واقعہ کربلا حق وباطل کا بڑا معرکہ ( اصغرعلی مبارک؛….کالم…. اندر کی بات ) .. واقعہ کربلا حق وباطل کا سب سے بڑا معرکہ ہے جو تاقیامت زندہ وجاوید رہے گا فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام عالم اسلام کیلئےصبرواستقامت‘ راست بازی‘ ایثار‘ محبت دین اور نظام الٰہی کیلئے سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کر دینے کانام ہے۔اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرمایااور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو ،بلکہ وہ زندہ ہیں ،لیکن تمہیں(ان کی زندگی کا) شعور نہیں (بقرہ:154) دوسرے مقام پر فرمایا اور جو لوگ اﷲ کی راہ میں قتل کئے گئے انہیں مردہ نہ سمجھو ،بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جا تا ہے (ال عمران:170)اگر فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام کے آئینے میں دور حاضر حالات و نظام یائے ملک و سلطنت کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں سماجی سیاسی ۔مذہبی و دینی رہنما تو بڑی تعداد میں ملتے ہیں لیکن کردار کا غازی کوئی نظر نہیں آتا . افسوس کہ اصلاح کا فرض ادا ہوتا نظر نہیں آرہا. حقیقت یہ ہے کہ آج ہم گفتار کے غازی تو بن گئے لیکن کردار کے غازی نہ بن سکے اور امام حسین علیہ السلام کے راستے میں کردار کی بلندی کے ساتھ سب کچھ قربان بھی کرنا پڑتا ہے؟ مگر آج جبکہ ہمیں اپنی جان پیاری ہے‘ آسائش پیاری ہے‘ مفاد پیارے ہیں ایسے میں کون ہے جو فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام کو مشعل راہ بنائے‘ اذیت و مصیبت سہے‘ مسافر کہلائے‘ اپنے ہی ہاتھوں سے یکے بعد دیگرے اپنے پیاروں کے لاشے اٹھائے‘ سجدے میں اپنا سر کٹوائے اور نیزے پر کلمہ حق بلند فرمائے؟ آج بھی عالم اسلام میں ہرسو معرکہ کربلا نظر آرہا ہے.مسلمان نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کوفہ کی مثال پر منافقت و دھوکہ بازی کرنا نہیں چھوڑی؟آج کے حالات میں مسلمانوں کے پاس مال و اسباب کی فراوانی ہے‘ جاہ و حشمت بھی موجود ہے لیکن یہود و نصاریٰ کا نظام ہمارے ہی اسلامی ملکوں میں نظام سلطنت کے طور پر گڈ مڈ ہونے لگا ہے۔ ہماری ہی اسلامی دنیا نظام مصطفیٰ کو اصل ہئیت کے ساتھ رائج کرنے سے معذور ہے‘فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام کی روح یہ ہے کہ اس عزم یقین کے ساتھ کہ امام حسین علیہ السلام کا علم حق تھام لیں کہ جب ہمارے نبی کی اولاد کو کرب و اذیت اور مصیبتیں جھیلنا پڑیں ہیں تو اصلاح نظام کے راستے میں ہمیں بھی مصیبتیں آئیں تو ہم گھبرائیں گے نہیں۔فلسفہ شہادت امام حسین علیہ السلام ہمیں بتا رہا ہے کہ کامیابی و فتح عیش و آرام میں نہیں‘ کھل کھل کر ہنسنے اور آسائش میں نہیں اور یوں دنیا کو جیت لینے میں نہیں بلکہ کامیاب تو وہ لوگ ہیں جو ہر آزمائش میں وسائل کے باوجود خود کو پاک رکھتے ہیں‘ ظلم و جبر کے معاملات پیش آجائیں تو صبرواستقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں‘ دھوکہ باز و منافق دنیا کٹ بھی جائے تو اپنا تعلق اپنے رب سے ہی رکھتے ہیں۔ وہ لوگ خوش قسمت ہیں کہ جو بندوں کی غلامی سے نکال کر خود کو اپنے رب کی غلامی میں دے دیتے ہیں‘ اذیتیں اور تکلیفیں جنہیں اس دنیا میں ملتی ہیں وہ نہ گھبرائیں کہ دنیا کی تکلیف کے بدلے میں آخرت کی راحت منافع بخش سودا ہے۔ﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے ،کبھی بھوک افلاس سے تو کبھی اولاد کی کمی وزیادتی سے، کبھی بے شمار زرق عطاء کرکے۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے (کبھی )خوف اور (کبھی)بھوک اور (کبھی) جان ومال اور ثمرات (دنیاوی نعمتوں اور اولاد) کی کمی کے ذریعے ۔اور (ایسے حالات) میں صبر کرنے والوں کو (جنت) کی بشارت دیجئے۔( بقرہ: 155)
شہادت ایک ایسا مقام ہے جس کو اﷲ تعالیٰ بہت پسند فرماتے ہیں وہ مقام اﷲ کے عشق میں فنا ہو کر صرف اسی کو راضی کرنے کیلئے اپنی جان کی بازی تک لگا کر مقام شہادت حاصل کرنا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے کہ اﷲ کو دو قطرے بہت پسند ہیں ایک اﷲ کے خوف سے آنکھ سے نکلنے والا آنسو کا قطرہ اور دوسرا خون کا وہ قطرہ جو اﷲ کی رضا میں زمین پر گرتا ہے ،شہید کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اسے اعلیٰ عطاء کرکے اس کا نظارہ کروا دیا جاتا ہے۔گویامقام شہادت ایک عظیم مرتبے کا نام ہے جو ہمارے شعور سے بالاتر ہے اس مقام کو اﷲ اور شہید ہی بہتر جانتے ہیں ۔مقام شہادت کی خواہش ہمارے پیارے آقا ومولا حضرت سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا میری آرزو ہے کہ میں اﷲ کی راہ میں شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ،پھر شہید کیا جاؤں،پھر زندہ کیا جاؤں۔پھر شہید کیا جاؤں۔ (صحیح بخاری ،صحیح مسلم)عظیم قربانی کے بارے میں اﷲ کے پیغمبر ﷺ کو اﷲ تعالیٰ نے پہلے ہی آگاہ فرما دیا تھا روایات میں آتا ہے کہ حضرت بی بی ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ پیغمبر اسلامﷺ ؓ امام حسین علیہ السلام کو اپنے سینہ اقدس پر لٹا کر پیار فرما رہے تھے اور اس کے ساتھ روبھی رہے تھے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ رونے کا سبب کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے ام سلمہ ! ابھی جبرائیل وحی لیکر آئے تھے اور ساتھ یہ مٹی بھی لائے تھے اور کہا کہ آپ ﷺ کا یہ نواسہ تین دن بھوکا پیاسا میدان کربلا میں شہید کردیا جائے گا ام سلمہ ؓ یہ مٹی اسی جگہ کی ہے اسے حفاظت سے رکھنا اور جس دن یہ مٹی سرخ ہوجائے تو سمجھ لینا میرا نواسہ شہید ہوگیا ہے ام سلمہ ؓ نے ایک شیشی میں وہ مٹی ڈال دی ان کا روزانہ کامعمول تھا کہ اس شیشی پر نگاہ کرتیں عاشورہ محرم الحرام کے دن قریب عصر ام سلمہ ؓ نے پیغمبر اسلام ﷺ کو خواب میں دیکھا بہت پریشان ہیں سراقدس پرعمامہ مبارک نہیں ہے اور خاک آلود ہیں عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ آپ ﷺ کی یہ کیفیت کیا ہے ؟ فرمایا تمہیں معلوم نہیں میرا نواسہحسین علیہ السلام کربلامیں شہید ہوگیا ہے ،ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں گھبرا کر بیدار ہوئی اب جو شیشی پر نگاہ پڑھی تو دیکھا وہ خون آلود ہوچکی تھی۔اسی لئے تو اﷲ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ حسین علیہ السلام مجھ سے ہیں اور میں حسین علیہ السلام سے ہوں” ، “یعنی حسین علیہ السلام میرے جگر کا ٹکڑا ہے ۔میرے نسب کا امین ہے اور میری برکات اور کمالات کا ظہور انہی سے ہوگا آج عالم اسلام دیگر اقوام کے مقابلے میں ہر شعبہ ہائے زندگی میں پستی و زوال کا شکار ہے۔ خطہ زمین پر 60 کے قریب اسلامی ممالک ہیں جن میں تقریباً ڈیڑھ ارب مسلمان آباد ہیں۔ کم و بیش سب کی حالت خستہ و ناگفتہ بہ ہے۔ مجبوریوں، محرومیوں، مایوسیوں اور ناکامیوں نے یہاں ڈیرے ڈال رکھے ہیں، غربت، جہالت، پس ماندگی، افلاس، مسلکی و فقہی اختلافات، مذہبی منافرت، انتہا پسندی و فرقہ واریت اور دہشت گردی مسلمان ملکوں کی پہچان بن چکی ہے۔ اسلام تو امن و آشتی کا دین ہے یہ صبر، تحمل، برداشت، میانہ روی، اعتدال پسندی، رواداری اور اقلیتوں کے احترام کی تعلیم دیتا ہے عالم اسلام کو آج مشکل اور سنگین چیلنجوں اور کڑی آزمائشوں کا سامنا ہے۔ بالخصوص دہشت گردی کے حوالے سے دین اسلام رسوائیوں کی دلدل میں اترتا جا رہا ہے۔ یہ سب ہمارے اکابرین قوم اور رہبران دین ملت کی مصلحت کوشی، مفاد پرستی، اقربا پروری، تفرقہ بازی، منتقمانہ مزاجی اور غلامانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے اور اس زبوں حالی کی بنیادی وجہ اسلامی تعلیمات سے رو گردانی، سرکار مدینہؐ کے اسوہ حسنہ سے بے اعتنائی اور نواسہ رسول امام عالی مقام حضرت امام حسین کے لہو سے رقم ہونے والے پیغام کربلا کو بھلا دینا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال امام عالی مقام اور ان کے رفقا کی شہادت کو جس درد مندی و دل سوزی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور ان کے غم میں آہ و فغاں کرتے ہیں کیا روز مرہ کی عملی زندگی میں بھی اسی چاہت، محبت، عقیدت اور اخلاص نیت کے ساتھ اسوہ شبیری پر عمل بھی کرتے ہیں؟ کیا وقت کے یزیدیوں کے خلاف آج عالم اسلام کے حکمراں امام عالی مقام کی طرح صف آرا نظر آتے ہیں؟ کیا رہبران دین ملت نے کربلا کے حقیقی پیغام کو سمجھا اور کوئی سبق حاصل کیا؟ افسوس کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ کربلا میں شہادت حسین کے پیغام کو سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔
















