اسلام آباد ہائی کورٹ کا دھرنا خاتمے کیلئے آپریشن کا حکم‘ قومی ٹی ٹوینٹی میچوں کو دیکھنے سے لاکھوں شائقین کرکٹ محروم ، میڈیا ،پلیئرز ،سیکورٹی ادروں کو شدید مشکلات،سینکڑوں یتیم طالب علم انجمن فیض اسلام سے دھرنے کے با عث پنڈی کرکٹ سٹڈیم نہ آسکے
اسلام آباد( رپورٹ ؛اصغر علی مبارک سے )راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر دس روز سے جاری دھرنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ نے انتظامیہ کو آپریشن کرنے کی اجازت دے دی ھے۔ راولپنڈی میں جاری قومی ٹی ٹوینٹی میچوں کو دیکھنے سے لاکھوں شائقین کرکٹ محروم ہونے کے ساتھ قومی و بین القوا می میڈیا ،پلیئرز ،سیکورٹی ادروں کو شدید مشکلات کا سامناھےپاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا انچارج شکیل خان سمیت دیگرآفیشل پیدل پنڈی کرکٹ سٹڈیم آے ،پاکستان کرکٹ بورڈ کے مشیر شکیل شیخ کی جانب سے قومی ٹی ٹوینٹی میچوں کو دیکھنے کے لیے سینکڑوں یتیم طالب علموں کو انجمن فیض اسلام کے مدرسہ سے ھر سال کی طرح اس بار بھی مد عو کیا گیا مگر دھرنے کے با عث محصور ھوکر رہ جانے یتیم طالب علم پنڈی کرکٹ سٹڈیم نہ آسکے ا،ایک
جماعت کو فیض آباد میں دھرنا دیے ہوئےدس روز ہو چکے ھیں جس کی وجہ سے روزانہ ہزاروں افراد کو سفر کرتے ہوئے شدید مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔ مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کرنل انعام کی جانب سے دھرنے کیخلاف درخواست کی سماعت کی ‘ اس موقع پر ڈی سی اسلام آباد اور ڈی آئی جی آپریشن عدالت عالیہ کے روبرو پیش ہوئے ‘ سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے مذہبی جماعتوں کا دھرنا کل دن دس بجے تک ختم کرانے کا حکم دیاھے ‘ عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے دھرنا ختم کرانے کی کوشش کی جائے اور بات چیت ناکام ہونے پر رینجرز اور ایف سی کے ذریعے دھرنے کے شرکاء کے خلاف آپریشن کیا جائے ‘حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ ناکام ہوگئی ہے اور اس نے دس روز کے دوران محض تماشائی کا کردار ادا کیا ھے اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیض آباد میں مذہبی جماعتوں کی جانب دھرناختم نہ کرنے پر اسلام آباد انتظامیہ کو دھرنے کے شرکاء سے مذاکرات کے ذریعے ناکامی پر آپریشن کے ذریعے دھرناختم کرنے کا حکم دیا ہے ‘ عدالتی حکم کے بعد مظاہرین کی گرفتاریاں شروع کردی گئی ہیں اور فیض آباد انٹر چینج کے قریب رینجرز نے خاردار تاریں لگانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا ھے‘ ڈی سی اسلام آباد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے میں دو ہزار کے قریب لوگ شامل ہیں اور نماز جمعہ کے بعد یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے ‘ مظاہرین نے پتھر جمع کررکھے ہیں اور ان کے پاس دس سے بارہ کے قریب ہتھیار بھی موجود ہیں ‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد اندھیرا جلد ہی پھیل جاتا ہے اور انتظامیہ کو آپریشن کے لئے تین سے چار گھنٹے کا وقت چاہئے ‘ اندھیرے میں آپریشن سے نقصان کا احتمال ہے ‘ ادھر سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی ہے اور جس میں فیض آباد دھرنے سمیت ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ‘ اس موقع پر سابق وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ دھرنے کے سبب جڑواں شہروں کے رہائشی شدید مشکلات کا شکار ہیں ‘ اہم مقامات پر لاقانونیت اور عوام کو تکلیف سے دوچار کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہونا چاہئے ‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جلد ازجلد اس مسئلے کا حل نکالے ۔سلام آباد ہائی کورٹ نےقبل ازیں وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد انٹر چینج پر مذہبی جماعتوں کو اپنا احتجاج ختم کرنے کا حکم دیا ہے تاہم مذہبی جماعتوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ۔عدالت کا کہناتھا کہ نیکی کے کام کو اگر غلط انداز سے کیا جائے تو یہ عمل بھی غلط ہی ہو گا۔جبکہ دوسری جانب فیض آباد پر دھرنا دینے والی جماعتوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود دھرنا ختم کرنے سے انکار کررکھا ھے ۔ دھرنا دینے والی جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا ہے کہ وہ مقدمات سے گھبرانے والے نہیں ہیں اور جب تک وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو ان کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا اس وقت تک دھرنا جاری رکھیں گے۔
اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے سیاسی اور دینی جماعت لبیک یا رسول اللہ کی طرف سے دائر کی جانے والی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں انتخابی اصلاحات میں رکن پارلیمان کے لیے حلف میں ختم نبوت کے بارے میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا جو کہ پاکستان میں غیر مسلم قرار دیے جانے والی احمدی برادری سے متعلق تھی ۔جس میں آئینی ترمیم کے مسودے میں احمدیوں کے بارے میں مبینہ طور پر کچھ تبدیلی کی گئی تھی تاہم بروقت نشاندہی ہونے پر اس کو ٹھیک کر کے مذکورہ اقلیتی برادری کے سٹیٹیس کو بحال رکھا گیا۔ حکومت اس معاملے کو کلیریکل غلطی قرار دیکر درستگی کر چکی ھے درخواست کی پہلی سماعت پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت سے متعلق کی گئی ترامیم کو معطل کر دیا تھا جبکہ اس غلطی کا جائزہ لینے کے لیے حکمراں جماعت کے سربراہ میاں نواز شریف کی طرف سے سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ بھی طلب کیگئی ۔ درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ چونکہ اب یہ معاملہ عدالت میں آ گیاھے اس لیے دھرنا و احتجاج ختم کریں۔عدالت نے اس درخواست پر پیش رفت کو احتجاج ختم کرنے سے مشروط کر دیاتھا ۔تاھم سماعت کے دوران درخواست گزار نے عدالت کو یقین دہانی نہیں کروائی کہ وہ اس بارے میں احتجاج کرنے والوں سے بات کریں گے۔احتجاج کرنے والوں کی وجہ سےایک بچہ بھی ہلاک ہوا‘
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ خادم حسین رضوی کی طرف سے پاکستان کے چیف جسٹس کے بارے میں جو نازیبا کلمات کہے گئے ہیں ان کو نہ صرف واپس لیا جائے بلکہ چیف جسٹس سے معافی بھی مانگی جائے۔احتجاج کی وجہ سے ہر روز ہزاروں شہریوں کو مشکلات کا سامناھے
لبیک یا رسول اللہ کو فیض آباد میں دھرنا دیے ہوئےدس روز ہو چکے ھیں جس کی وجہ سے روزانہ ہزاروں افراد کو سفر کرتے ہوئے شدید مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پہلے وزیر قانون زاہد حامد کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے اور اس کے بعد وہ دھرنا ختم کرنے کے بارے میں حکومت سے مذاکرات کریں گے۔حکومت نے اپنے تئیں اس فرقے سے تعلق رکھنے والے مذہبی پیشواوں سے کہا کہ وہ اس جماعت کے رہنما خادم حسین رضوی کو دھرنا ختم کرنے کے بارے میں دباؤ ڈالیں لیکن حکومت کی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو رہی ہیں۔اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اُنھیں ایسا کرنے کا حکم نہیں ملا اور عدالت عالیہ نے یہ حکم صرف احتجاج کرنے والوں کو دیا ہے۔ان حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا تو وہ دھرنا ختم کروانے کے لیے طاقت کے ساتھ ساتھ دیگر آپشن بھی استعمال کریں گے۔



