سپریم کورٹ سے نواز شریف وزیراعظم کے عہدے کیلئے نااہل قرار…
……..نئے وزیراعظم کے لئے چودھری نثار علی ،شہباز شریف .کلثوم نواز ،شاہد خاقان عباسی .ایاز صادق ڈور میں شاملاندر کی بات …کالم ..اصغر علی مبارک
سپریم کورٹ سے وزیراعظم نواز شریف عہدے کیلئے نااہل قراردینے کے بعد .نئے وزیراعظم کے لئےچودھری نثار علی .کلثوم نواز ،شاہد خاقان عباسی .ایاز صادق ڈور میں شامل ،جبکے چودھری نثار علی کو قائل کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی ھیں جس کے لیے ن لیگ کا مشاورتی اجلاس پنجاب ہاؤس میں ھفتہ چار بجے شام نواز شریف کی قیادت میں ہوگا تاھم امید کی جا رہی ھےنواز شریف فیملی سے امیدوار کے لئے.کلثوم نوازکا نام مولانا فضل رحمان نے تجویز کیا ھے میاں نوازشریف شہباز شریف یا چوہدری نثار علی میں کسی ایک کو وزیراعظم کو نامزد کر انے کے لیے کوشاں ھیں جسکی مشاورتی اجلاس میں توثیق کر دے گی ، نواز شریف نے ایلکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن سے قبل ہی وزیراعظم کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا نواز شریف کو بیٹے حسن نواز کی کمپنی کے ہیڈ کی حثیت سے الیکشن اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے کی بنا پر سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔کہا جا رہا ھے کہ یہ فیصلہ ن لیگ کے انتخابی معاملات کو آیندہ انتخابات میں مدد ملے گی کیونکہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، ابھی بھی نظرثانی کی درخواست دائر کی جاسکتی ہے، نواز شریف پر پہلے بھی عدالتوں کی جانب سے فردِ جرم عائد کی جاچکی ہے، پیپلز پارٹی رہنما بینظیر بھٹو اورآصف علی زرداری بھی اس کا سامنا کرچکے ہیں، ماضی میں پاکستان میں فردِ جرم اور نااہلیاں زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی ھیں ۔ سپریم کورٹ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کردی هے،نوں لیگ عام طور پر ایک شخص نواز شریف کے گرد ہی گھومتی نظر آتی ھےپاکستان مسلم لیگ (ن) کو اس نقطے سے آگے بڑھے اور اب ایک سیاسی ادارے کی طرح کام کرے۔ 1993 میں بھی نواز شریف کو نکالا گیا تو پوری نوں لیگ بکھر گئی تھی ۔ملکی تاریخ کے اس سب سے بڑے کیس کا حتمی فیصلہ عدالت عظمیٰ کے کمرہ نمبر 1 میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے سنایا۔فیصلہ سنانے سے قبل ججز نے چیمبر میں مشاورت کی۔عدالت عظمٰی کے 5 رکنی بینچ کے سربراہ سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ابتدا میں 20 اپریل کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل نے فیصلہ پڑھ کر سنایا، جس کے تحت پانچوں ججوں نے متفقہ طور پر وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ نواز شریف فوری طور پر وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دیں کیونکہ وہ صادق اور امین نہیں رہے۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو 6 ہفتے میں جے آئی ٹی رپورٹ پر نواز شریف کے خلاف ریفرنس داخل کرنے کی بھی ہدایت کی اور تمام مواد احتساب عدالت بھجوانے کا حکم دے دیا۔عدالتی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز، حسین نواز، صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا جائےگا ، چیف جسٹس آف پاکستان سے فیصلے پر عملدرآمد اور نگرانی کے لیے اُسی عدالت کے جج کو نامزد کرنے کی درخواست کی گئی تاکہ نیب اور احتساب عدالت کی کارروائی کی بھی نگرانی کی جاسکے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزیر خزانہ اسحٰق ڈار اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) صفدر کو بھی ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کردی۔وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے اثاثے، آمدنی سے زائد ہونے کی بناء پر انہیں ڈی سیٹ کرنے کی ہدایت کی گئی۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وضاحت کی کہ وزیراعظم ابھی بھی عہدے پر موجود ہیں اور اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہیں گے، جب تک صدرمملکت انہیں عہدہ چھوڑنے کے لیے نہ کہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت صدر کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرسکیں کہ موجودہ وزیراعظم کو عہدہ چھوڑنا ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں خاص طور پر اس بات کو واضح کیا ہے کہ ‘صدر جمہوری عمل کی ہموار منتقلی کو یقینی بنائیں’۔ فیصلے کے موقع پر جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد میں ہائی الرٹ رہا، سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے اور پولیس کے علاوہ رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے پاسز رکھنے والوں کو ہی داخلے کی اجازت دی گئی اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔پاناما لیکس کے معاملے نے ملکی سیاست میں اُس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں بیرون ملک ٹیکس کے حوالے سے کام کرنے والی پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقت ور اور سیاسی شخصیات کے ‘آف شور’ مالی معاملات عیاں ہو گئے تھے۔پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔ موجود ڈیٹا کے مطابق، پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین ’کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے‘۔موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل عام ہونے والی ان معلومات کو امریکی سفارتی مراسلوں سے بھی بڑا قرار دیا جا رہا ہے۔ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی تھی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا جو سنایا گیا۔25 دسمبر 1949 کو لاہور میں پیدا ہونے والے نواز شریف، محمد شریف اور ان کی اہلیہ کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، ان کے والد ایک دولت مند صنعتکار تھے جنہوں نے اتفاق اور شریف گروپ کی بنیاد رکھی۔شریف خاندان ایک پدر شاہی اور قدامت پسند خاندان ہے، انہوں نے 1930 کی دہائی میں صنعتکاری کا رخ کیا، اسٹیل کے کاروبار میں قدم رکھنے کے بعد شریف خاندان نے مستقبل کی طرف دیکھنا شروع کیا، اس وقت صنعتکاری میں ایک گروپ بٹالا تھا جبکہ دوسرے شریف خاندان، اِن کی کہانی مفلسی سے امارت کی جانب سفر کے جیسی ہے، 6 سے 7 بھائی جو جاتی امراء سے لاہور آئے اور سخت محنت سے عروج حاصل کیا’۔1947 تک شریف اپنا نام قائم کرچکے تھے، جہاں تک قدیم لاہور کی بات ہے، 1947 میں بھی شریف خاندان کی پہچان دولت مند، خاندان اور صنعتکاروں کے حوالے سے کی جاتی تھی’۔گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ حاصل کرنے سے قبل نواز شریف نے سینٹ اینتھنز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جس کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اپنی قانون کی ڈگری حاصل کی۔محلہ رام گلہ سے ‘تقسیمِ ہند کے کچھ عرصہ پہلے شریف خاندان ماڈل ٹاؤن منتقل ہوگیا، نواز شریف اپنے اسکول کے زمانے میں کرکٹ کھیلنا، فلمیں دیکھنا پسند کرتے تھے گورنمنٹ کالج لاہور میں نواز شریف خواجہ آصف کے دوست تھے نواز شریف بعد ازاں اپنے خاندان کے بااثر اتفاق گروپ کا حصہ بن گئے جو چینی، اسٹیل اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔نواز شریف نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز اس دور میں کیا جب شریف خاندان کے اسٹیل کے کاروبار سمیت کئی صنعتوں کو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قومیاے (نیشنلائز) کر لیا تھا۔1976 میں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی جو اُس وقت پنجاب میں کافی مقبول سیاسی جماعت تھی۔’جب بھٹو نے ان کی صنعت کو نیشنلائز کردیا تو شریف خاندان کا اس پر گہرا اثر پڑا اور انہوں نے سیاست میں اپنا مقام بنانے کا سوچنا شروع کردیا، انہوں نے جنرل ضیاء الحق کی حکمرانی میں بطور وزیر خزانہ پنجاب کابینہ کا حصہ بنے اور 1981 میں انہوں نے پنجاب مشاورتی بورڈ میں شمولیت اختیار کی’نواز شریف کے ایک دور کے ماموں، جن کا نام حسن تھا، نے سیاست میں نواز شریف کی رہنمائی کرنے اور انہیں مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ غلام جیلانی خان نے نواز شریف کو پنجاب حکومت کا وزیر خزانہ بنایا اور اپنے ایک خدمت گار، بریگیڈیئر قیوم کو ہدایت دی کہ وہ نواز شریف کو اپنی نگرانی میں رکھیں’۔جس کے بعد 1985 میں نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے جبکہ 1988 میں مارشل لاء کے اختتام پر وہ دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنے، اگست 1988 میں ضیاء الحق کی موت کے بعد پاکستان مسلم لیگ دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئی اور پاکستان مسلم لیگ کا چارج نواز شریف نے سنبھال لیا یہ جماعت بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کہلائی.۔کہا جاتا ھے کہ ‘نواز شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار تھے، 1984 میں انہیں اچانک ہی پنجاب کی صوبائی حکومت کا حصہ بنادیا گیا’۔’ضیاء کی فوجی حکومت کا بنیادی مقصد بینظیر بھٹو کے مقابلے کے لیے متبادل قیادت کو سہارا دینا تھا، نواز شریف کو بعد ازاں پاکستان کے سب سے طاقتور صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنادیا گیا، انہوں نے پنجاب کے کاروباری اور تجارتی طبقے کی نمائندگی کی اور پنجاب کی سول اسٹیبلشمنٹ، جس میں بیوروکریسی اور عدلیہ شامل تھی، کی مدد سے سیاسی عروج پر گئے’۔1990 کے دوران نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) کے سربراہ کی حیثیت سے عام انتخابات کی مہم چلائی،’نواز شریف 1991 میں فوج کے تشکیل کردہ دائیں بازو کے اتحاد، جس کا نام اسلامی جمہوری اتحاد تھا، کے سربراہ کی حیثیت سے پہلی بار وزیراعظم بنے، لیکن جلد ہی صدر غلام اسحٰق خان کے ساتھ ان کے اختلافات کا آغاز ہوگیا کیونکہ وہ تمام طاقت پر قبضہ چاہتے تھے، اختیار کی یہ جنگ ان کے زوال کا سبب بنی اور ایک کمزور بغاوت نے ہی صدر اور وزیراعظم دونوں کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا’۔نواز شریف ریاست کے دیگر ستونوں کے سامنے آنے کی وجہ سے دونوں بار اپنی مدت پوری نہ کرسکے، پہلی بار صدر اور دوسری مدت میں فوج کے سامنے، ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وہی فوج تھی جو ان کے سیاسی عروج کی ذمہ دار تھی’1991 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے خلاف نواز شریف کی کامیابی کی بڑی وجہ انہیں سول اور فوجی قیادت سے حاصل ہونے والی حمایت تھی’۔’آئی جے آئی کا قیام اور فنڈنگ آئی ایس آئی نے کی تھی، جس کی تصدیق اصغر خان کیس کی رولنگ کے دوران سپریم کورٹ نے کی۔ فوج اس بات کے لیے تیار نہیں تھی کہ ان کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد پی پی پی کو اقتدار میں واپس آنے کی اجازت دے’۔وزیراعظم نواز شریف کی پہلی مدت اُس وقت اچانک ختم ہوئی جب صدر غلام اسحٰق خان نے اپریل 1993 میں قومی اسمبلی کو تحلیل کردیا۔ایک ماہ بعد مئی 1993 میں نواز شریف اقتدار میں اس وقت واپس آئے جب سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا صدارتی حکم غیر آئینی قرار دیا۔1993 میں نئے انتخابات کروا کر نواز شریف، اقتدار پیپلزپارٹی کی بینظیر بھٹو کو کھو بیٹھے اور اپوزیشن کا کردار سنبھال لیا۔1993 کے انتخابات میں بینظیر بھٹو کی اقتدار میں واپسی فوج کی جانب سے نواز شریف کی حمایت کے خاتمے کا نتیجہ تھی، اس کی ایک اور وجہ آئی جے آئی کی علیحدگی تھی’۔دوسری بار پاکستان کے وزیراعظم کی حیثیت سے نواز شریف کے دور کا آغاز 1997 میں اس وقت ہوا جب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ دوسری مدت میں بھی انہوں نے عدلیہ کے ساتھ کشیدگی کا سلسلہ جاری رکھا جبکہ نومبر 1997 میں ایک سماعت کے دوران ان کے حامیوں کی بڑی تعداد نے عدالتی کارروائی کو متاثر کرنے کے لیے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا.اس افراتفری کے دور میں وزیراعظم نواز شریف نے صدر فاروق لغاری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو معزول کردیا گیا. یہ کھیل بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد بھی جاری رہا جس کی وجہ ان کا صدر اور چیف جسٹس کے مدمقابل آجانا تھا.نواز شریف فوج کی حمایت واپس حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، جس کا اثر 1997 کے انتخابات میں نظر آیا جب وہ تاریخی تین چوتھائی اکثریت سے کامیاب ہوئے، لیکن اس اتحاد کی مدت بہت کم تھی’.بعد ازاں 28 مئی 1998 میں پاکستان نے پہلا کامیاب جوہری تجربہ جبکہ 30 مئی کو دوسرا تجربہ کیا گیا.1999 میں نواز شریف کے فوج کے ساتھ تعلقات پھر خراب ہوگئے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انہیں طے شدہ حملوں سے آگاہ نہیں کیا گیا اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکیلے فیصلے کیے. 2ماہ بعد کارگل کے معاملے پر نواز شریف کی حکمت عملی پر آرمی، نیوی اور ایئرفورس تینوں کے ساتھ ان کے تعلقات شدید متاثر ہوئے.صورتحال اس وقت مزید ابتر ہوگئی جب اکتوبر 1999 میں وزیراعظم نواز شریف نے چیئرمین آف دا جوائنٹ چیفس اور چیف آف آرمی اسٹاف کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی. بغاوت کے ڈر سے وزیراعظم نواز شریف کے احکامات پر ایئرپورٹ بند کرکے جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی.تاہم جنرل پرویز مشرف کے نواب شاہ ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کے بعد انہوں نے اعلیٰ جرنیلز کو ملک سنبھالنے کا حکم دیتے ہوئے نواز شریف کو برطرف کردیا.بغاوت کے بعد ‘اغواء، اقدامِ قتل، ہائی جیکنگ، دہشت گردی اور کرپشن’ کے الزمات میں نواز شریف کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوا جہاں انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی.سعودی عرب کی مدد سے کیے گئے ایک معاہدے کے تحت نواز شریف اگلے 10 سال کے لیے ملک سے جلاوطن ہوگئے.کئی سال کی جلاوطنی کے بعد اگست 2007 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا کہ نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف پاکستان آنے کے لیے آزاد ہیں۔ اگلے ماہ نواز شریف جلاوطنی کاٹ کر اسلام آباد پہنچے مگر انہیں طیارے سے اترنے نہیں دیا گیا اور پھر کچھ دیر بعد جدہ ڈی پورٹ کردیا گیا، جس کے بعد وہ نومبر میں سیاست میں حصہ لینے کے لیے پاکستان آئے۔2008 سے 2013 کے درمیان نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت قائم کی۔اگست 2008 میں اتحادی حکومت نے مشرف کے احتساب کا فیصلہ کیا جس کی وجہ سے انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ اسی سال مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ججز کی بحالی سے پیپلز پارٹی کے انکار پر یہ اتحاد بکھرگیا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے نواز شریف اور شہباز شریف کو فروری 2009 میں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ نواز شریف کو اپنے گھر پر نظربند کرنے کی زرداری کی کوششوں کے بعد اگلے ماہ نواز شریف نے ‘لانگ مارچ’ شروع کیا تاکہ برطرف ججز کو بحال کروایا جا سکے۔اپریل 2010 میں اٹھارہویں ترمیم منظور کی گئی جس سے تیسری بار وزیرِ اعظم بننے پر عائد پابندی ختم کر دی گئی، یوں نواز شریف تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔مئی 2013 میں نواز شریف کو تیسری دفعہ وزیرِ اعظم منتخب کیا گیا، مگر انتخابات میں دھاندلی اور فراڈ کے الزامات لگے۔ شریف حکومت نے کراچی میں پاکستان رینجرز کے تحت آپریشن شروع کیا جس کا مقصد سب سے بڑے شہر سے جرائم اور دہشتگردی کا خاتمہ تھا۔2014 کے اواخر میں نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے 2013 کے انتخابات میں فراڈ کے الزامات پر شدید احتجاج کا سامنا کیا۔4 اپریل 2016 کو پاناما پیپرز لیک میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کو دو آف شور کمپنیوں کا بینیفیشل مالک قرار دیا گیا۔اکتوبر 2016 میں پاناما پیپرز کیس سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیرِ سماعت آیا تاکہ شریف خاندان پر منی لانڈرنگ اور ٹیکس بچانے کے حوالے سے تحقیقات کی جا سکیں۔ سپریم کورٹ نے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تشکیل کا حکم دیا، جس نے نواز شریف کو کیپیٹل ایف زیڈ ای نامی ایک دبئی میں قائم کمپنی کا چیئرمین پایا۔




