وی بلاگر اسدعلی طور پر حملہ ایکسپریس نیوز کے اینکر عمران ریاض خان نے کروایا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کالم نگار :اصغرعلی مبارک ” اندر کی بات “۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وی بلاگر اسد علی طور پر حملہ ایکسپریس نیوز کے اینکر عمران ریاض خان نے اپنے گارڈ اور دیگر کے ذریعے کروایا یہ الزام ماضی کی خاتون صحافی گل بخاری نے براہ راست عائد کیا. اسدعلی طور پر حملہ ایکسپریس نیوز کے اینکر عمران ریاض خان المعروف عمران خان نے اپنے گارڈ اور ایک ریٹائرڈ فوجی افسر کے کارندوں سے کروایا تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات کی توقع ہے ذرائع نے “اندر کی بات “بتاتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لئے اعلی سطح کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے بتایا گیا کہ اسدعلی طور پر حملہ کرنے والے افراد نے انہیں کہا کہ وہ نعرے لگائیں جس ثابت ہو کہ پاکستان کے حساس ادارے کی جانب سے کوئی کارروائی ھےاور کہا کہ بولو پاکستان زندہ باد ” پاکستان زندہ باد ” وغیرہ وغیرہ اور حملہ آور نے خود کہا کہ ھم آئی ایس آئی کے بندے ہیں۔لیکن سب لوگوں کو خدشہ تھا کہ کہ حساس ادارے اگر ایسا کوئی کام کریں تو کیوں کر ایسا تاثر دیں کہ ان شناخت ظاہر وہ یہ صرف پاکستان کے معتبر اداروں کو بدنام کرنے کی سازش تھی جس سکرپٹ بھی ایک بڑے نیوز چینل میں بیٹھ کر لکھا گیا اسدعلی طور پر حملہ کرنے کا واقعہ 28 مئی کو رونما ہوا جب کہ اس سے ایک روز قبل روزنامہ جنگ راولپنڈی میں ادارتی صفحہ پر “جنرل رانی ” کے عنوان سے اینکر پرسن حامد میر کا کالم چھپا جو تادم تحریر جنگ ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پر موجود ہے جس گزرے رمضان کی عطاالحق قاسمی کی طرف لاہور میں معاصر کے دفتر میں افطار پارٹی کے دوران کالم نگار حسن نثار اور عطاء الحق قاسمی کی سرگوشی تھی جس میں سابق ایم این اے کی خودنوشت ” عمر رواں ” کا تذکرہ کیا گیا اور مختلف حوالوں کے بعد سانحہ مشرقی پاکستان کے کردار کو زیر بحث لایا گیا اور جنرل یحیی خان کے کردار اور جنرل رانی سے متعلق جان پہچان کو ضبط تحریر لایا گیا اورآخر میں مختلف سوالات کے جوابات پوچھے گئے جنرل رانی جنرل یحیئ خان تک کیسے پہنچی اور اس کے علاوہ بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ کی کی بائیو گرافی دی پیپلز مہاراجہ کی بائیو گرافی میں بھارتی میڈیا کے سوال کیا جنرل رانی کی بیٹی بھارتی پنجاب کی فرسٹ لیڈی ہے؟وغیرہ وغیرہ اسدعلی طور پر پاکستان آرمی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کرنے پر راولپنڈی کے ایک تھانہ میں 14 ستمبر 2020 کو مقدمہ درج کیا گیا.اسد طور کے ڈرامے میں ٹرننگ پوائنٹ اس وقت آیا جب ماضی کی ایک خاتون صحافی گل بخاری نے بیرون ملک سے انکشاف کیا کہ اس حملے میں اینکر پرسن عمران خان ملوث ہیں جبکہ ماضی میں گل بخاری آئی ایس آئی پر حملہ کا الزام عائد کر کے بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کر چکی ہیں.گل بخاری نے براہ راست الزام عائد کیا کہ اسدعلی طور پر حملہ ایکسپریس نیوز کے اینکر پرسن عمران خان نے کروایا ہے مزید آگے بڑھ کر گل بخاری نے کہا کہ حملہ آوروں میں عمران خان اینکر پرسن کا گارڈ ھے جو کیمرے کی فوٹیج میں بھی موجود ہیں مزید کہا کہ دوسرے لوگ ایم آئی کے بندے ہیں گل بخاری کا کہنا ہے کہ عمران خان اینکر پرسن کی ایک کرنل لیول کے افسر سے گہری دوستی ھےعمران ریاض سبق سکھانا چاہتا تھا اسدعلی طور کو اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا گیااسد علی طور ایکسپریس چینیل کے اینکر پرسن عمران خان کو” گیلا تیتر ” کہہ کر تضحیک اڑاتے تھے وجہ عناد کچھ بھی ہو عمران خان نیوز اینکر کو یہ بات سخت بری لگتی تھی عمران ریاض خان اینکر پرسن کو تیتر کے شکار کا بہت شوق ہے اور اپنے آپ کو شکاری کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں سوشل میڈیا پر ان تیتر کے شکار کی تصاویر کافی تنقید کا نشانہ بنائیں گئی تھی.اس حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے میں جیو نیوز کے اینکر پرسن حامد میر کی متنازع تقریر سے نیا پنڈورہ بکس کھل گیا جس انہوں کھل کر قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور 28 مئی کو روزنامہ جنگ میں چھپنے والے کالم “جنرل رانی “کے تناظر ھتک آمیز لہجے میں قومی سلامتی کے اداروں کےخلاف گھٹیا الزامات عائد کئے اور نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے احتجاج کے دوران ان تقریر کوئی اتفاقیہ نہیں تھی اور نہ زبان لغزش تھی بلکہ سوچ سمجھ کر تول تول کر الفاظ اچھالے گئے جس حاضرین بھی سردھنتے نظر آئے اس موقع سینئر قانون دانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس میں پیپلز لائرز فورم راولپنڈی کے راہنما بھی شامل تھے. راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس اور تبصرہ کرنے کے الزام میں صحافی اسد طور کے خلاف مقدمہ 14 ستمبر 2020درج کیااسد طوراس وقت نجی ٹی وی چینل سما سے منسلک تھے تاہم انھوں نے نوکری چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔اسد طور کے خلاف یہ مقدمہ راولپنڈی کے نواحی علاقے تھانہ جاتلی میں نصیرآباد کے رہائشی حافظ احتشام کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا اور تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں کی گئی تھی.اسد طور کے خلاف کیس میں راولپنڈی میں مدعی مقدمہ نے متعلقہ تھانے میں درخواست دی کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں جہاں پر انھوں نے یہ محسوس کیا کہ اسد طور نامی شخص جس کا سوشل میڈیا پر اکاونٹ ہے، کچھ عرصے سے پاکستانی اداروں اور بالخصوص ’فوج کے خلاف منفی پروپگینڈہ‘ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس شخص نے سوشل میڈیا پر ان اداروں کے خلاف ’نازیبا‘ الفاظ استعمال کیے ہیں۔

اس درخواست کے ساتھ مدعی مقدمہ نے ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پوسٹس کے سکرین شاٹس بھی لگائے ہیں جس میں مبینہ طور پر فوج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی.صحافی اسد طور پر حملے کے بعد صحافیوں، سماجی کارکنوں اور سیاستدانوں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل جنوبی ایشیا کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی۔ ادارے کی ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کے بل اسی ہفتے پیش کیے جانے کے بعد صحافی کے خلاف اسی کے گھر میں پُرتشدد حملے پر ادارے کو شدید تشویش ہے۔ ہم حکام سے اپنا مطالبہ دہراتے ہیں کہ وہ صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے,وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ بعض لوگ بلاوجہ اداروں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، بے بنیاد الزام تراشی سے پاکستان کا تشخص مجروح ہو رہا ہے اسد طور پر حملہ کرنے والوں کے فنگر پرنٹس سے متعلق کل تک نتائج سامنے آنے کا امکان ہے اور فنگر پرنٹس کا نتیجہ سامنے نہ آنے پر اخبارات میں اشتہار دیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسد طور پر حملہ کرنے والوں تک جلد پہنچ جائیں گے شیخ رشید احمد نے اسدعلی طور کے حوالے سے واقعہ پر پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ھےکہ ایف آئی اے نادرا اور دیگر ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں اور چند روز میں واضح ہو جائے گا غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے عناصر کو مایوسی ہوگی ۔جنگ، جیو گروپ نے مؤقف میں کہا کہ سول سوسائٹی اورمیڈیا حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں جیو کے سینئر اینکر حامد میر نے تقریر کی جس کے نتیجے میں معاشرے کے مختلف حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔جنگ، جیو گروپ نے کہا ہےکہ ہم ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلاء کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہےصحافتی تنظیموں آل پاکستان نیوز پیپرز اینڈ ایڈیٹر فورم ۔پاکستان جرنلسٹ فاونڈیشن ۔نیشنل جرنلسٹ پینل کے چئیرمین رانا عمران لطیف نے حکومت اور حساس اداروںکے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے سینئر صحافی اور چیئرمین رانا عمران لطیف نے جاری بیان میں کہا ھےکہ اینکر پرسن کی تقریر انتہائی قابل مذمت فعل ہے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں.دریں اثناءپاکستانی قومی سلامتی کے اداروں کےخلاف گھٹیا الزامات عائد کرنے پر(ڈیجیٹل بلاگر ) غیرصحافی اسد علی طور ولد محمد افضل طور موبائل فون نمبر 03335119547 سکنہ فلیٹ نمبر 105 فرسٹ فلور الشفا ھائیسٹ ٹو 2 اسلام آباد کو فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی ایف آئی اے سائبر کرائم نے 4 جون 2021 کو صبح دن 11 بجے طلب کر لیاھے .واضح رہے کہ چند دن پہلے نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ایک غیر صحافی نجی بلاگر کے ساتھ نام نہاد سیاسی رہنما اور کرائے کے لوگوں نے موجودہ حکومت اور حساس اداروں کے خلاف پاکستان دشمن ایجنسیوں کی ایماء پر الزام تراشی کرتے ہوئے توہین آمیز زبان استعمال کی.۔ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے ضابطہ فوجداری کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز شہری فیاض محمود راجہ ولد محمود خان سکنہ دھمیال ڈاکخانہ خاص تحصیل وضلع راولپنڈی کی درخواست پرکرنے کا فیصلہ کیا ہے مستغیث/ مدعی نے اسدعلی طور کے خلاف سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی میں اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے کو قانونی کارروائی کرنے کی درخواست دے رکھی تھی.جس پر گزشتہ روز ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے سمن/نوٹس جاری کیا ۔ شہری نے بمعہ ثبوت کے سائبر کرائم ونگ کو شکایت کی تھی کہ ملزم اسدعلی طور نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ شوشل میڈیا پر قومی اداروں کے خلاف الزام تراشی اور بہتان پر مبنی پروپیگنڈے پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے اسدعلی طور نے تضحیک آمیز لہجے میں قومی سلامتی کے اداروں کےخلاف گھٹیا الزامات کیے جس کے ایک ایک لفظ سے بدنامی اور توہین جھلکتی ھے جس پر انسپکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت باقاعدہ نوٹس جاری کرتے ہوئے ملزم اسدعلی طور کو اصالتا طلب کرنے کا پہلا نوٹس گزشتہ روز جاری کردیا ہے ۔ اسدعلی طور کو فیڈرل انویسٹگیشن ایجنسی ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی کی طرف طلبی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر حکم/ نوٹس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 174 Cr.P.Cکے تحت کارروائی کی جائے گی مزید تاکید کی گئی ہے کہ اپنے دفاع کے لیے ثبوتوں اور اصل شناختی کارڈ کے ساتھ مذکورہ بالا تاریخ پر تحقیقات کے لئے انسپکٹر محترمہ شمائلہ سعید سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر راولپنڈی پروفیشنل پلازہ 7Aویسٹ روڈ نیو گلزار قائد راولپنڈی میں پیش ہوں. نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ میں حامد میرنےتوہین آمیززبان استعمال کی اوراسدعلی طور کے حق میں ہونے والے مظاہرے سے خطاب میں کہا کہ ” تم نے اسد طور سے ‘اسرائیل مردہ باد’ کا نعرہ لگوایا کیونکہ تمہاری داڑھی میں تنکا ہے۔ تمہیں پتہ ہے کہ تم ہم لوگوں کے سامنے بیٹھ کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی وکالت کرتے ہو”خیال رہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹرسروسز انٹلی جنس (آئی ایس آئی ) نے اسلام آباد میں معروف صحافی اسد علی طور پر ہونے والے حالیہ حملے سے خود کو مکمل طور پر علیحدہ کیا.پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا کہ اعلیٰ ترین سطح پر وزارت اطلاعات اور پاکستان کی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے درمیان رابطہ ہوا جس میں آئی ایس آئی نے معروف صحافی اسد علی طور پر اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملے اور مبینہ تشدد سے مکمل لاتعلقی ظاہر کی .جاری بیان میں کہا گیا کہ اس واقعے پر وزارت اور آئی ایس آئی کے مابین ایک ’اعلی سطح کا رابطہ‘ قائم ہوا تھا جس میں اسلام آباد میں ڈیجیٹل میڈیا کے صحافی پر ’مبینہ طور پر حملے‘ کے حوالے سے بات چیت ہوئی اور آئی ایس آئی نے بیان دیا تھا کہ اس کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں۔بیان میں کہا گیا تھاکہ ’آئی ایس آئی کے خلاف اس طرح کے لگاتار الزامات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت فیتھ جنریشن وار کا نشانہ بنایا جارہا ہے.آئی ایس آئی کی جانب سے وضاحتی بیان ملک میں صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے ایک روز بعد جاری ہوا۔یان میں کہا گیا کہ ’آئی ایس آئی کا خیال ہے کہ جب سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ حملہ آوروں کی شناخت کی جاسکتی ہے تو ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہیے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔خیال رہے کہ اسد علی طور کو 25 مئی کو سیکٹر ایف 10 میں واقع ان کی رہائش گاہ کے باہر نامعلوم حملہ آوروں نے زدوکوب کیا تھا۔پولیس کے مطابق کچھ لوگ ایک اپارٹمنٹ کی عمارت میں واقع اسد طور کی رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے اور اس دوران جھگڑا ہوا جس کے بعد نامعلوم افراد نے تشدد کیا اور فرار ہوگئے.اس حملے کے بعد اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا تھا کہ ان پر تشدد کرنے والے افراد مسلح تھے اور انھیں پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا گیا اور انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ تشدد کرنے والے نامعلوم افراد نے اپنا تعلق پاکستان کی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے ظاہر کیا تھا.اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزارت اطلاعات اس سلسلے میں اسلام آباد پولیس سے رابطے میں ہے اور امید ہے کہ ملزمان جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔وزارت اطلاعات کے مطابق بغیر ثبوت اداروں پر الزامات کی روش ختم ہونی چاہیے، منفی روایات ملکی اداروں کے خلاف سازش کا حصہ ہیں اور جلد اصل کردار بے نقاب ہوں گے. وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے یہ اعلامیہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب جمعے کی شام 28جون کو یوٹیوب ولاگر اسد طور پر تین نامعلوم افراد کی جانب سے ان کے گھر میں گھس کر تشدد کے بعد ان کی حمایت میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جیو نیوز سے منسلک سینئیر صحافی حامد میر نے ریاستی اداروں کو تنبیہ کی تھی اب آئندہ کسی صحافی پر ایسے تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ ‘گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے۔مظاہرے کے دوران حامد میر کی تقریر میں کہی گئی کئی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ ملٹری اسٹیبلشمینٹ ہے,یاد رہے کہ اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کو چھ گولیاں لگی تھیں۔ انھوں نے اس حملے کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا۔حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ‘اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ میں اس کے گھر میں گھسا ہوں۔ لیکن تم اتنے بزدل ہو۔۔۔کہ تم یہ تو نہیں مان رہے کہ میں ان کے گھر میں گھسا تھا، تم کہتے ہو، اوہو، وہ کوئی لڑکی کا بھائی تھا جس نے مارا ہے۔’یاد رہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں گردش کرنے لگی تھیں جس میں کہا گیا کہ اسد طور کو کسی ذاتی معاملے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا حامد میر نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن ‘سمجھتا ہے کہ میرا پتا نہیں چلے گا، میں نامعلوم ہوں۔اسد علی طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں ان پر طرح طرح کے الزمات بھی لگائے گئے۔ الزامات کے تناظر میں حامد میر نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسد طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ تو وطن میں ہی موجود ہیں۔وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ‘اسد طور کے مسئلے میں بعض لوگ ہماری حساس ترین ایجنسیوں کو بلاوجہ ملوث کرنا چاہتے ہیں۔ بیان میں مزید کہنا تھا کہ ‘اس معاملے پر ایف آئی اے اور آئی جی اسلام آباد کو ہدایات کر دی ہیں کہ دونوں ادارے مل کر کام کریں اور صحافی اسد طور کے ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں.دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی اتحاد پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے بھی اسد علی طور کی رہائش گاہ پر جا کر ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی عیادت کی۔ پی ڈی ایم رہنماؤں کے وفد میں مولانا فضل الرحمان، میاں شہباز شریف، مریم نواز شریف، مولانا غفور حیدری، محمود خان اچکزئی، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب اور دیگر سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم بھی شامل تھے۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور ایک سینیئر پولیس افسر کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ موقع سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے جس میں یہ افراد دکھائی دے رہے ہیں، جلد ہی وہ پکڑے جائیں گے۔ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘یہ مغربی میڈیا کے لیے ایک فیشن ہے کہ جب بھی ایسا کوئی واقعہ ہو تو وہ پاکستان کی فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام عائد کرے اور میں جانتا ہوں کہ ماضی میں لوگوں کے اس طرح کے الزامات لگا کر بیرون ملک امیگریشن لینے کی ایک تاریخ موجود ہے۔حامد میر نے ملٹری اسٹیبلشمینٹ کو کئی دوسرے معاملوں میں بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔تقریر کے آخر میں حامد میر نے، جو کہ اس موقع پر شدید غصے میں نظر آ رہے تھے، ایک بار پھر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو ‘گھر کے اندر کی باتیں آپ کو بتائیں گے۔’حامد میر کی تقریر سے قبل منیزے جہانگیر نے بھی اپنی تقریر میں اسی طرح سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد صحافیوں پر اس طرح گھروں میں گھس کر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔انھوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہمارا ملک ہے اور ہم یہاں بولیں گے۔جہاں نہ فوج کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے نہ عدلیہ کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ اس ملک میں سیاست کریں گے تو ہم آپ پر بات کریں گے اور کرتے رہیں گے۔’یاد رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق شق 19 آزادی اظہار رائے سے متعلق ہےآرٹیکل 19 کے مطابق ’اسلام کی عظمت، یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا اور پریس کی آزادی ہوگی۔‘سوشل میڈیا پر رد عمل رائے منقسم نظر آئی ناقدین نے تقریر پر تنقید کی اور ان پر غلط بیانی کے الزامات لگائےایک صارف ‘آئی کراچی والا’ نے حامد میر کی تقریر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘حامد میر نے ریاستی ادارے پر دو بڑے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وہاں سے جواب آنا چاہیے کیونکہ الزامات ہر جگہ سنے گئے ہیں۔ جواب نہ آنے کی صورت میں ادارے کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔’سوشل میڈیا پر اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی شاہ متیلا نے کہا کہ غداری سے کبھی عزت نہیں ملتی سچائی سے عزت مل جاتی ہےیہ اقدام قابل مذمت ہے اینکر عمران ریاض خان بھی حامد میر کی حمایت میں سامنے آگئے ۔حامد میر کو جیو نیوز کی انتظامیہ کےفارغ کرنے پر مختلف صحافیوں کی جانب سے ملاجلا ردعمل دیکھنے کو ملا، کچھ نے حامد میر کی حمایت میں ٹویٹس کئے تو کچھ نے جیو انتظامیہ کے اس فیصلے کو سراہا.ینکر عمران خان نے حامد میر کی حمایت میں ٹویٹ کیا کہ حامد میر سے اختلاف اپنی جگہ مگر مبینہ طور پر انکے چینل نے انہیں دباؤ کی وجہ سے آف ایئر کیا.حامد میر نے جو کہا اپنے پروگرام میں نہیں کہا، باہر کہا جس پر قانونی مدد لی جا سکتی تھی۔ اگر ایسا ہوا تو یہ حکومت اور اداروں کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گا۔ حامد میر کی حمایت میں ٹویٹ کرنے پر صدیق جان نے اینکر عمران خان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ عمران ریاض صاحب، منافقت نہ کریں، جو ہوا ٹھیک ہوا، پروگرام بند ہونا کوئی سزا نہیں، حامد میر کو گرفتار ہونا چاہیے، آپ کے ٹویٹ سے تو تاثر مل رہا ہے کہ جیسے حامد میر سے چھوٹی موٹی غلطی ہوئی، ایسا نہیں ہے، اس نے ہماری بہادر فوج کو بزدل اور فوج کی قیادت کوگالی دی ہے….