دنیا نے 9/11 کے واقعے سے سبق نہیں سیکھا
( اصغر علی مبارک)
11 ستمبر کے واقعات کو گزرے طویل عرصہ ہو چکا ہے، دنیا بھر میں 9/11 کے المناک واقعات کی 25 ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ آج سے ٹھیک 25 سال قبل، 11 ستمبر 2001 کو امریکہ پر ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کی تاریخ، سیاست اور سیکیورٹی کے نظام کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا تھا۔اس چوتھائی صدی (25 سال) کے سفر کے بعد، اگر ہم عالمی امن، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اور خصوصی طور پر اپنے خطے (جنوبی ایشیا اور پاک افغان صورتحال) پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں، تو چند اہم ترین حقائق سامنے آتے ہیں:بدلتا ہوا سیکیورٹی منظرنامہ: 9/11 کے بعد شروع ہونے والی “دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ” (War on Terror) کے کئی مراحل گزر چکے ہیں۔ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہو چکا ہے، لیکن دہشت گردی کے خطرات ختم ہونے کے بجائے اب ‘فتنہ الخوارج’ (TTP) اور ‘داعش خراسان’ (ISKP) جیسے نئے اور زیادہ مہلک روپ دھار چکے ہیں۔ٹیکنالوجی کی جنگ: 25 سال پہلے حملوں کے لیے روایتی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا، جبکہ آج شرپسند عناصر جدید ترین امریکی اسلحہ، نائٹ ویژن آلات، سائبر نیٹ ورکس اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے پاکستانی فورسز سمارٹ بارڈر مینجمنٹ کا سہارا لے رہی ہیں۔انسانی اور معاشی قیمت: اس طویل عرصے میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا نے جانی اور مالی طور پر سب سے بھاری قیمت چکائی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کے 80,000 سے زائد شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں نے قربانیاں دیں۔ لیکن آج بھی عالمی منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ایسے کئی عوامل نظر آتے ہیں جو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا دنیا نے واقعی اس المیے سے درست اسباق سیکھے؟افغانستان کی صورتحال نے روس، چین اور پاکستان جیسے علاقائی ممالک کو ایک نئے سیکیورٹی اتحاد پر مجبور کر دیا ہے (جیسے حال ہی میں روس اور پاکستان کے درمیان سیکیورٹی معاہدہ)۔ جب تک کابل حکومت اپنی سر زمین کو پڑوسیوں کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی، تب تک جنوبی ایشیا میں امن کا قیام ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
جنوبی ایشیا اس وقت متعدد اندرونی اور بیرونی خطرات کی زد میں ہے، جہاں روایتی سیکیورٹی چیلنجز کے ساتھ ساتھ نئے غیر روایتی خطرات نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔موجودہ منظر نامے میں جنوبی ایشیا کو درپیش خطرات درج ذیل ہیں:
شرپسند عناصر ایک بار پھر عالمی امن کے خلاف متحد ہو گئے ہیں,یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ فکر ہے جس پر دنیا بھر کے دانشور، تجزیہ کار اور عام لوگ غور کر رہے ہیں عالمی امن کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس مسئلے کے دونوں پہلوؤں پر غور کیا جا سکتا ہے:
وہ عوامل جواس مسئلے کی تشویش کی تائید کرتے ہیں , روایتی نیٹ ورکس کے ساتھ ساتھ اب “تنہا حملہ آور” اور سائبر دہشت گردی جیسے نئے خطرات ابھرے ہیں، جن سے نمٹنا مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔
بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی (جیسے یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات، اور تائیوان کا مسئلہ) نے عالمی امن کو مزید نازک بنا دیا ہے۔
جب بڑی طاقتیں آپس میں الجھتی ہیں، تو شرپسند عناصر کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نفرت انگیز بیانیے، اسلامو فوبیا، اور انتہا پسندانہ نظریات کا پھیلاؤ پہلے سے زیادہ آسان اور تیز ہو گیا ہے۔9/11 کے بعد دنیا بھر کے ممالک کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ اور سیکیورٹی تعاون میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ کئی بڑے نیٹ ورکس کو کامیابی سے توڑا گیا ہے۔دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے FATF جیسے بین الاقوامی اداروں نے سخت قوانین متعارف کروائے ہیں، جس سے شرپسند عناصر کے لیے فنڈز کا حصول مشکل ہوا ہےعالمی سطح پر بین المذاہب ہم آہنگی اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کو حل کرنے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں، تاکہ جنگوں کے بجائے بات چیت کو فروغ دیا جا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ عالمی امن کا تحفظ ایک مسلسل جدوجہد ہے۔ جب تک دنیا بھر کے ممالک اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر غربت، جہالت، اور ناانصافی جیسے بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتے، تب تک پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج (TTP) اور ان کے سہولت کاروں کی جانب سے جدید ترین امریکی و نیٹو اسلحے، نائٹ ویژن آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی بارڈر مینجمنٹ اور سیکیورٹی حکمتِ عملی میں انتہائی اہم اور انقلابی تبدیلیاں کی ہیں۔موجودہ وقت میں پاک افغان سرحد پر کی جانے والی بڑی دفاعی اور تزویراتی تبدیلیاں درج ذیل ہیں:
“زیرو ٹالرنس” اور فعال دفاعی حکمتِ عملی (Kinetic Retaliation)دفاعی پوزیشن سے جارحانہ پوزیشن: پاکستان نے افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گٹھ جوڑ کے خلاف ‘زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی اپنائی ہے۔ سیکیورٹی فورسز اب صرف دراندازی روکنے تک محدود نہیں رہیں، بلکہ خطرہ محسوس ہوتے ہی سرحد پار دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور ٹھکانوں پر فوری فضائی کارروائی (Pre-emptive Air Strikes) کی جاتی ہے۔
آپریشن غضب للحن / غضب الحق: سرحد پار سے ہونے والے حملوں کے جواب میں فورسز نے جدید فضائی اور زمینی آپریشنز کے ذریعے دراندازوں کو سرحد پر ہی مؤثر انداز میں نشانہ بنانا شروع کیا ہے، جس کے تحت حال ہی میں متعدد دراندازیوں کو ناکام بنا کر دجنوں خوارج کو ہلاک کیا گیا ہے,
اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی اور فضائی نگرانی (Anti-Drone Systems)چونکہ خوارج نے حال ہی میں کواڈ کاپٹر اور FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کیا ہے، اس لیے پاکستانی فوج نے سرحد پر جدید اینٹی ڈرون جیمرز اور سراغ رساں نظام نصب کیے ہیں۔سرحدوں پر نگرانی کے لیے پاکستان نے اپنے جاسوس اور مسلح ڈرونز (UAVs) کی تعداد اور گشت میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے تاکہ رات کے اندھیرے میں ہونے والی نقل و حرکت کا فوری سراغ لگایا جا سکے۔خیبر پختونخوا پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے مابین مشترکہ طور پر ڈرون اور اینٹی ڈرون جنگی حربوں (جیسے حال ہی میں ہونے والی ‘میڈن سٹرائیک’ مشقیں) کی خصوصی تربیت کا آغاز کیا گیا ہے۔ سمارٹ بارڈر فینسنگ اور الیکٹرانک مانیٹرنگ;روایتی خاردار تاروں (Fencing) کو اب الیکٹرانک اور آپٹیکل سنسرز سے لیس کیا گیا ہے۔ اگر خوارج تار کاٹنے یا ان کے پاس سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو سیکیورٹی فورسز کے کنٹرول روم کو فوری الرٹ موصول ہو جاتا ہے۔نائٹ ویژن اور تھرمل امیجنگ کیمروں کے نئے نیٹ ورکس قائم کیے گئے ہیں تاکہ خوارج کے پاس موجود امریکی نائٹ ویژن آلات کا اثر زائل کیا جا سکے اور سیکیورٹی فورسز اندھیرے یا دھند میں بھی ان کا دور سے ہی سراغ لگا سکیں
سخت بارڈر کنٹرول اور ون ڈاکیومنٹ ریجیم (One-Document Regime)آمد و رفت کے روایتی طریقہ کار کو مکمل طور پر ختم کر کے اب پاک افغان سرحد پر صرف اور صرف قانونی پاسپورٹ اور ویزا کی شرط لازمی کر دی گئی ہے۔چمن، تورخم اور غلام خان جیسے بڑے سرحدی راستوں پر بائیومیٹرک تصدیق کا سخت نظام نافذ کیا گیا ہے تاکہ پناہ گزینوں یا تاجروں کے بھیس میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا راستہ روکا جا سکے۔
انٹیلی جنس پر مبنی فوری کارروائیاں (IBOs)سرحد کے قریبی اضلاع (جیسے شمالی و جنوبی وزیرستان، کرم اور ژوب) میں مقامی انٹیلی جنس نیٹ ورکس کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا ہے۔ خوارج کے درانداز گروہ جیسے ہی سرحد کے قریب پہنچتے ہیں، سیکیورٹی فورسز کو پہلے سے اطلاع مل جاتی ہے اور 36، 36 گھنٹے طویل آپریشنز کر کے انہیں سرحد پر ہی ڈھیر کر دیا جاتا ہے۔پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی ان جدید اور سخت تبدیلیوں کی بدولت اب فتنہ الخوارج کے لیے پاکستان میں داخل ہونا انتہائی مشکل اور مہلک ترین بن چکا ہے۔ونوں پڑوسی ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر اور ہائبرڈ وارفیئر سائبر حملے اور پراکسیز) کی وجہ سے تعلقات تعطل کا شکار ہیں۔ چونکہ دونوں جوہری طاقتیں ہیں، اس لیے کوئی بھی چھوٹی غلط فہمی بڑے حادثے کو جنم دے سکتی ہے۔ افغانستان سے ابھرنے والے سیکیورٹی چیلنجز اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد خطے کو امید تھی کہ وہاں استحکام آئے گا، لیکن زمینی حقائق انتہائی پیچیدہ اور تشویشناک رخ اختیار کر چکے ہیں۔موجودہ وقت (2026) میں افغانستان کی سرزمین سے ابھرنے والے بڑے سیکیورٹی چیلنجز درج ذیل ہیں:
فتنہ الخوارج (TTP) کی سرحد پار دراندازی اور پناہ گاہیں ;پاکستان کے لیے سب سے بڑا اور فوری خطرہ تحریک طالبان پاکستان (TTP) ہے، جسے اب سرکاری طور پر فتنہ الخوارج کا نام دیا گیا ہے۔محفوظ پناہ گاہیں: یہ گروہ افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ افغان طالبان نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔بارڈر فورسز کے درمیان شدید تصادم: سرحد پار سے بڑھتے ہوئے حملوں کے جواب میں پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی سٹرائیکس (جیسے حال ہی میں جاری رہنے والا ‘آپریشن غضب للحن’) کیں، جس کے باعث پاک افغان سرحد پر طویل عرصے تک “اوپن وار” اور بھاری گولہ باری کا ماحول رہا ہے۔ فورسز مسلسل دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنا رہی ہیں (جیسے کرم اور وزیرستان ایجنسی میں حالیہ افغان خوارج کی ہلاکتیں)۔ داعش خراسان (ISKP) کا عالمی خطرہداعش (خراسان) اس وقت افغان طالبان اور خطے کی دیگر طاقتوں کے لیے سب سے بڑا مشترکہ چیلنج بن کر ابھری ہے۔
علاقائی اور عالمی اہداف: داعش صرف افغانستان تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وسطی ایشیا، پاکستان، ایران اور حتیٰ کہ مغربی ممالک پر بھی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
طالبان کی کمزوری: اگرچہ طالبان نے داعش کے خلاف کچھ کارروائیاں کی ہیں، لیکن وہ اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر کچلنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ خطہ بین الاقوامی دہشت گردی کا نیا مرکز بننے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں ;افغانستان کی سرزمین صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے لیے بھی خطرہ بنی ہوئی ہے:
القاعدہ اور الایغور گروپس (ETIM): افغانستان میں القاعدہ کی دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ چینی مفادات کے خلاف کام کرنے والی ترکستان اسلامک پارٹی (ETIM) اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے خلاف سرگرم عسکریت پسند بھی وہاں موجود ہیں
غیر قانونی اسلحہ کا پھیلاؤامریکی افواج کے انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑا جانے والا اربوں ڈالر کا جدید ترین امریکی اور نیٹو اسلحہ (نائٹ ویژن سائٹس، انکرپٹڈ مواصلاتی آلات، اور جدید رائفلیں) بلیک مارکیٹ کے ذریعے فتنہ الخوارج اور دیگر شرپسند عناصر کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ دہشت گرد اب سیکیورٹی فورسز کے خلاف زیادہ مہلک حملے کرنے کے قابل ہو گئے ہیں
افغان مہاجرین اور سرحدوں کی بندش;
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان کی جانب سے لاکھوں غیر قانونی افغان شہریوں کی بے دخلی اور سخت بارڈر مینجمنٹ کے باعث دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔چمن اور تورخم بارڈر کی بار بار بندش سے نہ صرف دوطرفہ تجارت تباہ ہوئی ہے بلکہ اسمگلنگ اور افغان پناہ گزینوں کی آڑ میں دہشت گردوں کے سرحد پار آنے جانے کا خطرہ بھی برقرار ہے۔
داخلی خانہ جنگی کا خطرہ;
افغانستان کے اندر بھی طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف مسلح مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ سابق افغان فوجی کمانڈرز کی زیرِ قیادت ‘افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ’ (AUF) جیسے گروپس نے بدخشان اور قندھار جیسے علاقوں میں طالبان کے خلاف کامیاب گوریلا کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔
افغانستان کا یہ اندرونی عدم استحکام کسی بھی وقت نئی خانہ جنگی کو جنم دے سکتا ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد عبوری استحکام تو آیا، لیکن داعش (خراسان) اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) جیسے گروپس کی خطے میں موجودگی پاکستان اور دیگر پڑوسیوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ خطے کے مختلف ممالک میں مذہبی اور نظریاتی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔ بھارت میں ہندوتوا سیاست اور پاکستان و بنگلہ دیش میں داخلی سیاسی و مذہبی پولرائزیشن سماجی امن کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ جنوبی ایشیا امریکہ اور چین کی عالمی مسابقت کا میدان بن چکا ہے۔ چین اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، جبکہ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر اسے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سے چھوٹے ممالک جیسے نیپال، سری لنکا پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سری لنکا کے حالیہ معاشی بحران، اور پاکستان و مالدیپ پر بیرونی قرضوں کے بوجھ نے خطے کو کمزور کیا ہے۔ اقتصادی بدحالی براہِ راست امن و امان کی خرابی اور عوامی احتجاج کا سبب بنتی ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ غیر متوقع سیلاب، گرمی کی لہریں، اور گلیشیئرز کا پگھلنا نہ صرف انسانی زندگیوں کو نگل رہا ہے بلکہ خوراک اور پانی کی قلت (Water Scarcity) کا باعث بن رہا ہے، جو مستقبل میں جنگوں کی وجہ بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے فیک نیوز (Fake News) کا پھیلاؤ اور ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سائبر حملے اب ایک باقاعدہ ہتھیار بن چکے ہیں، جو عوام میں ہیجان پیدا کرتے ہیں۔