حکومت کی ترجیح۔ پائیدار معاشی خوشحالی
(اصغر علی مبارک)’ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔پاکستان اس وقت ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں معاشی استحکام اور پائیدار ترقی وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکی ہے۔ موجودہ حکومت نے ملکی معیشت کو پٹری پر لانے اور عوامی خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے “پائیدار معاشی خوشحالی” کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ اس عزم کا مقصد نہ صرف عارضی معاشی ریلیف فراہم کرنا ہے بلکہ طویل مدتی اصلاحات کے ذریعے ملک کو خود انحصاری کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا عزمحکومت کی نئی اقتصادی حکمتِ عملی کا ایک بڑا حصہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس سلسلے میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT)، توانائی اور معدنیات جیسے کلیدی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ زراعت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروا کر فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے فعال کیے جا رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی سیکٹر میں نوجوانوں کو بااختیار بنا کر فری لانسنگ اور سافٹ ویئر ایکسپورٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو سکے۔بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کی ترقی کے بڑے منصوبوں کا آغازمعاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے ملک بھر میں جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مواصلات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نئی شاہراہوں کی تعمیر، ریلوے کے نظام کی جدید کاری اور بندرگاہوں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سستے اور ماحول دوست ذرائع جیسے سولر اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کر کے ملکی برآمدات (Exports) کو مسابقتی بنایا جا سکے۔عوامی خوشحالی اور پائیدار ترقی کا ہدفپائیدار معاشی خوشحالی کا اصل ہدف عام آدمی کے معیارِ زندگی کو بلند کرنا ہے۔ حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی لانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور کاروبار کرنے میں آسانی (Ease of Doing Business) کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کر کے ملکی آمدنی میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ حاصل ہونے والا ریوینیو براہِ راست تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے منصوبوں پر خرچ ہو سکے۔ ان جامع اصلاحات کے ذریعے حکومت ایک ایسے مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں معاشی ترقی کے ثمرات بلا تفریق ہر شہری تک پہنچ سکیں۔وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت کی اگلی ترجیح اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے کیونکہ پاکستان معاشی استحکام سے پائیدار خوشحالی کی جانب بڑھ رہا ہے۔وزیر خزانہ نے اپنے یومِ آزادی کے پیغام میں کہا کہ معاشی استحکام جڑ پکڑ چکا ہے، اصلاحات محض ارادوں سے آگے بڑھ کر عملی شکل اختیار کرچکی ہیں جبکہ مالی اور بیرونی شعبوں کی بنیادیں مضبوط ہورہی ہیں اور معیشت و سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک اب ایک نئے دور میں داخل ہورہا ہے جس کا محور اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا، برآمدات میں اضافہ کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کے لیے مزید وسیع مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں، خواتین، کاروباری افراد، کسانوں، مزدوروں، فری لانسرز، انرویٹرز اور کاروباری اداروں کو ہنر اور مواقع کے ذریعے بااختیار بنانا پاکستان کی معاشی تبدیلی کا بنیادی محور رہے گا۔ حکومت کا مقصد معاشی استحکام کو ترقی، اصلاحات کو مواقع اور معاشی پیش رفت کو عوام کے لیے بہتر زندگی میں تبدیل کرنا ہے۔ ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے لیکن سمت واضح ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ پیش رفت کو مستقبل کی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے تسلسل، اجتماعی کوشش اور پاکستان کی صلاحیتوں پر اعتماد ضروری ہے۔ وزیرِ خزانہ نے ملک کے 79 ویں یومِ آزادی پر پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قوم کو چاہیے کہ اپنے بزرگوں کے وژن اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ایک مضبوط، زیادہ خوشحال اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے پاکستان کی تعمیر کے عزم کی تجدید کرے۔ کہا کہ تسلسل، اجتماعی کوشش اور پاکستان کی صلاحیتوں پر اعتماد کے ساتھ ہم مل کر آج کی پیش رفت کو کل کی خوشحالی میں تبدیل کرسکتے ہیں۔انہوں نے اپنے پیغام کا اختتام قومی یکجہتی کی اپیل کے ساتھ کیا اور پاکستان کی مسلسل ترقی اور خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔جبکہ گزشتہ سال کی منفی 1.1 فیصد نمو کے مقابلے میں صنعتی شعبے نے نمایاں بحالی دکھائی۔ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار و کاروباری مواقع کی فراہمی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے گی اور جعلی نوٹیفکیشنز، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، کرایوں اور مال برداری کے نرخوں میں بلاجواز اضافے کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے اور عالمی قیمتوں میں کمی کی صورت میں اس کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہوگئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی اصلاحات نے قومی خزانے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار و کاروباری مواقع کی فراہمی کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائے گی اور جعلی نوٹیفکیشنز، ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، کرایوں اور مال برداری کے نرخوں میں بلاجواز اضافے کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے اور عالمی قیمتوں میں کمی کی صورت میں اس کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہوگئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے مالیاتی اصلاحات نے قومی خزانے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 330 ترقیاتی ایجنڈا نکات زیر غور آئے، جن میں سے 192 کی منظوری دی گئی جبکہ 96 منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوائے گئے۔ جون 2026 میں ہونے والے تین اجلاسوں میں 72 ایجنڈا نکات پر غور کیا گیا، جن میں سے 49 تجاویز منظور اور 21 ایکنک کو ارسال کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ منظور ہونے والے ترقیاتی منصوبوں سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ منصوبوں کے معاشی و مالیاتی جائزے سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت بھی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے لیے اسمارٹ سٹی ماڈل، شہریوں کی شمولیت اور بہتر بلدیاتی نظام پر مبنی نیا ماڈل تجویز کیا گیا ہے تاکہ عوامی خدمات کی فراہمی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔تعلیم اور نوجوانوں کے حوالے سے احسن اقبال نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے جامعات کے نصاب اور ڈگری پروگرامز کا جامع جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مستقبل کی ضروریات کے مطابق نئے ڈگری پروگرام متعارف کرائے جائیں گے، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ یو ایس۔پاکستان نالج کوریڈور پروگرام کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو لیپ ٹاپ، ڈیجیٹل مہارتوں، سائبر سکیورٹی، سیٹلائٹ اور جینومکس سمیت جدید علوم سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ وہ عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کر سکیں۔احسن اقبال نے بتایا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت صنعتکاروں، برآمد کنندگان اور کثیرالقومی کمپنیوں کے ساتھ اصلاحاتی مشاورت کا آغاز کر دیا گیا ہے اور حکومت 2029 تک برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے قومی ہدف کے حصول کے لیے کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت، ٹرانسپورٹ، موسمیاتی مزاحمت، آبی وسائل، تحقیق، تکنیکی تعاون اور علم کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑی تھی، آج وہ بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ حکومت ایسے فیصلے کر رہی ہے جو طویل المدتی قومی مفاد میں ہیں اور جن کے ذریعے پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی، مضبوط معیشت اور خوشحال مستقبل کی جانب لے جایا جائے گا۔