فضائی حدود کے پاسبان: پاک فضائیہ کی لازوال قربانیاں
(کالم نگار: اصغر علی مبارک) ہر سال 7 ستمبر کو پورا پاکستان اپنے خودمختار آسمانوں کے حقیقی محافظوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ یومِ فضائیہ—جو ملک بھر کے ایئر ہیڈ کوارٹرز اور تمام پی اے ایف بیسز پر قرآن خوانی، خصوصی دعاؤں اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادریں چڑھانے کی پروقار تقاریب کے ساتھ منایا جاتا ہے—صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ فولاد، آگ اور لازوال ایمان سے لکھی گئی شجاعت کی وہ داستان ہے جو رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ 1947ء میں اپنے انتہائی محدود وسائل سے آغاز کرنے والی پاک فضائیہ (PAF) نے آج ایک انتہائی مہلک اور تکنیکی طور پر دنیا کی جدید ترین فضائی قوتوں میں شامل ہو کر ثابت کیا ہے کہ عددی طور پر کئی گنا بڑے دشمن کو بہترین تربیت، سٹریٹجک حکمتِ عملی اور شاہینوں کے بے مثال جذبے سے کیسے زیر کیا جاتا ہے
آغازِ سفر: پاک فضائیہ کا قیام اور ابتدائی ارتقائی مراحل (1947ء تا 1950ء کی دہائی)
پاک فضائیہ کی تاریخ کا آغاز 14 اگست 1947ء کو رائل انڈین ایئر فورس کی تقسیم سے ہوا۔ نو زائیدہ ‘رائل پاکستان ایئر فورس’ (RPAF) کے حصے میں صرف چند ہاکر ٹیمپسٹ (Hawker Tempest) فائٹرز، ٹائیگر ماتھ (Tiger Moth) ٹرینرز اور چند ڈکوٹا ٹرانسپورٹ طیارے آئے۔ مادی وسائل کی اس شدید کمی کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر اور تکنیکی عملے کی بھی شدید قلت کا سامنا تھا۔
ان مشکل حالات میں برطانوی ایئر افسران (جیسے ایئر وائس مارشل ایلن پیری کین) اور بعد ازاں پاکستان کے پہلے مقامی ایئر چیف، ایئر مارشل اصغر خان کی مدبرانہ قیادت نے پاک فضائیہ کو ایک نئے سانچے میں ڈھالا۔
اصغر خان نے سخت نظم و ضبط، پی اے ایف اکیڈمی رسالپور جیسے عالمی معیار کے تربیتی مراکز کے قیام اور جدید جیٹ انجن ٹیکنالوجی کے حصول پر اپنی توجہ مرکوز کی۔
1950ء کی دہائی کے وسط تک، پاکستان نے دفاعی معاہدوں کے تحت امریکی ساختہ ایف-86 سیبر (F-86 Sabre) اور ایف-104 اسٹار فائٹر (F-104 Starfighter) طیاروں کو اپنے بیڑے میں شامل کر کے خطے میں اپنی فضائی برتری کی بنیاد رکھ دی۔
معرکہِ ستمبر: 1965ء کی پاک بھارت جنگ اور فضائی بالادستی کا تاریخی ریکارڈ;
پاک فضائیہ کا حقیقی امتحان ستمبر 1965ء کی جنگ میں ہوا، جہاں اس کا سامنا ایک ایسے دشمن سے تھا جو عددی لحاظ سے ساڑھے تین گنا بڑا تھا۔ اس کے باوجود، پاک فضائیہ نے دفاعی اور جارحانہ فضائی آپریشنز کی ایسی لازوال مثال قائم کی جو آج بھی دنیا بھر کے عسکری نصاب کا حصہ ہے۔
ایم ایم عالم کا عالمی ریکارڈ: 7 ستمبر 1965ء کو اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم (ایم ایم عالم) نے سرگودھا کے آسمان پر اپنے ایف-86 سیبر طیارے سے وہ کارنامہ انجام دیا جس کی ہوا بازی کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ ہاکر ہنٹر (Hawker Hunter) طیارے مار گرائے، جن میں سے چار صرف 30 سیکنڈ کے اندر زمین بوس ہوئے۔
پیشگی اور جوابی فضائی حملے:
پاک فضائیہ کے نڈر پائلٹس نے پٹھان کوٹ، کالائی کنڈا اور آدم پور جیسے دشمن کے اندرونی فضائی اڈوں پر انتہائی جرات مندانہ حملے کر کے ان کے درجنوں طیاروں کو زمین پر ہی تباہ کر دیا اور جنگ کے آغاز میں ہی ان کی جارحانہ صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا۔
مکمل فضائی برتری:
7 ستمبر تک، لاہور اور چاوونڈہ کے محاذوں پر پاک فوج کی زمینی پیش قدمی کی پشت پناہی کرتے ہوئے، پاک فضائیہ نے جنگی زون پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
ان 17 دنوں کی بے مثال جرات کی بدولت ہی 7 ستمبر کو ہمیشہ کے لیے ‘یومِ فضائیہ’ کا درجہ مل گیا۔
کٹھن حالات میں بے مثال جرات: 1971ء کی جنگ اور شاہینوں کی داستانِ شجاعت1971ء کا معرکہ جغرافیائی طور پر انتہائی پیچیدہ اور کٹھن تھا۔ مشرقی پاکستان میں چاروں طرف سے گھری ہوئی نمبر 14 اسکواڈرن (“ٹیل چوپرز”) کو ڈھاکہ میں انتہائی نامساعد حالات کا سامنا تھا۔ڈھاکہ کے آسمان پر فضائی معرکہ: دشمن کے جدید مگ-21 (MiG-21) اور ہنٹر طیاروں کے خلاف پی اے ایف کے مٹھی بھر پائلٹس نے پرانے ایف-86 سیبر طیاروں کے ساتھ رات دن جنگ لڑی۔ جب شدید بمباری سے تیزگاؤں کا رن وے مکمل طور پر تباہ ہو گیا، تب بھی پی اے ایف کے جوانوں نے آخری لمحے تک اڑانیں بھریں اور رن وے ناکارہ ہونے سے قبل دشمن کے متعدد طیاروں کو مار گرایا۔
مغربی سیکٹر کے آپریشنز: مغربی محاذ پر پاک فضائیہ نے انتہائی جارحانہ حکمتِ عملی برقرار رکھی۔ دشمن کے ایئربیسز پر رات کے وقت گہرے حملے کیے گئے اور تھر کے صحرا اور شمالی علاقوں میں دشمن کی زمینی پیش قدمی کو روکنے کے لیے پاک فوج کو بہترین کلوژ ایئر سپورٹ (Close Air Support) فراہم کی گئی۔
افغان سرحد کی نگرانی: 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین (روس) کے حملے نے جنگ کے بادل پاکستان کی مغربی سرحدوں تک پہنچا دیے۔ سوویت اور افغان ڈومین کے سو-22 (Su-22) اور مگ-23 (MiG-23) طیاروں کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزیوں کا منہ توڑ جواب دینا ناگزیر ہو چکا تھا۔اس دور میں پاک فضائیہ میں امریکی ایف-16 (F-16 Fighting Falcon) طیاروں کی شمولیت نے طاقت کا توازن یکسر بدل دیا۔ ان جدید طیاروں کی مدد سے پی اے ایف کے پائلٹس نے ڈیورنڈ لائن پر سخت ترین پٹرولنگ (Combat Air Patrol) قائم رکھی۔ اس طویل سرحدی کشیدگی کے دوران، پاک فضائیہ نے ایک درجن سے زائد درانداز سوویت اور افغان طیاروں کو مار گرایا اور جدید ترین ریڈار گائیڈڈ میزائل ٹیکنالوجی پر اپنی مکمل مہارت کا لوہا منوایا۔
خودانحصاری اور دفاعی خودمختاری: جے ایف-17 تھنڈر کا انقلابی دورغیر ملکی ہتھیاروں کی سپلائی پر انحصار اور بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاک فضائیہ نے 1990ء کی دہائی کے آخر میں ‘دفاعی خودانحصاری’ کی طویل المیعاد پالیسی اختیار کی۔ اس وژن کا سب سے بڑا شاہکار جے ایف-17 تھنڈر (JF-17 Thunder) پروگرام ہے، جسے چین کے تعاون سے پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس (PAC) کامرا میں مقامی طور پر تیار کیا گیا۔

جے ایف-17 تھنڈر اپنے بلاک I، II اور اب جدید ترین بلاک III کے مراحل طے کر چکا ہے، جس میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، جدید ترین ‘ایسا’ ریڈار (AESA Radar)، ہیلمٹ ماونٹڈ سائیٹس اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے پی ایل-15 (PL-15) میزائل شامل ہیں۔ اپنے جنگی طیارے خود تیار کر کے پاکستان نے بین الاقوامی پابندیوں کے خطرات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے۔
آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ اور فضائی بالادستی;
پاک فضائیہ کی غیر معمولی تزویراتی اور آپریشنل تیاری کا ثبوت 27 فروری 2019ء کو آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی شکل میں دنیا نے دیکھا۔ بالاکوٹ میں بھارتی فضائیہ کی جانب سے کی جانے والی بزدلانہ دراندازی کے جواب میں پاک فضائیہ نے دن کے اجالے میں ایک انتہائی نپی تلی جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔پاک فضائیہ نے سرحد پار دشمن کے اہم فوجی اہداف کو اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے سمارٹ ہتھیاروں کے لاک میں لے کر بھارتی فضائی دفاعی اثاثوں کو ایک چالاک جنگی جال میں پھنسایا۔ اس کے بعد ہونے والی تاریخی فضائی جھڑپ (Dogfight) میں پاک فضائیہ نے دشمن کا ایک مگ-21 بائیسن اور ایک سوخوئی-30 طیارہ مار گرایا۔ بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھامن کو زندہ گرفتار کر لیا گیا، جو پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ برتری کا زندہ ثبوت بنا۔
معرکہِ حق: کثیر جہتی فضائی جنگ میں پاک فضائیہ کی تاریخی فتح ;پاکستان کی دفاعی تاریخ کا سب سے بڑا اور انقلابی موڑ معرکہِ حق کے دوران سامنے آیا۔ حساس اور تزویراتی پہاڑی راہداریوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے اس تصادم نے پاک فضائیہ کو اپنی روایتی جنگی حکمتِ عملی کو ایک بالکل نئے اور جدید ترین نظام میں تبدیل کرنے پر مجبور کیا۔ دشمن کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور جدید ترین جنگی نیٹ ورکس کا مقابلہ کرنے کے لیے، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے ایک انتہائی جدید، مربوط اور خودکار جنگی نظام (Kill Chain) میدانِ عمل میں اتارا۔
فضائی و خلائی ہم آہنگی اور ہائی الرٹ:
پاک فضائیہ نے جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی کثیر جہتی دفاعی پوزیشن (Multi-Domain Defensive Posture) کو فعال کیا۔ اس تزویراتی نظام کے تحت پائلٹ والے روایتی جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ کے اڑنے والے ڈرونز اور جنگی گاڑیوں (UACVs)، خلائی مواصلاتی و جاسوسی سیارچوں، اور جدید ترین الیکٹرانک جنگی سسٹمز کو ایک ساتھ منسلک کر دیا گیا، جس سے فضائی حدود کی مکمل اور ہمہ وقت نگرانی کو یقینی بنایا گیا۔
سٹریٹجک اینٹی ایئر نیٹ ورکس کی ناکامی:
جدید ہائبرڈ وارفیئر (مخلوط طرزِ جنگ) کے ایک شاندار مظاہرے میں، پاک فضائیہ کے الیکٹرانک اور سائبر وارفیئر کے ماہرین نے ایسے مخصوص اور جدید آلات کا استعمال کیا جس نے معرکے کے ابتدائی لمحات میں ہی دشمن کے کمانڈ چینلز کو مفلوج کر دیا اور ان کے سب سے بڑے اور نام نہاد ناقابلِ تسخیر سٹریٹجک سرفیس ٹو ایئر میزائل نیٹ ورکس کو معرکے کے آغاز میں ہی مکمل طور پر جام اور ناکارہ بنا دیا۔
متحرک اور فیصلہ کن فضائی معرکہ (Dogfight): جب دشمن نے طویل فاصلے سے وار کرنے والے (Stand-Off) ہتھیاروں کے ذریعے فضائی حدود پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ نے انتہائی تیزی سے مدافعتی پوزیشن چھوڑ کر جارحانہ جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا۔ ان فضائی معرکوں میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے حریف کے جدید ترین فرنٹ لائن جنگی طیاروں کے خلاف مکمل فضائی بالادستی قائم کر کے ثابت کیا کہ پاک فضائیہ جدید دور کے کثیر الجہتی دفاعی ماحول میں فتح حاصل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔
معرکہِ حق عسکری تاریخ کا وہ جدید سنگِ میل بن چکا ہے جہاں پاک فضائیہ نے سائبر، الیکٹرانک، ڈرون اور روایتی فضائی حدود کے تمام جہتوں میں بیک وقت اپنی مکمل برتری ثابت کی، اور دنیا بھر کے عسکری ماہرین نے اسے آسمانوں کا بلامنازع ‘سلطان’ تسلیم کیا۔حاصلِ کلام: شہداء کا ورثہ اور ملکی دفاع کے لیے فولادی عزم کا تسلسلآج، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی متحرک قیادت میں پاک فضائیہ ایک “اگلی نسل کی ایئر فورس” (Next-Generation Air Force) میں تبدیل ہو رہی ہے۔
اسٹیلتھ طیاروں، جدید ترین ڈرون فلیٹس اور فعال سائبر و خلائی کمانڈز کے انضمام کے ساتھ یہ فورس اب ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ وارفیئر کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔تکنیکی ترقی کی ان تمام بلندیوں کے باوجود، پاک فضائیہ کا اصل اثاثہ اس کا افرادی قوت اور اس کے شہداء کا مقدس خون ہے۔ جیسا کہ ایئر چیف نے ایئر ہیڈ کوارٹرز میں یومِ شہداء کی تقریب کے دوران واضح الفاظ میں فرمایا: “ہمارے شہداء شجاعت، قربانی اور قومی عزم کی لازوال علامت ہیں۔ ان کا ورثہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وطن عزیز کا دفاع ایک مقدس امانت ہے جس پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔” پاکستان کے شاہین آج بھی اسی جذبے کے ساتھ آسمانوں پر نظریں جمائے کھڑے ہیں تاکہ سبز ہلالی پرچم ہمیشہ سر بلند رہے۔