کوہاٹ حملہ , پاکستانی داخلی سلامتی پر ضرب لگانے کی منظم عالمی سازش
( اصغر علی مبارک )

خیبر پختونخوا کے پرامن اور تزویراتی طور پر اہم ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز پر ہونے والا حالیہ بزدلانہ حملہ پاکستان کی داخلی سلامتی پر ایک کاری ضرب لگانے کی وہ گہری اور منظم بین الاقوامی, عالمی سازش ہے جس کے تانے بانے ایک بار پھر سرحد پار افغانستان سے جا ملے ہیں۔
کوہاٹ کا یہ حملہ دراصل سرحد پار جاری اس مسلسل بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہے جو سیکیورٹی فورسز نے حال ہی میں خوارج کو بارڈر پر دی ہے۔ گزشتہ مہینے ہی غلام خان بارڈر پر دراندازی کی کوشش کرنے والے 15 افغان دہشت گرد مارے گئے تھے، جبکہ شوال اور کرم بارڈر پر بھی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے ان کے ناپاک وجود کو مٹی میں ملا دیا تھا۔
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈ کوارٹرز (پولیس لائنز) کی مسجد پر ہونے والے ہولناک خودکش کار بم حملے میں 15 پولیس اہلکاروں سمیت شہید ہونے والوں کی مجموعی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
جمعہ کے روز جب پولیس اہلکار، ان کے اہل خانہ اور عام شہری مسجد میں نمازِ جمعہ کے لیے جمع ہو رہے تھے، بارود سے لدی ایک تیز رفتار گاڑی کو مسجد کے داخلی راستے سے ٹکرا دیا گیا زوردار دھماکے کے نتیجے میں مسجد کی عمارت کا ایک بڑا حصہ اور چھت زمین بوس ہو گئی جس کے ملبے تلے دجنوں نمازی دب گئے۔
پولیس لائنز کی مسجد میں دہشت گردوں نے جس درندگی کا مظاہرہ کیا، اس نے کفر و اسلام کی جنگ کے دعویدار خوارج کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے جس جرات اور بہادری سے ان آٹھوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر کے کلیئرنس آپریشن مکمل کیا، وہ تو قابلِ فخر ہے ہی، مگر اس کے بعد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپاٹمنٹ (CTD) کی تحقیقات میں جو سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، انہوں نے ہماری سفارتی اور دفاعی حکمتِ عملی کے لیے خطرے کی بہت بڑی گھنٹی بجا دی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کی تصدیق کے مطابق، کوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں خود کو اڑانے والے خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ ایک افغان شہری تھا۔ ایک غیر ملکی کا پاکستان کی حساس ترین سیکیورٹی تنصیبات میں گھس کر خودکش دھماکہ کرنا اس دیرینہ اور تلخ حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ افغان سرزمین آج بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔
یہ واقعہ ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے جو کابل میں عبوری طالبان حکومت کے آنے پر امن کے گیت گا رہے تھے۔ دھماکے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیموں اور پاک فوج کے دستوں نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال کیا گیازخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتالوں منتقل کیا گیا اس بزدلانہ کارروائی کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے وابستہ حافظ گل بہادر گروپ کے ایک ذیلی دھڑے “اتحاد المجاہدین” نے قبول کی ۔ صدرِ مملکت، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی ناپاک سازش قرار دیا ہے。 سعودی عرب سمیت دیگر عالمی برادری کی جانب سے بھی اس دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی گئی ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
حقیقت یہ ہے کہ دوحہ معاہدے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے، افغان طالبان رجیم نے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کے لیے نہ صرف اپنی زمین کو محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے، بلکہ وہاں ان کی نئی بھرتی، جدید ترین نیٹو ہتھیاروں کی فراہمی اور باقاعدہ تربیت کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔اس بزدلانہ حملے میں کانسٹیبلری سے لے کر اعلیٰ قیادت تک، ہمارے 17 پولیس جوانوں اور 6 معصوم شہریوں سمیت 23 قیمتی نفوس نے جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ شہدا میں ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹر رینک کے وہ غازی افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے جوانوں کو پیچھے چھوڑنے کے بجائے فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے جانیں قربان کیں۔ یہاں تک کہ سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی نے خود فرنٹ سے اس پورے آپریشن کی کمانڈ کی اور وہ خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئے۔ یہ قربانیاں ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس لوہے جیسے عزم کو ظاہر کرتی ہیں جس کے سامنے دہشت گردوں کے تمام ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے ہیں۔پاکستانی عسکری قیادت اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے کئی بار دنیا کے سامنے یہ سچائی رکھی ہے کہ کابل انتظامیہ اپنے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ آج صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی میڈیا بھی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ موجودہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں کھلے عام سانس لے رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر کرسٹینا مارکوس لاسن اور عالمی طاقت چین کے مندوب فو کونگ نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ افغانستان میں داعش اور فتنہ الخوارج کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے ایک ٹائم بم بن چکی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔ اب سفارتی احتجاجوں کا وقت گزر چکا، ہمیں افغان سرحد پر باڑ کی نگرانی کو مزید سخت کرنے، افغان شہریوں کے لیے سخت ترین ویزا اور بائیومیٹرک پالیسی نافذ کرنے اور کابل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کے لیے چین اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔ کوہاٹ کے شہدا کا لہو ہم سے اس فتنے کے مکمل خاتمے کا تقاضا کرتا ہے۔ دہشت گردوں نے خودکش بمباروں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دستوں کے ساتھ حملہ کیا۔ ابتدائی دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے پولیس لائنز کے احاطے اور اسپیشل برانچ کی عمارت میں پوزیشنز سنبھال لیں، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ہفتے کے روز تک جاری رہنے والے اس انتہائی پیچیدہ اور حساس کلیئرنس آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں نے عمارتوں کو یرغمال بنانے اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کی اسٹریٹیجی اپنائی تھی، لیکن فورسز کے منظم محاصرے نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ آپریشن کے اختتام پر تمام دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ پولیس کے مطابق، ان میں سے کچھ دہشت گرد اسپیشل برانچ کی عمارت میں بھی گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے جنہیں وہیں پر آمنے سامنے کی لڑائی میں ڈھیر کیا گیا۔ اس پورے آپریشن کی کمانڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی نے خود فرنٹ لائن پر اس کارروائی کی نگرانی کی اور دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے خود بھی زخمی ہوئے اس حملے اور آپریشن کے دوران 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ مختلف فوجی و سویلین ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں ,حملے کے فوراً بعد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور حساس اداروں نے جیو فینسنگ اور فرانزک انویسٹی گیشن کا آغاز کیا۔ تحقیقات کے دوران انتہائی اہم اور ناقابلِ تردید انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق اس پورے حملے کی منصوبہ بندی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مرکز افغانستان تھا۔انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں خود کو اڑانے والے خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ ایک تصدیق شدہ افغان شہری تھا۔ وہ سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہوا اور اسے اس مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے لانچ کیا گیا۔ دوسرے ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت کا عمل سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت فرانزک اور ڈیٹا بیس چیکس کے ذریعے جاری ہے۔ یہ انکشاف اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور دیگر کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین پر بیٹھ کر نہ صرف پاکستانیوں کے خون کا سودا کر رہی ہیں بلکہ وہاں کے شہریوں کو خودکش جیکٹس پہنا کر پاکستان میں داخل کر رہی ہیں کوہاٹ کا یہ حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی مغربی سرحد پر جاری مسلسل دراندازی کی کوششوں کا ایک تسلسل ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے فتنہ الخوارج کے متعدد نیٹ ورکس کو کامیابی سے تباہ کیا ہے اور دراندازی کی بڑی کوششیں ناکام بنائی ہیں ,غلام خان بارڈرگزشتہ ماہ افغانستان سے سرحد عبور کرنے والے 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔سرحد پار سے آنے والے ایک بڑے سیل (Cell) کا صفایا کیا گیا۔شوال (جنوبی وزیرستان)دراندازی کی کوشش کے دوران فورسز کی فوری کارروائی میں 5 دہشت گرد ڈھیر۔وزیرستان کے راستے داخلی علاقوں میں داخلے کا منصوبہ ناکام۔کرم بارڈرفتنہ الخوارج کے عناصر کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگا کر سرحد پر ہی روک دیا گیا۔بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلیجنس شیئرنگ کی افادیت ثابت ہوئی۔ان پے در پے ناکامیوں کے بعد، دہشت گردوں نے بوکھلاہٹ میں آ کر کوہاٹ جیسے گنجان آباد اور شہری اضلاع کی سیکیورٹی تنصیبات کو آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بنانے کی کوشش کی
پاکستانی فوج کے ترجمان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے متعدد پریس کانفرنسز اور آفیشل بیانات میں یہ بات کھل کر کہی ہے کہ افغانستان میں عبوری طالبان حکومت اپنے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ افغان طالبان رجیم فتنہ الخوارج کے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ وہاں نہ صرف ان دہشت گردوں کی نئی بھرتی ہو رہی ہے، بلکہ انہیں جدید ترین امریکی اور نیٹو اسلحہ (جو فورسز کے انخلا کے وقت وہاں رہ گیا تھا) فراہم کیا جا رہا ہے۔ افغان سرزمین پر خوارج کے باقاعدہ تربیتی کیمپس قائم ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور مینوئل گائیڈنس حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کا یہ مؤقف محض ایک یکطرفہ دعویٰ نہیں بلکہ اقوام متحدہ (UN) کی مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس بھی اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر چکے ہیں۔ عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کے زیرِ سایہ 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC): سلامتی کونسل کی صدر کرسٹینا مارکوس لاسن نے اپنے آفیشل جاری کردہ بیان میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا فوری خاتمہ کرے اور ان کی مالی و لاجسٹک معاونت کو روکے۔چین کا مؤقف: اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب، فو کونگ نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعش (ISKP) اور فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے ایک بم ہیں، اور عبوری حکومت کو ان کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کرنا ہوگا۔8۔ مستقبل کی حکمتِ عملی اور سیکیورٹی چیلنجزکوہاٹ حملے کے بعد پاکستان کے سیکیورٹی اور سیاسی مقتدرہ کے لیے یہ واضح ہو چکا ہے کہ اب سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔اس تناظر میں درج ذیل اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں پاک افغان سرحد پر لگی باڑ (Fencing) کی نگرانی کو مزید سخت کرنا اور افغان شہریوں کی پاکستان آمد و رفت کے لیے سخت ویزا پالیسی اور بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی بنانا۔انٹیلیجنس انٹیگریشن: سی ٹی ڈی، پولیس اور عسکری اداروں کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ کو مزید تیز کرنا تاکہ فتنہ الخوارج کے مقامی سلیپر سیلز اور سہولت کاروں کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
افغان عبوری حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کے لیے چین، روس، اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ علاقائی بلاک بنانا تاکہ کابل کو دہشت گردوں کے خلاف مہم شروع کرنے پر مجبور کیا جا سکے
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد کا واقعہ جہاں پاکستانی قوم اور سیکیورٹی فورسز کے لیے گہرے رنج و غم کا باعث ہے، وہی یہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ افغان شہری مطیع اللہ کی بطور خودکش بمبار شناخت نے اس بین الاقوامی نیٹ ورک کا کچا چٹھا کھول دیا ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے کے پیاسے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اور کوہاٹ کے 23 شہدا کا لہو بھی ضائع نہیں جائے گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ داخلی محاذ پر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے تمام نیٹ ورکس کو کچل دیا جائے اور عالمی برادری کابل انتظامیہ کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ پڑوسیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے عناصر کو اپنی زمین فراہم کرنا بند کرے۔




