ڈینگی کے خاتمہ کیلئے ڈھوک حسو راولپنڈی میں فوگنگ, الائیڈ ہسپتالوں میں بیڈز کا اضافہ .راولپنڈی ( اصغرعلی مبارک سے ) راولپنڈی میں ڈینگی بخار کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہونے لگا۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور راولپنڈی میں بھی ڈینگی کیسز کی تعداد میں دو ہفتوں سے تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ڈینگی کے خاتمہ کیلئے نواب کالونی ڈھوک حسو راولپنڈی میں مقامی انتظامیہ کی طرف سے فوگنگ کی گی ھے راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ڈینگی لاروہ کی برامدگی اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد ھنگامی بنیادوں کی بنیاد پر اقدامات کیے جارہےہیں۔ راولپنڈی کے علاقوں میں ڈینگی کے مریضوں میں اضافے کے باعث تینوں الائیڈ ہسپتالوں میں الگ سے قائم کئے وارڈوں میں بستروں کا اضافہ کر دیا گیا ہے اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ڈیوٹیاں لگا دی گئی ہیں،ڈینگی وارڈوں میں حفاظتی اقدامات بھی سخت کر دیئے گئے، اس وقت راولپنڈی کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈینگی کیلئے کل 126 بیڈ مختص ہیں جن میں سے 103 بیڈز پر مریض داخل ہیں، ان داخل مریضوں میں سے 35 ڈینگی کے کنفرم مریض ہیں،راولپنڈی سے ہسپتالوں میں اب تک 318 ڈینگی کے کنفرم مریض رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں سے 35 مریض ابھی داخل ہیں بقایا 283 مریض ڈسچارج ہو چکے ہیں، 24 راولپنڈی اور 75 ڈینگی کے مریض اسلام آباد سے رپورٹ ہوئے، رپورٹ ہونے والے راولپنڈی کے مریضوں میں سے 10 کا تعلق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ سے،چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ 4 اور 5 کا تعلق راول ٹاؤن سے ہے، 5پوٹھوہار ٹائون کے ہیں، 24 مریضوں کی رہائش گاہوں اور کام والی جگہوںپر کیس رسپانس جاری ہے، اس سے پہلے رپورٹ ہونے والے 111 مریضوں پر کیس رسپانس حکومتِ پنجاب کے ایس او پیزکے مطابق مکمل کر لیا گیا ہے،ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ایپیڈیمکس پریوینشن اینڈ کنٹرول،ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی ڈاکٹر سجاد محمود کے مطابق اس وقت زیادہ تر کیس راولپنڈی کنٹونمنٹ کے علاقوںمصریال روڈ، رینج روڈ شالے ویلے، ڈھوک مستقیم اور نصیر آباد کے علاقوں سے آ رہے ہیں،اس کے علاوہ اکا دکا کیس ڈھوک حسو، سیٹلائٹ ٹاؤن، چکلالہ اور گنگال سے رپورٹ ہو رہے ہیں، ادھر ہولی فیملی ہسپتال میں پرائیویٹ وارڈ کو ڈینگی وارڈ میں تبدیل کر دیا گیا جہاں پر 70بیڈز ہوں گے، تین شفٹوں میں پیرامیڈیکل سٹاف کی ڈیوٹیوں کا شیدول بھی تر تیب دے دیا گیا ہے۔ڈینگی ایک مچھر سے پھیلنے والی بیماری ہے جو کہ ہر سال تقریبا 100 سے 400 ملین افراد کو متاثر کرتی ہے۔ ڈینگی پھیلانے والے وائرس کو ڈینگی وائرس کہا جاتا ہے؛ اور یہ ایشیا اور لاطینی امریکہ کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ڈینگی بخار کی وجوہات:
اس بیماری کو پھیلانے والی مچھر مادہ ہوتی ہیں۔ مادہ مچھروں کو انڈہ دینے کیلئے خون کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ وہ انسانوں کو کاٹ کر پوری کرتی ہیں۔ کاٹتے ہوئے مادہ مچھر اپنی تھوک نکالتی ہے جو کہ خون کو جمنے نہیں دیتا اور اس دوران وہ اپنے انڈے کیلئے درکار خون حاصل کر لیتی ہے۔
اگر اس تھوک میں ڈینگی وائرس موجود ہو تو اس شخص کو ڈینگی بخار ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ بیماری ڈلیوری کے وقت ماں سے بچے میں اور خون کی منتقلی کے دوران بھی پھیل سکتی ہے۔
ڈینگی بخار کی علامات:
ڈینگی بہت ہی کم مریضوں میں جان لیوا ثابت ہوتا ہے جبکہ ذیادہ تر افراد میں محض نزلہ زکام کی سی کیفیت ہوتی ہے جو کہ کچھ دن تک خود بہ خود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ مزید علامات میں مندرجہ ذیل سر فہرست ہیں:
۔ تیز بخار
۔ سر درد
۔ قے اور متلی
۔ ریش
۔ گلینڈز میں سوزش
۔ آنکھوں کے پیچھے درد
ذیادہ تر تو علامات معمولی ہی رہتی ہیں مگر شدید علامات میں مندرجہ ذیل ہیں:
۔ مستقل قے آنا
۔ شدید پیٹ درد
۔ سانس میں دشواری
۔تھکاوٹ
۔ بے چینی
۔ پیشاب آور پاخانے میں خون آنا
۔ مسوڑوں سے خون آنا
ڈینگی کی تشخیص:
اوپر بتائی گئی علامات کی موجودگی کی صورت میں ڈاکٹر مندرجہ ذیل ٹیسٹس تجویز کر سکتا ہے:
۔ نیوکلیک ایسڈ ایمپلیفیکیشن ٹیسٹ:
یہ ٹیسٹ علامات ظاہر ہونے کے 7 یا اس سے کم دن تک کیا جاتا ہے اور یہ انسان کے سیرم میں وائرس کا جینیٹک میٹیریل کی موجودگی بتاتا ہے۔
۔ سیرولوجیکل ٹیسٹس:
یہ علامات ظاہر ہونے کے 7 دن بعد کیا جاتا ہے۔ یہ ٹیسٹس خون میں وائرس کے خلاف بننے والی اینٹی باڈیز کی موجودگی کا پتہ چلانے ہیں۔ آئی جی اے انفیکشن کے 5 دن بعد جبکہ آئی جی ایم 2 سے 4 ہفتوں بعد بنتی ہیں ۔
دونوں ٹیسٹس کرنے کے بعد ڈاکٹر کی تشخیص بلا شک و شبہ ڈینگی کی بن جاتی ہے۔
ڈینگی کا علاج:
اس بیماری کا کوئی واضح علاج موجود نہیں لہذا ڈاکٹرز علامات کو کم کرنے کیلئے ادویات تجویز کرتے ہیں۔ معمولی علامات کی صورت میں محض پین کلرز جیسا کہ پیناڈال بھی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ اس بیماری کی صورت میں ایسپرین قطعا استعمال نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ اس سے خون بہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
شدید علامات کی صورت میں ہسپتال میں داخل کیا جاتا ہے اور آئی وی لائن کے ذریعے بلڈ ٹرانسفیوژن یا فلوڈز دئے جاتے ہیں۔
ڈینگی بخار سے تحفظ:
اس سے بچاو کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ مادہ مچھروں سے بچیں جو کہ دو طرح ممکن ہے۔ ایک یہ کہ آپ کے مقامی علاقے میں مچھروں کی آبادی پر قابو پایا جائے اور دوسرا آپ ویکسین لگوائیں۔
اس بیماری کی ویکسین(جسے ڈینگویکسیا کہا جاتا ہے) ایک سال میں 3 دفعہ لگائی جاتی ہے مگر اس کی افادیت بھی مکمل نہیں ہے۔ لہذا مندرجہ ذیل تدابیر اختیار کرنا ہی بہترین حکمت عملی ہے:
۔ مچھر بھگاو لوشن کا استعمال کریں
۔ پورے جسم کو ڈھکنے والے کپڑے استعمال کریں
۔ اپنے گھروں کے دروازوں میں سوراخ اور دیگر اوپننگز کو بند کر دیں
۔ گھر میں کہیں پر کھڑے ہوئے پانی کو گرا دیں
اگر آپ کو شک ہے کہ اپکا کوئی عزیز یا آپ خود اس بیماری کا شکار ہیں تو فورا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ شفا فار یو اس کام کو بہت تندہی سے انجام دے رہی ہے۔ ابھی ہمارے آن لائن پلیٹ فارم سے منسلک ڈاکٹرز سے مشاورت حاصل کریں اور گھر بیٹھے اس بیماری کا علاج پائیں۔










