دفاعِ پاکستان سے مکہ دفاعی معاہدہ تک کا سفر
(کالم نگار: اصغر علی مبارک)
یومِ دفاع و شہدا (6 ستمبر) پاکستان کی عسکری تاریخ کا سب سے درخشاں دن ہے، جو 1965ء کی جنگ میں وطنِ عزیز کا دفاع کرنے والے بہادر سپوتوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ہر سال 6 ستمبر کو پوری قوم عزمِ نو کے ساتھ یہ دن مناتی ہے۔ جی ایچ کیو سمیت تمام عسکری مراکز پر پروقار تقاریب کا انعقاد ہوتا ہے، جہاں شہدا کے خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جب قوم اور افواج ایک پیج پر ہوں، تو عددی برتری کوئی معنی نہیں رکھتی۔
پاکستان کا ناقابلِ تسخیر دفاع تینوں مسلح افواج کے باہمی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید ترین جنگی صلاحیتوں کا مرہونِ منت ہے دفاعِ پاکستان محض ایک موضوع نہیں، بلکہ ایک ایسی لازوال داستان ہے جو خونِ شہدا، بے مثال قربانیوں اور عزمِ صمیم سے لکھی گئی ہے۔
پاک فوج دنیا کی بہترین عسکری قوتوں میں شمار ہوتی ہے، جس نے روایتی جنگوں سے لے کر دہشت گردی کے خلاف جنگ تک ہر محاذ پر اپنی برتری ثابت کی ہے۔
بنیادی کردار: زمینی سرحدوں کی حفاظت، اندرونی سیکیورٹی اور قدرتی آفات میں سول انتظامیہ کی مدد۔تاریخی معرکے: 1948ء، 1965ء، 1971ء اور 1999ء (کارگل) کے معرکے جہاں بہادر جوانوں نے نشانِ حیدر جیسے اعلیٰ اعزازات پائے۔
جدید صلاحیتیں: الخالد اور الضرار جیسے جدید ترین ٹینک، سمارٹ آرٹلری اور سٹرائیک فارمیشنز جو کسی بھی جارحیت کا فوری جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتی ہیں,
پاک فضائیہ کا موٹو “صحرا اسد” (فضا کا شیر) ہے، اور یہ اپنی جرات اور فضائی برتری (Air Superiority) کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
تاریخی کارنامے: 1965ء کی جنگ میں ایم ایم عالم (سکواڈرن لیڈر) نے صرف ایک منٹ میں دشمن کے 5 جنگی طیارے گرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ فروری 2019ء کے آپریشن سSwift ریٹارٹ میں پاک فضائیہ نے دشمن کے طیارے گرا کر اپنی فضائی برتری کا لوہا ایک بار پھر منوایا۔آپریشن بنیان المرصوص (مئی 2025): یہ حالیہ تاریخ کا وہ معرکہِ حق تھا جس میں پاک فضائیہ نے اپنے سمارٹ ہتھیاروں، ہائپر سونک میزائلوں، سائبر آپریشنز اور ڈرون ٹیکنالوجی کے مربوط ملاپ کے ذریعے دشمن کے پورے ملٹری نیٹ ورک کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔
جدید بیڑا: پاک فضائیہ کے بیڑے میں جے ایف-17 تھنڈر (جے ایف-17 بلاک 3)، جے-10 سی (J-10C)، اور ایف-16 (F-16) جیسے جدید ترین ففتھ اور فورتھ جنریشن جنگی طیارے شامل ہیں، جو دشمن کے فضائی عزائم کو خاک میں ملانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاک بحریہ پاکستان کی سمندری حدود، ساحلوں اور تزویراتی اقتصادی راہداریوں (جیسے سی پیک اور گوادر پورٹ) کی محافظ ہے۔تاریخی کارنامے: 1965ء کی جنگ میں آپریشن دوارکا کے تحت پاک بحریہ نے دشمن کے ساحلی قلعے کو نیست و نابود کیا اور جنگ کے دوران دشمن کی نیوی کو مفلوج رکھا۔ 1971ء میں پاک بحریہ کی آبدوز پی این ایس ہنگور نے بھارتی جنگی جہاز ‘ککری’ کو غرقاب کیا۔جدید صلاحیتیں: پاک بحریہ جدید ترین پی -8 آئی لک آؤٹ طیاروں، فریگیٹس، اور سب میرینز (آبدوزوں) سے لیس ہے۔ حال ہی میں شامل ہونے والی ہنگور کلاس آبدوزیں اور بابر کلاس ملٹی پرپز کارویٹس بحرِ ہند میں پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا چکے ہیں۔
1947ء میں وسائل کی شدید ترین کمی اور تقسیمِ ہند کے ادھورے دفاعی اثاثوں سے شروع ہونے والا یہ سفر آج پاکستان کو دنیا کی مقتدر ترین نیوکلیئر اور ٹیکنالوجیکل قوت بنا چکا ہے۔
مکہ دفاعی عہد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کی سب سے مضبوط، ذمہ دار اور ناقابلِ فراموش طاقت بن کر ابھرا ہے۔
دفاعِ پاکستان سفر بتاتا ہے کہ پاکستان اب محض اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنے والی فوج نہیں، بلکہ مکہ دفاعی اتحاد کے ذریعے خطے اور مسلم دنیا میں امن، استحکام اور توازنِ طاقت برقرار رکھنے کا سب سے بڑا اور معتبر ضامن بن چکا ہے,
آج پاکستان کی افواج نہ صرف اپنے جغرافیائی حدود کی محافظ ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے تحت دنیا بھر میں قیامِ امن کے لیے بھی سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔
پاکستان نے اب تک دنیا کے 28 ممالک میں 46 سے زائد یو این مشنز میں اپنے 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد فوجی بھیجے ہیں، جہاں 170 سے زائد جوانوں نے عالمی امن کے لیے جانیں قربان کیں۔
قیامِ پاکستان کا کٹھن آغاز اور نوزائیدہ سلطنت کے دفاعی چیلنجز14 اگست 1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کا ظہور ہوا، تو تقسیمِ ہند کے طے شدہ فارمولے کے تحت اس نئی مملکت کو فوجی اثاثوں کا 36 فیصد جائز دفاعی حصہ ملنا تھا، لیکن بھارت کی شدید ناانصافی اور بدنیتی کے باعث پاکستان کو صرف 10 سے 12 فیصد کے قریب سازوسامان ملا، جو زیادہ تر ناکارہ تھا۔ یہ دفاعی مواد “اونٹ کے منہ میں زیرہ” کے برابر تھا۔
ابھی نوزائیدہ ریاست اپنے ان گنت انتظامی مسائل سے نبرد آزما ہو کر آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی ہی کر رہی تھی کہ اکتوبر 1948ء میں کشمیر کے محاذ پر اسے اپنی بقا کی پہلی جنگ لڑنی پڑی۔’
یہ وہی معرکہِ حق تھا جس میں پاک فوج کی 2/1 پنجاب رجمنٹ کے بہادر سپوت کیپٹن راجہ محمد سرور شہید نے اورڑی سیکٹر (کپواڑہ) میں دشمن کی خاردار تاروں کو کاٹتے ہوئے اور سینے پر گولیاں کھاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور انہیں پاکستان کے سب سے پہلے اعلیٰ عسکری اعزاز “نشانِ حیدر” سے نوازا گیا۔
روایتی دشمن کو دندان شکن جواب: 1965ء سے 2025ء تک کے تاریخ ساز معرکےتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی سالمیت پر آنچ آئی، اس نے اپنے سے کئی گنا بڑے روایتی دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو عسکری تاریخ کا حصہ بن گیا۔
ستمبر 1965ء کی جنگ میں لاہور کے محاذ پر میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نے بی آر بی نہر پر دشمن کو روکا، جبکہ چونڈہ (سیالکوٹ) کے میدان میں میجر جنرل ابرار حسین کی قیادت میں پاک فوج نے جنگِ عظیم دوم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی لڑی اور بھارتی فوج کے 100 سے زائد ٹینک تباہ کر کے اسے “ٹینکوں کا قبرستان” بنا دیا۔
وقت بدلا، جنگ کے اطوار بدلے، لیکن پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر کوئی حرف نہ آیا مئی 2025ء میں جب دشمن نے ایک بار پھر ایڈونچر کی کوشش کی، تو پاک فوج نے تاریخی جوابی کارروائی کا آغاز کیا جسے “آپریشن بنیان المرصوص” کا نام دیا گیا۔ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند اس آپریشن کے تحت دشمن پر کیے گئے جدید سمارٹ میزائل حملوں نے اس کا غرور خاک میں ملا دیا اور دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔
معرکہِ حق اور مکہ دفاعی معاہدے کا سنگِ میل;.
آپریشن بنیان المرصوص کی شاندار کامیابی نے عالمی سطح پر پاکستان کو ایک انتہائی مضبوط اور جدید عسکری قوت کے طور پر پیش کیا۔
پاکستان کی اس تزویراتی (Strategic) اور دفاعی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ اہم دفاعی تعاون کو آگے بڑھایا۔
اسی تناظر میں برادر ملک ترکیہ بھی شاملِ عمل ہوا، جس کے نتیجے میں اگست 2026ء میں ایک تاریخی اور بے مثال “مکہ دفاعی معاہدہ” طے پایا۔
اس سہ فریقی معاہدے کا سب سے اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ پاکستان، سعودی عرب یا ترکیہ میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ نیٹو (NATO) کی طرز پر اسلامی دنیا کا ایک ایسا دفاعی بلاک بن چکا ہے جس نے خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
عالمی امن اور عالمِ اسلام کی طاقت کا مظہراس تاریخی معاہدے کے تحت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اتحاد کا مرکزی سیکریٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان کی سفارتی اور عسکری اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے اس اسٹریٹجک سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل کا عہدہ پاکستان کو ملا ہے، جو ابتدائی تین سال تک اس کی سربراہی کرے گا۔ پاکستان کی سفارتی اور عسکری اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے کے اس اسٹریٹجک سیکریٹریٹ کے پہلے سیکریٹری جنرل کا عہدہ پاکستان کو ملا ہے، جو ابتدائی تین سال تک اس کی سربراہی کرے گا۔ تینوں ممالک اب مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی، ففتھ جنریشن ڈرونز، ہائپر سونک میزائلوں کی پیداوار اور عسکری صلاحیتوں کو یکجا کر رہے ہیں ,پاکستان کی دفاعی رفتار 1947 کی آزادی کے وقت ایک معمولی فوجی انوینٹری سے ایک جدید تکنیکی ڈیٹرنٹ تک تیار ہوئی ہے جس کی مثال مئی 2025 میں آپریشن بنیان المرصوص نے دی ہے۔ اس اسٹریٹجک صلاحیت کا اختتام اگست 2026 کے تاریخی مکہ دفاعی معاہدے میں ہوا، جس سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سہ فریقی سیکورٹی اتحاد قائم ہوا۔
تاریخی معرکہِ کشمیر 1948ء میں افواج پاکستان نے شجاعت کی تاریخ رقم کی 1965ء (جنگِ ستمبر): جب دشمن نے رات کی تاریکی میں بین الاقوامی سرحد عبور کی، تو قوم اور افواج نے یکجا ہو کر اسے دندان شکن جواب دیا۔ واہگہ پر میجر عزیز بھٹی شہید کا دفاع اور چونڈہ (سیالکوٹ) کے میدان میں لڑی جانے والی دنیا کی دوسری بڑی ٹینکوں کی لڑائی عسکری تاریخ کا روشن باب ہے۔1999ء (معرکہِ کارگل): 18 ہزار فٹ کی برفیلی اور کٹھن بلندیوں پر کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور حوالدار لالک جان شہید جیسے جانبازوں نے وہ پامردی دکھائی جس کا اعتراف خود دشمن کے کمانڈروں نے بھی کیا۔ پاکستان نے اپنی بقا اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے روایتی دفاع سے آگے بڑھ کر سمارٹ اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی کو اپنایا: 28 مئی 1998ء کو چاغی کے پہاڑوں میں کامیاب ایٹمی دھماکوں (یومِ تکبیر) کے ذریعے پاکستان مسلم دنیا کی پہلی اور عالمی سطح پر ساتویں ایٹمی طاقت بنا، جس نے خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر قائم کر دیا۔ غوری، شاہین اور ابابیل جیسے جدید ترین بیلسٹک و کروز میزائل سسٹمز اور مقامی سطح پر تیار کردہ ففتھ جنریشن ڈرونز پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کے ضامن ہیں۔
پاکستان کا دفاع آج صرف اپنی جغرافیائی حدود تک محدود نہیں، بلکہ یہ مسلم امہ اور عالمی امن کا محور بن چکا ہے سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا یہ سہ فریقی سیکیورٹی اتحاد مسلم دنیا میں توازنِ طاقت برقرار رکھنے کا سب سے بڑا معتبر ضامن ہے۔ دفاعِ پاکستان اس حقیقت کا متبادل ہے کہ جب تک پاک فوج کے جوان سرحدوں پر بیدار اور پاکستانی قوم کا عزم جوان ہے، اس پاک دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ ہمیشہ کے لیے اندھی کر دی جائے گی۔پاکستان کے سرکاری دفاعی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز نے ڈرون ٹیکنالوجی میں دنیا کو حیران کر دیا ہے:
شاہپر-II (Shahpar-II): یہ ڈرون 20 گھنٹے سے زیادہ مسلسل پرواز اور 23,000 فٹ کی بلندی پر گہرے فضائی انٹیلیجنس اور لیزر گائیڈڈ میزائلوں سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ معرکہِ 2025 میں اس نے انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔شاہپر-III (Shahpar-III): مڈل ایسٹ اور بین الاقوامی سطح پر امریکی ‘ایم کیو-9 ریپر’ (MQ-9 Reaper) کا مقابلہ کرنے والا یہ پاکستان کا جدید ترین بھاری کامبیٹ یو اے وی (UCAV) ہے۔ یہ 1650 کلوگرام وزنی ہتھیار، اینٹی شپ میزائل، جدید ترین ‘رسوب 250’ اور ‘عزب 81-ایل آر’ جیسے گائیڈڈ میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
المرتجز (Al-Murtajiz) کامبیٹ ڈرونحال ہی میں پاک فضائیہ کے اسکواڈران میں شامل ہونے والا یہ نیا اور مہلک خودکار ہتھیار ہے جو آپریشن بنیان المرصوص کے دوران کامیابی سے ٹیسٹ کیا گیا۔ یہ طویل فاصلے تک گہرے اور خفیہ حملوں کے لیے مخصوص ہے۔
پاک-ترک اور چین اسٹریٹجک شراکت داری (انقرہ سے مکہ معاہدے تک)مکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں، پاکستان کا ترکیہ کی معروف کمپنی بایکار ٹیکنالوجیز (Baykar) اور چین کے ساتھ خلائی تعاون عروج پر ہے۔ پاک فضائیہ کے بیڑے میں دنیا کے مقتدر ترین ڈرونز شامل ہو چکے ہیں:
بایراکتار اکینجی (Bayraktar Akinci): یہ ہائی الٹیٹیوڈ لانگ اینڈورنس (HALE) ڈرون ہے جو کروز میزائل فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بایراکتار ٹی بی-2 (Bayraktar TB2): دنیا کے کئی میدانِ جنگ میں اپنی طاقت ثابت کرنے والا یہ ڈرون پاک فضائیہ کا حصہ ہے۔ونگ لونگ-II (Wing Loong II): چین کے تعاون سے حاصل کردہ یہ جدید ترین حملہ آور ڈرون چوبیس گھنٹے فضائی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیشنل ایرواسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک (NASTP)راولپنڈی اور کامرہ میں قائم NASTP کے ذریعے پاکستان اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، ففتھ جنریشن سٹیلتھ ڈرونز، لوئٹرنگ میونیشنز (لوڈڈ خودکش ڈرونز) اور ڈرون شیلڈ سسٹمز خود تیار کر رہا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے 3,000 کلومیٹر تک کی طویل ترین رینج رکھنے والے جدید اسٹریٹجک ڈرون سسٹم پر بھی کامیابی سے کام شروع کیا ہے۔لوئٹرنگ میونیشنز (Loitering Munition) جنہیں عام زبان میں “کامیکازی ڈرونز” (Kamikaze Drones) یا “خودکش ڈرونز” کہا جاتا ہے، جدید ترین ففتھ جنریشن وارفیئر کی دنیا میں گیم چینجر کا درجہ رکھتے ہیں۔ یہ روایتی میزائلوں اور عام ڈرونز کا ایک ایسا مہلک ملاپ ہیں جو ہدف کی تلاش میں فضا میں گھنٹوں چکر لگا سکتے ہیں اور ہدف ملتے ہی اس سے ٹکرا کر اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ برسوں اور خاص طور پر مئی 2025 کے آپریشن بنیان المرصوص اور اگست 2026 کے مکہ دفاعی معاہدے کے اسٹریٹجک تناظر میں اس ٹیکنالوجی میں غیر معمولی خود کفالت حاصل کی ہے۔
پاکستان کا لوئٹرنگ میونیشنز پروگرام پاکستان نے نہ صرف دوست ممالک کے اشتراک سے یہ صلاحیت حاصل کی ہے بلکہ اپنے دفاعی ادارے GIDS (گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز) اور NASTP (نیشنل ایرواسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک) کے ذریعے اسمارٹ خودکش ڈرونز مقامی سطح پر بھی تیار کیے ہیں,
عزب (Azb) اور رسوب (Rasub) سیریزعزب (Azb-81 LR): یہ پاکستان کا مقامی طور پر تیار کردہ طویل فاصلے تک مار کرنے والا لوئٹرنگ میونیشن ہے۔ اسے شاہپر ڈرونز سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے اور زمین سے بھی۔ یہ فضا میں طویل وقت گزار کر دشمن کے ریڈارز، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز اور فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کو نشانہ بناتا ہے۔رسوب (Rasub-250): یہ ایک ہائی پریسیژن (انتہائی درست نشانہ لگانے والا) خودکش ہتھیار ہے جو حرکت کرتے ہوئے اہداف (جیسے دشمن کے ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں) کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی مدد سے خودکار طریقے سے ڈھونڈ کر نیست و نابود کرتا ہے۔
زلزال (Zilzal) اور ابابیل مائیکرو ڈرونزپاک فوج کے انفنٹری (پیادہ دستوں) اور اسپیشل فورسز (SSG) کے لیے چھوٹے سائز کے کامیکازی ڈرونز تیار کیے گئے ہیں۔ ان مائیکرو ڈرونز کو ایک فوجی اپنے بیگ میں لے جا سکتا ہے اور میدانِ جنگ میں دشمن کے ٹھکانوں، بنکرز یا سنائپرز پر فوری اور خفیہ خودکش حملہ کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
مکہ دفاعی اتحاد اور بین الاقوامی اشتراکمکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب مشترکہ طور پر اگلی نسل کے خودکش ڈرونز پر کام کر رہے ہیں:
کارگو (Kargu) اور الپاگو (Alpagu): ترکیہ کی معروف عسکری کمپنیوں کے اشتراک سے حاصل کردہ یہ ڈرونز جھنڈ (Swarm Drones) کی شکل میں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ایک ساتھ 20 سے 30 ڈرونز فائر کیے جائیں تو یہ دشمن کے کسی بھی جدید ایئر ڈیفنس سسٹم کو چکرا کر رکھ دیتے ہیں۔
فضا میں انتظار کی صلاحیت: روایتی میزائل فائر ہونے کے بعد سیدھا ہدف کی طرف جاتا ہے، جبکہ کامیکازی ڈرون فضا میں گھنٹوں “لوئٹر” (چکر لگا کر انتظار) کر سکتا ہے جب تک کہ چھپا ہوا ہدف سامنے نہ آ جائے ان ڈرونز میں نصب تھرمل اور آپٹیکل کیمرے اور AI الگورتھم دشمن کی گاڑیوں اور انسانی نقل و حرکت میں فرق کر کے خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اگر فائر کرنے کے بعد معلوم ہو کہ ہدف وہاں موجود نہیں یا کوئی سویلین آبادی ہے، تو اس ڈرون کا مشن فضا میں ہی روکا یا اسے واپس بلایا جا سکتا ہے، جو کہ میزائل میں ممکن نہیں ہوتا۔
مئی 2025ء میں ہونے والے “آپریشن بنیان المرصوص” (معرکہِ حق) کے دوران پاک فضائیہ اور پاک فوج کی جانب سے لوئٹرنگ میونیشنز (کامیکازی ڈرونز) کا لائیو استعمال اور عسکری کارروائیوں کا طریقہ کار جدید جنگی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن چکا ہےآپریشن بنیان المرصوص کے دوران پاکستان نے نیٹ ورک سینٹرک وارفیئر (Network-Centric Warfare) اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا مربوط استعمال کیا، جس کا لائیو طریقہ کار 3 بڑے مراحل پر مشتمل تھا:
انٹیگریٹڈ لانچنگ سسٹمز (سٹیلتھ ٹیک آف): ان ڈرونز (جیسے عزب اور رسوب) کو ملٹی پل لانچنگ وہیکلز (ٹرکوں) اور اگلے مورچوں سے بیک وقت فائر کیا گیا。 ان کا سائز چھوٹا اور دستخط (Radar Signature) انتہائی کم ہونے کی وجہ سے یہ دشمن کے ریڈارز کو چکمہ دے کر ان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے,
شوارم اٹیک ٹیکنالوجی (Swarm Attack): پاک فضائیہ نے دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کے لیے “شوارم ٹیکنالوجی” یعنی بیک وقت 300 سے 400 ڈرونز کے جھنڈ مختلف فارمیشنز میں 36 مقامات پر بھیجے。 جب دشمن کے ایئر ڈیفنس ریڈارز (بشمول S-400) نے ان ڈرونز کو ٹریک کرنے کے لیے اپنے سگنلز آن کیے، تو ان خودکش ڈرونز نے ریڈار کی لہروں کا تعاقب کرتے ہوئے (Anti-Radiation Tracking) براہِ راست ان کے سگنل سورسز کو ہٹ کیا,
لائیو ویڈیو فیڈ اور ڈیٹا لنک: یہ ڈرونز فضا میں گھنٹوں چکر کاٹتے ہوئے (Loitering) گراؤنڈ کمانڈ سینٹرز کو ہدف کی لائیو ہائی ڈیفینیشن (HD) اور تھرمل تصاویر بھیج رہے تھے。 کمانڈ سینٹر کی حتمی منظوری ملتے ہی یا آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے ہدف لاک ہوتے ہی، یہ ڈرونز 500 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی انتہائی تیز ڈائیو سپیڈ کے ساتھ براہِ راست ہدف سے ٹکرا گئے۔ اسی تزویراتی چال سے پٹھان کوٹ اور ادھم پور ایئر بیسز کے کمانڈ سینٹرز اور بیاس (Beas) میں موجود برہموس میزائل ڈپو کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیاان ڈرونز کی رینج اور لائیو حکمتِ عملی اتنی مؤثر تھی کہ دشمن کا نام نہاد دفاعی نظام ان کی شناخت اور نیوٹرلائزیشن میں مکمل ناکام رہا۔ انہوں نے کم لاگت میں دشمن کے اربوں ڈالرز کے دفاعی انفراسٹرکچر، جیسے ادھم پور اور بھج میں موجود S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز کو لائیو ہٹ کر کے ناکارہ بنا دیا اور نیٹو طرز کی ففتھ جنریشن فضائی جنگ میں پاکستان کا نام سنہری حروف سے لکھوا دیا۔





