پاک چین سفارتی تعلقات کے 75 سال;انفارمیشن کوریڈور کا آغاز

..(اصغر علی مبارک)
پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر انفارمیشن کوریڈور کا آغاز دونوں ممالک کے درمیان میڈیا تعاون اور عوامی رابطوں کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر تقریبات کا سلسلہ جاری ہے، اسی سلسلے میں اسلام آباد میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زیڈونگ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ہے۔چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ذرائع ابلاغ کے تعاون کو فروغ دینا، معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا اور غلط خبروں و گمراہ کن معلومات کی روک تھام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ کوریڈور پاکستان اور چین کے عوام کے درمیان رابطے کا پل ثابت ہوگا اور میڈیا، معلومات کے تبادلے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے مزید قریب لانے میں مدد دے گا۔ پاک چین دوستی ہر آزمائش میں مضبوط بن کر ابھری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان آہنی بھائی چارہ دوستی کی ایک منفرد مثال ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اس دوستی کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمزکے ذریعے مزید مضبوط بنانا ہے، سی پیک نے توانائی منصوبوں کے ذریعے ترقی کی نئی راہیں کھولی ہیں۔

چینی سفیر جیانگ زیڈونگ نے چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے آغاز پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے اور ایک دوسرے کی ثقافت و روایات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے خلاف گمراہ کن معلومات کا مقابلہ کرنے اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔حکام کے مطابق انفارمیشن کوریڈور کے تحت میڈیا، کاروبار، تحقیقی اداروں اور ثقافت، سیاحت و نوجوانوں کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان طویل عرصے سے جاری دوستی اور مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق مستند معلومات عوام تک پہنچانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) کا دوسرا مرحلہ بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کی تعمیر سے آگے بڑھ کر اب صنعت کاری، کاروباری شراکت داری (B2B)، اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مرکوز ہو چکا ہے۔
یہ نیا رخ پاکستان کے “اڑان” (URAAN 5Es) ترقیاتی فریم ورک اور چین کے جدید اقتصادی ماڈل کے باہمی ہم آہنگی کے تحت طے کیا گیا ہے۔
حکومتِ پاکستان اور چین کے اشتراک کے مطابق، سی پیک فیز 2 کے اس نئے رخ کو 5 سٹریٹجک کوریڈورز میں تقسیم کیا گیا ہے:
1۔ گروتھ کوریڈور (Growth Corridor)

  • صنعتی منتقلی: چین سے مینوفیکچرنگ اور صنعتی یونٹس کو پاکستان منتقل کرنا اور مشترکہ منصوبے (Joint Ventures) قائم کرنا۔
  • خصوصی اقتصادی زونز (SEZs): رشکئی، علامہ اقبال اور دھابیجی جیسے زونز کو فعال بنا کر برآمدات پر مبنی صنعتوں (Export-led industries) کو فروغ دینا۔
    2۔ انوویشن کوریڈور (Innovation Corridor)
  • ڈیجیٹل سلک روڈ: پاکستان میں 5G انفراسٹرکچر، فائبر آپٹکس اور کلاؤڈ ڈیٹا سینٹرز کا قیام۔
  • جدید ٹیکنالوجی: آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ لیبارٹریز کا قیام۔
  • چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور (CPIC): ڈیجیٹل ہائی وے اور سٹریٹجک میڈیا روابط کے ذریعے مس انفارمیشن کا مقابلہ کرنا۔
    3۔ گرین کوریڈور (Green Corridor)
  • سبز توانائی (Green Energy): پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی (سولر اور ونڈ پاور) کے آلات کی مینوفیکچرنگ کو بڑھانا تاکہ 2030 تک 60 فیصد کلین انرجی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
  • ماحولیاتی لچک: پانی کی بچت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپس کا قیام۔
    4۔ لائیولی ہڈ کوریڈور (Livelihood & Agriculture Corridor)
  • جدید زراعت: کارپوریٹ فارمنگ، ہائبرڈ بیجوں کی فراہمی، اور ایگرو پروسیسنگ زونز کے ذریعے زرعی پیداوار اور لائیو سٹاک کی برآمدات میں اضافہ کرنا۔
  • مائننگ اور منرلز: بلوچستان اور دیگر علاقوں کے قدرتی ذخائر کو جدید مائننگ کے ذریعے نکال کر عالمی منڈیوں (بشمول گوادر پورٹ) تک پہنچانا۔
    5۔ علاقائی روابط کوریڈور (Connectivity Corridor)
  • بڑے منصوبوں کی اپ گریڈیشن: کراچی تا پشاور ریلوے ٹریک (ML-1) کی جدید خطوط پر استوار سازی اور شاہراہِ قراقرم (KKH) کے فیز ٹو کی ری الائنمنٹ۔
  • علاقائی تجارتی مرکز: گوادر پورٹ کو مکمل طور پر فعال بنا کر وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان کے لیے لاجسٹکس حب بنانا۔
    سی پیک کا یہ نیا رخ نجی شعبے کی سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے اور پاکستان کے نوجوانوں کو فیوچر اسکلز اسکالرشپس (بشمول AI اور انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم) فراہم کر کے ملکی معیشت کو پائیدار استحکام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
    سی پیک فیز 2 کے تحت کاروبار سے کاروبار (B2B) شراکت داری کا ماڈل اب سرکاری معاہدوں (G2G) کی جگہ لے چکا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے مابین اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے متعدد تاریخی معاہدے طے پا چکے ہیں۔ سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے تناظر میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، وزارتِ منصوبہ بندی اور بیجنگ میں پاکستانی سفارت خانے کے اشتراک سے “پاکستان چائنہ بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنسز” کا ایک ملک گیر اور بین الاقوامی سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت 13 ارب ڈالر سے زائد کا پروجیکٹ پائپ لائن فعال ہے۔پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال (1951-2026) مکمل ہونا دونوں ممالک کے مابین لازوال، سدا بہار اور آہنی دوستی کا ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ دونوں برادر ممالک کے مابین باضابطہ سفارتی تعلقات کا آغاز 21 مئی 1951 کو ہوا تھا، اور سال 2026 میں اس شراکت داری کی “ڈائمنڈ جوبلی” (75ویں سالگرہ) کو یادگار بنانے کے لیے ملک بھر میں خصوصی تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔اس جوبلی سال کی سب سے اہم ترین پیش رفت اسلام آباد میں چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ افتتاح ہے۔ یہ منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے جس کا مقصد میڈیا روابط کو مضبوط بنانا اور سٹریٹجک کمیونیکیشن کو فروغ دینا ہے۔سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک نے سی پیک کو اگلے مرحلے یعنی CPEC 2.0 میں داخل کرنے کا عزم دہرایا ہے۔ اب اس شراکت داری کا مرکز درج ذیل شعبے ہیں:
  • صنعتی ترقی اور خصوصی اقتصادی زونز (SEZs): مقامی سطح پر روزگار اور مینوفیکچرنگ کو بڑھانا۔
  • ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس: جدید مواصلات اور آئی ٹی کے شعبے میں تعاون۔
  • جدید زراعت اور مائننگ: زرعی شعبے میں بہتری کے لیے چین پاکستان کے 2,000 سے زائد گریجویٹس کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ جوبلی سال کے آغاز پر دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے سفارتی تعلقات کے 75 سال کی مناسبت سے ایک خصوصی اور منفرد لوگو کا افتتاح کیا تھا۔
  • پارلیمانی یکجہتی: پاکستان کی قومی اسمبلی نے چینی پارلیمانی وفد کی موجودگی میں اس تاریخی موقع پر ایک متفقہ قرارداد منظور کی، جس میں چین کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی گئی۔ وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام اسلام آباد میں پاک چین ثقافتی شام کا انعقاد کیا گیا جس میں دونوں ممالک کی روایات اور لازوال دوستی کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
  • فضائی اڈوں پر کیک کاٹنے کی تقریبات: لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی اور چینی سفارتی حکام نے مل کر یادگاری کیک کاٹے۔
    یہ 75 سالہ سفر اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر آنے والی تمام تر تبدیلیوں کے باوجود پاک چین تعلقات ہمیشہ ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور فولاد سے زیادہ مضبوط رہے ہیں۔سی پیک فیز 2 کے تحت زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ایم ایل ون ریلوے وہ تین اہم ترین اور انقلابی شعبے ہیں جن پر اس وقت دونوں ممالک کی حکومتیں اور نجی شعبہ سب سے زیادہ سرمایہ کاری اور کام کر رہے ہیں۔ زرعی شعبے میں پاکستان کے تقریباً ایک ہزار سے زائد زرعی ماہرین اور گریجویٹس کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے چین بھیجا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں بیجنگ میں منعقدہ انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان زراعت میں مشترکہ منصوبوں کے لیے 1.34 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے 39 تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چین نے پاکستان کے لیے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری پروٹوکولز کے تحت اپنی مارکیٹ کھول دی ہے جس سے اب پاکستان سے حلال گوشت، آم، چاول، ڈیری پروڈکٹس اور سمندری خوراک بڑے پیمانے پر چین کو ایکسپورٹ کی جا رہی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں چائنا گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشیٹو اور ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن کے اشتراک سے پاکستان میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور روبوٹکس کے شعبوں میں نئی لیبارٹریز اور ریسرچ سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ پاکستانی نوجوانوں کو عالمی ڈیجیٹل منڈیوں کے قابل بنانے کے لیے خصوصی ٹریننگ پروگرامز اور حال ہی میں شروع ہونے والے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے ذریعے سمارٹ ٹیکنالوجیز کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ جہاں تک ایم ایل ون ریلوے منصوبے کا تعلق ہے، کراچی سے پشاور تک 1,733 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اس جدید ترین اپ گریڈیشن کے گراؤنڈ ورک کا باقاعدہ آغاز کراچی پورٹ سے کرنے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اس 6.7 ارب ڈالر کے عظیم الشان منصوبے کا سب سے اہم اور جدید ترین سیکشن کراچی تا روہڑی ہے جس کی لاگت 2.5 ارب ڈالر ہے اور اس کے لیے مالیاتی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کی تکمیل سے ٹرینوں کی رفتار بڑھ کر 120 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے گی اور پاکستان ریلوے کی کارگو یعنی مال برداری کی گنجائش کئی گنا بڑھنے سے ملکی لاجسٹکس کی لاگت میں نمایاں کمی آئے گی۔
    سی پیک فیز 2 کے تحت پاکستان کی زرعی برآمدات کو خام مال (Raw Material) سے ہٹا کر ویلیو ایڈڈ یعنی تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ ہدف کو 5 ارب ڈالر سے بڑھا کر 20 ارب ڈالر تک لے جایا جا سکے۔ چین نے ایک درجن سے زائد نئے سینیٹری اور فائٹو سینیٹری (SPS) پروٹوکولز کی منظوری دی ہے، جس سے پاکستان کے حلال گوشت، آم، کینو، چیری، ڈیری پروڈکٹس اور خشک مرچ کے لیے چین کی بڑی مارکیٹ کھل چکی ہے۔ خاص طور پر چاول کی برآمدات میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں پاکستان نے صرف جنوری سے اگست کے درمیان چین کو 127 ملین ڈالر مالیت کا تقریباً 3 لاکھ 73 ہزار ٹن چاول ایکسپورٹ کیا ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 200 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ بیجنگ انویسٹمنٹ کانفرنس میں چینی کارپوریٹ اداروں نے پاکستان میں کولڈ چین سپلائی، جدید سائلوز (اناج کے گودام) اور ایگرو پروسیسنگ زونز کے لیے 1.34 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں تاکہ ان مصنوعات کو چین کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کی مارکیٹ میں بھی پریمیم پیکجنگ کے ساتھ بھیجا جا سکے۔
    آئی ٹی اور ڈیجیٹل ٹریننگ (IT & Digital Training)
    پاکستان کو نالج اکانومی میں تبدیل کرنے کے لیے آئی ٹی فیز ٹو کا مرکز نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر ہنر مندی ہے۔ اس سلسلے میں چینی کمپنی ہواوے (Huawei) کے ساتھ مل کر پاکستان کے 3 لاکھ نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی میں عالمی معیار کی ٹریننگ دینے کا آغاز کیا گیا ہے۔ پاکستان کو نالج اکانومی میں تبدیل کرنے کے لیے آئی ٹی فیز ٹو کا مرکز نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر ہنر مندی ہے۔ اس سلسلے میں چینی کمپنی ہواوے (Huawei) کے ساتھ مل کر پاکستان کے 3 لاکھ نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکیورٹی میں عالمی معیار کی ٹریننگ دینے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اسی طرح چینی ٹیک کمپنی زیڈ ٹی ای (ZTE) پاکستان میں 1 لاکھ طلبہ کے لیے ملک گیر آئی ٹی پروگرام شروع کر رہی ہے اور پاکستان میں اپنا آٹھواں عالمی ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی ٹریننگ سینٹر قائم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) نے چین کے ساتھ 11 پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کے معاہدے کیے ہیں جن کے تحت پاکستانی طلبہ کو ای کامرس، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی، ڈرون ایپلی کیشنز اور انٹیلیجنس مینوفیکچرنگ میں چین اور پاکستان کے مشترکہ اداروں سے انٹرنیشنلی تسلیم شدہ سرٹیفکیٹس اور دوہری ڈپلومہ ڈگریاں دی جا رہی ہیں۔ایم ایل ون (کراچی تا پشاور) منصوبے کی فنڈنگ کے تعطل کو دور کرنے کے لیے دونوں ممالک نے ایک نیا کثیر الجہتی مالیاتی ماڈل (Consortium Model) تشکیل دیا ہے۔ اب اس 7 ارب ڈالر کے منصوبے کو صرف چینی قرضوں پر چھوڑنے کے بجائے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB)، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (AIIB)، چین اور پاکستان کا مشترکہ کنسورشیم فنڈ کرے گا۔ اس حکمت عملی کے تحت منصوبے کے پہلے مرحلے یعنی کراچی تا روہڑی (480 کلومیٹر) کے اہم ترین سیکشن کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) سے 2 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی گئی ہے۔ چینی حکومت کی رضامندی اور تکنیکی مشاورت کے ساتھ اس پہلے فیز کا گراؤنڈ بریکنگ کا کام اب شروع کیا جا رہا ہے، جبکہ بقیہ روہڑی تا ملتان اور پشاور سیکشنز کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) اور مقامی کمرشل بینکوں سمیت چینی رعایتی فنڈنگ کے معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہےگوادر کو ایک سمارٹ پورٹ سٹی اور وسطی ایشیا کا تجارتی گیٹ وے بنانے کے لیے میرین ٹائم افیئرز ایکشن پلان کے تحت کام کی رفتار انتہائی تیز کر دی گئی ہے۔ پورٹ کی کارگو ہینڈلنگ کی گنجائش میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث رواں سال یہاں سے گزرنے والے کارگو کا حجم گزشتہ تین سالوں کے مجموعی حجم کے برابر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گوادر فری زون کے دوسرے مرحلے (اسٹیج-II) کو 2,200 ایکڑ رقبے پر وسعت دے کر وہاں گوداموں (Warehousing)، کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس سے متعلقہ صنعتوں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو پورٹ کے ساتھ مکمل طور پر لنک کرنے، الیکٹرانک ڈیٹا ایکسچینج متعارف کروانے اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کے فیز ٹو کی تعمیر جیسے اقدامات کے ذریعے گوادر کی اندرونی اور بیرونی مواصلاتی نیٹ ورکنگ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔خیبر پختونخوا میں واقع رشکئی زون اور پنجاب کا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی اس وقت سی پیک فیز 2 کے تحت صنعتی منتقلی (Relocation of Industries) کے سب سے بڑے مراکز بن چکے ہیں۔ ان زونز میں نہ صرف کارخانوں اور فیکٹریوں کے فزیکل انفراسٹرکچر پر کام ہو رہا ہے، بلکہ سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے ٹیکس میں چھوٹ، سستی بجلی اور ون ونڈو آپریشنز کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان زونز کا بنیادی مقصد فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، انجینئرنگ، فوڈ پروسیسنگ اور ہوم اپلائنسز سے وابستہ چینی مینوفیکچررز کو پاکستان منتقل کرنا ہے۔ زمینی ترقی کے لحاظ سے یہاں فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ ورکرز ہاؤسنگ، ریٹیل ایریاز اور جدید ترین لاجسٹکس پارکس کی تعمیر پر عملی کام شروع ہو چکا ہے۔ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لیے بنائے گئے نئے فنڈنگ فریم ورک کے تحت گراؤنڈ ورک کا پہلا باقاعدہ فیز کراچی پورٹ سے شروع کیا جا رہا ہے، جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا بحری تجارتی مرکز ہے۔ اس آغاز کا مقصد کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہونے والے مال بردار بحری جہازوں کے کارگو کو براہِ راست جدید ریلوے ٹریک کے ذریعے ملکی سپلائی چین سے جوڑنا ہے۔ کراچی تا روہڑی (480 کلومیٹر) کے اس پہلے اور اہم ترین سیکشن کے لیے زمین کی پیمائش، سگنلنگ سسٹم کے ڈیجیٹل ڈیزائن اور ٹریک کی دوطرفہ اپ گریڈیشن کا تیکنیکی کام مکمل کیا جا چکا ہے، تاکہ فنڈز کی دستیابی کے ساتھ ہی ٹریک بچھانے کا کام بغیر کسی تعطل کے آگے بڑھایا جا سکے
    گوادر پورٹ فری زون (مرحلہ دوم) میں سرمایہ کاری کے لیے چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC) اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے متعارف کردہ طریقہ کار کے تحت مقامی اور غیر ملکی کاروباری ادارے محدود ذمہ داری کمپنی (LLC) کے طور پر رجسٹرڈ ہو کر کام شروع کر سکتے ہیں۔ اس زون میں انویسٹمنٹ کرنے والے اداروں کو 23 سال کے لیے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے مکمل استثنا حاصل ہے، جبکہ پورٹ اور زون کی تعمیر و آپریشنز کے لیے مشینری، پلانٹ اور آلات کی درآمد پر 40 سالہ ٹیکس ہالیڈے اور کسٹم ڈیوٹی کی سو فیصد معافی دی گئی ہے۔ مزید برآں، غیر ملکی سرمایہ کاروں کو 100 فیصد مالکانہ حقوق، منافع کی مکمل واپسی (Repatriation) کی اجازت، اور 99 سال تک کے لیے پلاٹ لیز پر حاصل کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ اس زون میں بانڈڈ ویئر ہاؤسنگ، کولڈ اسٹوریج، لاجسٹکس، سمندری خوراک (سی فوڈ) کی پروسیسنگ، ایڈیشنبل آئل پروسیسنگ، الیکٹرک وہیکل اسمبلی، اور دیگر ہلکی مینوفیکچرنگ انڈسٹریز لگانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن (CRBC) اور خیبر پختونخوا کے اشتراک سے 1,000 ایکڑ پر تیار ہونے والا رشکئی زون چین سے ہائی ٹیک انڈسٹری کی منتقلی اور علاقائی برآمدات کا سب سے بڑا مرکز بن رہا ہے۔ اس زون میں قائم ہونے والی اور زمین الاٹ پانے والی صنعتوں کے اہم کلسٹرز میں پروسیسنگ اینڈ مینوفیکچرنگ، ہوم اپلائنسز (گھریلو برقی آلات)، فارماسیوٹیکلز (ادویات سازی) اور ہوم بلڈنگ میٹیریلز (تعمیراتی سامان) شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں آٹوموبائل اور ان کے اسپیئر پارٹس کی تیاری، ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر (جدید زرعی پیداوار و پروسیسنگ)، ٹیکسٹائل اور اسٹیل مینوفیکچرنگ کی صنعتیں لگائی جا رہی ہیں، جن میں چینی کارپوریٹ ادارے سینچری اسٹیل کا اسٹیل پلانٹ سب سے نمایاں ہے۔ یہ صنعتی زون اپنی سٹریٹجک لوکیشن کے باعث پنجاب، صوبہ خیبر پختونخوا، افغانستان اور وسطی ایشیا کی مارکیٹوں کو سپلائی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہےبیجنگ اور شینزن انویسٹمنٹ فورمز کے تسلسل میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے مابین ٹیکسٹائل، منرلز، الیکٹرک وہیکلز (EVs) اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں 8.5 ارب ڈالر مالیت کے 21 جوائنٹ وینچرز اور 148 مفاہمت کی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور اور ہانگژو میں منعقدہ حالیہ کانفرنسز کے نتیجے میں چینی مینوفیکچررز رشکئی اور علامہ اقبال اقتصادی زونز میں اپنی انڈسٹریز منتقل کر رہے ہیں۔ ان معاہدوں میں سب سے نمایاں ہوم اپلائنسز اور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کی مقامی سطح پر پروڈکشن ہے، جس کے لیے 50 سے زائد چینی اور پاکستانی کمپنیوں کے مابین کمرشل پارٹنرشپ قائم ہوئی ہے تاکہ ڈالر پر انحصار کم کرنے کے لیے یوآن (RMB) میں براہِ راست تجارتی تصفیہ (Settlement) کو فروغ دیا جا سکے۔اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس معاشی تعاون کے لحاظ سے ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوئی ہے، جہاں دونوں ممالک کی کمپنیوں نے 1.4 ارب ڈالر مالیت کے مجموعی تجارتی معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس میں سے 629.5 ملین ڈالر مالیت کے 22 براہِ راست سرمایہ کاری کے منصوبے شامل ہیں جو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) اور وزارتِ صحت کے تعاون سے فعال ہوں گے۔ ان معاہدوں کا بنیادی مرکز پاکستان میں لائف سیونگ ویکسینز کی لوکل پروڈکشن، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس (APIs) یعنی ادویات کے خام مال کی تیاری، جدید ترین طبی آلات (Medical Devices) کی مینوفیکچرنگ اور کلینیکل ٹرائلز کے لیے مشترکہ ریسرچ ہب قائم کرنا ہے تاکہ پاکستان کی ادویات کی برآمدی صلاحیت میں اضافہ ہو سکے۔ہانگژو اور اسلام آباد میں منعقدہ آئی سی ٹی بی ٹو بی فورمز میں 200 سے زائد پاکستانی اور 400 سے زیادہ چینی کمپنیوں نے شرکت کی، جس کے نتیجے میں سافٹ ویئر، فن ٹیک اور کمیونیکیشن میں کروڑوں ڈالر کے معاہدے ہوئے، جن میں چائنا موبائل اور پاک چائنا انویسٹمنٹ کمپنی کے مابین 5 کروڑ ڈالر کا فنڈنگ معاہدہ بھی شامل ہے۔ زراعت کے شعبے میں سمارٹ ٹیکنالوجی متعارف کروانے کے لیے اگرٹیک بی ٹو بی فریم ورک کے تحت 39 مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت چینی کمپنیاں پاکستان کے مقامی اداروں کے ساتھ مل کر ہائبرڈ بیجوں کی سپلائی، ایڈوانسڈ ایگرو پروسیسنگ پلانٹس اور کولڈ چین لاجسٹکس کے مشترکہ منصوبے لگا رہی ہیں تاکہ حلال گوشت، چاول اور پھلوں کو جدید پریمیم پیکجنگ کے ساتھ چین اور عالمی مارکیٹ میں ایکسپورٹ کیا جا سکے