قومی معاشی ہنگامی صورتحال: وفاقی حکومت کا 3 ماہ کے لیے سخت “کفایت شعاری مہم” کا نفاذ، نوٹیفکیشن جاری
رپورٹ: اصغر علی مبارک (سینئر صحافی و کالم نگار)
اسلام آباد، 17 ستمبر 2026ء: پٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں اور شدید معاشی دباؤ کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے ملک بھر میں ایندھن اور توانائی کی بچت کے لیے 3 ماہ کی مدت پر محیط سخت “کفایت شعاری مہم” کا باقاعدہ نفاذ کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سفارشات پر غور کے بعد ان اقدامات پر فوری عملدرآمد کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اس مہم کے تحت جہاں کاروباری اوقات کار کو محدود کیا گیا ہے، وہاں سرکاری اخراجات اور ایندھن کے کوٹے میں بھی تاریخی کٹوتی کی گئی ہے۔
کاروباری، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے نئے اوقاتِ کار

توانائی کی بچت کے لیے ملک بھر میں تجارتی سرگرمیوں کو درج ذیل اوقات کا پابند بنایا گیا ہے:
- دکانیں اور شاپنگ مالز: تمام بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 9 بجے لازمی بند کر دیے جائیں گے۔
- شادی ہالز اور مارکیز: شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے بند ہوں گے، جبکہ شادی کی تقریبات میں صرف ایک ڈش (ون ڈش) پیش کرنے کی اجازت ہوگی۔
- ریسٹورنٹس اور کیفے: تمام ریسٹورنٹس اور فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے بند کر دیے جائیں گے، تاہم ہوم ڈیلیوری اور ٹیک اوے کی سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
اوقاتِ کار کی پابندی سے مستثنیٰ شعبے
عوام کی سہولت کے لیے ہنگامی اور ضروری شعبوں کو اوقات کار کی پابندی سے آزاد رکھا گیا ہے، جن میں فارمیسیز، ہسپتال، کلینکس، میڈیکل لیبارٹریز، پٹرول پمپس، بیکریاں، تندور، دودھ و ڈیری شاپس، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز اور جم (Gym) شامل ہیں۔
سرکاری ایندھن اور بجٹ میں 50 فیصد تک بھاری کٹوتی
حکومتی سطح پر اخراجات کم کرنے کے لیے نوٹیفکیشن میں درج ذیل سخت ترین اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے:
- سرکاری گاڑیوں کا ایندھن: سرکاری گاڑیوں کے لیے 3 ماہ تک ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد تک نمایاں کمی کی جائے گی۔ تاہم، مسلح افواج، سول آرمڈ فورسز، ضروری سروسز، ایف بی آر (FBR) کی آپریشنل گاڑیاں اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والی گاڑیاں اس کٹوتی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
- بجٹ کٹوتی: مالی سال 2026-27 کے نان ای آر ای (Non-ERE) بجٹ میں 5 فیصد کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا اطلاق ماہانہ بنیادوں پر ہوگا۔ یہ کٹوتی بیرونِ ملک قائم پاکستانی مشنز اور وہاں تعینات تمام افسران و اہلکاروں پر بھی لاگو ہوگی، البتہ ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ اس سے محفوظ رہے گا۔
گاڑیوں کی خریداری اور بیرونِ ملک دوروں پر مکمل پابندی
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اقسام کی نئی گاڑیوں اور پائیدار اشیاء (Durable Goods) کی خریداری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے آئی ٹی (IT) سے متعلقہ ضروری سامان کے۔ مزید برآں، 3 ماہ کے لیے تمام سرکاری افسران کے بیرونِ ملک دوروں اور سفر پر مکمل پابندی ہوگی، جس میں لازمی نوعیت کے دورے بھی شامل ہیں، تاہم بین الاقوامی اسکالرشپس کے تحت ہونے والے اسفار اس دائرے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ استثنیٰ کی کسی بھی درخواست پر صرف ‘کیس ٹو کیس’ بنیاد پر غور کیا جائے گا۔
سرکاری اجلاس اور عشائیوں پر نئی پابندیاں
حکومت نے تمام سرکاری محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متبادل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اب ویڈیو کانفرنسنگ کو ترجیح دیں۔ غیر ملکی وفود کے علاوہ کسی بھی قسم کے سرکاری عشائیوں (Dinners) کی میزبان پر مکمل پابندی ہوگی۔ سرکاری فنڈز سے ہونے والے سیمینارز، ٹریننگ پروگرامز اور کانفرنسز نہیں ہوں گی، اور ناگزیر سرکاری تقریبات کے لیے صرف سرکاری آڈیٹوریمز اور کمیٹی رومز استعمال کیے جائیں گے۔
وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت تمام صوبائی اور علاقائی حکومتوں کو بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں اسی نوعیت کے کفایت شعاری اور ایندھن بچت کے اقدامات فوری طور پر اپنائیں




