وزیراعظم بننے کے بعد اچھے منتظم‘ شہباز شریف کا امتحان شروع؟ …….(اندر کی بات ؛کالم نگار؛اصغرعلی مبارک)…..۔ وزیراعظم بننے کے بعد ایک قابل منتظم کے طور پر شہباز شریف کی ساکھ کا صحیح معنوں میں امتحان شروع ہوگامیاں شہباز شریف کو پانامہ سکینڈل کے دورا ن نوازشریف کی جگہ وزیراعظم بننے کی آفر ہوئی مگر مائنس نوازشریف فارمولہ انہوں نے مسترد کردیاتھا۔ وزیراعظم میان محمد شہباز شریف پاکستانی سیاست دان اور موجودہ وزیر عظم ہیں۔ جو 8 جون 2013ء سے 8 جون 2018ء تک وزیر اعلیٰ پنجاب رہے اور سابقہ قائد حزب اختلاف، ایوان زیریں پاکستان۔ سیاسی طور پر ان کا تعلق شریف خاندان سے ہے، میاں محمد شریف (بانی اتفاق گروپ) ان کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف بھائی ہیں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے موجودہ صدر بھی ہیں۔ شہباز شریف 1988ء میں پنجاب صوبائی اسمبلی اور 1990ء میں قومی اسمبلی پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔ 1993ء میں پھر پنجاب صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور قائد حزب اختلاف نامزد ہوئے۔ 1997ء میں تیسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے، شہباز شریف نے 20 فروری 1997ء کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔عمران خان کے خلاف کامیاب تحریک عدم اعتماد کے بعد 11 اپریل 2022ء کو 174 ووٹ لے کر پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہوئے 1999ء میں فوجی انقلاب کے بعد، شہباز شریف نے سعودی عرب میں جلا وطنی کی زندگی گزاری اور آخرکار 2007ء میں پاکستان واپسی ہوئی۔ پاکستان کے عام انتخابات 2008ء میں کامیابی کے بعد شہباز شریف دوسری بار وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، 2009ء میں جب صدر آصف علی زرداری نے گورنر راج کا نفاذ کر کے سلمان تاثیر کو گورنر پنجاب نامزد کیا تو شہباز شریف معزول ہو گئے۔ شریف برادران نے عدالت کی بحالی کے لیے یوسف رضا گیلانی کی حکومت کی خلاف لانگ مارچ کیا جس کے نتیجے میں عدلیہ بحال ہو گئی اور گورنر راج ختم ہو گیا۔ شریف کے دوسرے دور میں بنیادی ڈھانچے میں ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی اور 2011ء میں ڈینگی کے بخار کو پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہ سیاسی بحرانوں کے حل کے لیے قومی حکومت کی تجویز دینے والے میاں شہباز شریف پاکستان کے نئے وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کی اتحادیوں کی حکومت، ماسوائے مسلم لیگ ق اور جماعت اسلامی قومی حکومت ہی کہلائی جا سکتی ہے۔ ان کی قومی حکومت کی تجویز ویسے بھی مائنس تحریک انصاف تھی۔ کاروباری خاندان میں پیدا ہونے والے شہباز شریف نے بھی اپنے خاندانی کاروبار کی بجائے سیاست کو اپنایا۔ ایک صنعت کار کا بیٹا جس نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور خاندانی ملکیت والے اتفاق گروپ میں شامل ہو گئے جو سٹیل کا کاروبار کرتا تھا 1990 میں جب نواز شریف نے وزیر اعظم کے طور پر اپنا پہلا انتخاب جیتا تو شہباز شریف قومی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔ 1997 میں اپنے بھائی کے وزیراعظم کے طور پر دوسرے دور میں وہ پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے اور طاقتور صوبے پنجاب کے وزیراعلیٰ بنےتاہم دو سال بعد جب نواز شریف نے فوج کے سربراہ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تو دونوں بھائیوں کو فوجی بغاوت میں معزول کر دیا گیا۔ اس خاندان کو قید کیا گیا اور پھر 2007 تک سعودی عرب جلاوطن کردیا گیاملک واپس آنے کے بعد بالآخر دونوں اپنے سابق عہدوں پر واپس آ گئے۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے شہباز کی انتظامیہ نے بنیادی ڈھانچے پر بھاری خرچ کیا اور جب 2017 میں نواز کو ایک بار پھر عہدے سے ہٹایا گیا تو اس بار بدعنوانی کے الزامات کے بعد وہ ان کی جگہ لینے والے واضح امیدوار تھے-شہباز شریف کو پانامہ سکینڈل کے دورا ن نوازشریف کی جگہ وزیراعظم بننے کی آفر ہوئی مگر مائنس نوازشریف فارمولہ انہوں نے مسترد کردیاتھا۔ 17 جون 2017 کومیاں شہباز شریف نے پانامہ سکینڈل کیس میں جے آئی ٹی کے سامنے بیان جمع کروایا میاں شہباز شریف کو پانامہ سکینڈل کے دورا ن نوازشریف کی جگہ وزیراعظم بننے کی آفر ہوئی مگر مائنس نوازشریف فارمولہ انہوں نے مسترد کردیاتھا۔ 71 سالہ شہباز شریف نے بعد میں قومی حکومت کی تشکیل کی تجویز کو اپنی ذاتی رائے کہا تھا جبکہ ق لیگ کے ساتھ ممکنہ اتحاد اور چوہدری پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کی پیشکش کے سوال پر ان کا جواب تھا کہ ’سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔ کل کے دوست آج کے مخالف اور کل کے مخالف آج کے دوست۔‘ یعنی پنجاب میں بھی آگے چل کر وہ کسی مفاہمت تک پہنچ سکتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے پاس چوتھی مرتبہ وزارت عظمی آئی ہے لیکن اس مرتبہ میاں نواز شریف کے مقابلے میں ایک قدرے مختلف سیاست دان کو مسند ملی ہے۔ وہ مفاہمتی سیاست کا پرچار کرتا ہے اور ایک اچھے منتظم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانات ڈھونڈنے سے نہیں ملتے، جو انہیں اس وقت انتہائی منقسم اور پولرائزڈ ملک کے لیے اچھے متبادل کے طور پر سامنے آسکتے ہیں۔ میاں شہباز شریف بڑے میاں نواز شریف کی ہدایات پر چلتے ہیں۔ ان کے لیے اس سے انحراف ممکن نہیں۔ پانامہ سکینڈل کیس پاکستان کی سپریم کورٹ میں جاری ایک مقدمہ تھا۔ جس کی سماعت یکم نومبر 2016ء سے 23 جنوری 2017ء تک جاری رہی تھی۔ یہ مقدمہ عدالت میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان لے کر آئے تھے جنہوں نے نواز شریف پر منی لانڈرنگ، رشوت ستانی اور متضاد بیانات کی بنیاد پر یہ مقدمہ دائر کردیاتھا۔ یہ الزامات اس وقت عائد کیے گئے جب پانامہ سکینڈل میں شریف خاندان اور آٹھ غیر ملکی کمپنیوں کے مابین تعلق کا انکشاف ہوا تھا۔عدالت نے اس کے متعلق 23 فروری 2017ء کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا۔ پانامہ سکینڈل پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ مشہور ہوا، اسے پاکستانی تاریخ کا رخ بدل دینے والا واقعہ بھی کہا جاتا ہے۔عدالت نے 20 اپریل 2017ء کو فیصلہ سنایا کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو پناما لیکس کی روشنی میں شریف خاندان پر عائد رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیق کرے۔ 28 جولائی 2017ء کو عدالت عظمیٰ پاکستان نے نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے سے برطرف قرار دے دیا اور ان کے حلاف مقدمہ شروع کرنے کا حکم دیا تھا۔تحقیقاتی صحافیوں کے بین الاقوامی کنسورشیم نے ایک کروڑ پندرہ لاکھ خفیہ دستاویزات 3 اپریل 2016ء کو عام کیں جنہیں بعد میں پانامہ دستاویزات کا نام دیا گیاتھا۔یہ کاغذات پانامہ کی ایک قانونی فرم موساک فونسیکا سے حاصل کیے گئے تھے اور ان میں نواز شریف کے خاندان کی آٹھ غیر ملکی کمپنیوں کی تفصیل بھی موجود تھی۔ نواز شریف اُس وقت پاکستان کے وزیرِ اعظم تھے۔ دستاویزات میں ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا بھی نام تھا۔ جو صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ تھے نواز شریف نے 5 اپریل 2016ء کو عوام سے خطاب کے دوران میں سپریم کورٹ کے ایک سابق جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ 22 اپریل 2016ء کو قوم سے دوسرے خطاب میں نواز شریف نے اعلان کیا کہ اگر وہ مجرم ثابت ہوئے تو مستعفی ہو جائیں گےے 16 مئی 2016ء کو وزیرِ اعظم کے قومی اسمبلی کے خطاب میں نواز شریف نے ایک مشترکہ کمیٹی بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ جوڈیشل کمیشن کا طریقہ کار وضع کیا جا سکےنواز شریف کی تقریر کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے نعیم بخاری کے ذریعے 29 اگست 2016ء کو سپریم کورٹ میں بطور رکن قومی اسمبلی مقدمہ دائر کیا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جائے۔ مقدمے میں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر اور موجودہ وزیرِ خانہ اسحاق ڈار کو بھی شامل کیا گیا تھا۔عدالت کے پانچ رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی جس کی سربراہی چیف جسٹس جمالی کر رہے تھے اور دیگر اراکین میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، عامر ہانی مسلم، شیخ عظمت سعید اور اعجاز الاحسن شامل تھے۔ یکم نومبر 2016ء سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوئی تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی نمائندگی نعیم بخاری اور حامد خان نے کی جبکہ شریف خاندان کی قانونی مدد کے لیے معروف وکلا سلمان اسلم بٹ اور اکرم شیخ موجود تھے۔ عدالت نے حزبِ اختلاف کی دیگر شخصیات بشمول جماعتِ اسلامی کے رہنما سراج الحق اور شیخ رشید احمد کی اضافی پٹیشنیں بھی ساتھ شامل کر لیں۔دسمبر میں چیف جسٹس جمالی کے ریٹائر ہونے کے بعد نئے بنچ کی سربراہی جسٹس کھوسہ کو دی گئی تاکہ نئے سرے سے سماعت شروع ہو سکے۔ بنچ میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور اعجاز الاحسن پہلے بھی شامل تھے جبکہ جسٹس اعجاز افضل خان اور گلزار احمد کو مزید شامل کیا گیا۔ شریف خاندان نے بھی اپنی قانونی ٹیم میں ردوبدل کی اور اکرم شیخ اور سلمان بٹ کی جگہ مخدوم علی خان، شاہد حامد اور سلمان اکرم راجا کو شامل کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قطری خط کی شمولیت اور مقدمے کی تیاری سے شریف خاندان مطمئن نہیں تھا۔ دوسری جانب حامد خان نے بھی مقدمے کی پیروی سے معذرت ظاہر کر لی اور کہا کہ ‘میں عدالت میں مقدمہ لڑ سکتا ہوں مگر میڈیا کی جنگ میں شامل نہیں ہو سکتا۔‘ نئے سرے سے سماعت 4 جنوری 2017ء سے شروع ہوئی پی ٹی آئی کے موقف کو نعیم بخاری کے علاوہ ملیکہ بخاری اور اکبر حسین نے بھی پیش کیا۔شریف خاندان کے وکیل مخدوم علی خان دفاعی ٹیم کے سربراہ جبکہ سعد ہاشمی اور سرمد ہانی ان کے مددگار بنے۔ مخدوم علی خان نے عدالت کے اپنے فیصلہ برائے آئینی شق 62 کی شق 1 ایف کا حوالہ دیا جس کے تحت مدعا علیہ نے وزیرِ اعظم کی نا اہلی کا مطالبہ کیا تھاسماعت کے دوران میں عدالت نے پناما پیپرز کے حوالے سے ملکی اداروں کے ناکارہ ہونے پر کئی بار سوال اٹھائے۔ محمد ارشد، چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو جواب دیا کہ پناما پیپرز کے حوالے سے 343 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے اور حسن، حسین اور مریم نواز نے جواب بھی جمع کرا دیے تھے۔ ایف بی آر کے وکیل محمد وقار رانا نے تسلیم کیا کہ پناما سکینڈل پر فوری اقدامات نہیں کیے گئے اور بتایا کہ منی لانڈرنگ کے لیے مختلف ادارے اور الگ قوانین موجود ہیں۔ پاکستان کے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی 22 فروری 2017ء کو عدالت کی معاونت کے لیے پیش ہوئے۔ اوصاف اور اسد رحیم خان اور سالار شاہزیب خان کی معاونت کے لیے بتایا کہ کوئی بھی، بشمول نیب لاہور ہائی کورٹ کے حدیبیہ ریفرنس کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتا تھا۔نعیم بخاری کی طرف سے مقدمے کی مزید پیروی سے انکار کے بعد 23 فروری 2017ء کو مدعیان یعنی عمران خان، سراج الحق اور شیخ رشید احمد عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور عدالت نے اسی روز فیصلہ محفوظ کر لیا۔20 اپریل 2017ء کو دن 2 بجے عدالت نے فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے تین کے مقابلے میں دو سے فیصلہ سنایا کہ نواز شریف کو عہدے سے برطرف کرنے کے لیے ناکافی شواہد ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ مزید تحقیق کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جائے جو وزیرِ اعظم پر رشوت ستانی کے الزامات کی تحقیق کرے۔ دو اختلافی ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس گلزار احمد نے یہ رائے دی کہ وزیرِ اعظم قوم سے ایماندار نہیں رہے اور انہیں نا اہل قرار دیا جائے540 صفحات طویل فیصلے کو اسی روز جاری کر دیا گیا تھا۔ اس کو جسٹس اعجاز افضل نے لکھا اور اس میں تفتیشی اداروں نیب اور ایف آئی اے پر کڑی تنقید کی گئی اور حکومت کی طرف سے اس معاملے کو مناسب طرح سے توجہ نہ دینے پر بھی تنقید کی گئی۔ اس کے علاوہ ملزمان پر عدالت سے مکمل ایماندار نہ ہونے پر بھی تنقید کی گئی۔وہ قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) پارٹی کے صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کے عملی اقدامات کی وجہ سے وہ چین کے حکمران حلقوں میں بھی مقبول ہوئے۔ انہوں نے لاہور میں چین کی مدد سے کئی منصوبے مکمل کیے۔پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنی تین مدتوں کے دوران شہباز نے اپنے آبائی شہر لاہور میں پاکستان کے پہلے جدید ماس ٹرانسپورٹ نظام سمیت متعدد اہم بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کی اور انہیں عملی جامہ پہنایا۔بڑے بھائی کی طرح ان پر بھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات ان کے خلاف سیاسی انتقام ہے۔

2020 میں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ پر جو پنجاب میں قائد حزب اختلاف ہیں، منی لانڈرنگ کے الزام میں فرد جرم عائد کی گئی اور برطانیہ نے خاندان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے۔ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات میں شہباز کے خلاف شواہد نہ ملنے کے بعد یہ مقدمہ ختم کر دیا گیا۔ تاہم یہ پاکستان میں اب بھی کھلا ہے جہاں دونوں پر فرد جرم عائد کرنے کا عمل بار بار موخر کیا گیا ہے۔

ان کے اور ان کے بیٹے کے خلاف لاہور کی سپیشل سینٹرل کورٹ میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے کہنے پر منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی آج کل چل رہا ہے۔ اس مقدمے کے چالان میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو نہ صرف مرکزی ملزمان بلکہ 16 ارب روپے سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کا اصل فائدہ اٹھانے والوں کے طور پر ملزمان ٹھہرایا ہے۔ 16 ارب روپے سے زائد کی مبینہ منی لانڈرنگ، بدعنوانی، غیرقانونی ذرائع اور تحائف سے حاصل شدہ رقوم پر مشتمل ہےشہباز شریف نے اس مقدمے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست دائر کی تھی جس میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ نیب نے بھی اس سے قبل اسی قسم کا مقدمہ بنایا لیکن تحقیقات سے کچھ بھی ثابت نہیں ہوا اور اب سیاسی انتقام کے طور پر ایف آئی اے کے ذریعے اسے چلایا جا رہا ہے۔ البتہ انہوں نے بعد میں یہ درخواست واپس لے لی تھی۔
انہیں ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن تقریباً چھ ماہ بعد حراست میں رہنے کے بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔وزیر اعظم بننے کے بعد ایک قابل منتظم کے طور پر شہباز شریف کی ساکھ کا صحیح معنوں میں امتحان شروع ہوگا۔ پاکستان کی معیشت انتہائی خراب حالت میں ہے – افراط زر 13 فیصد ہے اور روپے کی کم ہوتی ساکھ کے ساتھ ہی ادائیگیوں کے توازن کا بحران ان کا منتظر ہے۔خارجہ امور میں زیادہ اہم مسئلہ پاکستان کے قریبی ہمسایوں کا ہے۔ شریف خاندان کے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رہے ہیںشہباز شریف نے گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں عمران خان کے برعکس کہا کہ وہ امریکہ کے ساتھ بھی اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ لیکن ان کا ’بھکاری‘ سے متعلق بیان پہلے ہی تحریک انصاف ان پر تنقید کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

افغانستان جہاں گذشتہ سال طالبان اقتدار میں آئے، شہباز شریف کے خارجہ تعلقات کا سب سے مشکل حصہ ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا جس پر سب کو تشویش ہے۔ان کی پہلی شادی ان کے والد کی اجازت سے 1973ء میں ان کی کزن بیگم نصرت شہباز سے ہوئی جن سے ان کے دو بیٹے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز اور تین بیٹیاں ہیں۔ حمزہ شہباز سیاست دان ہے اور قومی اسمبلی کے رکن بھی ہے۔ سلمان شہباز نے جامعہ اوکسفرڈ لندن سے تعلیم حاصل کی اور ان کا زیادہ رجحان کاروبار کی طرف ہے۔ انہوں نے 1993ء میں دوسری شادی عالیہ ہنی سے کی جن سے ان کی ایک بیٹی خدیجہ ہیں۔ انہوں نے عالیہ ہنی کو جلاوطنی کے دور میں سعودی عرب میں طلاق دے دی تھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ شہباز شریف نے تیسری شادی تہمینہ درانی سے کی جس کا وہ اقرار نہیں کرتے، اگر یہ سچ ہے تو یہ دونوں کی تیسری ،تیسری شادی ہے