وزیراعظم پاکستان ,کروم بکس ,مائی فائی انٹرنیٹ ڈیوائسز فراہمی پروگرام
..(اصغر علی مبارک)…وزیراعظم کی ترجیحات میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور مستقبل کے معماروں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔ پانچ لاکھ کروم بکس کی فراہمی ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے
پاکستان کی تاریخ میں نوجوان نسل کو جدید ترین ڈیجیٹل خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک اور انقلابی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے کنونشن سینٹر میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر کے سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے 5 لاکھ ہونہار طلبہ و طالبات کے لیے کروم بکس اور مائی فائی (MyFi) انٹرنیٹ ڈیوائسز کی فراہمی کے تاریخی پروگرام کا باقاعدہ اجرا کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ محض تعلیمی آلات کی تقسیم تک محدود نہیں، بلکہ “پانچ لاکھ کروم بک، پانچ لاکھ خواب” کے سلوگن کے تحت ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد رکھنے کا ایک انقلابی اقدام ہے جس سے بالواسطہ طور پر 25 لاکھ بچوں کے مستفید ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا “ڈیجیٹل پاکستان” وژن ملک کے تعلیمی، معاشی، اور انتظامی نظام کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کا ایک جامع قومی منصوبہ ہے۔
اس وژن کے تحت کی جانے والی بنیادی کوششوں اور اسٹریٹجک اقدامات کا احاطہ ذیل میں کیا گیا ہے:
1۔ نوجوانوں کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانا ;. کروم بکس اور مائی فائی اسکیم: سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے 5 لاکھ ہونہار طلبہ و طالبات میں میرٹ کی بنیاد پر کروم بکس اور 5 لاکھ مائی فائی انٹرنیٹ ڈیوائسز تقسیم کی جا رہی ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر 25 لاکھ بچے مستفید ہوں گے۔

  • لیپ ٹاپ کی فراہمی: ملک بھر کے لائق طلبہ میں شفاف انداز میں لاکھوں لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے ہیں تاکہ وہ آن لائن تعلیم، ریسرچ اور گلوبل مارکیٹ سے جڑ سکیں۔
    2۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور 5G کا فروغ;. سپیکٹرم کی نیلامی اور 5G کا نفاذ: مارچ 2026 میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی کے ذریعے ٹیلی کام سیکرٹریٹ کو وسعت دی گئی اور 24 بڑے شہروں کے 1,700 سے زائد سائٹس پر 5G سروسز کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے۔
  • گوگل کے اشتراک سے اسمبلی لائن: پاکستان میں گوگل کے تعاون سے کروم بکس کی مقامی سطح پر مینوفیکچرنگ اور اسمبلی لائن کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جس سے ملک میں ٹیکنالوجی کی پیداوار اور نوکریوں کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
    3۔ ای-گورننس اور سنگل ڈیجیٹل آئی ڈی;. نیشنل ڈیجیٹل اتھارٹی اور کمیشن: ‘ڈجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025’ کے تحت پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی (PDA) کا قیام عمل میں آیا ہے، جو قومی ڈیجیٹل ماسٹر پلان کی نگرانی کرتی ہے۔
  • یکساں ڈیجیٹل شناختی نظام: شہریوں کی سہولت کے لیے تمام سرکاری سہولیات، دستاویزات کی تصدیق، بینکاری، صحت اور دیگر خدمات کو سنگل ڈیجیٹل آئی ڈی کے تحت ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے کا کام جاری ہے
    4۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور معاشی ترقی;.• نیشنل اے آئی پالیسی: معیشت، کسٹمز، پورٹس اور فنانس کے شعبوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے ذریعے شفافیت اور رفتار بڑھانے کے لیے نیشنل اے آئی پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ: اس پورے وژن کا مقصد روایتی معیشت کو ترک کر کے پاکستان کو ایک جدید علم پر مبنی معیشت (Knowledge-based Economy) میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ فری لانسرز اور آئی ٹی انڈسٹری کے ذریعے قومی برآمدات اور زرِ مبادلہ میں ریکارڈ اضافہ کیا جا سکے ,
    میرٹ اور مساوات:
    ذہانت کسی امارت یا غربت کی پابند نہیں,وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب جہاں نوجوانوں کے لیے امید کی کرن تھا، وہاں ان کے تعلیمی وژن کا آئینہ دار بھی تھا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ذہانت، قابلیت اور محنت کسی طبقے، امارت یا غربت کی محتاج نہیں ہوتیں۔
    پاکستان کے پسماندہ اور مستحق خاندانوں میں ایسے بے شمار گوہرِ نایاب موجود ہیں جو مناسب مواقع ملنے پر دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ حکومت نے اس بار انتخاب کا معیار سو فیصد شفافیت اور میرٹ پر رکھا ہے، تاکہ سفارش اور اثر و رسوخ کے کلچر کا خاتمہ کر کے حقدار طلبہ تک ان کا حق پہنچایا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت اگلے دو سالوں میں 5 لاکھ کروم بکس، بیگز، کتب اور انٹرنیٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ کوئی بھی بچہ مالی مجبوریوں کے باعث علم کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائے۔
    تیز ترین ہدف:..
    ماضی کے 10 سال بمقابلہ موجودہ 2 سال, ماضی اور حال کا ایک دلچسپ موازنہ بھی سامنے آیا۔ وزیراعظم نے یاد دلایا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے گذشتہ ادوار میں قائدِ محمد نواز شریف کی سرپرستی میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں 6 لاکھ لیپ ٹاپس تقسیم کیے گئے تھے، لیکن اس عمل کو مکمل ہونے میں 10 سال کا عرصہ لگا۔ اس کے برعکس، موجودہ حکومت نے رفتار اور کارکردگی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے 5 لاکھ کروم بکس کی فراہمی کا یہ بڑا ہدف محض 2 سال کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے کا عزم کیا ہے۔ کرونا وبا کے دنوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ کس طرح ماضی میں دیے گئے لیپ ٹاپس نے طلبہ کی آن لائن تعلیم کو ممکن بنایا اور آج وہی نوجوان شعبہِ طب، انجینئرنگ اور دیگر پیشہ ورانہ میدانوں میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
    دینی مدارس اور پسماندہ علاقوں کی شمولیت: …
    تقریب کا سب سے خوبصورت اور منفرد پہلو یہ تھا کہ اس ڈیجیٹل انقلاب میں روایتی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پہلی بار دینی مدارس کے طلبہ کو بھی برابر کا شریک بنایا گیا ہے۔ گلگت بلتستان کے ایک دینی مدرسے سے تعلق رکھنے والی طالبہ مہک صابر اور سابق قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے سید شمس رضا—جنہوں نے اپنے والد کی شہادت کے بعد انتہائی کٹھن حالات میں تعلیمی سفر جاری رکھا—انکو جب وزیراعظم نے اسٹیج پر سراہا، تو پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ دینی اور دنیاوی علوم کا یہ امتزاج نوجوانوں کو نہ صرف نظریاتی طور پر مضبوط کرے گا بلکہ انہیں باوقار حصہ بھی بنائے گا چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام، رانا مشہود احمد خان نے منصوبے کی تکنیکی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک انتہائی اہم نکتہ بیان کیا۔ بتایا کہ ہر کروم بک کے ساتھ ایک تیز رفتار مائی فائی (MyFi) انٹرنیٹ ڈیوائس بھی دی جا رہی ہے۔ اس ایک کنکشن کی مدد سے گھر یا اسکول کے مزید 5 بچے انٹرنیٹ استعمال کر سکیں گے۔ اس طرح 5 لاکھ ڈیوائسز کا یہ نیٹ ورک ملک کے کم از کم 25 لاکھ بچوں کو دنیا بھر کی ای-لائبریریوں، تعلیمی پورٹلز اور ڈیجیٹل علوم تک براہِ راست رسائی فراہم کرے گا۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کا فخر اور دانش اسکول ;.. ملک بھر میں پسماندہ ترین اور مستحق طلبہ کے لیے 27 نئے دانش اسکولوں کی تعمیر کی جا رہی ہے، جہاں اسمارٹ بورڈز، ای-لائبریریاں، کمپیوٹر لیبز اور جدید ترین تعلیمی ماحول بالکل مفت فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ مالی طور پر کمزور مگر ذہین بچے ٹیکنالوجی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں اور روایتی کتابی تعلیم کے بجائے ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کر کے معیشت کا فعال حصہ بن سکیں۔
یہ منصوبہ جہاں حکومتی ترجیحات کا حصہ ہے، وہاں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے حبِ وطنی کے جذبے کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ وزیراعظم نے ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن کے بانی راشد منہاس اور ان کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کروم بکس کو عطیہ کرنے کے لیے وزارتِ تعلیم کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔ اس کے ساتھ ہی، ملک میں تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے ‘دانش اسکول سسٹم’ کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ملک کے دور افتادہ علاقوں میں 27 دانش اسکول زیرِ تعمیر ہیں جہاں سمارٹ بورڈز، ای-لائبریریاں، مفت رہائش اور عالمی معیار کی تدریس غریب ترین بچوں کو بالکل مفت فراہم کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو عالمی سطح پر مضبوط مقام دلانے اور ترقی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے تعلیم کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی صلاحیتوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔
وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے اس مؤقف سے اختلاف ممکن نہیں کہ بدلتے ہوئے عالمی تقاضوں کے مطابق تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری ہی پاکستان کی بقا اور خوشحالی کی ضامن ہے۔ اسلام آباد کے چاق و چوبند دستے کی جانب سے ان ہونہار طلبہ کو دی جانے والی سلامتی اور “پانچ لاکھ کروم بک، پانچ لاکھ خواب” کا تھیم سانگ دراصل اس نئے پاکستان کا اعلان ہے جہاں قلم، کتاب اور جدید ترین ٹیکنالوجی نوجوانوں کا ہتھیار بننے جا رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ اسی رفتار اور شفافیت سے آگے بڑھتا رہا، تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کا شمار دنیا کی صفِ اول کی ڈیجیٹل معیشتوں میں ہوگا
ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کے لیے حکومت بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی فاؤنڈیشنز (جیسے ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن) کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ اس اسٹریٹجک تعاون کے نتیجے میں جدید ترین تکنیکی آلات اور وسائل پاکستان کے تعلیمی نظام کا حصہ بن رہے ہیں، جو کہ حکومتی خزانے پر بوجھ ڈالے بغیر ملک میں ایک بڑے ڈیجیٹل انقلاب کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ اس پورے وژن کا حتمی مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کو روزگار کے روایتی طریقوں سے نکال کر گلوبل ڈیجیٹل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔ انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آلات تک رسائی ملنے سے ملک کے لاکھوں نوجوان گھر بیٹھے فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ای-کامرس اور دیگر شعبوں میں کام کر کے نہ صرف اپنی معاشی حالت بدل سکتے ہیں، بلکہ پاکستان کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما کر ملکی معیشت کی بحالی میں بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔تقریب کے دوران وزیراعظم نے ہونہار طلبہ میں کروم بکس تقسیم کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ حکومت اس مقصد کے لیے دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ نوجوان نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا سکیں بلکہ ملک کی معیشت، معاشرت اور ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔

انہوں نے سابق قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالب علم سید شمس رضا کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے والد کی شہادت اور مشکل حالات کے باوجود اس نوجوان نے تعلیم حاصل کرنے، آگے بڑھنے اور پاکستان کی خدمت کرنے کا عزم برقرار رکھا۔ وزیراعظم نے طالب علم کی ہمت اور جستجو کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور معاونت ضروری ہے تاکہ مشکلات ان کے تعلیمی مستقبل میں رکاوٹ نہ بنیں۔

وزیراعظم نے گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی دینی مدرسے کی طالبہ مہک صابر کی پراعتماد گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ دینی مدارس کے طلبہ کو بھی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی فراہم کرنا اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی اور دنیاوی تعلیم کے امتزاج سے طلبہ کے لیے علم اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد کے چاق و چوبند دستے نے طلبہ کو سلامی دی، جبکہ اس موقع پر ’’پانچ لاکھ کروم بک، پانچ لاکھ خواب‘‘ کے عنوان سے تھیم سانگ بھی پیش کیا گیا,وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قومی ترجیحات میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں جدید ترین تکنیکی وسائل فراہم کرنا سرفہرست ہے، جس کا عملی ثبوت سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے 5 لاکھ ہونہار طلبہ کو کروم بکس کی فراہمی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے تعلیمی اور آئی ٹی کے شعبے میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ملک کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کے بچوں کے لیے ڈیجیٹل دنیا کے دروازے کھول رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مائی فائی (MyFi) انٹرنیٹ ڈیوائسز کی بیک وقت فراہمی سے مجموعی طور پر 25 لاکھ سے زائد بچوں کو ڈیجیٹل تعلیمی وسائل تک رسائی حاصل ہو رہی ہے، جو کہ ایک علم پر مبنی معیشت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔ یہ اسکیم نہ صرف پبلک اسکولوں کے طلبہ بلکہ دینی مدارس کے بچوں کو بھی قومی دھارے میں شامل کر کے میرٹ کی بنیاد پر ڈیجیٹل پاکستان کا وژن پورا کر رہی ہے، تاکہ پاکستان کی نوجوان نسل فری لانسنگ، ای-کامرس اور عالمی آئی ٹی مارکیٹ کا ایک باوقار اور پیداواری حصہ بن سکے۔ٹوکیو ٹیکنالوجی کیئر فاؤنڈیشن کے بانی راشد منہاس کا موجودہ اسکیم میں تعاون سمندر پار پاکستانیوں کے حبِ وطنی اور ملکی ترقی میں شراکت داری کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔ اس فاؤنڈیشن نے حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جو اہم ترین کردار ادا کیا ہے، اس کی تفصیلاً نمایاں کڑیاں درج ذیل ہیں: ٹوکیو کیئر فاؤنڈیشن اس میگا پروجیکٹ کے تحت دو سال کے عرصے میں ملک بھر کے سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے مستحق و ہونہار طلبہ میں تقسیم کے لیے 5 لاکھ گوگل کروم بکس (گوگل کے کلاؤڈ بیسڈ انفراسٹرکچر پر چلنے والے کمپیوٹرز) فراہم کر رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور بانی راشد منہاس نے وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے ساتھ مل کر ایک باقاعدہ مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت آلات کی شفاف اور میرٹ پر مبنی تقسیم کے پائیدار نظام کو یقینی بنایا گیا ہے۔ تکنیکی وسائل کا بہترین استعمال یقینی بنانے کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے فراہم کردہ یہ کروم بکس اعلیٰ معیار کے ریفربشڈ (تکنیکی جانچ اور مرمت کے بعد مکمل فعال) آلات ہیں، جو کم بجٹ میں کروڑوں روپے مالیت کے جدید ترین انٹرنیٹ فیچرز کشمیری، گلگتی اور پاکستانی طلبہ تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ بنے ہیں۔ راشد منہاس نے فاؤنڈیشن کے وژن کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس شراکت داری کا مقصد پاکستانی بچوں کو ڈیجیٹل دنیا میں محض معلومات کا ‘صارف’ بنانا نہیں، بلکہ انہیں ٹیکنالوجی، کوڈنگ اور فری لانسنگ کا ‘خالق’ بنانا ہے تاکہ ملک میں ایک پائیدار ڈیجیٹل انقلاب برپا ہو سکے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تاریخی فاؤنڈیشن اور تارکینِ وطن کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ عالمی تعاون اس اعتماد کی بحالی کا مظہر ہے جو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو موجودہ حکومت کی شفاف پالیسیوں پر حاصل ہوا ہے۔سرکاری اسکولوں اور دینی مدارس کے طلبہ کو 5 لاکھ کروم بکس اور مائی فائی ڈیوائسز کی فراہمی محض ایک تعلیمی پراجیکٹ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسنگ ایکو سسٹم میں ایک بہت بڑی طویل مدتی اسٹریٹجک سرمایہ کاری ہے۔ اس اسکیم کے نتیجے میں پاکستان کی فری لانس مارکیٹ میں ایک زبردست اور باصلاحیت افرادی قوت کا اضافہ ہوگا کیونکہ اب تک کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولیات سے محروم رہنے والے پسماندہ علاقوں اور دینی مدارس کے لاکھوں بچے بچپن سے ہی گرافک ڈیزائننگ، کوڈنگ، اور ڈیٹا سائنس جیسی جدید مہارتیں سیکھ کر عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کا حصہ بن سکیں گے، جس سے ملک میں ڈالرز کی آمد اور ترسیلاتِ زر میں ریکارڈ اضافہ ممکن ہوگا۔ یہی ڈیجیٹل پنیری مستقبل میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کو اربوں ڈالرز تک لے جانے کا پائیدار ذریعہ بنے گی کیونکہ مائی فائی شیئرنگ کے ذریعے بالواسطہ طور پر مستفید ہونے والے 25 لاکھ بچے آنے والے چند سالوں میں ملک کے نئے سافٹ ویئر انجینئرز اور ٹیک انٹرپرینیورز بن کر ابھریں گے۔ مزید برآں، یہ اقدام بڑے شہروں کے نجی اسکولوں اور پسماندہ طبقے کے درمیان موجود ڈیجیٹل تقسیم کو ہمیشہ کے لیے ختم کر کے ملک بھر میں یکساں معاشی و تکنیکی مواقع پیدا کر رہا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کروم بکس کی فراہمی اور گوگل جیسے عالمی اداروں کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا طویل مدتی فائدہ یہ بھی ہوگا کہ پاکستان میں کمپیوٹرز اور ڈیجیٹل آلات کی لوکل اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو فروغ ملے گا، جس سے نہ صرف ملکی سطح پر سستی ٹیکنالوجی دستیاب ہوگی بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے لاکھوں نئے اور باوقار مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت موجودہ حکومتی ڈیجیٹل یوتھ پروگرامز “4Es” یعنی تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحول کے جامع فریم ورک کے تحت نوجوانوں کو معاشی اور تکنیکی طور پر بااختیار بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ترجیحات میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے، اور پانچ لاکھ کروم بکس کی فراہمی ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی بڑھانے کی جانب اہم قدم ہے حکومت کا یہ بنیادی مقصد ہے کہ پاکستان کی پچاس فیصد سے زائد نوجوان آبادی کو جدید مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، جس کے لیے ‘پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہب’ (DYH) نامی ایک مرکزی اور ون اسٹاپ ڈیجیٹل پلیٹ فارم قائم کیا گیا ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ٹولز کی مدد سے کام کرتا ہے اور اس وقت اس پورٹل پر لاکھوں نوجوان رجسٹرڈ ہیں جہاں انہیں نوکریوں، انٹرن شپس، اسکالرشپس، اور بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز تک براہِ راست رسائی دی جاتی ہے۔ ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کے لیے حکومت نے تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور دینی مدارس کے 5 لاکھ ہونہار طلبہ کے لیے کروم بکس اور مائی فائی انٹرنیٹ ڈیوائسز کا باقاعدہ آغاز کیا ہے