تحریک آزادی کشمیر کیلئے آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت ناگزیر کیوں؟ ۔۔کالم نگار اصغرعلی مبارک (اندر کی بات ) آزاد کشمیر کے انتخابات اس بار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت ناگزیر بن چکی ہے جس سے آرپار بسنے والے کشمیریوں کی زندگیاں وابستہ ہیں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے صحیح معنوں میں دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بلند کرکے ثابت کردیا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا آزاد کشمیر میں حکومت بنانے اور الیکشن میں کامیابی کے لئےوزیراعظم عمران خان پرامید نظر آتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے تک کی انتخابی مہم کو خود سنبھال لیا ہے انتخابی مہم کے سلسلے میں میرپور آزاد کشمیر میں جلسہ عام 12 جولائی پی ٹی آئی کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کیالیکشن مہم کاآغازہے تحریک انصاف کی حکومت پہلی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے جس کا کریڈٹ وزیراعظم عمران خان کی طلسماتی شخصیت کو جاتا ہے وزیراعظم آج 12 جولائی کو میرپور، 18 جولائی کو باغ اور 23 جولائی کو مظفرآباد میں جلسوں سے خطاب کریں گے جبکہ انہیں اس ضمن میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد ۔وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور اور صدر تحریک انصاف آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور دیگر رہنماؤں کی کمک حاصل ہے۔جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان کو بریفنگ میں بتایا کہ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے 11 ویں عام انتخابات 25 جولائی کو ہوں گے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کے مطابق آزادکشمیر کے 33، مہاجرین جموں کشمیرکے 12 حلقوں میں انتخابات ہوں گے اور اس الیکشن میں گزشتہ انتخابات کی نسبت 4 انتخابی حلقوں کا اضافہ کیاگیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد کشمیر میں 28 لاکھ17 ہزار 90 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے جن میں سے مرد ووٹرز کی تعداد 15 لاکھ 19 ہزار 347 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 12 لاکھ 97 ہزار 747 ہے۔ جنہوں نے حقیقی انداز میں ترجمانی کرتے ثابت کردیا کہ کشمیریوں اور عمران خان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں .کشمیری عوام وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد رکھتےہیں کیونکہ عمران خان نے جس طرح مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اٹھایا اس کی پاکستان میں مثال نہیں ملتی۔ آزاد جموں و کشمیرمیں تحریک انصاف ہی حکومت بنائے گی۔.کشمیر کے عوام وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کے لیے عمران خان امید کی کرن اور نجات دہندہ کے طور سامنے آئے ہیں ۔عمران خان نے بھی کشمیریوں کو کبھی مایوس نہیں کیا جس انداز میں دنیا کے ہر فورم پر بے باک انداز میں عمران خان نے کشمیریوں کی ترجمانی کی اس کی نظیر نہیں ملتی جس بعد وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کشمیری عوام کو جس لیڈر کی تلاش تھی اب وہ عمران خان وزیراعظم پاکستان کی صورت میں ان مقدمہ لڑرہاہے عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھ میں جتنی بھی ہمت ہوئی تو میں ہر فورم پر کشمیر کے عوام کی آواز بلند کروں گا، اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز اور میڈیا پر آواز اٹھاؤں گا، جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو گا، اس وقت تک سب جگہ آپ کی آواز بلند کروں گا۔عمران خان کہنا ہے کہ میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں، آج صرف سارا پاکستان ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ نہیں کھڑا بلکہ مسلمان دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔عمران خان کہنا ہے کہ ہندوستان بے شک 9 لاکھ سے زیادہ فوج لے آئے لیکن کشمیر کی آبادی آپ کی غلامی قبول نہیں کرے گی، کشمیر میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے دل میں سب سے پہلے آزادی کا جذبہ جاگتا ہے۔آزاد جموں و کشمیر کے25 جولائی کوہو نےوالے انتخابات کے لئےآزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے 724 امیدوارو ن کی حتمی فہرست جاری کی ہے،آزاد کشمیر میں 32 لاکھ 20 ہزار 546 رائے دہندگان 25 جولائی کو پانچ سال کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ ان انتخابات میں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان کا نٹے کا مقابلہ ہو گا جبکہ مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے ان کے امیدوراروں کو دیگر جماعتوں کے امیدواروں پر برتری حاصل ہے۔ 25 جولائی کو 45 انتخابی حلقوں میں یہ امیدوار الیکشن لڑیں گے۔ فاروق حیدر، سردار یعقوب اور چوہدری یاسین دو دو حلقوں سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) عبد الرشید سلہریا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوران فوج اور رینجرز تعینات ہو گی، انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔الیکشن کمیشن نے 45 انتخابی حلقوں میں الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی حتمی فہرست بھی جاری کردی۔ آزاد کشمیر کے 33حلقوں سے 602 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کریں گے جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان کے 12 انتخابی حلقوں میں 122 امیدوار حصہ لیں گے۔ ن لیگ نے 45 میں سے 44 حلقوں میں امیدوار اتارے۔آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فاروق حیدرچکار اور لیپہ کے دو انتخابی حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔ پی ٹی آئی کے صدر بیرسٹر سلطان محمود میرپور جبکہ تنویر الیاس باغ سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔ پیپلز پارٹی کے صدر لطیف اکبر کھاوڑہ مظفرآباد سے انتخابات میں حصہ لیں گے.اپوزیشن لیڈر چوہدری محمد یاسین پی پی پی کے ٹکٹ پر کوٹلی میں دو حلقوں سے آئندہ پانچ سال کے لئے سیاسی قسمت آزمائی کریں گے۔ اسپیکر شاہ غلام قادر نیلم، سینئر وزیر طارق فاروق بھمبر جبکہ امیرجماعت اسلامی عبد الرشید ترابی باغ سے الیکشن لڑیں گے۔سابق صدر و وزیر اعظم سردار یعقوب خان راولاکوٹ کے دو حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔ آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیر اعظم سردار عتیق دھیر کوٹ سے الیکشن لڑیں گے۔ الیکشن کمیشن نے پاکستان پیپلزپارٹی (شہید بھٹو) آزاد جموں وکشمیر کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹرڈ کر کے اسے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دے دی، اس پارٹی کو”مکا“ انتخابی نشان جاری کر دیا گیا۔کشمیر کے عوام وزیر اعظم عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں۔ ان کے لیے عمران خان امید کی کرن اور نجات دہندہ کے طور سامنے آئے ہیں ۔عمران خان نے بھی کشمیریوں کو کبھی مایوس نہیں کیا جس انداز میں دنیا کے ہر فورم پر بے باک انداز میں عمران خان نے کشمیریوں کی ترجمانی کی اس کی نظیر نہیں ملتی جس بعد وثوق سے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ کشمیری عوام کو جس لیڈر کی تلاش تھی اب وہ عمران خان وزیراعظم پاکستان کی صورت میں ان مقدمہ لڑرہاہے عمران خان کا کہنا ہے کہمجھ میں جتنی بھی ہمت ہوئی تو میں ہر فورم پر کشمیر کے عوام کی آواز بلند کروں گا، اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز اور میڈیا پر آواز اٹھاؤں گا، جب تک کشمیر آزاد نہیں ہو گا، اس وقت تک سب جگہ آپ کی آواز بلند کروں گا۔عمران خان کہنا ہے کہ میں مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں، آج صرف سارا پاکستان ہی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ نہیں کھڑا بلکہ مسلمان دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔عمران خان کہنا ہے کہ ہندوستان بے شک 9 لاکھ سے زیادہ فوج لے آئے لیکن کشمیر کی آبادی آپ کی غلامی قبول نہیں کرے گی، کشمیر میں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے اس کے دل میں سب سے پہلے آزادی کا جذبہ جاگتا ہے۔کشمیری عوام وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر بھر پور اعتماد رکھتےہیں کیونکہ عمران خان نے جس طرح مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اٹھایا اس کی پاکستان میں مثال نہیں ملتی۔ آزاد جموں و کشمیرمیں تحریک انصاف ہی حکومت بنائے گی۔ وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہنا ہے کہ کشمیر میں الیکشن مہم کے دوران بلاول بھٹو اور مریم نواز بے ہودہ زبان استعمال کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مریم نوازنےغیرپارلیمانی زبان کا استعمال کیا۔ مریم نوازکو اپنے لہجے پرغور کرنا چاہیے۔اپوزیشن رہنما کشمیرمیں جاکرعمران خان پرنشانہ بازی کرتے ہیں۔شیخ رشید احمد نے کہنا ہے کہ اپوزیشن والے ابھی سے دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔ بلاول اورمریم کو شکست کا خوف ہے اس لیے دھاندلی کا شورکر رہے ہیں۔ 25جولائی کوعمران خان کشمیرمیں حکومت بنانے جا رہا ہے۔خیال رہے کہ آزاد کشمیر میں 25 جولائی کو 45 حلقوں میں الیکشن ہوگا جس میں 724 امیدوار حصہ لیں گے۔ن لیگ نے 45 میں سے 44 حلقوں میں امیدوار اتارے ہیں۔آزاد کشمیر میں 32 لاکھ 20 ہزار 546 رائے دہندگان 25 جولائی کو پانچ سال کے لئے اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ان انتخابات میں پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کی وجہ سے ان کے امیدوراروں کو دیگر جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ برتری ملنے کا امکان ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تحریک آزادی کشمیر کے لئے آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کی حکومت ناگزیر بن چکی ہے جس سے آرپار بسنے والے کشمیریوں کی زندگیاں وابستہ ہیں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے صحیح معنوں میں دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بلند کرکے ثابت کردیا کہ کشمیر کی آزادی کے بغیر جنوبی ایشیا میں امن کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا آزاد کشمیر میں حکومت بنانے اور الیکشن میں کامیابی کے لئےوزیراعظم عمران خان پرامید نظر آتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے تک کی انتخابی مہم کو خود سنبھال لیا ہے