کوہاٹ دہشت گردی: افغان گٹھ جوڑ اور فتنہ الخوارج کی سرحد پار دراندازی کا تفصیلی احاطہ
1۔ مقدمہ اور پس منظر( اصغر علی مبارک )
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع پولیس لائنز پر ہونے والا حالیہ بزدلانہ حملہ پاکستان کی داخلی سلامتی پر ایک کاری ضرب لگانے کی ناکام کوشش ہے، جس نے ایک بار پھر سرحد پار سے آپریٹ کرنے والے نیٹ ورکس اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ حملہ محض ایک مقامی امن و امان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ اس وسیع تر جیو پولیٹیکل منظر نامے کا حصہ ہے جہاں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پڑوسی ملک کی سرزمین کو مسلسل استعمال کیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے فوری ریسپانس اور کلیئرنس آپریشن کے بعد جو سنسنی خیز تحقیقاتی انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتے ہیں کہ ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے سرحد پار افغانستان میں بیٹھے ماسٹر مائنڈز سے ملتے ہیں۔

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد میں سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری موجود تھے۔ دہشت گردوں کا بنیادی ہدف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست کرنا اور صوبے میں خوف و ہراس کی فضا قائم کرنا تھا۔ تاہم، پاکستانی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے نہ صرف ان کے عزائم کو خاک میں ملایا بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ ملک کی دفاعی اور انٹیلیجنس فورسز کسی بھی قسم کی دراندازی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
2۔ کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: واقعاتی ترتیب اور فورسز کا جوابی ایکشن
جمعہ کے روز کوہاٹ کی حساس ترین تنصیبات میں شمار ہونے والی پولیس لائنز کو نشانہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں نے خودکش بمباروں اور جدید ہتھیاروں سے لیس دستوں کے ساتھ حملہ کیا۔ ابتدائی دھماکے کے بعد حملہ آوروں نے پولیس لائنز کے احاطے اور اسپیشل برانچ کی عمارت میں پوزیشنز سنبھال لیں، جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ہفتے کے روز تک جاری رہنے والے اس انتہائی پیچیدہ اور حساس کلیئرنس آپریشن میں سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔ دہشت گردوں نے عمارتوں کو یرغمال بنانے اور زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانے کی اسٹریٹیجی اپنائی تھی، لیکن فورسز کے منظم محاصرے نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ آپریشن کے اختتام پر خودکش بمبار سمیت تمام 8 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ پولیس کے مطابق، ان میں سے کچھ دہشت گرد اسپیشل برانچ کی عمارت میں بھی گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے جنہیں وہیں پر آمنے سامنے کی لڑائی میں ڈھیر کیا گیا۔ اس پورے آپریشن کی کمانڈ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سی ٹی ڈی (Counter Terrorism Department) کے ایڈیشنل آئی جی نے خود فرنٹ لائن پر اس کارروائی کی نگرانی کی اور دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے خود بھی زخمی ہوئے۔
3۔ انسانی نقصانات اور شہدا کی تفصیلات
اس بزدلانہ حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصانات انتہائی دردناک ہیں، جس نے کانسٹیبلری سے لے کر اعلیٰ قیادت تک کو متاثر کیا ہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق شہدا کی مجموعی تعداد 23 ہو چکی ہے۔
شہدا کی اس تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کا بڑا حصہ شامل ہے:
- پولیس اہلکار: 17 جوانوں اور افسران نے فرض کی راہ میں شہادت نوش کی۔
- عام شہری: 6 نہتے شہری بھی دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بنے۔
- اعلیٰ پولیس قیادت: شہدا میں پولیس کے غازی اور پروفیشنل افسران شامل ہیں جن میں ایس پی (Superintendent of Pakistan)، ڈی ایس پی (Deputy Superintendent of Police)، اور انسپکٹر رینک کے کمانڈرز شامل ہیں جنہوں نے جوانوں کی قیادت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔
- زخمی: اس حملے اور آپریشن کے دوران 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ مختلف فوجی و سویلین ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔
4۔ تحقیقاتی انکشافات: افغان گٹھ جوڑ اور سہولت کاری
حملے کے فوراً بعد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور حساس اداروں نے جیو فینسنگ اور فرانزک انویسٹی گیشن کا آغاز کیا۔ تحقیقات کے دوران انتہائی اہم اور ناقابلِ تردید انکشافات سامنے آئے ہیں جن کے مطابق اس پورے حملے کی منصوبہ بندی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول کا مرکز افغانستان تھا۔
انٹیلیجنس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، کوہاٹ پولیس لائنز مسجد میں خود کو اڑانے والے خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ ایک تصدیق شدہ افغان شہری تھا۔ وہ سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہوا اور اسے اس مخصوص ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے لانچ کیا گیا۔ دوسرے ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت کا عمل سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت فرانزک اور ڈیٹا بیس چیکس کے ذریعے جاری ہے۔ یہ انکشاف اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور دیگر کالعدم تنظیمیں افغان سرزمین پر بیٹھ کر نہ صرف پاکستانیوں کے خون کا سودا کر رہی ہیں بلکہ وہاں کے شہریوں کو خودکش جیکٹس پہنا کر پاکستان میں داخل کر رہی ہیں۔
5۔ سرحد پار دراندازی کی حالیہ لہر اور فورسز کا آہنی ریسپانس
کوہاٹ کا یہ حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی مغربی سرحد پر جاری مسلسل دراندازی کی کوششوں کا ایک تسلسل ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کے ذریعے فتنہ الخوارج کے متعدد نیٹ ورکس کو کامیابی سے تباہ کیا ہے اور دراندازی کی بڑی کوششیں ناکام بنائی ہیں:
| آپریشن کا علاقہ | تفصیلات اور دہشت گردوں کی ہلاکتیں | اثرات و نتائج |
|---|---|---|
| غلام خان بارڈر | گزشتہ ماہ افغانستان سے سرحد عبور کرنے والے 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ | سرحد پار سے آنے والے ایک بڑے سیل (Cell) کا صفایا کیا گیا۔ |
| شوال (جنوبی وزیرستان) | دراندازی کی کوشش کے دوران فورسز کی فوری کارروائی میں 5 دہشت گرد ڈھیر۔ | وزیرستان کے راستے داخلی علاقوں میں داخلے کا منصوبہ ناکام۔ |
| کرم بارڈر | فتنہ الخوارج کے عناصر کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگا کر سرحد پر ہی روک دیا گیا۔ | بارڈر مینجمنٹ اور انٹیلیجنس شیئرنگ کی افادیت ثابت ہوئی۔ |
ان پے در پے ناکامیوں کے بعد، دہشت گردوں نے بوکھلاہٹ میں آ کر کوہاٹ جیسے گنجان آباد اور شہری اضلاع کی سیکیورٹی تنصیبات کو آسان ہدف سمجھ کر نشانہ بنانے کی کوشش کی۔
6۔ پاک عسکری قیادت کا مؤقف اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیانات
پاکستانی فوج کے ترجمان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر (DG ISPR) نے متعدد پریس کانفرنسز اور آفیشل بیانات میں یہ بات کھل کر کہی ہے کہ افغانستان میں عبوری طالبان حکومت اپنے بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے۔ دوحہ معاہدے کے تحت افغان طالبان اس بات کے پابند تھے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق، افغان طالبان رجیم فتنہ الخوارج کے جنگجوؤں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔ وہاں نہ صرف ان دہشت گردوں کی نئی بھرتی ہو رہی ہے، بلکہ انہیں جدید ترین امریکی اور نیٹو اسلحہ (جو فورسز کے انخلا کے وقت وہاں رہ گیا تھا) فراہم کیا جا رہا ہے۔ افغان سرزمین پر خوارج کے باقاعدہ تربیتی کیمپس قائم ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اور مینوئل گائیڈنس حاصل کرتے ہیں۔
7۔ بین الاقوامی توثیق اور عالمی اداروں کی تشویش
پاکستان کا یہ مؤقف محض ایک یکطرفہ دعویٰ نہیں ہے بلکہ اقوام متحدہ (UN) کی مانیٹرنگ ٹیموں کی رپورٹس اور بین الاقوامی تھنک ٹینکس بھی اس پر مہرِ تصدیق ثبت کر چکے ہیں۔ عالمی برادری نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کے زیرِ سایہ 20 سے زائد بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں سرگرمِ عمل ہیں، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے:
- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC): سلامتی کونسل کی صدر کرسٹینا مارکوس لاسن نے اپنے آفیشل جاری کردہ بیان میں افغان طالبان حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کا فوری خاتمہ کرے اور ان کی مالی و لاجسٹک معاونت کو روکے۔
- چین کا مؤقف: اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب، فو کونگ نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس میں واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ افغانستان میں داعش (ISKP) اور فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں علاقائی سلامتی کے لیے ایک بم ہیں، اور عبوری حکومت کو ان کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کرنا ہوگا۔
8۔ مستقبل کی حکمتِ عملی اور سیکیورٹی چیلنجز
کوہاٹ حملے کے بعد پاکستان کے سیکیورٹی اور سیاسی مقتدرہ کے لیے یہ واضح ہو چکا ہے کہ اب سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور کثیر الجہتی حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔
اس تناظر میں درج ذیل اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں:
- بارڈر مینجمنٹ اور بائیومیٹرک چیکس: پاک افغان سرحد پر لگی باڑ (Fencing) کی نگرانی کو مزید سخت کرنا اور افغان شہریوں کی پاکستان آمد و رفت کے لیے سخت ویزا پالیسی اور بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی بنانا۔
- انٹیلیجنس انٹیگریشن: سی ٹی ڈی، پولیس اور عسکری اداروں کے درمیان انٹیلیجنس شیئرنگ کو مزید تیز کرنا تاکہ فتنہ الخوارج کے مقامی سلیپر سیلز اور سہولت کاروں کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔
- جارحانہ سفارت کاری: افغان عبوری حکومت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کے لیے چین، روس، اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ علاقائی بلاک بنانا تاکہ کابل کو دہشت گردوں کے خلاف مہم شروع کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
9۔ نتیجہ
کوہاٹ پولیس لائنز مسجد کا واقعہ جہاں پاکستانی قوم اور سیکیورٹی فورسز کے لیے گہرے رنج و غم کا باعث ہے، وہی یہ ہمارے سیکیورٹی اداروں کے غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ افغان شہری مطیع اللہ کی بطور خودکش بمبار شناخت نے اس بین الاقوامی نیٹ ورک کا کچا چٹھا کھول دیا ہے جو پاکستان کو کمزور کرنے کے پیاسے ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اور کوہاٹ کے 23 شہدا کا لہو بھی ضائع نہیں جائے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ داخلی محاذ پر یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے تمام نیٹ ورکس کو کچل دیا جائے اور عالمی برادری کابل انتظامیہ کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ پڑوسیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے عناصر کو اپنی زمین فراہم کرنا بند کرے۔




