”دہشت گردی کے مشکل دور سے گزر کر اب ہم ترقی کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔”چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ

راولپنڈی ؛(خصوصی رپورٹ :اصغر علی مبارک سے )چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی وزیرستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا ”دہشت گردی کے مشکل دور سے گزر کر اب ہم ترقی کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔”پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف نے وانا میں ایگریکلچر پارک اور مکین میں مارکیٹ کا افتتاح کیا اور قبائلی عمائدین سے بھی خطاب کیا۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانا علاقے کی ترقی اور دیرپا امن کا ضامن ہوگا۔پاک فوج کی حمایت اور قیام امن کے لیے قبائلی عوام کی کوششوں کو سراہتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے مشکل دور سے گزر کر اب ہم ترقی کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔آرمی چیف نے کراچی میں پولیس مقابلے میں جاں بحق نقیب اللہ محسود کے والد سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ پاک فوج قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی۔،ادھر آجکل چند روز قبل پاکستان آرمی چیف کی صحافیوں سے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آنے والے ‘باجوہ ڈاکٹرائین’
پر خوب بحث جاری ھے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف گزشتہ دنوں کہا تھا کہ آرمی چیف سیدھی بات کرتے ہیں ان کے کام کی تعظیم کرنی چاہیے، شہبازشریف نے کہا کہ باجوہ ڈاکٹرائن کے بارے میں بہت کچھ لکھا جاچکا ہے، آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ پیشہ ور سپہ سالار ہیں، وہ جو کام کررہے ہیں اس کی تعظیم کرنی چاہیے۔ پاکستان آرمی چیف کی صحافیوں سے ہونے والی ملاقات کو صرف اور صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا بنیادی مقصد پاکستان کو امن کی طرف لے جانا ہے۔پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں چند روز قبل پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ ‘کئی صحافیوں نے درخواست کی تھی کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملنا چاہتے ہیں جس کے بعد اس ملاقات کا انتظام کیا گیا اور نہایت خوشگوار ماحول میں تین، ساڑھے تین گھنٹے وہ ملاقات جاری رہی جو کہ آف دا ریکارڈ تھی۔ لیکن اس ملاقات کے بعد جو کچھ بھی میڈیا پر آیا ہے اسے پوری ملاقات کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہیے۔’ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ ‘ڈاکٹرائین کا مقصد پاکستان کو ویسا بنانا ہے جیسا وہ 9/11 سے پہلے تھا یا جیسا وہ پہلی افغان جنگ سے قبل تھا۔ اس ڈاکٹرائین کو صرف سکیورٹی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔’ملک میں جاری حالات اور حال ہی میں آرمی چیف کی پنجاب کے وزیر اعلیٰ سے ہونے والی گفتگو کے تناظر میں کیے گئے ایک سوال کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ آرمی کا این آر او سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔’یہ معمول کی گفتگو کی تھی اور شہباز شریف نے آرمی چیف کو فون کر کے انھیں پاک افغان سرحد پر لگائے جانے والی باڑ کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی تھی۔’ اٹھارہویں ترمیم کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کے جواب میں جنرل آصف غفور نے کہا کہ فوج نے کبھی اس ترمیم کو برا نہیں کہا۔’1973 میں بنائے جانے والا آئین اگر مکمل ہوتا تو 18ویں ترمیم کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہمارے سیاستدانوں نے دیکھا کہ حالات کی بہتری کے لیے اس کو لانا ضروری ہے اور اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو ان کا حق ملا ہے جو کہ بہت اچھی بات ہے۔’سکیورٹی ایک وفاقی معاملہ ہے اور اگر صوبوں کو ‘وسائل اور ضروری میکانزم’ فراہم کیے جائیں تو وہ بھی سکیورٹی خدشات سے نمٹنے کے انتظامات کر سکتے ہیں لیکن ان میں ہم آہنگی کی ضرورت ہو گی۔”فاٹا کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے اور اس کا جلد از جلد مرکزی دھارے میں شامل ہونا ملک کے لیے بہتر ہوگا’اسی مقصد کیلئےگزشتہ روز چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی وزیرستان میں بڑے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا ”دہشت گردی کے مشکل دور سے گزر کر اب ہم ترقی کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔”کراچی میں محسود نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہونے والی پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے بارے میں کیے گئے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا کے علاقوں میں فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانے صاف کر دیے ہیں اور اس کے واضح ثبوت وہاں ہونے والی سماجی اور اقتصادی ترقی سے دیکھا جا سکتا ہے۔’پی ٹی ایم ایک دوسرے مقصد کے لیے شروع ہوئی تھی اور ان کے بنیادی مطالبات پورے کر دیے گئے۔ لیکن پھر اس کے بعد آپ نے دیکھا کہ انھیں اور جگہوں اور ملک کے باہر سے بھی حمایت حاصل ہونا شروع ہو گئی اور افغانستان سے بھی ان کی حمایت کی گئی۔’انھوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی کے مقصد کے لیے بنائی گئی چوکیاں ضروری ہیں اور حالات بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہیں۔’فاٹا کا مسئلہ حل ہونا ضروری ہے اور اس کا جلد از جلد مرکزی دھارے میں شامل ہونا ملک کے لیے بہتر ہوگا۔’۔آرمی چیف نے کراچی میں پولیس مقابلے میں جاں بحق نقیب اللہ محسود کے والد سے بھی ملاقات کی اور انہیں یقین دلایا کہ پاک فوج قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام اقدامات کی حمایت کرے گی۔،خیال رہے کہ نقیب اللہ محسود اور تین دیگر افراد کو رواں سال 13 جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے میں قتل کردیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہ لطیف ٹاؤن کے عثمان خاص خیلی گوٹھ میں مقابلے کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے ہیں، جن کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تھا۔ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کی جانب سے اس وقت الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے افراد دہشت گردی کے بڑے واقعات میں ملوث تھے اور ان کے لشکر جنگھوی اور عسکریت پسند گروپ داعش سے تعلقات تھے۔اس واقعے کے بعد نقیب اللہ کے ایک قریبی عزیز نے پولیس افسر کے اس متنازع بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ مقتول حقیقت میں ایک دکان کا مالک تھا اور اسے ماڈلنگ کا شوق تھا۔واقعے کے بعد راؤ انوار کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جبکہ وہ اور واقعے کہ ذمہ دار دیگر پولیس افسران اور اہلکار مفرور ہوگئے تھے۔19 جنوری کو چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے کراچی میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کے قتل کا ازخود نوٹس لے لیا۔23 جنوری کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کا از خود نوٹس کیس کے لیے مقرر کرتے ہوئے راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس سے 7 روز میں واقعے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔26 جنوری کو نقیب اللہ محسود سمیت 4 افراد کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی جس میں مقابلے کو یک طرفہ قرار دیا گیا تھا۔27 جنوری کو سپریم کورٹ نے معطل سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار کی گرفتاری کے لئے انسپکٹر جنرل (آئی جی ) سندھ اللہ ڈنو خواجہ کو 3 دن کی مہلت دی جس میں وہ ناکام رہے۔آخر کار 21 مارچ 2018 کو سابق سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر راؤ انوار سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور انہیں از خود نوٹس کی سماعت کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔سابق ایس ایس پی ملیر کو سپریم کورٹ کے عقبی دروازے سے عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ انہوں نے اپنے چہرے کو ماسک ڈھانپ رکھا تھا، راؤ انوار کی پیشی کے موقع پر سپریم کورٹ اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں اسلام آباد پولیس سمیت سندھ پولیس کی بھی بھاری نفری تعینات تھی۔