خوشنود علی خان جدید صحافت کاسرسید احمدخان……. ( ” اندر کی بات “کالم نگار: اصغرعلی مبارک۔۔۔ )……ملک میں اس وقت میڈیا کےحوالے سے بات کریں تو اسے ہم لوگ شاید موجود ہ دور کی بد قسمتی ہی کہیں گے کہ چند با ضمیر صحافیوں کو چھوڑ ایسا لگتا ہے جیسے بقیہ مجموعی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ایک مخصوص طبقہ کے مٹھی بھر لوگوں کی رائے کو پورے نظام پرمسلطّ کرنے میں لگے ہیں ۔ محسوس یہ ہوتا ہے کہ ملک کا میڈیا دانستہ یا نا دانستہ طورپر اپنی اصل قوت کو کھو کر خود گمراہی کے ایک اندھے کنوئیں کی طرف گامز ن ھےمیڈیا کی حالت ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ ساتھ امن و استحکام کے لیے بھی خطرناک ہےتحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان کا سفر صحافت کے بغیر ممکن نہیں تھا اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تحریک پاکستان میں صحافت نے روح بھر دی۔صحافت ایک کے بجائے ایک مشن کا روپ دھار گئی سرسید نے میدانِ صحافت میں جو سنگ میل قائم کیے ہیں اورجس غیر جانبدارانہ اور حکیمانہ انداز میں آپ نے صحافت کی ہے اور ا گر آج انھیں گراں قدر اصول و ضوابط کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے صحافت سے وابستہ لوگ عمل پیرا ہوں ، تویقینا ہمارا ملک دنیا کا بہترین ملک اور ہماری قوم حقیقی معنوں میں مہذب قوم بن سکتی ہےلیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اردو صحافت کے میدان میں سرسید احمد خان نے تین بڑے کارنامے انجام دئے۔(1) سید الاخبار(2) علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ اور(3)تہذیب الاخلاق دئیے ۔سرسید نے عوام کو بہت کچھ دیا۔ ساتھ ہی انہو ں نے اردو ادب میں بھی کئی اصلاحات کیں۔ اردو میں کئی اصناف کا عروج ان سے اور ان کے ساتھیوں سے ہوتا ہے ۔فن مضمون نگاری میں وہ اپنی نظیر آپ تھے جو صحافت کا لازمی جز بنا ۔سر سید کے عہد میں اردو صحافت اپنے شباب میں تھی ۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی اپنے بھائی سید محمد خاں کے اخبار سیدالاخبار سے شروع کی تھی۔ یہ دہلی کا بہت ہی معروف اخبار تھا ۔ یہاں سے کئی اہم و تاریخی کتابوں کی اشاعت بھی عمل میں آئی تھی ۔اس کے بعد ان کے صحافتی خدمات سائنٹفک سوسائٹی کے اخبار میں سامنے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں بھی صحافت کا نیا معیار نظرآتا ہے ۔ ان سب کے سوا ان کا عظیم صحافتی کارنا مہ تہذیب الاخلا ق ہے ۔ جس کے مضامین آج بھی بھر پور معنویت کے ساتھ پڑھے جاتے ہیں ۔سر سید پہلے صحافی ہیں جنہو ں نے اردو زبان کو پستی سے نکالا اور اسے تصنیفی معیا ر و مرتبہ دلانے میں بہت اہم رول ادا کیا۔سر سید نے الفاظ کی خوبصورتی کی جگہ اپنے خیالات کی ترسیل پر توجہ دی ،اور ایک سچے اور ایماندار صحافی کا کردار ادا کرتے ہوئے اردو صحافت کو ایک کھلی فضا میں سانس لینے کا موقع فراہم کروایا۔ ایک صحافی کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے قاری کو ملک کے تمام حالات سے باخبر رکھے ساتھ ہی روزمرہ زندگی سے جڑی دوسری دلچسپیوں پر بھی اخبار اپنی پینی نظر رکھے۔ سر سید نے اپنے پرچوں میں مذکورہ باتوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے ہی ، زندگی سے وابستہ مختلف موضوعات پر مضامین لکھے ،ساتھ ہی ضروری اطلاعات بہم پہنچائیں جیسے علاج معالجے،غلے کی قیمت،تاربرقی کامحصول،گھریلو روزگار،ہیئر آئل وغیرہ وغیرہ۔خوشنود علی خان میرے استاد صحافت بھی ہیں جن سے دلیرانہ رپورٹنگ سیکھی ستمبر 1992 روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آغاز سے بٹوارے تک اور پھر روزنامہ صحافت اسلام آباد کی رپورٹنگ ٹیم کا بانی ممبر رپورٹنگ ٹیم رہا خوشنود علی خان جدید صحافت کاسرسید احمدخان ہیں ۔شہر اقتدار میں گو کہ پہلے باقاعدہ اخبار کا نام روزنامہ مرکزاسلام آباد ھے جو مقیم احمد کی زیر ادارت شائع ہوا یہ سال 1988 کاذکرھےجب کالج دور سے آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات حمید مفتی صاحب کے ھفتہ روزہ میں پہلی مرتبہ تفصیلی تحریر بعنوان “ذوالفقارعلی بھٹو گود سے گور تک” پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر شائع ہوئی ۔ یہ وہ دور تھا جب چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی 5 اپریل 1988کوبرسی پر مجھے پانچ میگزین ملے اس سال 17 اگست 1988 کو ضیاء الحق طیارے حادثہ میں جاں بحق ہوگئے بطور کھلاڑی اپنی ٹیم کی کارکردگی شائع کروانے کے اسلام آباد میں پی پی اے نیوز ایجنسی کےخالد اطہر صاحب سے ملاقات ھوئی اور سپورٹس رپورٹنگ کا آغاز کیا سال92 سے پاکستان کرکٹ سمیت چار کھیلوں کا عالمی چیمپئن تھا یوں کھیلوں کی صحافت کا شوق پیدا ہوا اس دوران اسلام آباد سے پی پی اے نیوز ایجنسی جوبن پر تھی اس کے تمام وفاقی کابینہ میں شامل وزیروں کے انٹرویو کیے جو قومی اخبارات میں شائع ہوئے مگر حقیقت میں روزنامہ خبریں اسلام آباد میری ساکھ کی بنیاد آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات پر کی جانے والی رپورٹنگ سے ھوئی یہ اس وقت کی بات ہے جب روزنامہ خبریں اسلام آباد کی شروعات ستمبر 1992 میں ھوچکی تھی۔آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات کی عوام پر بم بن کر گری مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے پاس جو خبریں ہیں وہ میرے کیرئیر کا اثاثہ ثابت ہوں گی۔ یہ بات 8 جنوری1993ء کی ھےجب اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ راولپنڈی میں جاگنگ ٹریک پر دل کا دورہ پڑنے پر آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لائے گئے میں ان دنوں پاکستان نیشنل ھارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شریک تھا اور اس وقت کے پاکستان کے سب سے بڑے ماہر امراض قلب اور آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کمانڈنٹ میجر جنرل ڈاکٹر ذوالفقارعلی خان تھے جو پاکستان نیشنل ھارٹ ایسوسی ایشن پناہ کے صدر تھے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کو راولپنڈی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ھارٹ ڈیزیز میں اتوار کے روز صبح کے وقت لایا گیا مال روڈ اور آرمی ھسبتال کے اطراف کمانڈوز نے حصار بنا رکھا تھا اور صدر غلام اسحاق خان ھمراہ سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے ہمراہ عام افراد کی گزرگاہ سے پیدل چل کر آئے کوئی بڑا پروٹوکول نہیں تھا ھسبتال میں کوئی افراتفری بھی نہیں تھی مگر آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات پر راولپنڈی میں غیر معمولی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے جس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کا رخ صدر سے موڑ دیا گیا تھا جنرل آصف نواز جنجوعہ اور حکومت کے درمیان اختلافات تھے‘ جنرل آصف نواز جنجوعہ آرمی چیف تھے‘ وہ 1992ءکے اگست میں امریکا کے سرکاری دورے پر گئے وہ امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر اور وزیر دفاع ڈک چینی سے ملنا چاہتے تھے لیکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کی ملاقات تیسرے درجے کے انڈر سیکرٹری آرنلڈ کینٹور سے طے کر دی تاہم ڈک چینی ملنے کےلئے تیار ہوگئے‘ آرمی چیف پاکستانی سفیر عابدہ حسین کے ساتھ انڈر سیکرٹری سے ملاقات کےلئے گئے تو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ پر دونوں کو تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا‘ جنرل آصف نواز اس سلوک پر خفا ہو گئے‘ سفیر نے بڑی مشکل سے انہیں یقین دلایا‘ یہ امریکا میں معمول ہے‘ یہ لوگ تمام لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں لیکن جنرل نے اسے اپنی توہین سمجھا‘ یہ لوگ لفٹ کے ذریعے انڈر سیکرٹری کے دفتر پہنچے‘ مہمانوں کا استقبال ایک سابق سفیر نے کیا‘ یہ انہیں انڈر سیکرٹری کے پاس لے گئی‘ کینٹور نے ٹھنڈے انداز سے ان کا استقبال کیا‘ جنرل آصف نواز اور سفیر عابدہ حسین کو صوفے پر بٹھا دیا اور خود کرسی پر بیٹھا رہا‘ گفتگو شروع ہونے سے پہلے خلاف توقع سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بجلی چلی گئی‘ انڈر سیکرٹری نے دراز سے ٹارچ نکالی اور وہ اسے میز پر سیٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا‘ وہ ناکام ہو گیا تو جنرل آصف نواز اپنی جگہ سے اٹھے‘ ٹارچ لی اور اسے میز پر درست زاویئے پر کھڑا کر دیا‘ انڈر سیکرٹری نے اس کے بعد پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام اور دہشت گردی پر سوال اٹھائے اور یوں یہ ملاقات چائے اور کافی کے بغیر ختم ہو گئی‘سفیر اور آرمی چیف اس کے بعد پینٹا گان گئے‘ پینٹا گان میں آرمی چیف کے ساتھی جنرل سردار علی کو ویٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا اور سفیر اور آرمی چیف کو ڈک چینی کے پاس لے جایا گیا‘ جنرل آصف نواز نے ڈک چینی کو افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی‘ ڈک چینی سنتے رہے‘ جب آرمی چیف خاموش ہوئے تو ڈک چینی نے کہا ”کیا میں جنرل کے ساتھ تنہائی میں بات کر سکتا ہوں“ جنرل آصف نواز نے سفیر عابدہ حسین کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا‘ سفیر باہر آ گئیں‘ چند منٹ بعد دروازہ کھلا اور ڈک چینی اور جنرل آصف نواز باہر آ گئے‘ عابدہ حسین کے بقول”جنرل آصف کافی خوش دکھائی دے رہے تھے“ سفیر نے اس رات آرمی چیف کو اپنی رہائش گاہ پر ڈنر دے رکھا تھا‘ ڈنر کے بعد آصف نواز نے عابدہ حسین سے پوچھا ”کیا آپ اندازہ کر سکتی ہیں‘ ڈک چینی نے مجھ سے کیا کہا ہو گا“ عابدہ حسین نے اپنی کتاب ”پاور فیلیئر“ میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا‘ میں نے جواب دیا ”ڈک چینی نے آپ سے کہا ہو گا‘ فوج اگر حکومت پر قبضہ کر کے نیو کلیئر پروگرام کو ریڈ لائین سے پیچھے لے جائے تو ہم مارشل لاءپر خاموش رہیں گے“ عابدہ حسین کے بقول جنرل آصف نواز نے میری آبزرویشن کی داد دی اور کہا ”ہاں ڈک چینی نے مجھ سے یہی کہا تھا لیکن میں نے جواب دیا‘ فوج اقتدار پر قبضے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے“ جنرل نے اس کے بعد کہا ”لیکن نواز شریف ملک کےلئے ناگزیر نہیں ہیں اگر چند ارکان اسمبلی وفاداریاں بدل لیں تو وزیراعظم تبدیل ہو
جائے گا جس سے ہمیں امریکیوں سے مہلت مل جائے گی“۔جنرل آصف نواز جنجوعہ پاکستان آئے اور فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات میں تیزی آ گئی‘ مجھے دفتر میں پہنچنا تھا کیونکہ جناب آفتاب احمد خان چیف رپورٹر نے میٹنگ کال کر رکھی تھی ٹریفک مسائل کے باعث بروقت دفتر واقع ستارہ مارکیٹ اسلام آباد حاضر نہیں ہو سکا۔اور ساری روداد بتائی ۔محترم ضیاء شاہد اور خوشنود علی خان صاحب کی سخت ھدایات تھیں کہ کوئی رپورٹر اپنی بیٹ رپورٹنگ کے علاوہ دوسری بیٹ میں مداخلت نہ کرے جناب آفتاب احمد خان مرحوم کو جب بتایا کہ آصف نواز جنجوعہ کے حوالے سے ان وفات ایسی خبریں ہیں جو اور کسی کے پاس نہیں۔اس وقت آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت پر شبہات بھی ظاہر کیے جانے لگے تھے کیونکہ اگر وہ حیات رہتے تو شاید 15 اگست1994ء تک بری فوج کے سربراہ ہی رہتے۔جنرل آصف نواز کے دور میں سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور آپریشن .کراچی آپریشن جبکہ جناح پور کا ڈراما بھی اسی دوران ہوا. اس کے علاوہ دو سیاسی گروہوں کے ایک دوسرے کے یرغمالیوں کو فوج کی نگرانی میں سمجھوتے کے تحت رہا کرنے کا معاملہ طےپاہا تھا۔جناب ضیاء شاہد کو جب یہ اطلاع ملی تو ریزیڈنٹ ایڈیٹر خوشنود علی خان کے کمرے میں مجھے طلب کر کے تفصیلات پوچھنا شروع کر دیں میں نے ھسبتال کے اندر اور باہر کی تمام رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ یہ میری بیٹ نہیں تھی اس لیے خبر فائل بھی نہیں کی۔جس پر انہوں نے کہا کہ سب خبریں اور جھلکیاں فوری بنا کر پیش کرو میرے مسودات پر انہوں نے ازخود اپنے باتھ سے میرانام ”اصغر علی مبارک” تحریر کیا یہ روزنامہ خبریں کے تمام ایڈیشنز میں بھی شائع ہوا بعدازاں جناب ضیاء شاہد اور خوشنود علی خان مجھے اپنی گاڑی میں ساتھ لیک راولپنڈی کے پرانے آرمی چیف رہائش گاہ پر لے اور سب خبروں کے فالو اپ کی ڈیوٹی لگادی اسکے بعد آرمی چیف کی رہائش گاہ پر جنازہ گاہ سے لیکر ھسبتال میں نرسوں کے دوران علاج باتوں تک کوعوام تک پہنچایا یہ تمام باتیں روزنامہ خبریں کے صفحات پر تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کمانٹ اےآیف آئی سی میجر جنرل ڈاکٹر ذوالفقارعلی خان اس وقت پناہ کے صدر تھے اور وہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے معالج بھی تھے جن سےمنفی باتیں منسوب کی گئی تھی کیونکہ میں پناہ کا بانی ممبر تھا جنرل ذوالفقارعلی سے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر مجھے بہت اہم خبریں ملیں جس سے پاک فوج کے خلاف منفی سوچ والوں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی اس پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ اس قدر فعال نہیں تھا جس طرح آج کل ھے روزنامہ خبریں اسلام آباد نے روزنامہ جنگ راولپنڈی نوائے وقت کو پیچھے چھوڑ دیا اور درست رپورٹ پیش کرنے بازی لے لی۔ حقیقت میں دلیرانہ رپورٹنگ کا انداز انہوں نے ہی متعارف کروایاجسکو جناب خوشنود علی خان نے روزنامہ خبریں اسلام آباد میں جہاں ظلم وہاں خبریں کے سلوگن سے عوام کے مسائل حل کرنے کی ایک امید کی کرن بنا دی۔آج آزادی صحافت کے نام پر جس قدر شتربےمہار صحافت کی جاتی ہے جناب خوشنود علی اس کے سخت مخالف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ خبر ضرور چھاپیں مگر مخالف کا نکتہ نظر بھی پیش کریں اور صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ نہ کریں آج کل الیکٹرانک میڈیا کا دور دورہ ہے خوشنود علی جدید صحافت کے بانی ہیں،اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے دنیا کی نامور شخصیات کے انٹرویو کیےپاکستانی صحافت سنسنی خیزی کو برینڈ بنانے والے ’ روزنامہ خبریں اخبار کو عام آدمی کا اخبار بنایا گیا مرحوم ضیا شاہد کو شاید بہت سے لوگ ایک ایڈیٹر کے طور پر ہی جانتے ہیں مگر ان کی جد وجہد اور طویل سفر کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے۔ضیا شاہد پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں اپنی نوعیت کی الگ پہچان رکھتے تھے۔ انہوں نے روزگار نہ ملنے پر لاہور شہر کی دیواروں پر فلموں اور کمپنیوں کی تشہیر کے لیے تحریریں لکھ کر بھی گزارا کیا۔اس کے بعد وہ روزنامہ ’جنگ‘ میں ملازمت کرنے لگے اور ایڈیٹر تک ترقی کی لیکن انتظامی امور پر ’جنگ‘ کے مالک میر شکیل الرحمن سے اختلاف پر انہیں ادارے سے الگ کردیا گیا۔ضیا شاہد نے 1990میں دوستوں کے ساتھ مل کر ’روزنامہ پاکستان‘ نکالا جس کے مالک اکبر علی بھٹی جبکہ ایڈیٹر ضیا شاہد تھے۔ ان کے ساتھ خوشنود علی خان بھی شامل تھے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کا میڈیا ان کے طزر صحافت کو اپنا کر عوام میں مقبولیت کی جانب گامزن ہے راقم الحروف کو کالم نگاری کا شوق بھی جناب خوشنود علی خانکی طرف سے حوصلہ افزائی کے بعد 1992 میں پیداھوا جب روزنامہ خبریں کے صفحات پر دن بھر کی رپورٹنگ کے ساتھ ” رپورٹر کی ڈائری” کے نام سے لکھنا شروع کیا اس کے بعد سے پاکستان کے ممتاز قومی اخبارات یہ سلسلہ جاری ہے ۔ خوشنود علی خاننے صحافت کو بڑے لوگوں کے ڈرائینگ روم کی لونڈی سے نکال کر طاقتوروں کو کٹہرے میں لانے تک پہنچا دیا۔‘ روزنامہ خبریں اسلام آباد کے ساتھ ساتھ جناب خوشنود علی خان نے شام کے اوقات میں اخبار “میرا پاکستان “بھی شروع کیا اس وقت روزنامہ دوپہر اور روزنامہ صحافت اسلام آباد کا وجود نہیں تھا ھاں البتہ صحافت میگزین کی طرز پر ویک اینڈ پر روزنامہ خبریں کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا بعد ازاں صحافت کو دوپہر کا اخبار بنایا گیا اور خبریں گروپ سے علیحدہ ہونے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد صبح کا باقاعدہ اخبار بنا جبکہ صحافت کی جگہ روزنامہ دوپہر اسلام آباد نے لے لی میں ان خوش قسمت رپورٹروں میں شامل تھا جنہوں نے روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آخری ایام میں فیصلہ کیا کہ روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک رہیں گے میں نے دوست سینئر صحافی شکیل اعوان سے بات کی کیا کرنا چاہیے اتفاق سے روزنامہ جنگ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر جناب شورش ملک کی بیٹی کی شادی تھی اور فرنیچر کی خریداری کے لیے صحافی شکیل اعوان کے والد سابق ڈپٹی میئر راولپنڈی کے شوروم پر سرسری طور پر بات کی تو انہوں نے روزنامہ جنگ راولپنڈی کے دفتر میں ملاقات کے لئے بلایا ھماری تواضع چائے اور زرداچاول سے کی گئی جناب شورش ملک نے کہا کہ روزنامہ خبریں اسلام آباد کے بجائے آپ روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک ھو جائیں کیونکہ وہ بھی جلد ریٹائرڈ ھونے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک ھونے والے ہیں جہاں ھمارے مشترکہ دوست فیاض ولانہ بھی ھیں۔اسطرح روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آغاز سے بٹوارے تک کےایک دور کا اختتام ہوا اور روزنامہ صحافت کے آغاز کی بھرپور شروعات ہوئی ۔روزنامہ خبریں اسلام آباد کے بٹوارے کے بعد آئی نائن اسلام آباد میں افرادی قوت کی کمی کے باوجود روزنامہ صحافت اسلام آباد کی اٹھان بہت اعلٰی درجے کی تھی اور خبریں کے قارئین کے لیے یہ ایک خوشگوار احساس تھا کہ انہیں جناب خوشنود علی خان کا کالم “ناقابل اشاعت “پڑھنے کا موقع ملا اور الحمد للہ یہ سلسلہ جاری ہے روزنامہ پاکستان لاہور سے شائع ھوچکاتھااکبرعلی بھٹی اخبار کے مالک تھے اس دوران روزنامہ خبریں اسلام آباد کے اشاعت نوید سنی اور درخواست تقرری کا خط موصول ہوا جس میں ستمبر 1992سے باقاعدہ آغاز کا اعلان کیا گیا اشاعت سے قبل ہی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خبریں روزنامہ خبریں اسلام آباد ستارہ مارکیٹ اسلام آباد میں پہنچانا شروع کر دی اور روزنامہ خبریں اسلام آباد کے اولین ایڈیشن میں خبر کی اشاعت پر بے حد خوشی ہوئی ابتدا میں لیبر رپورٹر کریڈٹ لائن ملی جبکہ سپورٹس رپورٹ کی کریڈٹ لائن سے خبریں شائع ھوئیں مجھے یاد کہ روزنامہ خبریں کے آغاز پر عوام کاجذبہ دیدنی تھا روزنامہ جنگ روزنامہ نوائے وقت کی مناپلی ٹوٹ گئی عوام کو پہلی مرتبہ اپنی اہمیت کا احساس ہوا جب پہلے ایڈیشن میں عوامی دلچسپی کی خبریں نمایاں تھیں ۔انہیں دیکھ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ صحافت کاروبار نہیں بلکہ خدمت کے جذبہ سے شروع کی جاچکی ہے 1990ء سے 1997ء تک میڈیا میں اکبر علی بھٹی کا طوطی بولتا تھا، وہ ملک کے بڑے میڈیا ٹائیکون تھے، وہ وہاڑی کے رہنے والے تھے، میٹرک پاس تھے، ادویات کا کاروبار کرتے تھے۔ اکبر علی بھٹی کو ایک خبر کی وجہ سے عرش سے فرش پر گرتے دیکھا، آج کے صحافی اکبر علی بھٹی کا نام نہیں جانتے سیاست میں آئے، 1988ء اور1990ء میں وہاڑی سے دو بار ایم این اے منتخب ہوئے،وہ میاں برادران کے قریب تھے، وہ سیاسی جوڑ توڑ کا زمانہ تھا، اکبر علی بھٹی نے اس زمانے کا بھرپور فائدہ اٹھایا، ملک میں اس زمانے میں سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات بھی ملتی تھیں اور ٹیسٹ بھی فری ہوتے تھے، اکبر علی بھٹی نے اسپتالوں میں ای سی جی، ایکسرے مشینیں، لیبارٹری کے آلات اور ادویات سپلائی کرنا شروع کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے خوشحال ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے، اکبر علی بھٹی دولت کے بعد طاقت اور شہرت کے پیچھے دوڑ پڑے۔ ملک میں اس وقت صرف دو بڑے اخبار ہوتے تھے، .نوائے وقت کے بارے میں اُن دنوں عمومی تاثر یہ تھا یہ اصل میں شریف برادران یا نون لیگ کا ترجمان اخبار ہے، گو کہ نظامی صاحب بڑی فنکاری سے اِس تاثر کو کمزور کرنے کی بڑی کوشش کرتے تھے مگر اِس میں اُنہیں ہمیشہ ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑتا، جناب مجید نظامی شریف برادران کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے اکبر علی بھٹی بھاری سرمائے کے ساتھ صحافت میں آئے، لاہور میں مرکزی جگہ پر عمارت خریدی، جدید پرنٹنگ پریس لگایا اور ملک بھر کے نامور صحافیوں کو تین تین، چار چار گنا معاوضہ دیا، ملک میں اس اخبار نے تین نئے ٹرینڈ متعارف کرائے، ملک کے دونوں بڑے اور پرانے اخبارات کی مناپلی ٹوٹ گئی، یہ کارکنوں کی تنخواہ میں اضافے اور انھیں ریگولر کرنے پر مجبور ہو گئے، ملک کے تمام بڑے صحافی اس اخبار سے وابستہ تھے پاکستان اخبار کے مالک سے اختلافات ہوئے تو انہوں نے سال 1992ستمبر میں ’روزنامہ خبریں‘ نکالنے کا آغازکیا جس میں خوشنود علی خان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ روزنامہ خبریں کے بٹوارے کے آخری حصے میں رمضان المبارک کا مہینہ تھا جب تنخواہوں کے حوالے سے ادائیگی نہ ہونے پر ساتھی کارکنوں میں اضطراب پیدا ھونا شروع ہو گیا اور کام روک دیا گیا افطاری سے بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کے روح رواں ملک ریاض صاحب تشریف لائے اور کارکن ساتھیوں نے معاملہ اٹھانے کے لئے مجھے ذمہ داری سونپی میری ایک مختصر تقریر کے بعد تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوئی جس کے پریس کلب کی عملی سیاست کا آغاز ھوا روزنامہ خبریں اسلام آباد کے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آر آئی یو جے کا یونٹ چیف نامزد کیا گیا یہ وہ زمانہ تھا جب روزنامہ خبریں اسلام آباد کو آئی نائن اسلام آباد سیکٹر میں لوگ تھانہ خبریں کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا روزنامہ خبریں اسلام آباد کی خبر فوری ایکشن لیا جاتا تھا عوام براہ راست معاملہ کو روزنامہ خبریں کے صفحات پر شائع کرا مطمئن ہو جاتے تھے کہ مسئلہ سوفیصد حل ہو جائے گا جناب خوشنود علی خان نے ازخود نوٹس کی سماعت والے سلسلے کو آگے بڑھایا اور عوام کی فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کیلئے باقاعدہ ایک ڈیسک کا آغاز کیا جس پر ایک مستقل سب ایڈیٹر کی ڈیوٹی لگادی گئی جناب خوشنود علی خان نے روزنامہ خبریں اسلام آباد میں ایک دن بہت سارے قومی وبین الاقوامی میگزین میرے آگے رکھتے ہوئے چند مارک شدہ انٹرویوز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبریں بنانے کا حکم صادر فرمایا میگزین چونکہ کھیلوں کے تھے مجھے کوئی مشکل نہیں ھوئی مگر ڈر لگتا تھا کہ کہیں انٹرو یعنی خبر کا ابتدائیہ دانسو دار ھونا چاہیے خبریں شائع ہونے سے پہلے کیوں مجھے پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی پی پی اے اسلام آباد میں اولین سپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا تجربہ تھا اس لیے عزت بچ گئی خوشنود علی خان صاحب باقاعدہ پھینٹی بھی لگا دیتے تھے اسلام آباد بھر میں تھانے دار کی طرح ھم سب رپورٹرز کی ایک دھاک تقریبا سب اداروں پر بیٹھ چکی تھی مگر روزنامہ خبریں اسلام آباد کی سیڑھیاں چڑھتے ہی سب بھیگی بلی بن جاتے اور غلطی پر ناقابل بیان سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا خاص طور ھم سب رپورٹرز کے لیے پاکستان اخبار کے دفتر میں جانا ایک سنگین غلطی ہوتی تھی جس کی سزا کم از کم نوکری سے برخاستگی تھی,روزنامہ پاکستان اسلام آباد میں دوستوں شفقت عزیز ملک ۔نوید اکرم ۔فاروق فیصل خان ۔قدرت اللہ ۔عبدالجبار فیصل ۔اخترعلی خان سے ملاقات کے لئے لاکھ جتن کرنا پڑتے تھے جیسے کوئی عاشق اپنے معشوق سے ملتا ہے یہ مسئلہ حل اس طرح ھوا روزنامہ پاکستان کے ساتھ ہی وفاقی وزیر جے سالک صاحب کا دفتر ھواکرتاتھا جہاں دوستوں سے ملاقات کی جاتی تھی قریب گلی میں پی پی اے نیوز ایجنسی کا صدر دفتر تھا چیف ایڈیٹر جناب خالد اطہر صاحب نہایت شفیق انسان ہیں اور نوجوان صحافیوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے پی پی اے کی درجنوں نیوز روزنامہ خبریں اسلام آباد کا بھی حصہ بن جاتی تھی مجھے آج معلوم نہیں ہو سکا کہ ھمارے وزٹ کی اطلاعات محترم جناب خوشنود علی خان صاحب کو کیسے معلوم ہو جاتی تھیں ۔حالانکہ اس زمانے میں موبائل فون کا تصور بھی نہیں تھا بیجر سروس خاص خاص لوگوں کے پاس تھی لیکن پھر بھی روزنامہ پاکستان کے دوستوں سے ملاقات کی مخبری ھوجاتی تھی ایک بار خوشنود علی خان صاحب نے اچانک پوچھا ایجنسی کے لیے بھی کام کرتے ھو میں سٹپٹا گیا اور بولا کہ جی خفیہ ایجنسی سی تعلق نہیں وہ گویا ھوئے کہ نیوز ایجنسی کا پوچھا ہے جس پر نفی میں جواب دیا تو مجھے زبانی سرزنش کی کہ ایجنسی کے دفتر کم جایا کرو پی پی اے نیوز ایجنسی پاکستان کی پرائیویٹ سیکٹر میں اردو سندھی اور انگریزی زبان میں خبریں جاری کرنے والا اولین خبر رساں ادارہ ہے جس کا افتتاح روزنامہ جنگ راولپنڈی کے بانی میرخلیل الرحمن نے 1989 میں کیا تھا جس کی بنیاد کے بعد بطور سپورٹس رپورٹر منسلک ھوا ۔روزنامہ خبریں اسلام آباد کے ساتھ ساتھ جناب خوشنود علی خان نے شام کے اوقات میں اخبار “میرا پاکستان “بھی شروع کیا اس وقت روزنامہ دوپہر اور روزنامہ صحافت اسلام آباد کا وجود نہیں تھا ھاں البتہ صحافت میگزین کی طرز پر ویک اینڈ پر روزنامہ خبریں کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا بعد ازاں صحافت کو دوپہر کا اخبار بنایا گیا اور خبریں گروپ سے علیحدہ ہونے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد صبح کا باقاعدہ اخبار بنا جبکہ صحافت کی جگہ روزنامہ دوپہر اسلام آباد نے لے لی میں ان خوش قسمت رپورٹروں میں شامل تھا جنہوں نے روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آخری ایام میں فیصلہ کیا کہ روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک رہیں گے میں نے دوست سینئر صحافی شکیل اعوان سے بات کی کیا کرنا چاہیے اتفاق سے روزنامہ جنگ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر جناب شورش ملک کی بیٹی کی شادی تھی اور فرنیچر کی خریداری کے لیے صحافی شکیل اعوان کے والد سابق ڈپٹی میئر راولپنڈی کے شوروم پر سرسری طور پر بات کی تو انہوں نے روزنامہ جنگ راولپنڈی کے دفتر میں ملاقات کے لئے بلایا ھماری تواضع چائے اور زرداچاول سے کی گئی جناب شورش ملک نے کہا کہ روزنامہ خبریں اسلام آباد کے بجائے آپ روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک ھو جائیں کیونکہ وہ بھی جلد ریٹائرڈ ھونے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک ھونے والے ہیں جہاں ھمارے مشترکہ دوست فیاض ولانہ بھی ھیں۔اسطرح روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آغاز سے بٹوارے تک کےایک دور کا اختتام ہوا اور روزنامہ صحافت کے آغاز کی بھرپور شروعات ہوئی ۔روزنامہ خبریں اسلام آباد کے بٹوارے کے بعد آئی نائن اسلام آباد میں افرادی قوت کی کمی کے باوجود روزنامہ صحافت اسلام آباد کی اٹھان بہت اعلٰی درجے کی تھی اور خبریں کے قارئین کے لیے یہ ایک خوشگوار احساس تھا کہ انہیں جناب خوشنود علی خان کا کالم “ناقابل اشاعت “پڑھنے کا موقع ملا اور الحمد للہ یہ سلسلہ جاری ہے پاکستان میں سنہ دو ہزار دو میں نیوز چینلز کی آمد کے بعد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے صحافت کا رخ کیا اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں شعبہِ ابلاغ عامہ کے طالب علموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان میں عام لوگوں کو میڈیا پر بڑی حد تک اعتماد رہا ہے مگر حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعات اور حالات نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اللہ پاک جناب خوشنود علی خان صاحب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العزت برصغیر میں مسلمانوں نے صحافت کو بطور مشن شروع کیا بر صغیر میں صحافت کی ابتداء 29جنوری1770ء کو ’ہکی گزٹ‘ سے ہوئی۔ اس کے تقریباً 60سال بعد مسلمان اہل قلم اس میدان میں نظر آئے اور ان کی طرف سے پہلا اردو اخبار فروری1831ء کو‘آئینہ سکندر‘ کے نام سے مولوی سراج الدین کے ذریعے کلکتہ سے منظر عام پر آیا ، جنگ آزادی 1857ء کےبعد تک تقریباً53اخبارات و رسائل مسلم اہل قلم نے مختلف مقامات سے شائع کئے ، تاریخ صحافت سے معلوم ہوتا ہے کہ اردو زبان میں سر سید احمد خان سے قبل ہی باقاعدہ صحافت کا آغاز ہوچکا تھا۔تاہم صحافت کو صحیح معنوں میں سرسید احمد خان نے عوامی امنگوں کا ترجمان اخبار بنایا اور اس کی جھلک جناب خوشنود علی خان کی قیادت میں صحافتی سفرمیں نظر آئیں ۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ
مولانا محمد حسین آزاد کے والد مولوی محمد باقر نے1837 تک دہلی اخبار کے نام سے شائع ہوتا رہا اور اس کے بعد اس کا نام دہلی اردو اخبار رکھ دیا گیا۔ یہ اس زمانے کا سب سے مشہور اردو اخبار تھا ، جس میں لال قلعے کی خبروں کے ساتھ ساتھ دیگر علاقوں کے کوائف بھی شائع ہوتے تھے ۔ اسی اخبار میں 1857کے ہنگامہ خیز دور میں پہلی مرتبہ انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ چھپا ، جس کی پاداش میں مولوی محمد باقر کو تختہ دار تک پہنچا دیا گیا ۔
1837 میں سر سید احمد خان کے بڑے بھائی سید محمد خاں نے دہلی کے دوسرے ہفتہ وار اردو اخبار کا اجراء کیا اور اس کا نام ، سید الاخبار‘ رکھا، جس کی ادارتی ذمے داری ان کے انتقال کے بعد سرسید احمد خان نے سنبھالی ۔ اس طرح یہ کہنا چاہئے کہ سرسید احمد خان نے نے اپنی علمی و ادبی زندگی کا آغاز صحافت سے ہی کیا ۔ سرسید احمد خاں نےاپنی زندگی کا جو نصب العین بنایا تھا، یعنی مسلم قوم کی اصلاح و ترقی ، اس کی تکمیل کے لئے انہیں ایسے ہی پلیٹ فارم کی ضرورت بھی تھی ۔ تاکہ وہ وعظیم پیامبر عوام تک اپنا پیغام پہنچا سکے ، اس اخبار کے اکثر مضامین خود سر سید کے تحریر کردہ ہوتے تھے لیکن یہ اخبار 1850میں بند ہوگیا ۔ پھر بھی کہنا چاہئے کہ سر سید کی صحافتی تربیت کا ذریعہ یہی اخبار بنا ۔ بقول سر عبدالقادر:’’سرسید احمد خاں کو صاحب طرز اخبار نویس بنانے میں سید الاخبار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ سرسید نے علوم فنون کو فروغ دینے کے لئے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی ۔ جس میں قدیم مصنفوں کی عمدہ کتابیں اور انگریزی کی مفید کتابوں کو اردو میں ترجمہ کرنے کا اہتمام کیا گیا ۔9؍جنوری1864 کو اس تجویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس نام سے غازی پور میں باقاعدہ ایک تنظیم قائم کی ۔ انہیں دنوں سرسید کا تبادلہ غاز ی پور سے علی گڑھ ہوگیا، تو اس سوسائٹی کا دفتر بھی وہیں منتقل کرلیا گیا۔3؍مارچ 1866ء سے اس سوسائٹی سے ایک اخبار جاری کیا گیا اور اردو نام اخبار سائنٹفک سوسائٹی اور انگریزی نام The Aligarh institute Gazette‘ طے پایا ۔ یہ اخبار سر سید کے آخری دم تک جاری رہا ۔ اس اخبار سے قبل اردو اخبارات میں اداریے لکھنے کا رواج نہیں تھا، اس گزٹ نے اسے عام کیا اور سرسید نے ایسے اداریے تحریر کیے جن کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ صحافت کے ہر پہلو پر گہری نظر رکھتے تھے ۔ اس طرح یہ اخبار اردو میں مقصدیت کو فروغ دینے والا پہلا اخبار کہاجاسکتا ہے۔روزنامہ خبریں اسلام آباد کی بنیاد بھی اسی فلسفہ پر رکھی گئی تھی ۔ سرسید احمدخان کے اخبار نے اردو قارئین کے باشعور طبقہ کے ذہنوں کو کافی حد تک متاثر کیا اور انہیں جدید علوم و فنون کی طرف راغب کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ جس سے عوام کے جامد تصورات متحرک کرنے میں مدد ملی ۔ اس کا مقصد مسلمانوں کو تقلیدی دائرے سے نکال کر ان کے اخلاق کی تہذیب کرنا تھا ۔ سرسید کی صحافتی خدمات کا سب سے بڑا کارنامہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ ہے سر سید اپنے انگلستان کے سفر سے واپسی کے ساتھ ہی اس کے اجرا کا خواب اور سرناموں کی تختیاں ساتھ لے کر آئے تھے ۔ اس کا پہلا شمارہ ان کے ولایت سے واپسی کے دو مہینے بعد شائع ہوا ۔ سرسید اس رسالہ کے ذریعے مسلم قوم کی ذہنی تعمیر ، روشن خیالی ، حریت فکر اور جدید تعلیم سے دلچسپی پیدا کرنے کے خواہاں تھے ، اپنے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں : اس پرچے کے اجرا سے مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجہ کی سویلزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیاجاوے، تاکہ جس حقار ت سے سویلائزڈ یعنی مذہب قومیں انہیں دیکھتی ہیں ، وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز و مہذب قومیں کہلاویں۔‘‘(ادب نما:277)
اس اقتباس کو پڑھ کر لگتا ہے کہ سرسید احمد خان کی صحافت کا اصل مقصد خواب غفلت میں پڑی قوم کو بیدار کرنا تھا اور ان کے اس مشن میں ان کے رفقاء حالی، شبلی ، نذیر احمد، ذکاء اللہ ، چراغ علی ، وقار الملک خوب ساتھ دیا بالکل اسی طرح مرحوم ضیا شاہد صاحب کا ساتھ جناب خوشنود علی خان صاحب اور دیگر نے دیا اور دنیا نے دیکھا کہ صحافت کے ذریعے کس طرح پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کی ۔سر سید نے مختلف موضوعات میں طبع آزمائی کی ان کے مضامین نے لوگوں کو بہت حد تک متاثر کیا بلکہ ان کی تحریر اس قدر اثر انداز ہوتی تھیں کہ کہاجاتا ہے کہ جس قدر لوگوں کو متاثر کیا، کم ہی تحریروں نے کیا ہوگا۔ ان کے مضامین مختصر ، عام فہم اور اپنے مقصد پر حاوی ہوتے تھے ۔ اپنے مقصد کے حصول میں انہیں بہت سی رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑا اور مخالفتوں کا سامنا بھرکرنا پڑا ۔ثانی سر سید احمد خان فخر صحافت خوشنود علی خان نے روزنامہ خبریں اسلام آباد میں ناقابل اشاعت کا جوسلسلہ شروع کیاگیا وہ آبھی تک جاری ھے۔ عملی صحافت جب قدم رکھا تو خیال یہ تھا کہ محروم اور کمزور لوگوں کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جائے گا اور جہاں ظلم وہاں خبریں کے سلوگن کے تحت یہ سلسلہ خوب چلا خبریں اسلام آباد کمزور طبقے کی آواز بن کر سامنے آیا ۔ مگر اب شتربےمہار صحافت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ صحافت کی دکانیں کھل گئی ہیں۔پہلے کہاجاتا تھا کہ صحافت میں پیسہ نہیں مگر اب صحافت پروفیشنل ازم کے بجائے کمرشل ازم کا شکار نظر آتی آج میڈیا عوام دوست نہیں رہا بلکہ یہ میڈیا چند لوگوں کے ہاتھوں میں یرغمال ہے جو اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہیں تحریک پاکستان میں صحافت نے مشن کے تحت فریضہ انجام دیا مگر استحکام پاکستان کے لیےصحافت کا کردار ویسا نہیں تھا جس کا تقاضا کیا جاتا رہا مگر اس بدبو دار ماحول میں بھی روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آغاز پر جناب خوشنود علی خان نے ماضی کے تجربات کی روشنی میں ریزیڈنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے جدید ترقیاتی صحافت کی بنیاد رکھی اور صحافت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر جوانی صحافت کے نام کردی ۔جیساکہ پہلے بیان کیا ہےکہ میری تقرری بطور لیبر رپورٹر ھوئی مگر میرا جنون کھیلوں کی صحافت رہی روزنامہ خبریں اسلام آباد میں سپورٹس رپورٹر خدمات انجام دیں انضمام الحق کے خلاف میریٹ ھوٹل اسکینڈلز سے کرکٹ کے حلقوں میں خوب شہرت پائی سپورٹس صفحات کا تصور پاکستان بھر میں روزنامہ خبریں اسلام آباد سے شروع ھوا پاکستان سے باہر جاکر رپورٹنگ کی لاہور میں ھاکی چیمپئن ٹرافی کی خبروں نے صف اول کےلکھاریوں میں لاکھڑا کیا خدا شاہد لاہور کے ایڈیشن میں اپنے نام کے ساتھ رپورٹ دیکھ بہت خوشی محسوس ہو تی۔مگر اس کے بعد خبریں کے صفحات پر روزانہ کی بنیاد پر کئی ایکسکلوسیو رپورٹنگ کی خاص کر ایٹمی دھماکوں اور پاکستان کے غوری میزائیل تجربات وغیرہ کو نمایاں کوریج ملنے پر مجھے میزائل رپورٹر بھی کہاگیا اسلام آباد میں میئریٹ ھوٹل میں بھارتی سیاستدانوں بالخصوص تقسیم کشمیر فارمولے کے حوالے سے بھارت کے سینئر سیاستدان لعل پت رائے کا فارمولا”آدھا کشمیر تمہارا “آدھا کشمیر ھمارا “”یونائیٹڈ اسٹیٹ آف کشمیر ” کی خبروں سپر لیڈ سٹوری پر بہت پذیرائی حاصل ہوئی ۔ نیوز روم اور رپورٹنگ ٹیم کا ایک نام تھا۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر ثاقب ریاض روزنامہ خبریں اسلام آباد کے شام کی شفٹ میں بطور سب ایڈیٹر خدمات انجام دیتے تھے بڑے بڑے نامور شخصیات خبریں اسلام آباد سے منسلک تھیں یہ کہا جائے گا موجودہ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے بڑے بڑے اینکر پرسن اور صحافیوں کی شروعات روزنامہ خبریں اسلام آباد ہوئی۔ روزنامہ خبریں اسلام آباد کی رپورٹنگ ٹیم کے کپتان خوشنود علی خان تھے جبکہ رپورٹنگ ٹیم میں آفتاب احمد خان ، طاہر مغل ، مشتاق منہاس ، فیاض ولانہ ، عامر الیاس رانا ، نوازش علی عاصم ، تنویر عالم ملک ، زاہد جھنگوی ، طارق عثمانی ، طارق چوہدری ، ناصر اسلم راجہ، عقیل اشفاق ، اظہر سید ، ارشاد انصاری ، اعزاز سید ، رانا عارف ، جمیل مرزا ، شمشاد مانگٹ ، نیّر وحید راوت ۔
عظیم نذیر ، ایثار رانا ، ہمایوں سلیم ، سعید واثق ، سجاد جہانیہ ، شاہد صابر ، حنیف صابر ، منظور صادق ، سید مہدی ، عابد رشید ، جاوید چیمہ ، محبوب تنولی ،سلیم خان ، قاسم نواز ،بشارت کھوکھر ، غضنفر ہاشمی طاہرخان۔الطاف بھٹی ۔الطاف قریشی ۔اےڈی عباسی ۔محترمہ نزہت انجم ۔محترمہ ثمینہ عزیز۔عرفان ڈار۔اصغرعلی مبارک ڈاکٹر قمر غزنوی اور بشارت عباسی شہید وغیرہ شامل تھے۔۔آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات پر رپورٹنگ ٹیم کا حصہ بننا اعزاز سے کم نہیں تھا لاہور جناب ضیاء شاہد اور اسلام آباد سے خوشنود علی خان کے ساتھ رپورٹنگ ٹیم کا حصہ بننا اعزاز سے کم نہیں تھا اس حققیت سے انکار ممکن نہیں کہ خوشنود علی خان جدید صحافت کاسرسید علی خان ہیں سینئر صحافی نام ور صحافیوں کے استادہیں ان کے خدمت گار بننے میں مجھے فخر محسوس ہوتا تھا میرا رشتہ بھی ان شاگردوں میں سے ایک تھا جو ان کی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے مٹھیاں بھرتے تھے جی ھاں خوشنود علی خان اتنا لکھا کرتے تھے کہ ان کے بازو میں درد ہونا شروع ہو جاتا اور خبریں اخبار کو عوام میں مقبولیت دینے کے لیے صحت کی پرواہ نہیں کی مجھے اکثر اوقات محترم عمار بھائی اور بیرسٹر حماد صاحب جو اس وقت چھوٹے سے تھے مسز خوشنود علی خان کے ھمراہ پمز ھسبتال جانا پڑتا جب مرحوم عرفان ڈار ھلیتھ رپورٹر موجود نہیں ھوتے تھے خوشنود علی خان صاحب کے بھائی مرحوم خلیل ملک لیبر قوانین کے زبردست معلومات فراہم کرنے والی شخصیت تھے اور مجھے گاہئےبگاہئے مفید ھدایات دیتے رہتے تھے۔ستارہ مارکیٹ میں خبریں آفس میں نائٹ رپورٹنگ کی ڈیوٹیاں بھی دیں راولپنڈی ڈھوک حسو سے سائیکل پر سوار ہو کر اسلام آباد جانا پڑا تو بھی عار محسوس نہیں ہوتی تھی کیونکہ اس وقت لازم تھا کہ رپورٹر کے پاس سواری ہو ۔پاکستانی صحافت سنسنی خیزی کو برینڈ بنانے والے ’ روزنامہ خبریں اخبار کو عام آدمی کا اخبار بنایا گیا مرحوم ضیا شاہد کو شاید بہت سے لوگ ایک ایڈیٹر کے طور پر ہی جانتے ہیں مگر ان کی جد وجہد اور طویل سفر کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے ہوں گے۔ضیا شاہد پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں اپنی نوعیت کی الگ پہچان رکھتے تھے۔ انہوں نے روزگار نہ ملنے پر لاہور شہر کی دیواروں پر فلموں اور کمپنیوں کی تشہیر کے لیے تحریریں لکھ کر بھی گزارا کیا۔اس کے بعد وہ روزنامہ ’جنگ‘ میں ملازمت کرنے لگے اور ایڈیٹر تک ترقی کی لیکن انتظامی امور پر ’جنگ‘ کے مالک میر شکیل الرحمن سے اختلاف پر انہیں ادارے سے الگ کردیا گیا۔ضیا شاہد نے 1990میں دوستوں کے ساتھ مل کر ’روزنامہ پاکستان‘ نکالا جس کے مالک اکبر علی بھٹی جبکہ ایڈیٹر ضیا شاہد تھے۔ ان کے ساتھ خوشنود علی خان بھی شامل تھے۔ 1990ء سے 1997ء تک میڈیا میں اکبر علی بھٹی کا طوطی بولتا تھا، وہ ملک کے بڑے میڈیا ٹائیکون تھے، وہ وہاڑی کے رہنے والے تھے، میٹرک پاس تھے، ادویات کا کاروبار کرتے تھے۔ اکبر علی بھٹی کو ایک خبر کی وجہ سے عرش سے فرش پر گرتے دیکھا، آج کے صحافی اکبر علی بھٹی کا نام نہیں جانتے سیاست میں آئے، 1988ء اور1990ء میں وہاڑی سے دو بار ایم این اے منتخب ہوئے،وہ میاں برادران کے قریب تھے، وہ سیاسی جوڑ توڑ کا زمانہ تھا، اکبر علی بھٹی نے اس زمانے کا بھرپور فائدہ اٹھایا، ملک میں اس زمانے میں سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات بھی ملتی تھیں اور ٹیسٹ بھی فری ہوتے تھے، اکبر علی بھٹی نے اسپتالوں میں ای سی جی، ایکسرے مشینیں، لیبارٹری کے آلات اور ادویات سپلائی کرنا شروع کر دیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے خوشحال ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے، اکبر علی بھٹی دولت کے بعد طاقت اور شہرت کے پیچھے دوڑ پڑے۔ ملک میں اس وقت صرف دو بڑے اخبار ہوتے تھے، .نوائے وقت کے بارے میں اُن دنوں عمومی تاثر یہ تھا یہ اصل میں شریف برادران یا نون لیگ کا ترجمان اخبار ہے، گو کہ نظامی صاحب بڑی فنکاری سے اِس تاثر کو کمزور کرنے کی بڑی کوشش کرتے تھے مگر اِس میں اُنہیں ہمیشہ ناکامی کا سامنا ہی کرنا پڑتا، جناب مجید نظامی شریف برادران کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے اکبر علی بھٹی بھاری سرمائے کے ساتھ صحافت میں آئے، لاہور میں مرکزی جگہ پر عمارت خریدی، جدید پرنٹنگ پریس لگایا اور ملک بھر کے نامور صحافیوں کو تین تین، چار چار گنا معاوضہ دیا، ملک میں اس اخبار نے تین نئے ٹرینڈ متعارف کرائے، ملک کے دونوں بڑے اور پرانے اخبارات کی مناپلی ٹوٹ گئی، یہ کارکنوں کی تنخواہ میں اضافے اور انھیں ریگولر کرنے پر مجبور ہو گئے، ملک کے تمام بڑے صحافی اس اخبار سے وابستہ تھے پاکستان اخبار کے مالک سے اختلافات ہوئے تو انہوں نے سال 1992ستمبر میں ’روزنامہ خبریں‘ نکالنے کا آغازکیا جس میں خوشنود علی خان نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ بات میرےلیے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ روزنامہ خبریں اسلام آباد کے سال1992ستمبر میں آغاز پر ہی بانی ٹیم روزنامہ خبریں کا حصہ بنا اور استاد محترم جناب خوشنود علی خان کے لبرٹی پیپرز سے بٹوارے اور پھر جناب شورش ملک اور بھائی فیاض ولانہ کے مشورے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک رہا۔ جنرل آصف نواز جنجوعہ آرمی چیف تھے‘ وہ 1992ءکے اگست میں امریکا کے سرکاری دورے پر گئے وہ امریکی وزیر خارجہ جیمز بیکر اور وزیر دفاع ڈک چینی سے ملنا چاہتے تھے لیکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ان کی ملاقات تیسرے درجے کے انڈر سیکرٹری آرنلڈ کینٹور سے طے کر دی تاہم ڈک چینی ملنے کےلئے تیار ہوگئے‘ آرمی چیف پاکستانی سفیر عابدہ حسین کے ساتھ انڈر سیکرٹری سے ملاقات کےلئے گئے تو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے گیٹ پر دونوں کو تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑا‘ جنرل آصف نواز اس سلوک پر خفا ہو گئے‘ سفیر نے بڑی مشکل سے انہیں یقین دلایا‘ یہ امریکا میں معمول ہے‘ یہ لوگ تمام لوگوں کی تلاشی لیتے ہیں لیکن جنرل نے اسے اپنی توہین سمجھا‘ یہ لوگ لفٹ کے ذریعے انڈر سیکرٹری کے دفتر پہنچے‘ مہمانوں کا استقبال ایک سابق سفیر نے کیا‘ یہ انہیں انڈر سیکرٹری کے پاس لے گئی‘ کینٹور نے ٹھنڈے انداز سے ان کا استقبال کیا‘ جنرل آصف نواز اور سفیر عابدہ حسین کو صوفے پر بٹھا دیا اور خود کرسی پر بیٹھا رہا‘ گفتگو شروع ہونے سے پہلے خلاف توقع سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی بجلی چلی گئی‘ انڈر سیکرٹری نے دراز سے ٹارچ نکالی اور وہ اسے میز پر سیٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا‘ وہ ناکام ہو گیا تو جنرل آصف نواز اپنی جگہ سے اٹھے‘ ٹارچ لی اور اسے میز پر درست زاویئے پر کھڑا کر دیا‘ انڈر سیکرٹری نے اس کے بعد پاکستان کے نیو کلیئر پروگرام اور دہشت گردی پر سوال اٹھائے اور یوں یہ ملاقات چائے اور کافی کے بغیر ختم ہو گئی‘سفیر اور آرمی چیف اس کے بعد پینٹا گان گئے‘ پینٹا گان میں آرمی چیف کے ساتھی جنرل سردار علی کو ویٹنگ روم میں بٹھا دیا گیا اور سفیر اور آرمی چیف کو ڈک چینی کے پاس لے جایا گیا‘ جنرل آصف نواز نے ڈک چینی کو افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ دی‘ ڈک چینی سنتے رہے‘ جب آرمی چیف خاموش ہوئے تو ڈک چینی نے کہا ”کیا میں جنرل کے ساتھ تنہائی میں بات کر سکتا ہوں“ جنرل آصف نواز نے سفیر عابدہ حسین کو باہر جانے کا اشارہ کر دیا‘ سفیر باہر آ گئیں‘ چند منٹ بعد دروازہ کھلا اور ڈک چینی اور جنرل آصف نواز باہر آ گئے‘ عابدہ حسین کے بقول”جنرل آصف کافی خوش دکھائی دے رہے تھے“ سفیر نے اس رات آرمی چیف کو اپنی رہائش گاہ پر ڈنر دے رکھا تھا‘ ڈنر کے بعد آصف نواز نے عابدہ حسین سے پوچھا ”کیا آپ اندازہ کر سکتی ہیں‘ ڈک چینی نے مجھ سے کیا کہا ہو گا“ عابدہ حسین نے اپنی کتاب ”پاور فیلیئر“ میں اس واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا‘ میں نے جواب دیا ”ڈک چینی نے آپ سے کہا ہو گا‘ فوج اگر حکومت پر قبضہ کر کے نیو کلیئر پروگرام کو ریڈ لائین سے پیچھے لے جائے تو ہم مارشل لاءپر خاموش رہیں گے“ عابدہ حسین کے بقول جنرل آصف نواز نے میری آبزرویشن کی داد دی اور کہا ”ہاں ڈک چینی نے مجھ سے یہی کہا تھا لیکن میں نے جواب دیا‘ فوج اقتدار پر قبضے کے موڈ میں بالکل نہیں ہے“ جنرل نے اس کے بعد کہا ”لیکن نواز شریف ملک کےلئے ناگزیر نہیں ہیں اگر چند ارکان اسمبلی وفاداریاں بدل لیں تو وزیراعظم تبدیل ہو
جائے گا جس سے ہمیں امریکیوں سے مہلت مل جائے گی“۔جنرل آصف نواز جنجوعہ پاکستان آئے اور فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات میں تیزی آ گئی‘یہ بات 8 جنوری1993ء کی ھےجب اس وقت کے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ راولپنڈی میں جاگنگ ٹریک پر دل کا دورہ پڑنے پر آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لائے گئے میں ان دنوں پاکستان نیشنل ھارٹ ایسوسی ایشن کے اجلاس میں شریک تھا اور اس وقت کے پاکستان کے سب سے بڑے ماہر امراض قلب اور آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کمانڈنٹ میجر جنرل ڈاکٹر ذوالفقارعلی خان تھے جو پاکستان نیشنل ھارٹ ایسوسی ایشن پناہ کے صدر تھے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کو راولپنڈی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ھارٹ ڈیزیز میں اتوار کے روز صبح کے وقت لایا گیا مال روڈ اور آرمی ھسبتال کے اطراف کمانڈوز نے حصار بنا رکھا تھا اور صدر غلام اسحاق خان ھمراہ سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ کے ہمراہ عام افراد کی گزرگاہ سے پیدل چل کر آئے کوئی بڑا پروٹوکول نہیں تھا ھسبتال میں کوئی افراتفری بھی نہیں تھی مگر آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک وفات پر راولپنڈی میں غیر معمولی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے گئے جس کی وجہ سے پبلک ٹرانسپورٹ کا رخ صدر سے موڑ دیا گیا تھا جنرل آصف نواز جنجوعہ اور حکومت کے درمیان اختلافات تھے‘ جنرل آصف نواز سے متعلق تمام اختلافات سیدہ عابدہ حسین کی کتاب ”پاور فیلیئر“ میں ہیں دسمبر 1992ءمیں عابدہ حسین پاکستان آئیں‘ آرمی چیف نے انہیں فخر امام کے ساتھ ڈنر پر بلایا اوردونوں میاں بیوی کو بتایا ”میں نے میاں نواز شریف کو ہٹا کر بلخ شیر مزاری کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے“ یہ انکشاف حیران کن تھا‘ یہ دونوں خاموش رہے‘ نواز شریف اور آصف نواز کی یہ چپقلش بڑھتی رہی لیکن کسی حتمی نتیجے سے پہلے 8 جنوری 1993ءکو جنرل آصف نواز کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ انتقال کر گئے‘ مجھے دفتر میں پہنچنا تھا کیونکہ جناب آفتاب احمد خان چیف رپورٹر نے میٹنگ کال کر رکھی تھی ٹریفک مسائل کے باعث بروقت دفتر واقع ستارہ مارکیٹ اسلام آباد حاضر نہیں ہو سکا۔اور ساری روداد بتائی ۔محترم ضیاء شاہد اور خوشنود علی خان صاحب کی سخت ھدایات تھیں کہ کوئی رپورٹر اپنی بیٹ رپورٹنگ کے علاوہ دوسری بیٹ میں مداخلت نہ کرے جناب آفتاب احمد خان مرحوم کو جب بتایا کہ آصف نواز جنجوعہ کے حوالے سے ان وفات ایسی خبریں ہیں جو اور کسی کے پاس نہیں۔اس وقت آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ کی اچانک موت پر شبہات بھی ظاہر کیے جانے لگے تھے کیونکہ اگر وہ حیات رہتے تو شاید 15 اگست1994ء تک بری فوج کے سربراہ ہی رہتے۔جنرل آصف نواز کے دور میں سندھ میں ڈاکوؤں کے خلاف بھرپور آپریشن .کراچی آپریشن جبکہ جناح پور کا ڈراما بھی اسی دوران ہوا. اس کے علاوہ دو سیاسی گروہوں کے ایک دوسرے کے یرغمالیوں کو فوج کی نگرانی میں سمجھوتے کے تحت رہا کرنے کا معاملہ طےپاہا تھا۔جناب ضیاء شاہد کو جب یہ اطلاع ملی تو ریزیڈنٹ ایڈیٹر خوشنود علی خان کے کمرے میں مجھے طلب کر کے تفصیلات پوچھنا شروع کر دیں میں نے ھسبتال کے اندر اور باہر کی تمام رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ یہ میری بیٹ نہیں تھی اس لیے خبر فائل بھی نہیں کی۔جس پر انہوں نے کہا کہ سب خبریں اور جھلکیاں فوری بنا کر پیش کرو میرے مسودات پر انہوں نے ازخود اپنے باتھ سے میرانام ”اصغر علی مبارک” تحریر کیا یہ روزنامہ خبریں کے تمام ایڈیشنز میں بھی شائع ہوا بعدازاں جناب ضیاء شاہد اور خوشنود علی خان مجھے اپنی گاڑی میں ساتھ لیک راولپنڈی کے پرانے آرمی چیف رہائش گاہ پر لے اور سب خبروں کے فالو اپ کی ڈیوٹی لگادی اسکے بعد آرمی چیف کی رہائش گاہ پر جنازہ گاہ سے لیکر ھسبتال میں نرسوں کے دوران علاج باتوں تک کوعوام تک پہنچایا یہ تمام باتیں روزنامہ خبریں کے صفحات پر تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سربراہ کمانٹ اےآیف آئی سی میجر جنرل ڈاکٹر ذوالفقارعلی خان اس وقت پناہ کے صدر تھے اور وہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کے معالج ڈاکٹر صاحب بھی تھے جن منفی باتیں منسوب کی گئی تھی کیونکہ میں پناہ کا بانی ممبر تھا جنرل ذوالفقارعلی سے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر مجھے بہت اہم خبریں ملیں جس سے پاک فوج کے خلاف منفی سوچ والوں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں کو منہ کی کھانی پڑی ۔ کیونکہ اس پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ اس قدر فعال نہیں تھا جس طرح آج کل ھے روزنامہ خبریں اسلام آباد نے روزنامہ جنگ راولپنڈی نوائے وقت کو پیچھے چھوڑ دیا اور درست رپورٹ پیش کرنے بازی لے لی۔ حقیقت میں دلیرانہ رپورٹنگ کا انداز انہوں نے ہی متعارف کروایاجسکو جناب خوشنود علی خان نے روزنامہ خبریں اسلام آباد میں جہاں ظلم وہاں خبریں کے سلوگن سے عوام کے مسائل حل کرنے کی ایک امید کی کرن بنا دی۔آج آزادی صحافت کے نام پر جس قدر شتربےمہار صحافت کی جاتی ہے جناب خوشنود علی اس کے سخت مخالف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ خبر ضرور چھاپیں مگر مخالف کا نکتہ نظر بھی پیش کریں اور صحافتی بددیانتی کا مظاہرہ نہ کریں آج کل الیکٹرانک میڈیا کا دور دورہ ہے خوشنود علی جدید صحافت کے بانی ہیں،اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے دنیا کی نامور شخصیات کے انٹرویو کیے صدراور وزیراعظم کے غیر ملکی دوروں پر ساتھ جاتے رہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج کا میڈیا ان کے طزر صحافت کو اپنا کر عوام میں مقبولیت کی جانب گامزن ہے راقم الحروف کو کالم نگاری کا شوق بھی جناب خوشنود علی خانکی طرف سے حوصلہ افزائی کے بعد 1992 میں پیداھوا جب روزنامہ خبریں کے صفحات پر دن بھر کی رپورٹنگ کے ساتھ ” رپورٹر کی ڈائری” کے نام سے لکھنا شروع کیا اس کے بعد سے پاکستان کے ممتاز قومی اخبارات یہ سلسلہ جاری ہے ۔ خوشنود علی خاننے صحافت کو بڑے لوگوں کے ڈرائینگ روم کی لونڈی سے نکال کر طاقتوروں کو کٹہرے میں لانے تک پہنچا دیا۔‘ خوشنود علی خان نےخودکو 1999میں خبریں گروپ سے علیحدہ کیا تو خبریں دن بدن زوال کا شکار ہوتا گیا۔ جس سے ضیا صاحب کو صدمہ پہنچا کہ وہ دوبارہ سنبھل نہ سکے۔‘تاہم ’خبریں‘ مظلوموں کی ایسی آواز بنا کہ انہیں طاقتوروں کے لیے خوف بنا دیا۔ ’جہاں ظلم وہاں خبریں‘ کے سلوگن سے جب کوئی سٹوری لیڈ چھپتی تو آگ سی لگ جاتی تھی اور ظالموں کا بچنا مشکل ہو جاتا تھا، یہی وجہ تھی کہ ’خبریں‘ ایک خوف کی علامت بن گیا۔ خبریں گروپ کے عروج و زوال کی داستان میڈیا انڈسٹری کے لیے مثال ھے جہاں ظلم وہاں خبریں نے محروم اور پست ہوئے طبقہ کو نئی زندگی دی، وڈیرے جاگیرداروں، کرپٹ بیوروکریٹ افسران اور من مانی کرنے والے منہ زور پولیس افسران کو اپنے فرائض حقیقی معنوں میں ادا کرنے پر مجبور کیا۔چیف ایڈیٹر ضیا شاہدنے روایتی اور اشرافیہ کے گرد گھومتی صحافت کی نمایاں حیثیت کم کر کے عام آدمی کی خبروں کو نمایاں کرنے کی پالیسی اپنائی تاکہ روایتی صحافت سے نکل کر عوامی صحافت شروع کی جائے تاکہ اخبار عوام میں شہرت اختیار کرے۔‘’ان کا یہ فارمولا کامیاب رہا
مجھے یاد ہے کہ یہ روزنامہ خبریں کے بٹوارے کے آخری حصے میں رمضان المبارک کا مہینہ تھا جب تنخواہوں کے حوالے سے ادائیگی نہ ہونے پر ساتھی کارکنوں میں اضطراب پیدا ھونا شروع ہو گیا اور کام روک دیا گیا افطاری سے بحریہ ٹاؤن اسلام آباد کے روح رواں ملک ریاض صاحب تشریف لائے اور کارکن ساتھیوں نے معاملہ اٹھانے کے لئے مجھے ذمہ داری سونپی میری ایک مختصر تقریر کے بعد تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوئی جس کے پریس کلب کی عملی سیاست کا آغاز ھوا روزنامہ خبریں اسلام آباد کے راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس آر آئی یو جے کا یونٹ چیف نامزد کیا گیا یہ وہ زمانہ تھا جب روزنامہ خبریں اسلام آباد کو آئی نائن اسلام آباد سیکٹر میں لوگ تھانہ خبریں کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا روزنامہ خبریں اسلام آباد کی خبر فوری ایکشن لیا جاتا تھا عوام براہ راست معاملہ کو روزنامہ خبریں کے صفحات پر شائع کرا مطمئن ہو جاتے تھے کہ مسئلہ سوفیصد حل ہو جائے گا جناب خوشنود علی خان نے ازخود نوٹس کی سماعت والے سلسلے کو آگے بڑھایا اور عوام کی فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کیلئے باقاعدہ ایک ڈیسک کا آغاز کیا جس پر ایک مستقل سب ایڈیٹر کی ڈیوٹی لگادی گئی جناب خوشنود علی خان نے روزنامہ خبریں اسلام آباد میں ایک دن بہت سارے قومی وبین الاقوامی میگزین میرے آگے رکھتے ہوئے چند مارک شدہ انٹرویوز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے خبریں بنانے کا حکم صادر فرمایا میگزین چونکہ کھیلوں کے تھے مجھے کوئی مشکل نہیں ھوئی مگر ڈر لگتا تھا کہ کہیں انٹرو یعنی خبر کا ابتدائیہ دانسو دار ھونا چاہیے خبریں شائع ہونے سے پہلے کیوں مجھے پاکستان انٹرنیشنل پریس ایجنسی پی پی اے اسلام آباد میں اولین سپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے کام کرنے کا تجربہ تھا اس لیے عزت بچ گئی خوشنود علی خان صاحب باقاعدہ پھینٹی بھی لگا دیتے تھے اسلام آباد بھر میں تھانے دار کی طرح ھم سب رپورٹرز کی ایک دھاک تقریبا سب اداروں پر بیٹھ چکی تھی مگر روزنامہ خبریں اسلام آباد کی سیڑھیاں چڑھتے ہی سب بھیگی بلی بن جاتے اور غلطی پر ناقابل بیان سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا خاص طور ھم سب رپورٹرز کے لیے پاکستان اخبار کے دفتر میں جانا ایک سنگین غلطی ہوتی تھی جس کی سزا کم از کم نوکری سے برخاستگی تھی,روزنامہ پاکستان اسلام آباد میں دوستوں شفقت عزیز ملک ۔نوید اکرم ۔فاروق فیصل خان ۔قدرت اللہ ۔عبدالجبار فیصل ۔اخترعلی خان سے ملاقات کے لئے لاکھ جتن کرنا پڑتے تھے جیسے کوئی عاشق اپنے معشوق سے ملتا ہے یہ مسئلہ حل اس طرح ھوا روزنامہ پاکستان کے ساتھ ہی وفاقی وزیر جے سالک صاحب کا دفتر ھواکرتاتھا جہاں دوستوں سے ملاقات کی جاتی تھی قریب گلی میں پی پی اے نیوز ایجنسی کا صدر دفتر تھا چیف ایڈیٹر جناب خالد اطہر صاحب نہایت شفیق انسان ہیں اور نوجوان صحافیوں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے پی پی اے کی درجنوں نیوز روزنامہ خبریں اسلام آباد کا بھی حصہ بن جاتی تھی مجھے آج معلوم نہیں ہو سکا کہ ھمارے وزٹ کی اطلاعات محترم جناب خوشنود علی خان صاحب کو کیسے معلوم ہو جاتی تھیں ۔حالانکہ اس زمانے میں موبائل فون کا تصور بھی نہیں تھا بیجر سروس خاص خاص لوگوں کے پاس تھی لیکن پھر بھی روزنامہ پاکستان کے دوستوں سے ملاقات کی مخبری ھوجاتی تھی ایک بار خوشنود علی خان صاحب نے اچانک پوچھا ایجنسی کے لیے بھی کام کرتے ھو میں سٹپٹا گیا اور بولا کہ جی خفیہ ایجنسی سی تعلق نہیں وہ گویا ھوئے کہ نیوز ایجنسی کا پوچھا ہے جس پر نفی میں جواب دیا تو مجھے زبانی سرزنش کی کہ ایجنسی کے دفتر کم جایا کرو پی پی اے نیوز ایجنسی پاکستان کی پرائیویٹ سیکٹر میں اردو سندھی اور انگریزی زبان میں خبریں جاری کرنے والا اولین خبر رساں ادارہ ہے جس کا افتتاح روزنامہ جنگ راولپنڈی کے بانی میرخلیل الرحمن نے 1989 میں کیا تھا جس کی بنیاد کے بعد بطور سپورٹس رپورٹر منسلک ھوا ۔روزنامہ خبریں اسلام آباد کے ساتھ ساتھ جناب خوشنود علی خان نے شام کے اوقات میں اخبار “میرا پاکستان “بھی شروع کیا اس وقت روزنامہ دوپہر اور روزنامہ صحافت اسلام آباد کا وجود نہیں تھا ھاں البتہ صحافت میگزین کی طرز پر ویک اینڈ پر روزنامہ خبریں کے ساتھ پیش کیا جاتا رہا بعد ازاں صحافت کو دوپہر کا اخبار بنایا گیا اور خبریں گروپ سے علیحدہ ہونے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد صبح کا باقاعدہ اخبار بنا جبکہ صحافت کی جگہ روزنامہ دوپہر اسلام آباد نے لے لی میں ان خوش قسمت رپورٹروں میں شامل تھا جنہوں نے روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آخری ایام میں فیصلہ کیا کہ روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک رہیں گے میں نے دوست سینئر صحافی شکیل اعوان سے بات کی کیا کرنا چاہیے اتفاق سے روزنامہ جنگ کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر جناب شورش ملک کی بیٹی کی شادی تھی اور فرنیچر کی خریداری کے لیے صحافی شکیل اعوان کے والد سابق ڈپٹی میئر راولپنڈی کے شوروم پر سرسری طور پر بات کی تو انہوں نے روزنامہ جنگ راولپنڈی کے دفتر میں ملاقات کے لئے بلایا ھماری تواضع چائے اور زرداچاول سے کی گئی جناب شورش ملک نے کہا کہ روزنامہ خبریں اسلام آباد کے بجائے آپ روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک ھو جائیں کیونکہ وہ بھی جلد ریٹائرڈ ھونے کے بعد روزنامہ صحافت اسلام آباد سے منسلک ھونے والے ہیں جہاں ھمارے مشترکہ دوست فیاض ولانہ بھی ھیں۔اسطرح روزنامہ خبریں اسلام آباد کے آغاز سے بٹوارے تک کےایک دور کا اختتام ہوا اور روزنامہ صحافت کے آغاز کی بھرپور شروعات ہوئی ۔روزنامہ خبریں اسلام آباد کے بٹوارے کے بعد آئی نائن اسلام آباد میں افرادی قوت کی کمی کے باوجود روزنامہ صحافت اسلام آباد کی اٹھان بہت اعلٰی درجے کی تھی اور خبریں کے قارئین کے لیے یہ ایک خوشگوار احساس تھا کہ انہیں جناب خوشنود علی خان کا کالم “ناقابل اشاعت “پڑھنے کا موقع ملا اور الحمد للہ یہ سلسلہ جاری ہے پاکستان میں سنہ دو ہزار دو میں نیوز چینلز کی آمد کے بعد نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے صحافت کا رخ کیا اور ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں شعبہِ ابلاغ عامہ کے طالب علموں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان میں عام لوگوں کو میڈیا پر بڑی حد تک اعتماد رہا ہے مگر حالیہ دنوں پیش آنے والے واقعات اور حالات نے اس اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے اللہ پاک جناب خوشنود علی خان صاحب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العزت







