احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کیخلاف سماعت 15مارچ تک ملتوی کر دی
……..اسلام آباد(اصغر علی مبارک سے )
اس موقع پر سابق وزیراعظم محمد نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور ممبر قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے طبیعت کی ناسازی کی بناء پرسابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرکے انہیں حاضری لگا کر جانے کی اجازت دے دی اورکیپٹن (ر) محمد صفدر کو عدالت میں ہی رکنے کا حکم دیا۔
سماعت کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء نے اپنا بیان قلمبند کروایا اور جے آئی ٹی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کی استدعا کی۔ سماعت کے دوران مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے جرح کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے قانون کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دیا۔ تجزیہ کرنا جے آئی ٹی کا مینڈیٹ نہیں تھا اور جے آئی ٹی کے تجزیے کو عدالتی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔
امجد پرویز نے کہا کہ عدالت کو معلوم ہے کہ تفتیشی ایجنسی کے بیانات کی کیا حیثیت ہوتی ہے، یہ ریکارڈ واجد ضیاء پیش نہیں کرسکتے۔ مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے مزید کہا کہ واجد ضیاء نے اپنے بیان میں کہا کہ والیم 1 سے والیم 10 تک جے آئی ٹی کی رپورٹ ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے موجود ہیں کہ تحقیقاتی رپورٹ کو بطور ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا۔
احتساب عدالت نے واجد ضیاء کی استدعا مسترد کردی اور جے آئی ٹی کی مکمل رپورٹ عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے واجد ضیاء سے کہا کہ ‘آپ نے جو جو دستاویزات دیں وہ باری باری ریکارڈ کروائیں۔ عدالت نے مذید سماعت 15مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر بھی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان جاری رہے گا۔




