وزیراعظم یوتھ پروگرام؛ نوجوانوں کا روشن مستقبل.
.( اصغر علی مبارک)..
نوجوان کسی بھی ملک کا قیمتی اثاثہ اور اس کا روشن مستقبل ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ موجود ہے، اور ان کی صلاحیتوں کو درست سمت دینے کے لیے حکومتِ پاکستان کا پرائم منسٹر یوتھ پروگرام ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
کھیلوں کی بحالی کو پاکستان کی مجموعی قومی اور سفارتی فتوحات سے جوڑتے ہوئے چیئرمین پی ایم یوتھ پروگرام نےکہا ہےکہ پاکستان کی ترقی کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی,پاکستان میں میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر ایک جامع ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام شروع ہونے جا رہا ہے جہاں سفارش کے کلچر کا مکمل خاتمہ کر کے صرف قابلیت کو آگے لایا جائے گا اس ٹیلنٹ ہنٹ کے اختتام پر حکومت پاکستان ایک شاندار پاکستان ہاکی لیگ کا انعقاد کروائے گی,اس لیگ کے کھلاڑیوں کے ڈرافٹ کے لیے انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن اکیڈمی اور حکومت کی آفیشل پارٹنر ہوگی، جس کے ذریعے دنیا بھر کے مایہ ناز انٹرنیشنل کھلاڑی پاکستانی سرزمیں پر آ کر میچز کھیلیں گے ستمبر کے تاریخی پس منظر کے حوالے سے انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ‘بنیان المرصوص’ اور معرکہ حق کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف عظیم کامیابیاں سمیٹیں۔ انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحق ڈار کی مشترکہ کوششوں کو بھی سراہا، جن کی بدولت خارجہ محاذ پر پاکستان کے لیے عالمی معیشت اور سفارت کاری کے بند دروازے اب ہمیشہ کے لیے کھل چکے ہیں۔ معیشت، تعلیم، خارجہ پالیسی یا کھیل، پاکستان اب ہر میدان میں آگے بڑھ رہا ہے اور دنیا بھر کے میدانوں میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ لہراتا نظر آئے گا۔
وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کی بحالی کے لیے ایک جامع عالمی فریم ورک کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت، خارجہ پالیسی اور کھیلوں کے میدانوں میں پاکستان کی ترقی کا سفر اب مکمل طور پر ناگزیر ہو چکا ہے۔ یومِ دفاع کے موقع پر ہاکی میچ کی افتتاحی تقریب کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں، اسپورٹس انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن اور مستقبل قریب میں شروع ہونے والی انٹرنیشنل ہاکی لیگ کے حوالے سے اہم ترین تفصیلات سے آگاہ کیا تاکہ دنیا بھر کے میدانوں میں پاکستان کی تاریخی فتوحات کا سلسلہ دوبارہ بحال کیا جا سکے۔متعلقہ منسٹر اور سیکرٹری کی خصوصی اور ذاتی کاوشوں کی بدولت اسٹیڈیم میں تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش میں تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے اور گراؤنڈ میں بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈے اینڈ نائٹ میچز کے انعقاد کے لیے جدید فلڈ لائٹس نصب کی جا رہی ہیں۔ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مالی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے طول و عرض میں اعلیٰ معیار کی ہاکی کٹس مفت تقسیم کی جا رہی ہیں، جس میں وفاق کے سیکرٹری محی الدین احمد وانی نے ہاکی کی بحالی کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ حکومت نے دنیا کی مروجہ ہاکی طاقتوں کے ساتھ اسٹرکچرل شراکت داری قائم کر لی ہے جس کے تحت کھلاڑیوں کے پہلے دستوں کے بعد، اب مارچ میں بچیوں کو اعلیٰ تربیت کے لیے ہالینڈ بھیجا جا رہا ہے، جبکہ گراس روٹ لیول پر ہمارے بچوں اور بچیوں کو جدید ترین تکنیک سکھانے کے لیے ہالینڈ سے بین الاقوامی کوچز کو پاکستان بلایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر طیب اکرام اور ہالینڈ کے وزیراعظم سے انتہائی کامیاب اسٹریٹجک بات چیت ہوئی ہے، جنہوں نے پاکستان ہاکی کی بحالی میں بھرپور تعاون کا باقاعدہ وعدہ کیا ہے۔
وزیراعظم یوتھ پروگرام پاکستان کے نوجوانوں کو معاشی طور پر بااختیار بنانے اور ان کے محفوظ ڈیجیٹل و تجارتی مستقبل کی تعمیر کے لیے حکومت کا ایک تاریخی اقدام ہے,
وفاقی بجٹ میں اس پروگرام کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے تاکہ نوجوان ملک کی ترقی میں اپنا اہم ترین کردار ادا کر سکیں,
وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں اس فلیگ شپ پروگرام کو مزید وسعت دی گئی ہے اور حال ہی میں انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے موقع پر پاکستان کی تاریخ کی پہلی جامع “نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی” کا باقاعدہ اجراء کیا گیا ہے, بجٹ اور مالیاتی حجم حکومت کی جانب سے اس اہم پروگرام کے تسلسل کے لیے مجموعی طور پر 40.50 ارب روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی گئی ہے تاکہ بلا تعطل لون اسکیمز اور میرٹ پر مبنی دیگر سرگرمیاں جاری رکھی جا سکیں,نوجوانوں کو اپنا کاروبار (اسٹارٹ اپس) قائم کرنے اور زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے لیے مالی معاونت دی جا رہی ہے,اس لون اسکیم کے ذریعے اب تک ملک بھر کے 4 لاکھ سے زائد نوجوان انٹرپرینیورز میں 251.25 ارب روپے تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
آئی ٹی، ای کامرس اور فن ٹیک سے وابستہ نئے آئیڈیاز رکھنے والے نوجوانوں کو 5 لاکھ سے 15 لاکھ روپے تک کے قرضے انتہائی آسان شرائط پر دیے جا رہے ہیں,ڈیجیٹل پاکستان ویژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اب تک میرٹ کی بنیاد پر 7 لاکھ سے زائد لیپ ٹاپس ملک بھر کے ہونہار طلباء میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ لیپ ٹاپ کی فراہمی کا مقصد فری لانسنگ، ریسرچ اور آن لائن کامرس کے ذریعے نوجوانوں کو گلوبل مارکیٹ سے جوڑنا ہے۔
وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم ,پاکستان کے نوجوانوں کو معاشی طور پر خودمختار بنانے اور ملک میں چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو فروغ دینے کے لیے حکومت کا ایک انتہائی اہم اور فعال ترین فلیگ شپ پروگرام ہے ۔ مالی سال 2026-27 کے حالیہ وفاقی بجٹ میں اس مخصوص لون اسکیم کے تسلسل کے لیے مجموعی طور پر 22,400 ملین روپے (22.40 ارب روپے) کا خطیر بجٹ مختص کیا گیا ہے تاکہ باصلاحیت کسانوں اور نئے کاروباری آئیڈیاز (Startups) رکھنے والے نوجوانوں کو بلا تعطل فنڈنگ فراہم کی جا سک حکومت پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اس اسکیم کے تحت اب تک ملک بھر کے 4 لاکھ 34 ہزار سے زائد نوجوانوں میں 251.25 ارب روپے سے زائد کے قرضے کامیابی سے تقسیم کیے جا چکے ہیں
وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے یا زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بلا سود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جاتے ہیں۔اس اسکیم کا مقصد نوجوانوں کو صرف نوکری تلاش کرنے والا بنانے کے بجائے نوکریاں پیدا کرنے والا بنانا ہے۔ نوجوانوں کے لیے ہنر مندی کے پروگرام ملک بھر کے لاکھوں نوجوانوں کو مارکیٹ کی جدید ضروریات کے مطابق ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل ہنر (جیسے آئی ٹی، فری لانسنگ، آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی مفت تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر روزگار حاصل کر سکیں۔
یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم , ہونہار یونیورسٹی طلباء کو مفت لیپ ٹاپس فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ وہ جدید تحقیق، آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل دنیا سے جڑ کر اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھا سکیں۔ کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں سےنوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ اسپورٹس لیگز کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ گراس روٹ لیول سے باصلاحیت کھلاڑیوں کو سامنے لا کر قومی اور عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کیا جا سکے یہ پروگرام اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح وسائل اور رہنمائی فراہم کی جائے، تو وہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے ملک کا روشن مستقبل بن سکتے ہیں۔
نوجوانوں میں کاروباری ثقافت کو فروغ دینے کے لیے 81 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں، جس سے اب تک 1 لاکھ 40 ہزار سے زائد نوجوان براہِ راست مستفید ہو کر اپنے کاروبار شروع کر چکے ہیں,
نوجوانوں کو جدید ترین کورسز کروانے کے لیے 99,000 سے زائد ہنر مندی کے وظائف دیے گئے ہیں، جبکہ میرٹ پر پورا اترنے والے طلباء کے لیے 6 کروڑ 80 لاکھ روپے کے تعلیمی وظائف فراہم کیے گئے ہیں
مینوفیکچرنگ اور فری لانسنگ کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اداروں میں لیپ ٹاپس میرٹ پر تقسیم کیے گئے، جس کی بدولت پاکستانی فری لانسنگ افرادی قوت دنیا بھر میں چوتھے نمبر پر آ چکی ہے ‘ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ سپورٹس’ کے تحت 1 لاکھ 18 ہزار سے زائد نوجوان کھلاڑیوں کو کھیلوں کے میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع ملے، جبکہ ‘نیشنل انوویشن ایوارڈ’ کے ذریعے 1 لاکھ 63 ہزار سے زائد نوجوان تخلیق کاروں اور نئے آئیڈیاز کی پشت پناہی کی گئی ہے ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام نے آنے والے برسوں کے لیے انقلابی منصوبوں کی منظوری دی ہے , پاکستان کی پہلی جامع قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت آنے والے سالوں میں 15 لاکھ ہنر مند نوجوانوں کو روزگار کے لیے بیرونِ ملک بھیجا جائے گا، جس کے لیے قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور امریکہ جیسے ممالک سے معاہدے کیے جا رہے ہیں, پی ایم وائی پی اور یونیسف کے تعاون سے ایک جدید، AI سے لیس ‘ون اسٹاپ شاپ’ پلیٹ فارم لانچ کیا گیا ہے، جو اینڈرائیڈ اور آئی او ایس پر لاکھوں نوجوانوں کو اسکالرشپ، کیریئر کونسلنگ، اور جاب ریسورسز تک براہِ راست رسائی فراہم کر رہا ہے چین کے حالیہ سٹریٹجک دورے اور پاک-چین سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہونے والے معاہدوں کے تحت 3 لاکھ نوجوانوں کو ہواوے کے تعاون سے جدید ترین آئی ٹی ٹریننگ فراہم کی جائے گی。ون ملین یوتھ سوشل موبلائزر اور نیشنل رضاکار کور: معاشرتی ترقی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے 10 لاکھ نوجوانوں کو بطور سوشل موبلائزر متحرک کیا جائے گا، جبکہ 2 لاکھ نوجوانوں پر مشتمل نیشنل رضاکار کور قائم کی جا رہی ہے جو ہنگامی حالات اور آفات کے انتظام کے لیے تیار کی جائے گی وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت روزگار کے شعبوں میں خواتین کی 35 فیصد لازمی شرکت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ تاریخ میں پہلی بار مدارس کے طلباء کو بھی مین اسٹریم ترقیاتی کورسز کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ یکساں مواقع میسر آسکیں ہنر مند پاکستان” اور “وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام” کا باہمی اشتراک اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اگر تعلیمی سوچ کو مہارت پر مبنی سوچ سے بدل دیا جائے تو چیلنجز پر قابو پانا ناممکن نہیں۔ رانا مشہود احمد خان کا یہ وژن کہ “ہمارا مقصد ہر نوجوان کو صحت مند، تعلیم یافتہ اور خود کفیل بنانا ہے”، درست معنوں میں پاکستان کے تابناک مستقبل کی ضمانت ہے اگر ان پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو یہی نوجوان طبقہ پاکستان کو معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچا دے گا نئی ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت نوجوانوں کو براہِ راست مارکیٹ کی طلب کے مطابق روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ میرٹ کو فروغ دینے کے لیے مختلف تعلیمی شعبوں اور دانش اسکولز کے پوزیشن ہولڈرز طلباء کو نقد انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ہے۔پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا باضابطہ اجراء وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے انٹرنیشنل یوتھ ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں کیا گیا یہ پالیسی پاکستان کے کروڑوں نوجوانوں، بالخصوص تعلیم، روزگار یا تربیت سے محروم نوجوانوں کو پائیدار روزگار اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک پیش کرتی ہے۔پالیسی کے تحت پاکستان کی مجموعی لیبر فورس (ملازمتوں) میں خواتین کے لیے 35 فیصد سے 50 فیصد تک کا لازمی کوٹہ مختص کیا گیا ہے تاکہ معاشی ترقی میں خواتین کی برابر شرکت کو یقینی بنایا جا سکےنوجوانوں کو روایتی ملازمتیں ڈھونڈنے کے بجائے اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بنانے کے لیے اکیڈمی اور مارکیٹ کے سالانہ کوٹے کا 10 فیصد حصہ نئے اسٹارٹ اپس اور بزنس آئیڈیاز کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ حکومت ان کاروباروں کو آسان شرائط پر فنڈنگ اور مانیٹرنگ فراہم کرے گی,
وزیرِ اعظم نے اعلان کیا ہے کہ اس پالیسی کے تحت نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر چین بھیجا جائے گا۔ جہاں انہیں انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) جیسے جدید شعبوں میں اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی اور اس کے تمام اخراجات حکومت خود برداشت کرے گی پالیسی کے تحت دنیا بھر کی مارکیٹ کی طلب کے مطابق نوجوانوں کو ہنر اور زبانیں سکھائی جا رہی ہیں۔ قطر، سعودی عرب، امریکہ، ترکیہ اور بیلاروس جیسے ممالک کے تعاون سے 1.8 ملین (18 لاکھ) ہنرمند نوجوانوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔5۔ ہر ضلع میں ایمپلائمنٹ ایکسچینج نوکری کے متلاشی نوجوانوں کو براہِ راست مقامی اور قومی کمپنیوں سے جوڑنے کے لیے پاکستان کے ہر ضلع میں ڈیجیٹل ایمپلائمنٹ ایکسچینج قائم کیے جا رہے ہیں۔ جہاں نوجوان اپنی رجسٹریشن کروا کر میرٹ پر نوکریاں حاصل کر سکیں گےاس پالیسی کے مرکز میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی کام کر رہا ہے۔ یہ ایک “ون اسٹاپ شاپ” پلیٹ فارم ہے جہاں نوجوان کیریئر کونسلنگ، بین الاقوامی اسکالرشپس، انٹرن شپس اور ملازمتوں کے لاکھوں مواقع تک براہِ راست رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت قائم کردہ یہ فریم ورک ایڈہاک (عارضی) اقدامات کے برعکس اب حکومت، صنعت، اور تعلیمی اداروں کو ایک ساتھ جوڑ کر مستقل روزگار کے دروازے کھول رہا ہے۔وفاقی بجٹ میں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو ہنر مند اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مجموعی طور پر 40.50 ارب روپے (40,500 ملین روپے) کا خطیر مالیاتی حجم مختص کیا ہے۔ اس بجٹ کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو روزگار، ڈیجیٹل ہنر، اسکالرشپس اور اسٹارٹ اپس فنڈنگ کے ذریعے براہِ راست مارکیٹ سے جوڑنا ہے بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم (سب سے بڑا حصہ)مالیاتی حجم: 22,400 ملین روپے (22.40 ارب روپے)مقصد: نوجوان تاجروں اور کسانوں کو اپنا نیا کاروبار (Startups) شروع کرنے اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے آسان اور سستے قرضے فراہم کرنا۔ اس اسکیم کے تحت اب تک مجموعی طور پر 251.25 ارب روپے سے زائد کے قرضے ملک بھر کے 4 لاکھ 34 ہزار سے زائد نوجوانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں, وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام نوجوانوں کو ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی طلب کے مطابق جدید ترین ٹیکنیکل اور ڈیجیٹل ہنر سکھانا۔ اس میں سے 5.29 ارب روپے خاص طور پر 1 لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور ڈیجیٹل کورسز کروانے کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں , پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ مالیاتی حجم: 3,000 ملین روپے (3.00 ارب روپے)مقصد: ملک بھر کے غریب اور انتہائی ہونہار مستحق طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے تعلیمی وظائف (Scholarships) فراہم کرنا آئی ٹی اسٹارٹ اپس اور وینچر کیپیٹل فنڈمالیاتی حجم: 3,000 ملین روپے (3.00 ارب روپے)مقصد: ٹیکنالوجی پر مبنی نئے آئیڈیاز، سوفٹ ویئر ہاؤسز، اور ایجادات کے شعبے میں کام کرنے والے نوجوانوں کو وینچر فنڈنگ کے ذریعے معاونت فراہم کرنا۔ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے دیگر 6 اہم منصوبےانفراسٹرکچر اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے 2,200 ملین روپے الگ سے مختص کیے گئے ہیں یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز (YDCs): 700 ملین روپےکامیاب جوان ٹیلنٹ ہنٹ اسپورٹس لیگ: 500 ملین روپےوزیراعظم یوتھ انٹرن شپ پروگرام: 300 ملین روپے کا مقصد ڈگری ہولڈرز کو مختلف اداروں میں معاوضے کے ساتھ انٹرن شپ دلوانا ہے اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے تعلیم کے نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے لیے بجٹ میں دانش اسکولز نیٹ ورک کی توسیع کے لیے 24.48 ارب روپے الگ سے رکھے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی یکساں مواقع مل سکیں۔




