US President claims talks with Iran, Pakistani diplomatic efforts, Shahbaz Sharif’s contact with the Iranian President,امریکی صدر کاایران سے مذاکرات کا دعویٰ ,پاکستانی سفارتی کوشش ,شہباز شریف کا ایرانی صدر سےرابطہ،رئیس جمهور آمریکا مدعی مذاکره با ایران، تلاشهای دیپلماتیک پاکستان، تماس شهباز شریف با رئیس جمهور ایران، ….؛ زعم الرئيس الأمريكي دونالد ترامب استمرار المحادثات مع إيران، بينما نفت وسائل الإعلام الإيرانية استمرار أي محادثات مع الولايات
….;(اصغر علی مبارک)…. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کیاہےجبکہ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری نہیں ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث ذریعے کے ذریعے کوئی رابطہ موجود ہے۔یاد رہے کہ پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ دو روز سے جاری مذاکرات بڑے مثبت اور نتیجہ خیز رہے ہیں، مذاکرات کی بنیاد پر ایران کے جوہری اہداف کے خلاف فوجی کارروائی اگلے پانچ دن کے لیے مؤخر کر رہے ہیں۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ تفصیلی اور تعمیری مذاکرات ایک ہفتے تک جاری رہیں گے۔ `بعد ازاں ایران نے صدر ٹرمپ کے ساتھ کسی بھی بات چیت کی خبروں کی تردید کی تھی۔ ایرانی وزارت خارجہ نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے وقت حاصل کرنے کا حربہ قرار دیا تھا۔
اس دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہےاور پاکستان کی قیادت کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان خطےمیں امن کےفروغ کے لیے تعمیری کردار جاری رکھےگا۔ وزیراعظم نے خلیجی خطے میں جاری خطرناک صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کیا اور کشیدگی میں کمی اور مذاکرات اور سفارتکاری کی فوری ضرورت پر زور دیا اور امت مسلمہ کے درمیان اتحادویکجہتی کی اہمیت پربھی زور دیا۔ شہباز شریف نے ایران کے صدر اور برادر ایرانی عوام کو عیدالفطر اور نوروز کی مبارک باد دی۔ایرانی صدر نے وزیراعظم کے جذبات کا پرتپاک جواب دیا اورپاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہارکیا۔وزیراعظم نے جاری کشیدگی کے تناظر میں بہادر ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرےدکھ کا اظہار کیا اور زخمیوں ومتاثرین کی جلد صحتیابی اور سلامتی کے لیے دعا کی۔
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے مذاکرات جاری رہنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور امریکا دونوں ڈیل کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے، وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔ فلوریڈا میں امریکی صدر نے کہاتھا کہ ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے پُرعزم ہیں، ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے اور ایران کے قابل احترام رہنما سے بات چیت ہوئی ہے، مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے مکمل اور حتمی حل سے متعلق انتہائی نتیجہ خیز گفتگو ہوئی ہے، تفصیلی اور تعمیری بات چیت پورے ہفتے جاری رہے گی، اُمید ہے ایران کے مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیاتھا کہ ایران نے خود مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا، ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے کی گارنٹی نہیں دے سکتا، اگر ڈیل ہوئی تو ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا، یہ اسرائیل اور مشرق وسطی کے ممالک کے لیے بھی اچھا ہوگا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیار نہیں چاہتے، صرف مشرق وسطیٰ میں امن چاہتے ہیں، اگر ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے وہ مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرلیتا، ہم نے اسرائیل سے بھی رابطہ کیا ہے، اسرائیل بھی بہت خوش ہے، امن کی گارنٹی ہوگی، اسرائیل بھی دیرپا امن چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ امریکا ایران مذاکرات میں دونوں ملک کئی نکات پر راضی ہیں، اگر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے، ڈیل کی بات میں نے نہیں ایران نے کی ہے، اب نہ نیوکلیر ہتھیار ہوں گے اور نہ ہی کوئی جنگ، ہم نہیں چاہتے کہ ایران اب نیوکلیر کے قریب بھی آئے۔صدر ٹرمپ نے بتایا تھا کہ میری پوری لائف ڈیل میں گزری، کل صبح ہم ایران کا سب سے بڑا توانائی پلانٹ تباہ کرنے والے تھے، ایک حملے میں یہ گرجاتا، دوبارہ بنانے میں 10 ارب ڈالرز لگتے، اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای قتل ہوچکے ہیں اور ان کے بیٹے کو میں لیڈر نہیں سمجھتا، ہم نے فیز ون اور فیز تین تک ان کی قیادت ختم کردی، ہم نے ابھی تک دوسرے سپریم لیڈر سے متعلق کچھ نہیں سنا، ہم نہیں جانتے دوسرا سپریم لیڈر زندہ بھی ہے یا نہیں اور میں نہیں چاہتا مجتبیٰ خامنہ ای کو نشانہ بنایا جائے۔یاد رکھیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر حملے 5 روز کے لیے ملتوی کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔ پیر کے روز امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکا ایران کے پاور پلانٹس اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر ممکنہ فوجی حملے 5 روز کے لیے مؤخر کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ 2 دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ فوجی حملے پانچ دن کے لیے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ایران نے امریکا سے کسی بھی قسم کے مذاکرات کی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی کوئی بات چیت جاری نہیں ہے، تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ براہ راست اور نہ ہی کسی ثالث ذریعے کے ذریعے کوئی رابطہ موجود ہے۔ امریکی صدر کے مذاکرات سے متعلق دعوے حقائق کے برعکس ہیں۔ دو روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان دیا تھا کہ ایران میں ایسا کوئی لیڈر موجود نہیں جس سے بات چیت کی جا سکے تاہم اس کے بعد انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا دعویٰ کیاتھا۔ ایرانی میڈیا کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے سخت ردعمل اور دھمکی کے بعد ہی امریکی صدر نے بات چیت کا بیان دیا تھاجب کہ ایک ایرانی عہدیدار کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایران کی وارننگ کے بعد ٹرمپ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ گئے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے بھی کہا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان کوئی رابطے نہیں ہوئے، ٹرمپ کے حالیہ بیان کا مقصد توانائی کی قیمتوں میں کمی لانا اور اپنے فوجی منصوبوں کے لیے وقت لینا ہے، کشیدگی کم کرنے کے لیے کچھ اقدامات موجود ہیں، امریکا کو خود اس معاملے میں بات چیت کرنی چاہیے کیوں کہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی، ہوسکتا ہے ٹرمپ کچھ بڑا کرنے سے پہلے ٹائم خرید رہا ہو، اور یہ سب دھوکا ہو۔ دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم رضائی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ جنگ جاری ہے ، دشمن کو ایک اور شکست کا سامنا ہوا ہے ،ٹرمپ اور امریکا ایک بار پھر شکست کھا چکے ہیں۔ ادھر امریکی صدر کے اعلان کے بعد ایران اور روس کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا ہے،روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے فوری طور پر سیزفائر کا مطالبہ کیا ہے ، لاروف نے کہا کہ ایران اور تمام فریقین کے جائز مفادات کو مدنظر رکھ کر حل تلاش کیا جائے۔ یاد رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہاتھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان گزشتہ دو روز کے دوران ”بہت اچھے اور نتیجہ خیز“ مذاکرات ہوئے، جن کا مقصد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ انہوں نے کہاتھاکہ جاری بات چیت کے نتائج سامنے آنے تک ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی فوجی کارروائی کو پانچ دن کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیاتھا جب ایران کو آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی گئی تھی، جس کی مدت آج ختم ہو رہی تھی۔ رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشے کے بعد اپنا مؤقف تبدیل کیا۔ ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا تو وہ اسرائیل کے پاور پلانٹس اور خلیجی خطے میں امریکی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والی تنصیبات پر حملہ کرے گا۔ ادھر ایک ذریعے نے بتایا تھاکہ واشنگٹن نے ایران کے ساتھ اپنی بات چیت سے اسرائیل کو آگاہ رکھا ہے اور امکان ہے کہ اسرائیل بھی ایران کے توانائی کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے عارضی طور پر گریز کرے گا تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دریں اثنا ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں تیزی دیکھی گئی، برینٹ خام تیل کی قیمت عارضی طور پر تقریباً 13 فیصد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تاہم بعد ازاں یہ دوبارہ 105 ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ اسی طرح عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی اور امریکی اسٹاک فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے بجلی گھروں پر حملے 5 روز کیلئے موخر کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ عالمی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ براہِ راست اور مثبت مذاکرات جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد عالمی آئل مارکیٹ میں فوری ردعمل دیکھنے میں آیا اور تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 14 فیصد سے زائد کمی کے بعد 96 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی کم ہو کر 84.37 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کاروں نے کشیدگی میں ممکنہ کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ دو روز کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ یہ مذاکرات آئندہ دنوں میں بھی جاری رہیں گے، جبکہ امریکا نے ایران کی توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کو فی الحال مؤخر کر دیا ہے، جسے کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کا عمل اسی طرح جاری رہا تو خطے میں استحکام آ سکتا ہے، جس کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔یاد رکھیں کہ ایران نے ایک بار پھر سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی دھمکی دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے جنوبی ساحل یا جزائر پر حملہ کیا گیا تو خلیج میں تمام بحری راستے بند کر دیے جائیں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ڈیفنس کونسل نے بیان میں کہا کہ ایران کے ساحلی علاقوں یا جزائر کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں خلیج کے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے، مختلف اقسام کی بحری بارودی سرنگیں، جن میں تیرنے والی سرنگیں بھی شامل ہیں، ساحل سے چھوڑ دی جائیں گی۔ ایرانی حکام کے مطابق ایسی صورت حال میں پوری خلیج طویل عرصے تک آبنائے ہرمز جیسی حالت اختیار کر سکتی ہے، جس سے عالمی جہاز رانی شدید متاثر ہوگی۔ ایرانی ڈیفنس کونسل نے مزید کہا کہ 1980 کی دہائی میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کے لیے تعینات 100 سے زائد مائن سوئپرز بھی محدود کامیابی حاصل کر سکے تھے، اس لیے ایسی کارروائی کے نتائج سنگین ہوں گے۔ دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا ایران کو دباؤ میں لانے کے لیے اس کے اہم آئل ایکسپورٹ حب خارگ جزیرے پر قبضہ یا ناکہ بندی کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے تاکہ تہران کو آبنائے ہرمز تمام جہاز رانی کے لیے کھولنے پر مجبور کیا جا سکے۔ ایرانی ڈیفنس کونسل نے یہ بھی کہا کہ غیر متحارب ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کے ساتھ ہم آہنگی کرنا ہوگی۔ایران کے اہم جوہری مرکز ’نطنز‘ پر ایک بار پھر حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صبح کے وقت امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فضائی حملہ کیا گیا جس میں اس جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے باوجود اس مقام پر کسی قسم کے تابکار مواد کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی قریبی آبادی کو فوری طور پر کسی خطرے کا سامنا ہے۔ حکام کے مطابق صورتحال کو قابو میں رکھا گیا ہے اور نگرانی جاری ہے۔ ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نطنز میں قائم شہید احمدی روشن افزودگی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے نے ان حملوں کو ”مجرمانہ کارروائی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جن میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) اور دیگر حفاظتی اصول شامل ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نطنز نیوکلئیر فیسیلیٹی کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں یہاں حملہ کیا گیا تھا جس میں سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ یہ مرکز تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے اور ایران کے اہم ترین جوہری پروگرام کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب امریکی پالیسی ساز حلقوں میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور جاری ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکا اس بات پر بھی غور کر رہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنایا جائے یا انہیں کسی طرح اپنے کنٹرول میں لیا جائے۔ اس حوالے سے حساس نوعیت کے مشنز کے لیے ’جوائنٹ اسپیشل آپریشن کمانڈ‘ جیسے خصوصی یونٹ کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا اپنے فوجی اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی کارروائیوں کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک بنیادی ہدف ہے۔ اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے ’انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی‘ کے مطابق ایران کے پاس بڑی مقدار میں 60 فیصد تک افزودہ یورینیم موجود ہے، جو ہتھیار بنانے لائق سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ہفتے کے روز بھی میزائل حملے جاری رہے، جبکہ سعودی عرب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے مشرقی علاقے میں چند گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 ڈرونز کو مار گرایا۔ یہ علاقہ تیل کی بڑی تنصیبات کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ایران نے کہا ہے کہ اگر اس کے توانائی کی تنصیبات پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل کے پاور پلانٹس کے ساتھ ساتھ خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کو بھی نشانہ بنائے گا، یہ اعلان ایرانی انقلابی گارڈز نے کیا۔بیان میں پہلے دی گئی وہ دھمکیاں واپس لے لیں گی جو خطے میں پانی کے پلانٹس پر حملے کے حوالے سے تھیں، جو خلیجی ممالک میں پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ جھوٹ بولنے والے امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ انقلابی گارڈز پانی کے میٹھا کرنے والے پلانٹس پر حملہ کرنے اور خطے کے عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جو بالکل غلط ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو دھمکی دی تھی کہ اگر تہران ہرمز کے تنگ گزرگاہ کو 48 گھنٹوں میں مکمل طور پر تمام شپنگ کے لیے نہ کھولے تو ایرانی پاور پلانٹس کو نشانہ بنایا جائے گا۔ انقلابی گارڈز نے کہا کہ ہم کسی بھی خطرے کا جواب اسی سطح پر دینے کے لیے پرعزم ہیں… اگر آپ بجلی پر حملہ کریں، تو ہم بھی بجلی پر حملہ کریں گے۔ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کے ردعمل میں اپنے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو یقینی بنانے اور خطے میں متوازن جوابی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکہ اور اسرائیل جنگ نے ایران پر ایک واضح سبق دیا ہے: حکومت کی تبدیلی کے خواب اکثر حقیقت سے ٹکرانے پر پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ ایران کے طویل عرصے تک سپریم لیڈر، آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت اور ابتدائی حملوں میں کئی سینئر کمانڈرز کی موت کو واشنگٹن اور تل ابیب میں اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔ تاہم اس کے بعد کے واقعات اس کے برعکس اشارہ دیتے ہیں۔ ایرانی حکومت ٹوٹنے کے بجائے مستحکم رہی، اپنی قیادت کو جلدی منظم کیا اور زیادہ تر عوام کو اپنے پیچھے متحد کیا۔ خامنہ ای کی شہادت کے چند دنوں کے اندر، ایران کی طاقتور روحانی باڈی، اسمبلی آف ایکسپرٹس نے ان کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔ یہ انتخاب متنازع لگ سکتا ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ نے ہمیشہ حکومتی اصول کے طور پر موروثی جانشینی کو مسترد کیا ہے۔ تاہم، اس فیصلہ کن ووٹ نے دو اہم پیغامات بھیجے: بیرونی دباؤ کے سامنے مزاحمت اور سیاسی نظام میں تسلسل۔ مجتبیٰ خامنہ ای، جو قم کی مدارس میں تعلیم یافتہ درمیانی درجے کے عالم اور ایران-عراق جنگ کے تجربہ کار ہیں، کو طویل عرصے سے پس پردہ اثر و رسوخ رکھنے والا شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ انہوں نے کبھی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، لیکن انہوں نے اسلامی انقلاب گارڈ کورپس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے، جو اب ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ جنگ کے وقت ایسے تعلقات رسمی عہدوں سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کا عہدہ سنبھالنا، اس لحاظ سے، محض خاندانی تعلقات کا نتیجہ نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ میں اعلیٰ سطح پر ہم آہنگی قائم رکھنے کی حکمت عملی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے لیے، یہ منظم جانشینی اس کہانی کو پیچیدہ کر دیتی ہے کہ ایرانی حکومت ختم ہونے کے قریب تھی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس انتخاب پر کھل کر تنقید کی، کہا کہ انہیں ایران کی قیادت کے انتخاب میں حق ہونا چاہیے—یہ بیان واضح طور پر جنگ کا اصل مقصد ظاہر کرتا ہے: محدود فوجی کارروائی کے بجائے حکومت کی تبدیلی۔ بیرونی حملے عموماً وہ حکومتیں مضبوط کرتے ہیں جو اندرونی مخالفت کا سامنا کر سکتی ہیں۔ ایران اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگرچہ کئی ایرانی اقتصادی مشکلات اور سیاسی پابندیوں سے ناخوش ہیں، غیر ملکی مداخلت ایک پرچم کے گرد اتحاد پیدا کرتی ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے حکمت عملی کا مسئلہ واضح ہے: اگر ان کا مقصد حکومت کی تبدیلی ہے، تو کامیابی کا معیار انتہائی بلند ہو جاتا ہے: ایران کے حکومتی نظام کا مکمل خاتمہ یا اس کی غیر مشروط سرنڈر۔ اس کے بغیر، حتیٰ کہ طویل تنازعہ بھی ایران کے لیے بقا اور اس لحاظ سے فتح کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ساتھ ہی، ہر گزرتے دن کے ساتھ تصادم کے مزید بڑھنے کا خطرہ بڑھتا ہے، جو پورے مشرق وسطیٰ کو گھیر سکتا ہے اور عالمی معیشت کو غیر مستحکم کر سکتا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ غلط حساب کتاب میں ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ اس دباؤ میں ہیں کہ وہ واضح نتائج پیش کریں، حالانکہ جنگ کا اختتام ابھی غیر واضح ہے۔ مایوسی میں، وہ اضافی اسٹریٹجک اہداف یا اور زیادہ تباہ کن آپشنز پر حملے کے لیے مائل ہو سکتے ہیں۔ ایسے اقدامات کے نتائج ایران سے کہیں آگے کے لیے ناقابل تصور ہوں گے۔ حکمت اور اثر و رسوخ رکھنے والی آوازیں واشنگٹن میں چاہیے کہ وہ مزید تصادم کو روکیں اور علاقے کو ناقابل واپسی کے مقام تک پہنچنے سے پہلے بحران کو قابو میں رکھیں۔……………………………………………………


….;(Asghar Ali Mubarak)…. US President Donald Trump has claimed that talks with Iran are continuing, while Iranian media has claimed that no talks are ongoing with the US, and that there is no contact between Tehran and Washington, either directly or through any intermediary. It should be noted that on Monday, President Trump had claimed in a statement released on his social media platform, Social Truth, that the two-day talks with Iran had been very positive and fruitful, and based on the talks, he is postponing military action against Iran’s nuclear targets for the next five days. The US President also said that detailed and constructive talks will continue for a week. Iran later denied reports of any talks with President Trump. The Iranian Foreign Ministry rejected Trump’s claim, calling it a tactic to gain time.
Meanwhile, Prime Minister of Pakistan Shahbaz Sharif has made a telephonic contact with Iranian President Dr. Ebrahim Raisi and informed him about the diplomatic efforts of the Pakistani leadership, stating that Pakistan will continue to play a constructive role in promoting peace in the region. The Prime Minister expressed deUS President claims talks with Iran, Pakisep concern over the ongoing dangerous situation in the Gulf region and stressed the urgent need for de-escalation of tensions and dialogue, and diplomacy, and also stressed the importance of unity and solidarity among the Muslim Ummah. Shahbaz Sharif extended his greetings to the President of Iran and the brotherly Iranian people on the occasion of Eid al-Fitr and Nowruz. The Iranian President warmly responded to the Prime Minister’s sentiments and expressed his best wishes for the Pakistani people. The Prime Minister expressed Pakistan’s solidarity with the brave Iranian people in the context of the ongoing tension and deep sorrow over the loss of precious lives and prayed for the speedy recovery and safety of the injured and affected. Earlier, US President Donald Trump had once again claimed that negotiations with Iran were continuing, saying that both Iran and the US want to make a deal, talks have been held with Israel, and he is happy with the latest progress. In Florida, the US President had said that he is determined to resolve the conflict with Iran, Iran wants to make a deal and talks have been held with the respected leader of Iran, very fruitful talks have been held regarding the complete and final solution to the war in the Middle East, detailed and constructive talks will continue throughout the week, it is hoped that the Iran issue can be resolved. President Trump claimed that Iran itself had contacted him for negotiations, that Iran had been allowed to sell oil loaded on its ships, that he could not guarantee a deal with Iran, that if a deal were made, it would be a good start for Iran, and that it would also be good for Israel and the countries of the Middle East. The US President said that he did not want nuclear weapons; he only wanted peace in the Middle East. If Iran had nuclear weapons, it would have taken over the Middle East. We have also contacted Israel. Israel is also very happy. There will be a guarantee of peace. Israel also wants lasting peace. He further said that both countries have agreed on several points in the US-Iran talks. If a deal is reached, the US will use Iran’s enriched uranium. I, not Iran, have talked about the deal. There will be no nuclear weapons or war. We do not want Iran to come even close to nuclear weapons. President Trump had said that his entire life has been spent on the deal. Yesterday morning, we were going to destroy Iran’s largest energy plant. It would have collapsed in an attack. It would have cost $10 billion to rebuild. If the B-52 bombers had not attacked, Iran would have made nuclear weapons in a few weeks. The US President also said that Ayatollah Khamenei has been assassinated, and I do not consider his son to be a leader. We have terminated his leadership for Phase One and Phase Three. We have not heard anything about the second Supreme Leader yet. We do not know if the second Supreme Leader is even alive or not, and I do not want Mujtaba Khamenei to be targeted. Remember that US President Donald Trump, while ordering the postponement of attacks on Iranian power plants for 5 days, had said that the talks with Iran were positive and productive. On Monday, the US President announced that the US was postponing possible military attacks on Iranian power plants and energy infrastructure for 5 days. In his statement released on the social media platform Social Truth, President Trump had said that he was pleased to report that very positive and productive talks have taken place between the US and Iran over the past 2 days, the aim of which is to find a complete and final solution to the ongoing tensions in the Middle East.US President Donald Trump announced a five-day postponement of possible military strikes on Iranian power plants, but Iran has rejected reports of any talks with the US. Iranian media have claimed that there are no talks with the US, and that there is no direct or intermediary contact between Tehran and Washington. The US president’s claims about talks are contrary to the facts. Two days ago, President Donald Trump stated that there was no leader in Iran with whom talks could be held, but then he claimed to hold talks with Iran. Iranian media said that the US president made the statement about talks only after a strong response and threat from Iran, while an Iranian official said that Trump backed down from his position after Iran’s warning. The Iranian Foreign Ministry also said that there was no contact between the US and Iran, Trump’s recent statement is aimed at reducing energy prices and buying time for his military plans, there are some measures to reduce tensions, the US itself should negotiate on this issue because we did not start this war, Trump may be buying time before doing something big, and this is all a deception. On the other hand, Iran’s National Security Spokesperson Ebrahim Rezaei said in his statement that the war is ongoing, the enemy has suffered another defeat, Trump and the US have been defeated once again. Meanwhile, after the US President’s announcement, contact has been made between the foreign ministers of Iran and Russia. Russian Foreign Minister Sergei Lavrov has called for an immediate ceasefire. Lavrov said that a solution should be found by keeping in mind the legitimate interests of Iran and all parties. It should be noted that President Donald Trump, in a statement released on the social media platform Social Truth, said that the US and Iran had held “very good and productive” talks over the past two days, aimed at completely ending tensions in the Middle East. He said that any military action against Iran’s energy infrastructure has been postponed for five days until the results of the ongoing talks are known. Trump’s announcement came at a time when Iran was given a 48-hour deadline to open the Strait of Hormuz to all shipping, which expired today. The report quoted a source as claiming that Trump changed his position after fearing possible Iranian retaliation. Iran had warned that if its power plants were targeted, it would attack Israeli power plants and facilities that supply electricity to US bases in the Gulf region. Meanwhile, a source said that Washington has kept Israel informed of its talks with Iran and that Israel is likely to temporarily refrain from targeting Iran’s energy infrastructure, but there was no immediate response from the Israeli Prime Minister’s office. Meanwhile, global markets rallied after Trump’s statement, with Brent crude oil briefly falling below $100 a barrel after a nearly 13 percent drop, but later recovering to near $105. Similarly, global stock markets also rallied, with US stock futures up more than 2 percent.Oil prices have fallen sharply in the global market after US President Donald Trump announced a five-day delay in attacks on Iranian power plants. There has been a significant development in the global situation, with signs of easing tensions between the US and Iran. In the latest development, US President Donald Trump has confirmed that direct and positive talks with Iran are underway. After President Trump’s statement, the global oil market reacted immediately, and oil prices fell sharply. Brent crude fell more than 14 percent to $96 per barrel, while West Texas Intermediate also fell to $84.37 per barrel. According to economists, the recent decline indicates that investors have changed their market strategy in view of a possible easing of tensions. The US President said in his statement that very positive and fruitful talks have taken place between the US and Iran over the past two days, the aim of which is to completely end the ongoing tensions in the Middle East. The talks will continue in the coming days, while the US has postponed possible attacks on Iranian energy facilities for the time being, which is being described as an important step towards reducing tensions. Analysts say that if the negotiations continue in this way, stability can be achieved in the region, which will have a positive impact on the global economy and energy markets. Remember that Iran has once again threatened to lay mines in the sea and warned that if its southern coast or islands are attacked, all sea routes in the Gulf will be closed. According to the British news agency, the Iranian Defense Council said in a statement that any attempt to target Iran’s coastal areas or islands will result in all routes in the Gulf being closed, and various types of naval mines, including floating tunnels, will be released from the coast. According to Iranian officials, in such a situation, the entire Gulf could take on a state similar to the Strait of Hormuz for a long time, which will severely affect global shipping. The Iranian Defense Council added that more than 100 minesweepers deployed to clear mines in the 1980s had limited success, so the consequences of such an action would be serious. On the other hand, according to media reports, the United States is considering plans to seize or blockade the Kharg Island, a key oil export hub, to pressure Iran to force Tehran to open the Strait of Hormuz to all shipping. The Iranian Defense Council also said that non-belligerent countries must coordinate with Iran to pass through the Strait of Hormuz.There have been reports of another attack on Iran’s main nuclear facility, Natanz. According to the Iranian news agency, an airstrike by the US and Israel targeted the nuclear facility in the morning. Despite the attack, there was no report of any radioactive material being released at the site, nor was there any immediate threat to the nearby population. According to officials, the situation has been brought under control, and monitoring is ongoing. The Atomic Energy Organization of Iran also confirmed the attack, saying that the Shahid Ahmadi Roshan enrichment center in Natanz was targeted. The organization called the attacks “criminal acts” and said that the US and Israel have violated international laws, including the Nuclear Non-Proliferation Treaty (NPT) and other safeguards. This is not the first time that the Natanz nuclear facility has been targeted. There was an attack here earlier in the early days of the war, in which several buildings were damaged, according to satellite images. The center is located about 220 kilometers southeast of Tehran and is considered part of Iran’s most important nuclear program. On the other hand, various options are being considered in American policy-making circles to limit Iran’s nuclear program. According to the American broadcasting company, the United States is also considering whether to secure Iran’s enriched uranium reserves or take them under its control in some way. In this regard, the use of a special unit such as the ‘Joint Special Operations Command’ for sensitive missions is also being considered, but no final decision has been made yet. US President Donald Trump has also said in a recent statement that the United States has reached its military goals and is considering reducing its operations in the Middle East, but he also made it clear that preventing Iran from obtaining nuclear weapons is a primary goal. According to the United Nations nuclear watchdog, the International Atomic Energy Agency, Iran has a large amount of uranium enriched to 60 percent, which is considered suitable for making weapons. However, Iran has consistently maintained that its nuclear program is for peaceful purposes only. Meanwhile, tensions between Iran and Israel appear to be escalating rather than easing. Israel says Iran continued missile attacks on Saturday, while Saudi Arabia claims it shot down about 20 drones in its eastern region over the past few hours. The region is important for its large oil facilities.The US-Israeli war has taught Iran a clear lesson: Dreams of regime change often crumble when confronted with reality. The assassination of Iran’s longtime supreme leader, Ayatollah Seyyed Ali Khamenei, and the deaths of several senior commanders in the initial attacks were seen in Washington and Tel Aviv as the beginning of the Islamic Republic’s downfall. However, subsequent events suggest otherwise. Rather than collapsing, the Iranian government has remained stable, quickly reorganizing its leadership and uniting most of the population behind it. Within days of Khamenei’s assassination, Iran’s powerful spiritual body, the Assembly of Experts, elected his son, Mojtaba Khamenei, as the country’s new supreme leader. The election may seem controversial because the Islamic Republic has always rejected hereditary succession as a principle of government. However, this decisive vote sent two important messages: resistance to external pressure and continuity in the political system. Mojtaba Khamenei, a middle-class scholar educated in the Qom madrasas and a veteran of the Iran-Iraq War, has long been considered a figure of influence behind the scenes. Although he never held official office, he developed close ties with the Islamic Revolutionary Guard Corps, which is now the backbone of Iran’s military and political leadership. Such ties are more important in times of war than formal positions. His appointment, in this sense, is not simply the result of family ties but a strategy to maintain high-level cohesion in the Islamic Republic. For the United States and Israel, this orderly succession complicates the narrative that the Iranian regime is on the verge of collapse. President Donald Trump has openly criticized the choice, saying that he should have a say in choosing Iran’s leadership—a statement that clearly shows the real purpose of the war: regime change rather than limited military action. External attacks usually strengthen governments that can withstand internal opposition. Iran is no exception. While many Iranians are unhappy with the economic hardship and political sanctions, foreign intervention creates unity around a common flag. The strategic problem for Washington and Tel Aviv is clear: if their goal is regime change, the standard for success becomes extremely high: the complete overthrow of Iran’s ruling system or its unconditional surrender. Without this, even a prolonged conflict would be seen as survival for Iran and, in a sense, a victory. At the same time, with each passing day, the risk of a further escalation of the conflict increases, which could engulf the entire Middle East and destabilize the global economy. The greatest danger lies in miscalculation. Israeli Prime Minister Netanyahu and President Trump are under pressure to deliver tangible results, even though the end of the war is still unclear. In desperation, they may be tempted to attack additional strategic targets or more destructive options. The consequences of such actions would be unimaginable for anyone far beyond Iran. Wise and influential voices in Washington must prevent further conflict and bring the crisis under control before the region reaches the point of no return…….

…….. رئیس جمهور آمریکا مدعی مذاکره با ایران، تلاشهای دیپلماتیک پاکستان، تماس شهباز شریف با رئیس جمهور ایران، ….؛ (اصغر علی مبارک)…. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، ادعا کرده است که مذاکرات با ایران ادامه دارد، در حالی که رسانههای ایران ادعا کردهاند که هیچ مذاکرهای با آمریکا در جریان نیست و هیچ تماسی بین تهران و واشنگتن، چه مستقیم و چه از طریق هیچ واسطهای، وجود ندارد. لازم به ذکر است که روز دوشنبه، رئیس جمهور ترامپ در بیانیهای که در پلتفرم رسانه اجتماعی خود، سوشال تروث، منتشر کرد، ادعا کرد که مذاکرات دو روزه با ایران بسیار مثبت و مثمر ثمر بوده است و بر اساس این مذاکرات، او اقدام نظامی علیه اهداف هستهای ایران را به پنج روز آینده موکول میکند. رئیس جمهور آمریکا همچنین گفت که مذاکرات دقیق و سازنده به مدت یک هفته ادامه خواهد یافت. «ایران بعداً گزارشهای مربوط به هرگونه مذاکره با رئیس جمهور ترامپ را تکذیب کرد. وزارت امور خارجه ایران ادعای ترامپ را رد کرد و آن را تاکتیکی برای خرید زمان خواند.» در همین حال، شهباز شریف، نخست وزیر پاکستان، در تماس تلفنی با دکتر مسعود پزشکیان، رئیس جمهور ایران، او را در جریان تلاشهای دیپلماتیک رهبری پاکستان قرار داد و گفت که پاکستان به ایفای نقش سازنده خود برای ارتقای صلح در منطقه ادامه خواهد داد. نخست وزیر نگرانی عمیق خود را از وضعیت خطرناک جاری در منطقه خلیج فارس ابراز کرد و بر نیاز فوری به کاهش تنشها و گفتگو و دیپلماسی و همچنین اهمیت وحدت و همبستگی میان امت اسلام تأکید کرد. شهباز شریف به مناسبت عید فطر و نوروز، تبریکات خود را به رئیس جمهور ایران و مردم برادر ایران تقدیم کرد. رئیس جمهور ایران به گرمی به ابراز احساسات نخست وزیر پاسخ داد و بهترین آرزوهای خود را برای مردم پاکستان ابراز کرد. نخست وزیر همبستگی پاکستان را با مردم شجاع ایران در زمینه تنش جاری و اندوه عمیق از دست دادن جانهای گرانبها ابراز کرد و برای بهبودی سریع و ایمنی مجروحان و آسیب دیدگان دعا کرد. پیش از این، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، بار دیگر ادعا کرده بود که مذاکرات با ایران ادامه دارد و گفته بود که هم ایران و هم آمریکا خواهان توافق هستند، مذاکراتی با اسرائیل انجام شده و او از آخرین پیشرفتها خوشحال است. در فلوریدا، رئیس جمهور آمریکا گفته بود که مصمم به حل مناقشه با ایران است، ایران خواهان توافق است و مذاکراتی با رهبر محترم ایران انجام شده است، مذاکرات بسیار مثمر ثمری در مورد راه حل کامل و نهایی جنگ در خاورمیانه انجام شده است، مذاکرات دقیق و سازنده در طول هفته ادامه خواهد داشت، امید است که مسئله ایران حل شود. رئیس جمهور ترامپ ادعا کرد که خود ایران برای مذاکره با او تماس گرفته است، به ایران اجازه داده شده است نفت بارگیری شده در کشتیهای خود را بفروشد، او نمیتواند توافق با ایران را تضمین کند، اگر توافقی حاصل شود، شروع خوبی برای ایران خواهد بود و همچنین برای اسرائیل و کشورهای خاورمیانه خوب خواهد بود. رئیس جمهور آمریکا گفت که او سلاح هستهای نمیخواهد، او فقط صلح در خاورمیانه را میخواهد. اگر ایران سلاح هستهای داشت، خاورمیانه را تصرف میکرد. ما همچنین با اسرائیل تماس گرفتهایم. اسرائیل نیز بسیار خوشحال است. تضمینی برای صلح وجود خواهد داشت. اسرائیل نیز خواهان صلح پایدار است. وی در ادامه گفت که هر دو کشور در مذاکرات آمریکا و ایران در مورد چندین نکته به توافق رسیدهاند. اگر توافقی حاصل شود، آمریکا از اورانیوم غنیشده ایران استفاده خواهد کرد. من، نه ایران، در مورد این توافق صحبت کردهام. هیچ سلاح هستهای یا جنگی وجود نخواهد داشت. ما نمیخواهیم ایران حتی به سلاح هستهای نزدیک شود. رئیس جمهور ترامپ گفته بود که تمام عمرش را صرف این توافق کرده است. صبح دیروز، ما قصد داشتیم بزرگترین نیروگاه انرژی ایران را نابود کنیم. این نیروگاه در یک حمله فرو میریخت. بازسازی آن 10 میلیارد دلار هزینه داشت. اگر بمبافکنهای B-52 حمله نمیکردند، ایران ظرف چند هفته سلاح هستهای میساخت. رئیس جمهور آمریکا همچنین گفت که آیتالله خامنهای ترور شده است و من پسر او را رهبر نمیدانم. ما رهبری او را برای مرحله اول و مرحله سوم خاتمه دادهایم. ما هنوز چیزی در مورد رهبر دوم نشنیدهایم. ما نمیدانیم که رهبر دوم اصلاً زنده است یا نه، و من نمیخواهم مجتبی خامنهای هدف قرار گیرد. به یاد داشته باشید که دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، ضمن دستور به تعویق افتادن حمله به نیروگاههای ایران به مدت ۵ روز، گفته بود که مذاکرات با ایران مثبت و سازنده بوده است. روز دوشنبه، رئیس جمهور آمریکا اعلام کرد که ایالات متحده حملات نظامی احتمالی به نیروگاهها و زیرساختهای انرژی ایران را به مدت ۵ روز به تعویق میاندازد. رئیس جمهور ترامپ در بیانیه خود که در پلتفرم رسانه اجتماعی Social Truth منتشر شد، اظهار داشت که از گزارش مذاکرات بسیار مثبت و سازنده بین ایالات متحده و ایران در ۲ روز گذشته که هدف آن یافتن یک راه حل کامل و نهایی برای تنشهای جاری در خاورمیانه است، خرسند است.دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، از تعویق پنج روزه حملات نظامی احتمالی به نیروگاههای ایران خبر داد، اما ایران گزارشهای مربوط به هرگونه مذاکره با آمریکا را رد کرده است. رسانههای ایران ادعا کردهاند که هیچ مذاکرهای با آمریکا وجود ندارد و هیچ تماس مستقیم یا واسطهای بین تهران و واشنگتن وجود ندارد. ادعاهای رئیس جمهور آمریکا در مورد مذاکرات خلاف واقعیت است. دو روز پیش، رئیس جمهور دونالد ترامپ اظهار داشت که هیچ رهبری در ایران وجود ندارد که بتوان با او مذاکره کرد، اما سپس ادعا کرد که با ایران مذاکره خواهد کرد. رسانههای ایران گفتند که رئیس جمهور آمریکا این اظهارات را در مورد مذاکرات تنها پس از پاسخ و تهدید شدید ایران بیان کرد، در حالی که یک مقام ایرانی گفت که ترامپ پس از هشدار ایران از موضع خود عقبنشینی کرد. وزارت امور خارجه ایران نیز اعلام کرد که هیچ تماسی بین آمریکا و ایران وجود ندارد، بیانیه اخیر ترامپ با هدف کاهش قیمت انرژی و خرید زمان برای برنامههای نظامی او است، اقداماتی برای کاهش تنشها وجود دارد، خود آمریکا باید در مورد این موضوع مذاکره کند زیرا ما این جنگ را شروع نکردیم، ترامپ ممکن است قبل از انجام کاری بزرگ، زمان بخرد و همه اینها یک فریب است. از سوی دیگر، ابراهیم رضایی، سخنگوی امنیت ملی ایران، در بیانیه خود گفت که جنگ ادامه دارد، دشمن شکست دیگری خورده است، ترامپ و آمریکا بار دیگر شکست خوردهاند. در همین حال، پس از اعلام رئیس جمهور آمریکا، تماسهایی بین وزرای امور خارجه ایران و روسیه برقرار شده است. سرگئی لاوروف، وزیر امور خارجه روسیه، خواستار آتشبس فوری شده است. لاوروف گفت که باید با در نظر گرفتن منافع مشروع ایران و همه طرفها، راهحلی پیدا شود. لازم به ذکر است که دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، در بیانیهای که در پلتفرم رسانه اجتماعی Social Truth منتشر شد، گفت که آمریکا و ایران طی دو روز گذشته مذاکرات «بسیار خوب و سازندهای» با هدف پایان کامل تنشها در خاورمیانه داشتهاند. وی گفت که هرگونه اقدام نظامی علیه زیرساختهای انرژی ایران به مدت پنج روز به تعویق افتاده است تا نتایج مذاکرات جاری مشخص شود. این اعلامیه ترامپ در زمانی منتشر شد که به ایران مهلت ۴۸ ساعته برای باز کردن تنگه هرمز به روی همه کشتیها داده شده بود که امروز به پایان رسید. این گزارش به نقل از یک منبع مدعی شد که ترامپ پس از ترس از انتقام احتمالی ایران، موضع خود را تغییر داده است. ایران هشدار داده بود که اگر نیروگاههایش هدف قرار گیرند، به نیروگاهها و تأسیسات اسرائیل که برق پایگاههای ایالات متحده در منطقه خلیج فارس را تأمین میکنند، حمله خواهد کرد. در همین حال، یک منبع گفت که واشنگتن اسرائیل را در جریان مذاکرات خود با ایران قرار داده است و اسرائیل احتمالاً موقتاً از هدف قرار دادن زیرساختهای انرژی ایران خودداری خواهد کرد، اما دفتر نخست وزیر اسرائیل هیچ پاسخ فوری نداده است. در همین حال، بازارهای جهانی پس از بیانیه ترامپ افزایش یافتند، به طوری که نفت خام برنت پس از کاهش تقریباً ۱۳ درصدی، برای مدت کوتاهی به زیر ۱۰۰ دلار در هر بشکه رسید، اما بعداً به حدود ۱۰۵ دلار رسید. به همین ترتیب، بازارهای جهانی سهام نیز افزایش یافتند و معاملات آتی سهام ایالات متحده بیش از ۲ درصد افزایش یافت.پس از آنکه دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، اعلام کرد که حملات به نیروگاههای ایران پنج روز به تعویق افتاده است، قیمت نفت در بازار جهانی به شدت کاهش یافته است. با نشانههایی از کاهش تنشها بین آمریکا و ایران، تحول قابل توجهی در اوضاع جهانی رخ داده است. در آخرین تحول، دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، تأیید کرده است که مذاکرات مستقیم و مثبتی با ایران در حال انجام است. پس از بیانیه رئیس جمهور ترامپ، بازار جهانی نفت بلافاصله واکنش نشان داد و قیمت نفت به شدت کاهش یافت. نفت خام برنت بیش از 14 درصد کاهش یافت و به 96 دلار در هر بشکه رسید، در حالی که نفت وست تگزاس اینترمدیت نیز به 84.37 دلار در هر بشکه رسید. به گفته اقتصاددانان، کاهش اخیر نشان میدهد که سرمایهگذاران با توجه به کاهش احتمالی تنشها، استراتژی بازار خود را تغییر دادهاند. رئیس جمهور آمریکا در بیانیه خود گفت که مذاکرات بسیار مثبت و مثمر ثمری طی دو روز گذشته بین آمریکا و ایران انجام شده است که هدف آن پایان دادن کامل به تنشهای جاری در خاورمیانه است. این مذاکرات در روزهای آینده ادامه خواهد یافت، در حالی که ایالات متحده حملات احتمالی به تأسیسات انرژی ایران را فعلاً به تعویق انداخته است که به عنوان گامی مهم در جهت کاهش تنشها توصیف میشود. تحلیلگران میگویند اگر مذاکرات به این شکل ادامه یابد، میتوان به ثبات در منطقه دست یافت که تأثیر مثبتی بر اقتصاد جهانی و بازارهای انرژی خواهد داشت. به یاد داشته باشید که ایران بار دیگر تهدید به مینگذاری در دریا کرده و هشدار داده است که در صورت حمله به سواحل یا جزایر جنوبی آن، تمام مسیرهای دریایی در خلیج فارس بسته خواهد شد. به گزارش خبرگزاری بریتانیا، شورای دفاع ایران در بیانیهای اعلام کرد که هرگونه تلاشی برای هدف قرار دادن مناطق ساحلی یا جزایر ایران منجر به بسته شدن تمام مسیرهای خلیج فارس و رهاسازی انواع مینهای دریایی، از جمله تونلهای شناور، از ساحل خواهد شد. به گفته مقامات ایرانی، در چنین شرایطی، کل خلیج فارس میتواند برای مدت طولانی وضعیتی مشابه تنگه هرمز به خود بگیرد که به شدت بر کشتیرانی جهانی تأثیر خواهد گذاشت. شورای دفاع ایران افزود که بیش از ۱۰۰ مینروب که در دهه ۱۹۸۰ برای پاکسازی مینها اعزام شده بودند، موفقیت محدودی داشتند، بنابراین عواقب چنین اقدامی جدی خواهد بود. از سوی دیگر، طبق گزارشهای رسانهها، ایالات متحده در حال بررسی طرحهایی برای تصرف یا محاصره جزیره خارک، یک مرکز کلیدی صادرات نفت، است تا با اعمال فشار بر ایران، تهران را مجبور به باز کردن تنگه هرمز به روی همه کشتیها کند. شورای دفاع ایران همچنین اعلام کرد که کشورهای غیر متخاصم باید برای عبور از تنگه هرمز با ایران هماهنگ باشند.گزارشهایی مبنی بر حمله دیگری به تأسیسات هستهای اصلی ایران، نطنز، منتشر شده است. به گفته خبرگزاری ایران، صبح امروز حمله هوایی توسط آمریکا و اسرائیل این تأسیسات هستهای را هدف قرار داد. با وجود این حمله، هیچ گزارشی مبنی بر انتشار مواد رادیواکتیو در این محل و همچنین هیچ تهدید فوری برای جمعیت اطراف وجود نداشت. به گفته مقامات، وضعیت تحت کنترل قرار گرفته و نظارت ادامه دارد. سازمان انرژی اتمی ایران نیز این حمله را تأیید کرد و گفت که مرکز غنیسازی شهید احمدی روشن در نطنز هدف قرار گرفته است. این سازمان این حملات را «اقدامات مجرمانه» خواند و گفت که ایالات متحده و اسرائیل قوانین بینالمللی، از جمله پیمان منع گسترش سلاحهای هستهای (NPT) و سایر پادمانها را نقض کردهاند. این اولین باری نیست که تأسیسات هستهای نطنز هدف قرار میگیرد. پیش از این در روزهای اولیه جنگ نیز حملهای به اینجا صورت گرفته بود که طبق تصاویر ماهوارهای، چندین ساختمان در آن آسیب دیدند. این مرکز در حدود ۲۲۰ کیلومتری جنوب شرقی تهران واقع شده است و بخشی از مهمترین برنامه هستهای ایران محسوب میشود. از سوی دیگر، گزینههای مختلفی در محافل سیاستگذاری آمریکا برای محدود کردن برنامه هستهای ایران در حال بررسی است. به گفته این شرکت پخش آمریکایی، ایالات متحده همچنین در حال بررسی این است که آیا ذخایر اورانیوم غنیشده ایران را ایمن کند یا آنها را به نحوی تحت کنترل خود درآورد. در این راستا، استفاده از یک واحد ویژه مانند «فرماندهی مشترک عملیات ویژه» برای مأموریتهای حساس نیز در حال بررسی است، اما هنوز تصمیم نهایی گرفته نشده است. دونالد ترامپ، رئیس جمهور آمریکا، نیز در بیانیه اخیر خود گفته است که ایالات متحده به اهداف نظامی خود رسیده است و در حال بررسی کاهش عملیات خود در خاورمیانه است، اما او همچنین روشن کرده است که جلوگیری از دستیابی ایران به سلاحهای هستهای هدف اصلی است. طبق گزارش آژانس بینالمللی انرژی اتمی، دیدهبان هستهای سازمان ملل متحد، ایران مقدار زیادی اورانیوم غنیشده تا ۶۰ درصد دارد که برای ساخت سلاح مناسب در نظر گرفته میشود. با این حال، ایران همواره تأکید کرده است که برنامه هستهای آن فقط برای اهداف صلحآمیز است. در همین حال، به نظر میرسد تنشها بین ایران و اسرائیل به جای کاهش، در حال افزایش است. اسرائیل میگوید ایران روز شنبه به حملات موشکی خود ادامه داد، در حالی که عربستان سعودی ادعا میکند که طی چند ساعت گذشته حدود ۲۰ پهپاد را در منطقه شرقی خود سرنگون کرده است. این منطقه به دلیل تأسیسات بزرگ نفتی آن اهمیت دارد.جنگ آمریکا و اسرائیل درس روشنی به ایران آموخته است: رویاهای تغییر رژیم اغلب در مواجهه با واقعیت فرو میریزند. ترور آیتالله سید علی خامنهای، رهبر دیرین ایران، و مرگ چندین فرمانده ارشد در حملات اولیه، در واشنگتن و تلآویو به عنوان آغاز سقوط جمهوری اسلامی تلقی میشد. با این حال، رویدادهای بعدی خلاف این را نشان میدهند. دولت ایران به جای فروپاشی، پایدار مانده و به سرعت رهبری خود را سازماندهی مجدد کرده و اکثر مردم را پشت سر خود متحد کرده است. ظرف چند روز پس از ترور خامنهای، نهاد معنوی قدرتمند ایران، مجلس خبرگان، پسرش، مجتبی خامنهای، را به عنوان رهبر جدید کشور انتخاب کرد. این انتخابات ممکن است بحثبرانگیز به نظر برسد زیرا جمهوری اسلامی همیشه جانشینی موروثی را به عنوان یک اصل حکومت رد کرده است. با این حال، این رأی قاطع دو پیام مهم ارسال کرد: مقاومت در برابر فشار خارجی و تداوم در نظام سیاسی. مجتبی خامنهای، یک عالم طبقه متوسط تحصیل کرده در مدارس قم و جانباز جنگ ایران و عراق، مدتهاست که به عنوان چهرهای تأثیرگذار در پشت صحنه در نظر گرفته میشود. اگرچه او هرگز سمت رسمی نداشت، اما روابط نزدیکی با سپاه پاسداران انقلاب اسلامی برقرار کرد که اکنون ستون فقرات رهبری نظامی و سیاسی ایران است. چنین روابطی در زمان جنگ از سمتهای رسمی مهمتر هستند. انتصاب او، از این نظر، صرفاً نتیجه روابط خانوادگی نیست، بلکه راهبردی برای حفظ انسجام در سطوح بالای جمهوری اسلامی است. برای ایالات متحده و اسرائیل، این جانشینی منظم، روایت مبنی بر اینکه رژیم ایران در آستانه فروپاشی است را پیچیده میکند. دونالد ترامپ، رئیس جمهور، آشکارا از این انتخاب انتقاد کرده و گفته است که او باید در انتخاب رهبری ایران حرفی برای گفتن داشته باشد – بیانیهای که به وضوح هدف واقعی جنگ را نشان میدهد: تغییر رژیم به جای اقدام نظامی محدود. حملات خارجی معمولاً دولتهایی را تقویت میکند که میتوانند در برابر مخالفتهای داخلی مقاومت کنند. ایران نیز از این قاعده مستثنی نیست. در حالی که بسیاری از ایرانیان از مشکلات اقتصادی و تحریمهای سیاسی ناراضی هستند، مداخله خارجی باعث ایجاد وحدت حول یک پرچم مشترک میشود. مشکل استراتژیک برای واشنگتن و تلآویو روشن است: اگر هدف آنها تغییر رژیم باشد، معیار موفقیت بسیار بالا میرود: سرنگونی کامل نظام حاکم بر ایران یا تسلیم بیقید و شرط آن. بدون این، حتی یک درگیری طولانی مدت برای ایران به منزله بقا و به نوعی یک پیروزی تلقی میشود. در عین حال، با گذشت هر روز، خطر تشدید بیشتر درگیری افزایش مییابد که میتواند کل خاورمیانه را درگیر کند و اقتصاد جهانی را بیثبات کند. بزرگترین خطر در محاسبات اشتباه نهفته است. نخست وزیر اسرائیل، نتانیاهو، و رئیس جمهور ترامپ، تحت فشار هستند تا نتایج ملموسی ارائه دهند، حتی اگر پایان جنگ هنوز مشخص نباشد. آنها از روی ناچاری ممکن است وسوسه شوند که به اهداف استراتژیک اضافی یا گزینههای مخربتری حمله کنند. عواقب چنین اقداماتی برای هر کسی فراتر از ایران غیرقابل تصور خواهد بود. صداهای خردمند و تأثیرگذار در واشنگتن باید از درگیری بیشتر جلوگیری کنند و بحران را قبل از رسیدن منطقه به نقطه غیرقابل بازگشت، تحت کنترل درآورندالرئيس الأمريكي يدّعي استمرار المحادثات مع إيران، والجهود الدبلوماسية الباكستانية، وتواصل شهباز شريف مع الرئيس الإيراني، ………………………………..الرئيس الأمريكي يدّعي استمرار المحادثات مع إيران، والجهود الدبلوماسية الباكستانية، وتواصل شهباز شريف مع الرئيس الإيراني،
…;(أصغر علي مبارك)…. زعم الرئيس الأمريكي دونالد ترامب استمرار المحادثات مع إيران، بينما نفت وسائل الإعلام الإيرانية استمرار أي محادثات مع الولايات المتحدة، وعدم وجود أي اتصال بين طهران وواشنطن، سواء بشكل مباشر أو عبر أي وسيط. تجدر الإشارة إلى أن الرئيس ترامب كان قد صرّح يوم الاثنين، في بيان نشره على منصته الاجتماعية “الحقيقة الاجتماعية”، بأن المحادثات التي استمرت يومين مع إيران كانت إيجابية ومثمرة للغاية، وأنه بناءً على هذه المحادثات، سيؤجل العمل العسكري ضد الأهداف النووية الإيرانية لمدة خمسة أيام.
كما ذكر الرئيس الأمريكي أن المحادثات التفصيلية والبناءة ستستمر لمدة أسبوع. ونفت إيران لاحقًا التقارير التي تحدثت عن أي محادثات مع الرئيس ترامب. ورفضت وزارة الخارجية الإيرانية مزاعم ترامب، واصفةً إياها بأنها تكتيك لكسب الوقت.
في غضون ذلك، أجرى رئيس الوزراء الباكستاني شهباز شريف اتصالاً هاتفياً مع الرئيس الإيراني الدكتور مسعود بيشكشيان، وأطلعه على الجهود الدبلوماسية التي تبذلها القيادة الباكستانية، مؤكداً أن باكستان ستواصل دورها البنّاء في تعزيز السلام في المنطقة. وأعرب رئيس الوزراء عن قلقه البالغ إزاء الوضع الخطير الراهن في منطقة الخليج، وشدد على الحاجة المُلحة لخفض التصعيد، وتعزيز الحوار والدبلوماسية، كما أكد على أهمية الوحدة والتضامن بين أبناء الأمة الإسلامية. وقدّم شهباز شريف تهانيه إلى الرئيس الإيراني والشعب الإيراني الشقيق بمناسبة عيد الفطر وعيد النوروز. وردّ الرئيس الإيراني بحرارة على مشاعر رئيس الوزراء، معرباً عن تمنياته الطيبة للشعب الباكستاني. وأعرب رئيس الوزراء عن تضامن باكستان مع الشعب الإيراني الشجاع في ظل التوتر الراهن، وعن حزنه العميق على فقدان الأرواح، داعياً الله أن يمنّ على المصابين والجرحى بالشفاء العاجل والسلامة. في وقت سابق، أكد الرئيس الأمريكي دونالد ترامب مجدداً استمرار المفاوضات مع إيران، قائلاً إن كلاً من إيران والولايات المتحدة ترغبان في التوصل إلى اتفاق، وأن محادثات جرت مع إسرائيل، وأنه مسرور بالتقدم المحرز مؤخراً. وفي فلوريدا، صرّح الرئيس الأمريكي بأنه عازم على حل النزاع مع إيران، وأن إيران ترغب في التوصل إلى اتفاق، وأن محادثات جرت مع المرشد الأعلى الإيراني، وكانت مثمرة للغاية، بشأن الحل الكامل والنهائي للحرب في الشرق الأوسط، وأن محادثات مفصلة وبنّاءة ستستمر طوال الأسبوع، معرباً عن أمله في حل القضية الإيرانية. وادعى الرئيس ترامب أن إيران هي من بادرت بالتواصل للتفاوض، وأنه سُمح لها ببيع النفط المحمّل على سفنها، وأنه لا يستطيع ضمان التوصل إلى اتفاق مع إيران، وأن التوصل إلى اتفاق سيكون بداية جيدة لإيران، وسيكون أيضاً مفيداً لإسرائيل ودول الشرق الأوسط. صرح الرئيس الأمريكي بأنه لا يريد أسلحة نووية، وأنه لا يريد سوى السلام في الشرق الأوسط، وأنه لو امتلكت إيران أسلحة نووية لاحتلت الشرق الأوسط، وأننا تواصلنا مع إسرائيل، وأن إسرائيل سعيدة للغاية، وأن هناك ضمانًا للسلام، وأن إسرائيل تسعى أيضًا إلى سلام دائم. وأضاف أن البلدين اتفقا في المحادثات الأمريكية الإيرانية على العديد من النقاط، وأنه في حال إبرام اتفاق، سيستخدم الأمريكيون اليورانيوم المخصب الإيراني، وأنه لم يتحدث عن الاتفاق، ولم تتحدث إيران عنه، وأنه لن تكون هناك أسلحة نووية ولا حرب، وأننا لا نريد لإيران أن تقترب حتى من امتلاك أسلحة نووية الآن. كما صرح الرئيس الأمريكي بأن آية الله خامنئي قد اغتيل، وأنه لا يعتبر ابنه قائدًا. لقد أنهينا قيادته للمرحلتين الأولى والثالثة. ولم نسمع شيئًا عن المرشد الأعلى الثاني حتى الآن. ولا نعلم إن كان المرشد الأعلى الثاني على قيد الحياة أم لا، ولا يريد أن يكون مجتبى خامنئي هدفًا. تذكروا أن الرئيس الأمريكي دونالد ترامب، أثناء إصداره أوامر بتأجيل الهجمات على محطات الطاقة الإيرانية لمدة خمسة أيام، صرّح بأن المحادثات مع إيران كانت إيجابية ومثمرة. وكان الرئيس الأمريكي قد أعلن يوم الاثنين أن الولايات المتحدة ستؤجل أي هجمات عسكرية محتملة على محطات الطاقة الإيرانية وبنيتها التحتية للطاقة لمدة خمسة أيام. وفي بيان نشره على منصة التواصل الاجتماعي “سوشيال تروث”، قال الرئيس ترامب إنه مسرورٌ بالإبلاغ عن إجراء محادثات إيجابية ومثمرة للغاية بين الولايات المتحدة وإيران خلال اليومين الماضيين، بهدف التوصل إلى حل نهائي وشامل للتوترات القائمة في الشرق الأوسط.أعلن الرئيس الأمريكي دونالد ترامب تأجيلاً لمدة خمسة أيام لشنّ ضربات عسكرية محتملة على محطات الطاقة الإيرانية، إلا أن إيران نفت التقارير التي تتحدث عن أي محادثات مع الولايات المتحدة. وزعمت وسائل الإعلام الإيرانية عدم وجود أي محادثات مع الولايات المتحدة، وعدم وجود أي اتصال مباشر أو غير مباشر بين طهران وواشنطن. وتتناقض مزاعم الرئيس الأمريكي بشأن المحادثات مع الحقائق. فقبل يومين، صرّح الرئيس دونالد ترامب بأنه لا يوجد زعيم في إيران يمكن إجراء محادثات معه، ثم عاد ليُعلن عن إجراء محادثات مع إيران. وقالت وسائل الإعلام الإيرانية إن الرئيس الأمريكي أدلى بتصريحه بشأن المحادثات بعد رد فعل قوي وتهديد من إيران، بينما قال مسؤول إيراني إن ترامب تراجع عن موقفه بعد تحذير إيران. كما صرّحت وزارة الخارجية الإيرانية بأنه لا يوجد أي اتصال بين الولايات المتحدة وإيران، وأن تصريح ترامب الأخير يهدف إلى خفض أسعار الطاقة وكسب الوقت لتنفيذ خططه العسكرية، وأن هناك بعض الإجراءات لتهدئة التوترات، وأن على الولايات المتحدة نفسها التفاوض بشأن هذه القضية لأنها لم تبدأ هذه الحرب، وأن ترامب ربما يحاول كسب الوقت قبل القيام بخطوة كبيرة، وأن كل هذا مجرد تضليل. من جهة أخرى، صرّح المتحدث باسم الأمن القومي الإيراني، إبراهيم رضائي، في بيان له، بأن الحرب مستمرة، وأن العدو قد مُني بهزيمة أخرى، وأن ترامب والولايات المتحدة قد هُزما مجدداً. وفي غضون ذلك، وبعد إعلان الرئيس الأمريكي، جرى اتصال بين وزيري خارجية إيران وروسيا، حيث دعا وزير الخارجية الروسي، سيرغي لافروف، إلى وقف فوري لإطلاق النار، مؤكداً على ضرورة إيجاد حل يراعي المصالح المشروعة لإيران وجميع الأطراف. يُذكر أن الرئيس دونالد ترامب، في بيان نُشر على منصة “الحقيقة الاجتماعية”، قال إن الولايات المتحدة وإيران أجرتا محادثات “جيدة ومثمرة للغاية” خلال اليومين الماضيين، بهدف إنهاء التوترات في الشرق الأوسط بشكل كامل. وأضاف أنه تم تأجيل أي عمل عسكري ضد البنية التحتية للطاقة الإيرانية لمدة خمسة أيام ريثما تُعرف نتائج المحادثات الجارية. وجاء إعلان ترامب في وقت مُنحت فيه إيران مهلة 48 ساعة لفتح مضيق هرمز أمام جميع السفن، وقد انتهت هذه المهلة اليوم. نقل التقرير عن مصدر قوله إن ترامب غيّر موقفه خشية رد إيراني محتمل. وكانت إيران قد حذّرت من أنها ستهاجم محطات الطاقة الإسرائيلية والمنشآت التي تزود القواعد الأمريكية في منطقة الخليج بالكهرباء في حال استهداف محطاتها. وفي الوقت نفسه، أفاد مصدر بأن واشنطن أطلعت إسرائيل على محادثاتها مع إيران، وأن إسرائيل من المرجح أن تمتنع مؤقتًا عن استهداف البنية التحتية للطاقة الإيرانية، إلا أنه لم يصدر أي رد فوري من مكتب رئيس الوزراء الإسرائيلي. في غضون ذلك، انتعشت الأسواق العالمية عقب تصريح ترامب، حيث انخفضت أسعار خام برنت مؤقتًا إلى ما دون 100 دولار للبرميل بعد انخفاضها بنسبة 13% تقريبًا.انخفضت أسعار النفط بشكل حاد في السوق العالمية بعد إعلان الرئيس الأمريكي دونالد ترامب تأجيل الهجمات على محطات الطاقة الإيرانية لمدة خمسة أيام. وقد شهد الوضع العالمي تطوراً هاماً، مع ظهور بوادر انفراجة في التوترات بين الولايات المتحدة وإيران. وفي آخر التطورات، أكد الرئيس الأمريكي دونالد ترامب استمرار المحادثات المباشرة والإيجابية مع إيران. وعقب تصريح الرئيس ترامب، تفاعلت سوق النفط العالمية على الفور، وانخفضت أسعار النفط بشكل حاد. فقد انخفض سعر خام برنت بأكثر من 14% إلى 96 دولاراً للبرميل، بينما انخفض سعر خام غرب تكساس الوسيط أيضاً إلى 84.37 دولاراً للبرميل. ووفقاً لخبراء الاقتصاد، يشير هذا الانخفاض الأخير إلى أن المستثمرين قد غيروا استراتيجياتهم السوقية تحسباً لانفراجة محتملة في التوترات. وقال الرئيس الأمريكي في بيانه إن محادثات إيجابية ومثمرة للغاية جرت بين الولايات المتحدة وإيران خلال اليومين الماضيين، بهدف إنهاء التوترات القائمة في الشرق الأوسط بشكل كامل. وستستمر المحادثات في الأيام المقبلة، في حين أجلت الولايات المتحدة الهجمات المحتملة على منشآت الطاقة الإيرانية في الوقت الراهن، وهو ما يوصف بأنه خطوة مهمة نحو خفض التوترات. يقول المحللون إنه إذا استمرت المفاوضات على هذا المنوال، فسيتحقق الاستقرار في المنطقة، مما سيكون له أثر إيجابي على الاقتصاد العالمي وأسواق الطاقة. يُذكر أن إيران هددت مجدداً بزرع ألغام في البحر، وحذرت من أنه في حال تعرض سواحلها الجنوبية أو جزرها لهجوم، فسيتم إغلاق جميع الممرات البحرية في الخليج. ووفقاً لوكالة الأنباء البريطانية، صرح مجلس الدفاع الإيراني في بيان له بأن أي محاولة لاستهداف المناطق الساحلية أو الجزر الإيرانية ستؤدي إلى إغلاق جميع الممرات في الخليج، وإطلاق أنواع مختلفة من الألغام البحرية، بما في ذلك الأنفاق العائمة، من الساحل. ويرى مسؤولون إيرانيون أنه في مثل هذه الحالة، قد يتحول الخليج بأكمله إلى حالة شبيهة بمضيق هرمز لفترة طويلة، مما سيؤثر بشدة على الملاحة العالمية. وأضاف مجلس الدفاع الإيراني أن أكثر من 100 كاسحة ألغام تم نشرها لإزالة الألغام في ثمانينيات القرن الماضي لم تحقق نجاحاً يُذكر، لذا ستكون عواقب مثل هذا العمل وخيمة. من جهة أخرى، تشير تقارير إعلامية إلى أن الولايات المتحدة تدرس خططاً للاستيلاء على جزيرة خارك، وهي مركز تصدير نفطي رئيسي، أو فرض حصار عليها، للضغط على إيران لإجبار طهران على فتح مضيق هرمز أمام جميع السفن. كما أعلن مجلس الدفاع الإيراني أن على الدول غير المتحاربة التنسيق مع إيران لعبور مضيق هرمز.جنگ آمریکا و اسرائیل درس روشنی به ایران آموخته است: رویاهای تغییر رژیم اغلب در مواجهه با واقعیت فرو میریزند. ترور آیتالله سید علی خامنهای، رهبر دیرین ایران، و مرگ چندین فرمانده ارشد در حملات اولیه، در واشنگتن و تلآویو به عنوان آغاز سقوط جمهوری اسلامی تلقی میشد. با این حال، رویدادهای بعدی خلاف این را نشان میدهند. دولت ایران به جای فروپاشی، پایدار مانده و به سرعت رهبری خود را سازماندهی مجدد کرده و اکثر مردم را پشت سر خود متحد کرده است. ظرف چند روز پس از ترور خامنهای، نهاد معنوی قدرتمند ایران، مجلس خبرگان، پسرش، مجتبی خامنهای، را به عنوان رهبر جدید کشور انتخاب کرد. این انتخابات ممکن است بحثبرانگیز به نظر برسد زیرا جمهوری اسلامی همیشه جانشینی موروثی را به عنوان یک اصل حکومت رد کرده است. با این حال، این رأی قاطع دو پیام مهم ارسال کرد: مقاومت در برابر فشار خارجی و تداوم در نظام سیاسی. مجتبی خامنهای، یک عالم طبقه متوسط تحصیل کرده در مدارس قم و جانباز جنگ ایران و عراق، مدتهاست که به عنوان چهرهای تأثیرگذار در پشت صحنه در نظر گرفته میشود. اگرچه او هرگز سمت رسمی نداشت، اما روابط نزدیکی با سپاه پاسداران انقلاب اسلامی برقرار کرد که اکنون ستون فقرات رهبری نظامی و سیاسی ایران است. چنین روابطی در زمان جنگ از سمتهای رسمی مهمتر هستند. انتصاب او، از این نظر، صرفاً نتیجه روابط خانوادگی نیست، بلکه راهبردی برای حفظ انسجام در سطوح بالای جمهوری اسلامی است. برای ایالات متحده و اسرائیل، این جانشینی منظم، روایت مبنی بر اینکه رژیم ایران در آستانه فروپاشی است را پیچیده میکند. دونالد ترامپ، رئیس جمهور، آشکارا از این انتخاب انتقاد کرده و گفته است که او باید در انتخاب رهبری ایران حرفی برای گفتن داشته باشد – بیانیهای که به وضوح هدف واقعی جنگ را نشان میدهد: تغییر رژیم به جای اقدام نظامی محدود. حملات خارجی معمولاً دولتهایی را تقویت میکند که میتوانند در برابر مخالفتهای داخلی مقاومت کنند. ایران نیز از این قاعده مستثنی نیست. در حالی که بسیاری از ایرانیان از مشکلات اقتصادی و تحریمهای سیاسی ناراضی هستند، مداخله خارجی باعث ایجاد وحدت حول یک پرچم مشترک میشود. مشکل استراتژیک برای واشنگتن و تلآویو روشن است: اگر هدف آنها تغییر رژیم باشد، معیار موفقیت بسیار بالا میرود: سرنگونی کامل نظام حاکم بر ایران یا تسلیم بیقید و شرط آن. بدون این، حتی یک درگیری طولانی مدت برای ایران به منزله بقا و به نوعی یک پیروزی تلقی میشود. در عین حال، با گذشت هر روز، خطر تشدید بیشتر درگیری افزایش مییابد که میتواند کل خاورمیانه را درگیر کند و اقتصاد جهانی را بیثبات کند. بزرگترین خطر در محاسبات اشتباه نهفته است. نخست وزیر اسرائیل، نتانیاهو، و رئیس جمهور ترامپ، تحت فشار هستند تا نتایج ملموسی ارائه دهند، حتی اگر پایان جنگ هنوز مشخص نباشد. آنها از روی ناچاری ممکن است وسوسه شوند که به اهداف استراتژیک اضافی یا گزینههای مخربتری حمله کنند. عواقب چنین اقداماتی برای هر کسی فراتر از ایران غیرقابل تصور خواهد بود. صداهای خردمند و تأثیرگذار در واشنگتن باید از درگیری بیشتر جلوگیری کنند و بحران را قبل از رسیدن منطقه به نقطه غیرقابل بازگشت، تحت کنترل درآورند.




