سپورٹس جرنلزم میرا جنون میرا پروفیشن کیسے بنا ۔؛ اصغرعلی مبارک ۔۔۔۔”کالم نگار” اندر کی بات “”۔۔۔۔۔۔۔ہم سب کو اپنے بچپن میں کچھ کھیل کھیلنا اچھا لگتا تھا۔ کچھ نے بعد میں اسے بطور پیشہ اپنایا۔ میں بھی ایسا ہی ایک خوش نصیب انسان ہوں جس نے شوق کو پیشہ ورانہ زندگی کے طور پر اپنایا.کھیلوں کی صحافت ہی دنیا کی سب سے بہترین اور مشکل ترین صحافت ہے اس سال کورونا وائرس کے خطرات کو کم کرنے کے بعد پاکستان بھر میں ورلڈ اسپورٹس جرنلسٹس ڈے منایا گیا اور دنیا بھر سے مبارکبادی پیغامات سےبہت خوشی ملی۔مجھے یہ فخر ہے کہ میرا کھیلوں کا جنون مجھے کھیلوں کی صحافت میں بطور سپورٹس رپورٹر لے آیا وہ لوگ جو کھیلوں اور صحافت کو اپنے پیشے کے طور پر ضم کرتے ہیں وہ کھیلوں کے صحافی کہلاتے ہیں۔ عالمی یوم اسپورٹس جرنلسٹ کا دن AIP کی بنیاد منانے کے لئے منایا گیا اور پیشہ ور افراد کھیل کو عالمی امن کے لئے ایک ذریعہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ہر سال عالمی یوم اسپورٹس جرنلسٹ 2 جولائی کو دنیا بھر میں منایاجاتا ہے۔اسپورٹس جرنلسٹ کی اصطلاح کھیلوں اور اس کے واقعات سے متعلق خبروں کو کور کرنے اور لکھنے کی نشاندہی کرتی ہے۔یہ 1924 میں قائم ہونے والی انٹرنیشنل اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (اے آئی پی ایس) کی سالگرہ کے موقع پر منایا جاتا ہے۔اس کا صدر دفتر سوئٹزرلینڈ میں واقع ہے۔ ہر سال اسپورٹس جرنلسٹس کا دن 2 جولائی کو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔1994 میں ، اے آئی پی ایس نے اپنے یوم تاسیس کی سالگرہ منانے کے لئے ورلڈ اسپورٹس جرنلسٹس ڈے پیش کیا۔کھیلوں کی صحافت 1800 کی دہائی کے اوائل میں اشرافیہ طبقے کے ایک اہم حصے کے طور پر شروع ہوئی اور اسپورٹس نیوز بزنس میں منتقل ہوگئی۔بعد میں اس نے درمیانے اور نچلے طبقوں میں بھی مقبولیت حاصل کی ، جس کی وجہ سے اشاعتوں میں مواد کی زیادہ کوریج ہوئی۔کھیلوں کی صحافت کی مختلف شکلوں میں کھیل کے میدان میں ہونے والی اہم پیشرفتوں سے پلے بائے پلے ، گیم ری کیپ تجزیہ ، اور تحقیقاتی صحافت شامل ہیں۔کھیل انسان کی زندگی کا لازمی جزو ہیں جو کسی شخص کے کردار اور شخصیت کو استوار کرتے ہیں۔کھیل بہت سارے لوگوں میں خوشیاں لاتے ہیں اور کھیلوں کے لکھنے والے ان لوگوں میں کھیل لاتے ہیں۔ہم میں سے بہت سے لوگوں کی زندگی کھیلوں کے بغیر بہت سست ہے اور اسی وجہ سے ہمیں دنیا بھر کے اسپورٹس صحافیوں کا ان کے اچھے کام کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہئے۔عالمی یوم اسپورٹس جرنلسٹ دن کا مقصد کھیلوں کے صحافیوں کو تسلیم کرنا اور بہتر کام کرنے کی ترغیب دینا ہے۔اپنے کیلنڈرز کو نشان زد کریں اور ایک دن کے لئے تمام کھیلوں کے لکھنے والوں کے احترام اور ان کے احترام کے لئے وقف کریں جو کھیلوں کی دنیا کو ہمارے قریب لاتے ہیں۔اس دنیا کے اصل ہیرو کھیلوں کے صحافی ہیں۔عالمی یوم اسپورٹس جرنلسٹس کے موقع پر کھیلوں کے صحافی کا احترام مقصد ہے۔ حقیقی فن لوگوں کو کھیل کے لکھنے والوں کی طرح ، ان کی پسندیدگی کے قریب لانے میں مضمر ہے۔ہمارے کھلاڑیوں کی کامیابی کو ہماری حمایت اور محبت نے فروغ دیا ہے ،جسے ہم صرف اپنے پیارے صحافیوں کے ذریعے ہی بانٹ سکتے ہیں۔کھیلوں کے صحافیوں کو کام جاری رکھنے کے لئے مدد دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے ۔ ورلڈ اسپورٹس جرنلسٹس ڈے کے موقع ان کے فن کا احترام کریں کھیلوں کے صحافیوں کو اپنے کام میں فضیلت کے لئے جدوجہد کرنے اور دنیا کے سامنے مثال قائم کرنے کی ترغیب دیں۔ہم کھیل کے صحافیوں کے ذریعے اپنے خواب کو زندہ کرتے اور دیکھتے ہیں اور کھیل کو محسوس کرتے ہیں۔یہ کھیل کے شائقین کی جانب سے پاکستانی کھیلوں کے صحافیوں / کھیلوں کے لکھنے والوں کے لئے ’’ ورلڈ اسپورٹس جرنلسٹس ڈے ‘‘ کے موقع پر سوشل میڈیا پر موصول ہونے والے مبارکبادی پیغامات ہیں۔راولپنڈی ۔اسلام آباد اسپورٹس جرنلسٹ کورونا وائرس کے خطرہ میں فرنٹ لائن فوجیوں کی حیثیت سے اپنے کردار اور قومی اور بین الاقوامی میچوں کی عمدہ کوریج کے لئے خراج تحسین کے مستحق ہیں حالانکہ میدان اور اسٹیڈیم تماشائیوں سے خالی تھے۔عالمی یوم اسپورٹس جرنلسٹ کا دن AIPS کی سالگرہ کے طورپر منایا گیا اس سال کوروناوائرس کے خطرات کم ھونے کے بعد ورلڈ سپورٹس جرنلسٹس ڈےکو پاکستان بھر میں بھرپور انداز میں منایا گیا اور دنیا بھر سے متعدد تہنیتی پیغامات نے دل خوش کردیا یہ اپریل 1986 کی بات ہے ویکلی انجام میگزین کے ایڈیٹر مرحوم حمید مفتی نے مجھے قومی باڈی بلڈنگ مقابلے کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کرنے کو کہاپھر 1988 میں اسپورٹس ٹائمز انٹرنیشنل کے ایڈیٹرجناب خالد اطہر کے تحت پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی اسلام آباد کے ہیڈ آفس کا افتتاح میر خلیل الرحمٰن بانی جنگ گروپ نیوز نے کی,امیں نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور اسپورٹس رپورٹر پی پی اے اسلام آباد سے کیا دریں اثنا ، 1990 میں ، مرحوم حافظ عبدالخالق نے مجھے این این آئی نیوز ایجنسی کے پہلے اسپورٹس رپورٹر کے طور پر منتخب کیا جہاں میں نے پاکستان ورلڈ کپ فاتح ٹیم کے فاتح کپتان مسٹر عمران خان سے این این آئی کے میگزین آواز انٹرنیشنل کے لئے انٹرویو کیا۔ستمبر 1992 میں روزنامہ خبریں اسلام آباد کی اشاعت کے آغاز کے ساتھ مجھےاسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے ریزیڈنٹ ایڈیٹر خوشنود علی خان صاحب کی زیر ادارت خدمات انجام دینے کا موقع ملا اور لبرٹی پیپرز کے بٹوارے تک اور پھر روزنامہ صحافت اسلام آباد کی اشاعت وابستہ رہا بعد ازاں روزنامہ اساس راولپنڈی میں بطور سپورٹس رپورٹر منسلک ھوا اور رنگین صفحات کی اشاعت تک سال2011 تک وابستہ رہا اس کے بعد روزنامہ جنگ راولپنڈی میں بطور سب ایڈیٹر اور رپورٹر خدمات انجام دیں سال 2015کے بعد دی ڈیلی میل اسلام آباد سے منسلک ھو گیا اور تاحال خدمات انجام دینے کا سلسلہ جاری ہے ۔مجھے پہلی مرتبہ بارسلونا اسپین میں اولمپکس کی کوریج کا اعزاز حاصل ھوا اس کے بعد انگلینڈ میں جونیئر ہاکی ورلڈ کپ ملٹن کنز ۔اسلامک گیمز تہران ۔دولت مشترکہ گیمز نیو دھلی ۔ایشن گیمز گوانگزو چائنا ۔دولت مشترکہ گیمز گولڈ کاسٹ آسٹریلیا 2018 اور لاتعداد مرتبہ متحدہ عرب امارات میں کھیلوں کے مختلف ایونٹس میں بطور سپورٹس رپورٹر خدمات انجام دیں کوروناوائرس کوڈ 19 کے شدید خطرات کے باوجود راولپنڈی اسلام آباد اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن رسجا چیئرمین اور ممبران نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں انٹرنیشنل کرکٹ میچوں کی شاندار کوریج کرکے تاریخ میں اپنا نام درج کروایا۔ چیئرمین عبدالمحی شاہ ہمیشہ پاکستانی اسپورٹس جرنلزم کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اولمپک گیمز ، ایشین گیمز اور دولت مشترکہ کھیلوں کی کوریج کے لئے پوری دنیا میں پاکستان کی نمائندگی کی۔1993 میں انہیں انٹرنیشنل اسپورٹس جرنلسٹ کا ایوارڈ دیا گیا عبدالمحی شاہ کیدن رات محنت کی بدولت آج راولپنڈی اسلام آباد اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن رسجا رجسٹرڈ تنظیم ہے ماضی میں بڑے نام فاروق مظہر ، صوفی رفیق ، ایم شریف خان ، فیروز پوری ، عمران نعیم احمد ، مخدوم بابر ، فرحانہ ایاز خان ، ثمینہ عزیز ، شہناز خان ، محمد شکیل محمد عمران۔ عامر محمود ، نوید اکرم ، امجد ایوب ، امان اللہ خان۔ فاروق احمد ، کمیلہ حیات ، فرشتے گیٹی ، سرفراز احمد ، صوفی محمد انیس ، عاصم مصطفی اعوان ، خرم شہزاد ، ضمیر احمد اور دیگر راولپنڈی اسلام آباد اسپورٹس جرنلسٹس ایسوسی ایشن رسجا سے وابستہ ر ہے۔چیئرمین رسجا کی طرح کے پی کے اسپورٹس رائٹرز ایسوسی ایشن ، سابق صدر امجد عزیز ملک واحد پاکستانی صحافی ہیں جو ایسوسی ایشن آف انٹرنیشنل اسپورٹس پریس (اے آئی پی) ایشیاء کے سکریٹری جنرل منتخب ہوئے جس میں 12000 سے زیادہ ورکنگ اسپورٹس صحافی ممبر ہیں۔امجد عزیز ملک کھیلوں کی صحافت اور پاکستانی صحافیوں کو نئی بلندیوں پر لےکر گئے ہیں,یہ پوری پاکستانی صحافی برادری کے لئے اعزاز کی بات ہے جب سن 2019 میں نیپال کی حکومت نے امجد عزیز ملک کو ایشیاء میں کھیلوں کی صحافت کے فروغ کے لئے پیش کی جانے والی خدمات کے لئے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔امجد ایشیاء میں کھیلوں کی صحافت کے فروغ میں قیمتی خدمات پیش کرنے اور پاکستانی ہونے کے ناطے اس ایوارڈ کے مستحق تھےانہوں نے پورے ایشیاء میں نوجوان مرد اور خواتین کھیلوں کے صحافیوں کے لئے بین الاقوامی سیمینارز ، ورکشاپس اور سیکڑوں تربیتی سیشنوں کے انعقاد کے لئے ایک اہم قدم اٹھایا ، خطے میں کھیلوں کی صحافت کو فروغ دینے کے لئے کلیدی کردار ادا کیا.ایشیاء یا عالمی سطح پر کسی بھی پاکستانی صحافی کا ایوارڈ پوری قوم کے لئے اعزاز ہے۔ امجد عزیز ملک اولمپکس کھیلوں ، دولت مشترکہ کھیلوں ،ساف گیمز، اسلامی کھیلوں ، انڈور ایشین گیمز ، خصوصی اولمپکس گیمز اور پیرا اولمپکس گیمز کو کور کرنے کے لئے پاکستان کی صحافتی برادری میں نمایاں مقام رکھتے ہیں امجد عزیز ملک نے 268 بین الاقوامی ہاکی میچوں کی کمنٹری کرکے خصوصی مقام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ریڈیو پاکستان کے مسلسل دو سال تک بہترین کمنٹیٹررھے امجد عزیز ملک نے اپنے 35 سالہ صحافتی کیریئر کے دوران پانچ ہزار خصوصی مضامین کالم۔کھیلوں کے بارے میں 12 کتابیں300 سے زیادہ تحقیقی مقالے۔ کھیلوں سے متعلق 50 بروشرز اور رسالے لکھے خیبر پختونخوا حکومت نے امجد عزیز ملک کےصدارتی ایوارڈ کے لئے سفارش کی۔














