحکام کی صورتِ حال پر بات چیت ہوئی۔ قالیباف نے کہا کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، جس سے علاقائی استحکام متاثر ہوا اور واشنگٹن پر اعتماد مزید کمزور ہوا۔ ایران مفاہمتی یادداشت کی شقوں پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور امریکا سے بھی اپنے وعدوں پر عمل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علاقائی امن و استحکام کی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورے کے دوران میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات میں بھی علاقائی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی عہدیدار نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہے اور واشنگٹن کو اپنا طرزِ عمل تبدیل کرتے ہوئے معاہدے کے تحت اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور ایران کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے مشترکہ سرحد پر سیکیورٹی اور استحکام بہتر بنانے کے لیے اسلام آباد کی کوششیں جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ فیلڈ مارشل کا دورہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا تسلسل ہے۔ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ عرب خبر رساں ادارے ’العربیہ‘ کے مطابق پاکستانی آرمی چیف اس دورے کے دوران ایرانی حکام تک اہم امریکی پیغامات بھی پہنچائی تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تعطل کا شکار سفارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرائے جا سکیں۔ رائٹرز نے ان کے دورے کو علاقائی امن اور استحکام کے فروغ کی کوششوں کا حصہ قرار دیا دورے کا ایک اہم مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانے کی کوشش ہے۔ یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رواں سال چوتھا دورۂ ایران ہے۔ اس سے قبل وہ اپریل اور مئی میں سفارتی کوششوں کے سلسلے میں ایران گئے تھے، جبکہ جولائی میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچے تھے۔ رواں سال کے آغاز میں جب حالات زیادہ کشیدہ ہوئے تو پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا اور جون میں پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان ’اسلام آباد معاہدے‘ (ایم او یو) کی راہ ہموار ہوئی۔ اس معاہدے کے تحت پابندیوں میں نرمی اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق اہم مسائل پر بات چیت کے لیے ساٹھ دنوں کی مہلت طے کی گئی تھی۔ اس فریم ورک کے تحت سوئٹزرلینڈ میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات بھی ہوئے جن میں پاکستان اور قطر نے بطور ثالث حصہ لیا، تاہم طے شدہ وقت میں کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔ 17 اگست کو60 دن کی مدت کے ختم ہونے کے باوجود کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ تاہم ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد معاہدے میں کوئی لازمی 60 دن کی حتمی تاریخ شامل نہیں تھی اور اگر دونوں فریق کسی اتفاقِ رائے پر نہ پہنچ سکیں تو اس مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا موقف ہے کہ اسلام آباد فریم ورک اب بھی اہمیت کا حامل ہے اور جب بھی دونوں فریق دوبارہ بات چیت کے لیے تیار ہوں، یہ معاہدہ ایک بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے میں علاقائی سکیورٹی، دوطرفہ تعلقات اور خصوصاً آبنائے ہرمز کی صورتِ حال بھی اہم موضوعات میں شامل تھے۔ یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید سخت معاشی اقدامات کا عندیہ دے چکے ہیں، جبکہ تہران نے کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے نہ جھکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی قیادت آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو بھی اہم معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سمندری تجارت اور توانائی کی ترسیل پہلے ہی متاثر ہے۔ ماضی میں بھی اسلام آباد نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا، اور اب ایک بار پھر تعطل کو توڑنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔









