.سپریم کورٹ پاناما کیس ……..چوہدری نثار ،شریف خاندان ..وزیر اعظم کے مستقبل کا فیصلہ آج هو گا
…اصغر علی مبارک سے ،،،کالم ..ander ki baat (1)اندر کی بات ”
………..سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ پاناما کیس کا محفوظ فیصلہ آج جمعتہ المبارک کو سنائیگا ۔ پانچ رکنی بینچ پاناما کیس کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ صبح ساڑھے 11 بجے پاناما کیس کا فیصلہ سنائے گا۔گزشتہ روز کاز لسٹ جاری هونے پر حکمران جماعت کے رہنما رات بھر نہ سو سکے کیوں کہ وزیر اعظم نواز شریف کی نا اھلی امکانات روشن ھیں ، پاناما کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن کے حکم پر 20 اپریل کو شریف خاندان کی منی ٹریل کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے 60 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے 10 جولائی کو دس جلدوں پر مشتمل اپنی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کروائی جس میں کہا گیا کہ شریف خاندان کے موجود ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں کافی تضاد پاتا جاتا ہے ۔پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے 10 جولائی کو رپورٹ جمع کرانے کے بعد عدالت عظمیٰ کے 3 رکنی بینچ نے 17 جولائی سے جاری کیس کی 21 جولائی کو مسلسل پانچویں اور آخری سماعت کی اور فیصلہ محفوظ کرلیا سماعت کے دور ان وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث ،ْ وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اپنے دلائل مکمل کیے، اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے بھی دوسری مرتبہ اپنے دلائل مکمل کیے جبکہ تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے جواب الجواب دیا اور شیخ رشید نے جوابی دلائل دیئے۔مورخہ 21 جولائی کو عدالت عظمیٰ میں پاناما کیس کی سماعت مکمل ہوئی جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پانامہ کیس پر عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے پر وزیر داخلہ کے عہدے اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو نے کا ارادہ ظاہر کر چکے ھیں ۔ اس امر کا اعلان انہوں نے باضابطہ طور پر پنجاب ہائوس اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں کیا ۔اپنے استعفیٰ کے حوالے سے وہ آج کارروائی کو مزید آگے بڑھائیں گے، ان کے استعفے سے حکومت اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے نئی مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کر دیا ہے کہ پانامہ اسکینڈل میں وزیراعظم سے متعلق فیصلہ آنے کے بعد وزارت داخلہ اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے، ان حالات وہ مزید کام نہیں کر سکتے، کیوں کہ سیاست سےانکا دل اچاٹ ہو گیا ہے، وزارت اور قومی اسمبلی سے الگ ہو کر خاموش زندگی گزارنے کا فیصلہ پہلے ہی کر چکے تھے تاہم پارٹی رہنمائوں کے رابطوں انہوں نے ا علان میں تاخیر کیانکا ماننا ھے کہ پریس کانفرنس وبال جان بن گئی تھی ، اور وہ پارٹی کو مشکل وقت میں غلط پیغام نہیں دینا چاہتے تھے اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ پانامہ پر وزیراعظم کے حق میں فیصلہ آئے یا مخالفت میں، وزیرداخلہ کا عہدہ چھوڑ دوں گا اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے بھی مستعفی ہو جائوں گا۔چوہدری نثار علی خان کے اس باقاعدہ اعلان پر ان کے دو استعفے سامنے آ چکے ھیں ۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پاناما لیکس عملدرآمد کیس کا کوئی بھی فیصلہ آنے پر وزارت ، اسمبلی اور سیاست چھوڑنے کا فیصلہ
پہلے ہی کر لیا تھا اور چند دوستوں سے ملاقات کے بعد اسے تبدیل کردیا، انکا ایلن ھے کہ نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا وہ تب بھی وزیراعظم ہاؤس جائیں گے اور چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے، کیوں کہ انہوں نے ہمیشہ سول و ملٹری تعلقات میں توازن رکھنے کی کوشش کی ہے، انکا ماننا ھے کہ ملک شدید خطرات سے دوچار ھو چکا پاکستان کو گھیرا جارہا ہے، صرف چند لوگ ہی اس بارے میں جانتے ہیں جن میں وہ خود ب وزیراعظم اور دو فوج کے لوگ شامل ھییں‘ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ھے کہ ملک کو درپیش خطرات کا مقابلہ متحد ہوکر کرنا ہوگا، انہوں نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ کسی قسم کے انتشار کا موجب نہ بنیں، چوہدری نثار علی خان نے نواز شریف کو مشورہ دیا کہ میاں صاحب اگر آپ ہارے بھی تو قوم کو یکجا کریں، لوگ آپ کو غصہ دلائیں گے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے نے سیکڑوں پریس کانفرنس کی ہے لیکن یہ سب سے مشکل پریس کانفرنس تھی جو کے انکے لئے وبال جان بن گئی انکا ماننا تھا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے جو کہا تھا ان میں کچھ باتیں صحیح طریقے سے باہر گئیں جب کہ کچھ کا تاثر غلط دیا گیاتھا ، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ کسی سے نارض نہیں ہوے ۔ 35 سال سے مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت کے ساتھ کھڑےرھے ، نوازشریف اور (ن) لیگ کے ساتھ اپنی ساری زندگی داؤ پر لگائی لیکن کبھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ مجھے اس پارٹی سے پیار ہے، اس پارٹی کو نواز شریف نے اپنی محنت اور ثابت قدمی سے کھڑا کیا لیکن ان کے ساتھ اور بھی لوگ تھے اور ان میں سے ایک وہ بھی ہے، انہیں اس پر فخر ہے کہ وہ ان میں ایک ہیں جو اگلی صفوں میں کھڑے ہیں۔شیخ رشید کو مخاطب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ دوسری ٹرینیں انہیں مبارک، وہ کسی اور ٹرین کی سواری نہیں، خواہ وہ رکی یا چلی، جب سے سیاست کا آغاز کیا اس وقت سے ایک ہی ٹرین پر بیٹھے ہیں۔ ان کے خلاف ہر مقام پر پراپیگنڈا ہوا لیکن جس نے بھی کہا کہ نثار پارٹی نہیں چھوڑے گا اس سے بڑا ان کے لیے کوئی تمغہ نہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ 33 سال سے ہر میٹنگ میں موجود ہوتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران انہیں 3 میٹنگز کے لیے بلایا گیا لیکن اہم ترین مشاورتی اجلاس میں نہیں بلایا گیا اور وہ بن بلائے کہیں نہیں جاتے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تمام عمر نواز شریف کے سامنے سچ کہنے کی جسارت کی، ان کا کردار نواز شریف کے ساتھ یہی ہے کہ اکثر نواز شریف سے کہہ دیتے تھے کہ رومن شہنشاہ اپنے ارد گرد لوگوں کو کھڑے رکھتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ فوج سے قربت کے حوالے سے ان پر بہت الزام لگے، ان کا خاندانی پس منظر فوجی ہے اور انہیں اس پر فخر ہے، وہ سیاست دان ہیں اور انہوں نے سویلین اتھارٹی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔1991 میں آرمی چیف نے گلف وار پر بات کی تو وہ واحد سیاستدان تھے جس نے سخت جواب دیا اور وہ حکومت اور نوازشریف کے لیے بولے تھے، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ان کا سیاست سے دل اچاٹ ہوگیا ہے۔ پاناما کیس پر فیصلہ چاہے نواز شریف کے حق میں ہو یا خلاف، وہ قومی اسمبلی کی رکنیت اور وزارت چھوڑ دیں گے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ کہاں کہاں وضاحتیں دیتے رہیں، اب انہوں نے قیادت سے کہہ دیا ہے کہ یہ سب کچھ ان سے نہیں ہوتا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ عزت کے لیے سیاست کی ہے، وہ اپنے کردار کے حوالے سے بہت حساس ہیں، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ان کے خون میں سازش نہیں ہے، وہ کسی عہدے کے خواہشمند نہیں اور پاناما کیس کے فیصلے کے بعد سیاست ہی چھوڑ دیں گے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ نواز شریف اسے برا سمجھے یا نہ سمجھیں وہ صاف بات کررہے ہیں، قوم اور پارٹی نے انہیں جتنا کچھ دیا ہے کسی اور نہیں دیا۔انہیں صرف اپنا نہیں بلکہ ملک کا تحفظ کرنا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب اگرآپ ہارے بھی تو قوم کو یکجا کریں اور آپ اس میں کسی قسم کے انتشار کا موجب نہ بنیں، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انکا سب سے بڑا مقصد پارٹی کو قائم و دائم رکھنا ہے جب کہ اس وقت گہرے بادل پاکستان کے ارد گرد منڈلا رہے ہیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم کو یکجا ہونا پڑے گا۔ سیاسی پارٹیوں اور قوم سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو قبول کرنا ہوگا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ
نواز شریف فیصلہ آنے پر اپنے آس پاس موجود ساتھیوں کے مشورے پر عمل نہ کریں۔ ’کابینہ کے اجلاس میں بہت سی باتیں کیں، کابینہ میں کی گئی کچھ باتیں غلط رپورٹ ہوئیں، میں کسی سے ناراض نہیں ہوں، نواز شریف اور پارٹی کے لیے اپنی ذات ایک طرف رکھ کر خدمت کی، پارٹی اور قیادت پر مشکل وقت ہے، ایسے وقت میں پارٹی سے کیوں الگ ہوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’مخالفین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ چوہدری نثار پارٹی نہیں چھوڑ سکتا، تمام عمر پارٹی قیادت کے سامنے سچ کہا ہے، لیکن جب مشکل ترین وقت آیا تو پھر سازش چلی اور مجھے مشاورتی عمل سے بھی الگ کر دیا گیا، کچھ لوگ دیکھ رہے تھے کہ جگہ خالی ہو جائے تو ہمارا راستہ بن جائے، حکمران سے اصل وفاداری تو یہ ہے کہ انہیں حقیقت کے بارے میں بتایا جائے اور میاں صاحب نے بھی کہا کہ نہیں آپ اچھا کرتے ہیں، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا آپ نے دوسروں کی باتیں کیوں سنیں، آپ مجھے بلا کر پوچھ لیتے لیکن جب حالات نہیں سنبھلے تو ایک انتہائی فیصلہ کیا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ان کا کہنا تھا کہ 1985 میں جو لوگ پارٹی بنانے میں نواز شریف کے ساتھ تھے ان میں صرف میں بچا ہوں، باقی سب لوگ یا تو پارٹی چھوڑ گئے یا دنیا چھوڑ گئے۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ’دادا سے لے کر میری کئی نسلیں فوج میں خدمات انجام دے رہی ہیں جس پر فخر ہے، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ ایک سیاست دان ھیں اورانہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت صورتحال بہت گھمبیر ہے اور سیاست سے انکا دل اچاٹ ہو گیا ہے، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ وہ وزارت سے بھی استعفیٰ دیں گے اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی اور آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے ، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ ’وہ اب وضاحتیں دیتے دیتے تھک گے ھیں اور سازش انکے خمیر اور خون میں شامل نہیں ہے اور عہدوں پر رہنے کا بھی کوئی شوق نہیں، چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عزت کے لیے سیاست کی لیکن اب یہ عذاب بن گئی ہے، اس وقت پارٹی میں جو کچھ ہورہا ہے وہ مسلم لیگ (ن) کا کلچر نہیں ہے، چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس میں میاں نواز شریف کو وزیراعظم کہنے سے گریز کیا ، انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں 8بار میاں نواز شریف کا نام لیا اور ملاقات اور عدالتی فیصلے کے حوالے سے صرف 2بار وزیراعظم کے الفاط استعمال کئے ، پارٹی پسند نا پسند کی بنیاد پر فیصلوں کو برملا ہدف تنقید بنایا،میاں نواز شریف سے پارٹی کو منظم کرنے کی درخواست کی کئی بار نواز شریف کا نام لیا، وزیراعظم کہنے سے گریز کرتے رہے، عدالت عظمیٰ کے فیصلے اور ملاقات کے حوالے سے ضرور وزیراعظم کے الفاظ استعمال کئے، اکثر و بیشتر وزیراعظم کے الفاظ استعمال نہیں کئے ۔ ادھر نواز شریف کی نا اہلی کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے حصول کے لئے شہباز شریف نے چوہدری نثار علی خان سے مدد مانگ لی ھے وزیراعلیٰ نے چوہدری نثار علی خان کو سیاست چھوڑنے اور وزارت سے مستعفی نہ ہونے پر بھی راضی کر لیا ھے چوہدری نثار علی خان کو مستقبل قریب میں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی یقین دہانی اور مریم نواز شاہد خاقان عباسی یا خواجہ آصف اور احسن اقبال میں سے کسی ایک کو وزیر خارجہ بنانے کے لئے راضی کر لیا ھے ادھر وزارت عظمیٰ کے لئے مسلم لیگ (ن) میں دو دھڑے کھل کر سامنے آ گئے۔ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے چوہدری نثار علی خان سے سیاسی مددکی بھی اپیل کی ہے تاکہ خواجہ آصف چوہدری احسن اقبال یا شاہد خاقان عباسی کی بجائے انہیں وزیراعظم بنایا جائے ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے چوہدری نثار علی خان سے وعدہ کیا ہے اگر وہ وزیراعظم ہوئے تو وہ ان دو عہدوں میں سے ایک پر انہیں نامزد کریں گے۔ واضح رہے کہ شریف برادران نے جلا وطنی کے دوران بھی چوہدری نثار علی خان سے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں انہیں پنجاب کا وزیراعلیٰ بنایا جائے گا لیکن اقتدار ملنے کے بعد شریف برادران اس وعدے سے منحرف ہو گئے اور 2013ء کے الیکشن میں چوہدری نثار علی خان نے پارٹی پالیسی کیخلاف پنجاب اسمبلی کا الیکشن گائے کے انتخانی نشان پر لڑا اور نشست بھی چیت لی لیکن مسلم لیگ (ں) ایک بار پھر انہیں نظر انداز کر کے وزارت اعلیٰ شہباز شریف کے پاس ہی رکھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت عظمیٰ کے لئے میاں شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان اور حمزہ شہباز شریف لابنگ کر رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وزیراعظم میاں نواز شریف انکی صاحبزادی ، مشیر خاص عرفان صدیقی ، وزیر دفاع خواجہ آصف بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی بھی طرح وزارت عظمیٰ میاں شہباز شریف یا انکے نامزد کردہ کسی شخص کے پاس نہ جائے۔ آج سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ (ن) کسی فیصلے پر پہنچ پائے گی کہ نواز شریف اگر نا اہل ہو گئے تو متبادل وزیراعظم کون ہو گا ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کو وزیراعظم نہ بنائے جانے کی صورت میں چوہدری نثار علی خان شدید رد عمل کا اظہار کریں گے اور مسلم لیگ (ن) میں بڑے پیمانے پر ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے…