، وعدہ کرو ملک بدلنے کے لیے ساتھ دو گے۔‘’،بحالی نہیں ملک کے مستقبل کے لیے میدان عمل میں آیا ہوں” جہموریت دشمن قوتوں کو زخمی شیرکی للکار. ،،،،،

.کالم ،،اندر کی بات …راولپنڈی ..اصغر علی مبارک .
پی ایم ہاؤس ،کچھارنما غارسےباہرآنے کے بعد زخمی شیراور عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف انداز ہی بدل گیا سخت گرم موسم بھی انکو کارکنوں سے دور نہ رکھ سکا ان کا قافلہ جہلم پہنچ کرجی ٹی روڈ ریلی کا دوسرا پڑاؤ ڈال چکا ہےقافلے میں شامل کارکن بھی جہلم میں ساتھ ساتھ ھیں ،دوسرے روز انکی للکار سے جہموریت دشمن قوتوں واضع پیغام دیا کہ قوم اب تمام ڈکٹیٹروں سے حساب لے گی” میرے ساتھ وعدہ کرو کہ اس ملک کو بدلنے کے لیے نواز شریف کا ساتھ دو گے۔‘’یہ وزیر اعظم کی توہین نہیں، 20 کروڑ عوام کی توہین ہے، 70 برسوں سے ملک میں قوم کا استحصال ہوتا رہا ہے، مجھے اقتدار کی پرواہ نہیں، میں تو اپنے گھر جارہا ہوں، مجھے نوجوانوں کی فکر ہے کہ کہیں ان کا مستقبل تاریک نہ ہوجائے، نوجوانوں مایوس نہ ہونا خدا تمہارے ساتھ ہے، میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں، جبکہ پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے تو سب کچھ بدلنا ہوگا۔‘میں آپ کی نااہلی کا مقدمہ لے کر نکلا ہوں، آپ نے مجھے وزیراعظم بنایا تھا یا نہیں؟’’عوام نے مجھے اسلام آباد بھیجا، اسلام آباد والوں نے مجھے گھر بھیج دیا، مجھے اقتدار کا شوق نہیں لیکن میں عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، کچھ کرنا چاہا تو دھرنے والے آگئے،میری حکومت چلی گئی، 5 ججز نے کروڑوں عوام کے منتخب وزیر اعظم کو ایک منٹ میں فارغ کردیا، 5 ججز کے قلم کی جنبش سے عوام کے وزیر اعظم کو چلتا کردیا گیا، کروڑوں عوام کے ووٹوں کی توہین کی گئی، کرپشن کا ایک دھبہ نہیں، میرا دامن صاف ہے، ججز نے بھی تسلیم کیا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی پھر کیوں نکالا گیا، کیا اس لیے نکالا گیا کہ ملک ترقی کی منازل طے کر رہا تھا؟ کیا یہ سلوک آپ کو برداشت ہے۔‘جہلم میں خطاب کرتے ہوئے عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ ’2013 میں جب میں جہلم آیا تھا تو کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے، ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا اور بدحالی کا شکار تھا، بے روزگاری عروج پر تھی، میں نے وعدہ کیا تھا کہ پاکستان کو ترقی کی طرف لے کر جائیں گے اور آج وہ وعدہ پورا ہورہا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہم نے دن رات کام کر کے ملک کے حالات کو سنبھالا، آج لوڈشیڈنگ بڑی حد تک ختم ہوچکی ہے آئندہ سال مکمل طور پر ختم ہوجائے گی، ملک میں امن قائم ہوچکا ہے اور کراچی کی روشیاں واپس آچکی ہے، ہم نے بلوچستان میں امن کے لیے مخلوط حکومت بنائی اور کئی پارٹیوں کو قومی دھارے میں لائے، جبکہ آج ملک میں کراچی سے پشاور تک موٹرویز بن رہی ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’میری حکومت چلی گئی، 5 ججز نے کروڑوں عوام کے منتخب وزیر اعظم کو ایک منٹ میں فارغ کردیا، 5 ججز کے قلم کی جنبش سے عوام کے وزیر اعظم کو چلتا کردیا گیا، کروڑوں عوام کے ووٹوں کی توہین کی گئی، کرپشن کا ایک دھبہ نہیں، میرا دامن صاف ہے، ججز نے بھی تسلیم کیا کہ میں نے کوئی کرپشن نہیں کی پھر کیوں نکالا گیا، کیا اس لیے نکالا گیا کہ ملک ترقی کی منازل طے کر رہا تھا؟ کیا یہ سلوک آپ کو برداشت ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’عوام نے مجھے اسلام آباد بھیجا، اسلام آباد والوں نے مجھے گھر بھیج دیا، مجھے اقتدار کا شوق نہیں لیکن میں عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، کچھ کرنا چاہا تو دھرنے والے آگئے، مولوی صاحب بھی کینیڈا سے آگئے، مولوی صاحب ملکہ سے وفاداری کا حلف اٹھاتے ہیں اور بات پاکستان کی کرتے ہیں۔’جب کچھ نہ ملا تو مجھے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا، بھلا کوئی بیٹے سے تنخواہ لیتا ہے، 70 سال سے یہی ہو رہا ہے، ایک منتخب وزیر اعظم کو اوسط ڈیڑھ سال ملا جبکہ ڈکٹیٹروں نے 10، 10 سال حکومت کی، ڈکٹیٹر کہتا ہے کہ میری کمر میں درد ہوتا ہے، لیکن قوم اب تمام ڈکٹیٹروں سے حساب لے گی۔‘عوامی وزیر اعظم نے کہا کہ ’یہ وہی نواز شریف ہے جس نے ایٹمی دھماکے کے بٹن پر اپنا انگوٹھا رکھا تھا، میں اپنی بحالی کے لیے نہیں ملک کے مستقبل کے لیے میدان عمل میں آیا ہوں، نواز شریف کو کوئی لالچ نہیں، فکر ہے تو آپ کی، میرے ساتھ وعدہ کرو کہ اس ملک کو بدلنے کے لیے نواز شریف کا ساتھ دو گے۔‘ سوہاوہ میں مختصر خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ‘میں آپ کی نااہلی کا مقدمہ لے کر نکلا ہوں، آپ نے مجھے وزیراعظم بنایا تھا یا نہیں؟’انکا کہنا تھا کہ ‘مجھ پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے’، ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا، ‘معزز ججوں نے مجھے گھر بھیج دیا کیا آپ کو یہ فیصلہ منظور ہے؟انکا کہنا تھا کہ ‘عوامی مینڈیٹ کی توہین نہیں ہونے دیں گے، یقین ہے سوہاوہ کے عوام میرا ساتھ دیں گے’۔دوپہر 2 بجے کے قریب پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ، رہنماؤں اور کارکنوں پر مشتمل یہ ریلی ایوب پارک پہنچی تھی۔تاہم پولیس کے حصار میں موجود نواز شریف کی گاڑی تیزی سے سفر کرتے ہوئے قافلے سے علیحدہ ہوگئی اور ایک کیمپ کے علاوہ کئی چھوٹے بڑے اسٹاپس کو چھوڑ کر آگے نکل گئی۔خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایسا سیکیورٹی خدشات یا کیمپس پر موجود کارکنان کی مختصر تعداد کی وجہ سے کیا گیا۔راولپنڈی کے پنجاب ہاؤس سے روانگی صبح 12 بجے راولپنڈی کے پنجاب ہاؤس سے روانہ ہونے سے قبل نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ نواز حکام کے ساتھ مشاورتی اجلاس کیا جس میں وزیر داخلہ احسن اقبال اور ماروی میمن بھی شریک تھے۔ذرائع کے مطابق ریلی میں توقع سے کم کارکن لانے پر نواز شریف نے راولپنڈی کی مقامی قیادت پر ناراضگی کا اظہار کیا جبکہ مشاورتی اجلاس میں نوازشریف کے اگلے خطاب کے مقام پر بھی غور کیا گیا۔ریلی کے دوبارہ آغاز پر لیگی رہنما عابد شیر علی اور امیر مقام قافلے میں شریک افراد کا جوش بڑھاتے بھی دکھائی دیئے۔طلال چوہدری اور دانیال عزیز بھی ریلی کے دوبارہ آغاز پر نظر آئے، تاہم سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار، جو ریلی کے پہلے دن منظرنامے سے غائب تھے، آج قومی اسمبلی کے سیشن میں شریک ہوئے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف گذشتہ روز (9 اگست کو) اسلام آباد میں واقع پنجاب ہاؤس سے صبح 11 بجے کے بعد لاہور کے لیے روانہ ہوئے اور دن بھر میں 15 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد رات کو راولپنڈی پہنچے تھے۔جی ٹی روڈ ریلی کے پہلے دن گذشتہ شب راولپنڈی کے کمیٹی چوک آمد پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر فارغ کرکے عوام کے ووٹ کی توہین کی گئی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کروڑوں لوگ وزیراعظم منتخب کرتے ہیں اور چند لوگ ختم کردیتے ہیں، مجھے تیسری بار حکومت سے نکالا گیا، میں سوال کرتا ہوں کہ کیا نواز شریف نے قومی خزانہ لوٹا، اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجھے فارغ کر دیا گیا، ہمیں کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ کیا یہ آپ کے ووٹ کی توہین نہیں؟ عوام نے نواز شریف کے خلاف فیصلہ قبول نہیں کیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’کیا ملک میں کبھی ووٹوں کی عزت کی جائے گی؟ نواز شریف نے کبھی کک بیک اور کمیشن نہیں لیا لیکن اس کے باوجود پہلی بار گھر بھیجا گیا اور دوسری مرتبہ ہتھکڑی لگادی گئیں، ملک میں 70 برسوں سے کسی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی، مجھے حکومت کا لالچ نہیں لیکن عوام کی مینڈیٹ کی توہین نہیں ہونے دینی۔‘پہلے روز ریلی کے آغاز پر پنجاب ہاؤس اسلام آباد سے روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘یہ پاور شو نہیں بلکہ مجھے اپنی سنچری مکمل کرنی ہے، میں کہیں نہیں جارہا’۔نواز شریف کے گاڑی میں سوار ہونے سے قبل وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو گلے لگا کر الوداع کہا تھا۔ تیس سالہ سیاسی کیرئر میں پہلی بار عوامی رنگ نظر آیا ھے جس سے ثابت هو چکا کہ عوامی مینڈ یٹ کا احترام نہ کرنے والی قوتوں کو انھیں جلدی میں گھر بھیج کر غلطی کی گئی ھے ، عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کی جی ٹی روڈ ریلی مسلم لیگ نون کے لیے حبس زدہ سیاسی ماحول میں تازہ ھوا کا جھونکا ثابت ہوگی،اور اپوزیشن کے لئے جی ٹی روڈ ریلی مسلم لیگ نون آئندہ انتخا بات سے قبل درد سر بن چکی ھے قائد عوام اور عوامی وزیراعظم محمد نوازشریف کاقافلہ انتہائی سست روی کے ساتھ لاہورکی جانب رواں دواں ہے،قافلے میں لوگوں کے جذبات قابل دید رھا کارکن فرط جذبات سے اس گاڑ ی کو چومتے رھے ،پر جوش کارکنوں نے نوازشریف کی تصاویروالے بینرزاور جھنڈے اٹھارکھے ہیں،جن پرنوازشریف کے حق میں نعرے”جو دلوں میں بستا ھے ”حکومت اسکی ھے ”عوام کی آواز،،،میاں نواز ،، درج ہیں،نوازشریف نے کارکنوں کے نعروں کاہاتھ ہلاکرجواب دیا۔ قائدعوام محمدنوازشریف کاقافلہ جوں جوں راولپنڈی کے قریب پہنچا موسم بھی یہتر ہوگیا جبکے دن بھر شدید حبس کے باوجود کارکنوں کا جذبہ دیدنی تھا ۔ شدید حبس میں نوازشریف کاا ستقبال اور اظہاریکجہتی کرنے کیلئے لیگی کارکنوں کی تعداد بڑھتی ہی گئی ۔لیگی قائد کارکنوں سے اظہارمحبت کرتے نظر آے ۔نوازشریف کے قافلے کی انتظامیہ کاکہناہے کہ سست روی کی وجہ سے قافلہ کو پنجاب ہاؤس راولپنڈی میں قیام کرناپڑا ۔ عوامی اعظم نے کہاکہ پہلی مرتبہ نیب پر سپریم کورٹ کا جج بٹھایا گیا ہے اور فیصلے کے بعد اپیل بھی ان ھی کے پاس جائے گی ،ْ مجھے لوگوں نے مشورہ دیا کہ آپ جے آئی ٹی میں نہ جائیں، وزیراعظم کے دفتر کے وقار پر سمجھوتہ نہ کریں، میں نے کہا کہ اس موقع پر پیچھے ہٹا تو لوگ سمجھیں گے میرے دل میں چور ہے۔..